General knowledge

General knowledge

Share

World KNOWLEDGE

09/11/2025
09/11/2025

بدقسمتی کو خوش قسمتی میں کیسے بدلیں؟
(قاسم علی شاہ)
آرتھر ایش ٹینس کا عظیم کھلاڑی گزرا ہے۔ وہ امریکا کا واحد سیاہ فام کھلاڑی تھا جو اپنی شان دار کارکردگی کی بدولت ’ویمبلیڈن‘، یو ایس اوپن‘ اور’آسٹریلیا اوپن ‘تک پہنچا اور کئی اعزاز حاصل کیے۔ جب وہ مسلسل فتوحات حاصل کر رہا تھا، انھی دنوں وہ ایڈز جیسے خطرناک مرض میں مبتلا ہوگیا۔ اس نے کئی سال تک یہ بات چھپائے رکھی لیکن بالآخر 1992ء میں اپنی موت سے ایک سال پہلے اس نے اعلان کیا کہ’میں ایڈز کی گرفت میں ہوں۔ ‘یہ خبر سن کر اس کے مداح صدمے میں چلے گئے کیوں کہ لوگ اسے بے حد پسند کرتے تھے۔ اسے دنیا بھر سے محبت کے خطوط ملنے لگے۔ ایک مداح نے لکھا: ”آرتھر! خدا نے صرف تمھیں کیوں اس موذی مرض کے لیے چنا؟ “آرتھر نے اسے جو جواب دیا وہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔ اس نے لکھا: ”دنیا بھر میں پانچ کروڑ بچوں نے ٹینس کھیلنا شروع کیا، ان میں سے پچاس لاکھ اچھی طرح کھیلنا سیکھ گئے، پانچ لاکھ بچوں نے پیشہ ورانہ مہارت حاصل کی اور پچاس ہزار ایسے تھے جو بین الاقوامی مقابلوں تک پہنچے۔ ان میں سے پانچ ہزار نے’گرینڈ سلام‘ مقابلوں تک رسائی حاصل کی، انھی میں سے پچاس لڑکے ’ویمبلیڈن‘ تک پہنچے، چار لڑکوں نے سیمی فائنل کھیلا، ان میں سے دو فائنل تک پہنچے، ایک خوش نصیب نے فائنل جیتا، دنیا بھر میں اس فتح کی دھوم مچی اور تمھیں معلوم ہے ”ویمبلیڈن“کی جیت کا اعزاز حاصل کرنے والا کون تھا؟ وہ میں تھا۔ جب میں ”ویمبلیڈن“ کی ٹرافی اٹھائے اور فخر سے سینہ چوڑا کیے کھڑا تھا تو اس وقت میں نے خدا سے یہ نہیں پوچھا کہ تو نے اس اعزاز کے لیے صرف مجھے ہی کیوں چنا، لہٰذا آج مجھے یہ حق حاصل نہیں کہ میں اس سے پوچھوں کہ تم نے مجھے اس مرض میں کیوں مبتلا کیا؟“
ہم پر اللہ نے کرم کیا اور ہمیں عالم ارواح سے عالم دنیا میں بھیجا۔ اسی نے ہمیں زندگی کی دولت عطا کی۔ اس کے کرم کی کوئی انتہا نہیں اس لیے ہم انسانی حیات کو بھی محدود نہیں سمجھ سکتے۔ ہم زندگی کو صرف راحت یا صرف درد نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی اس پیمانے سے زندگی کو ماپ سکتے ہیں۔ جو شخص زندگی کو لذت حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتا ہے اور ہمیشہ آرام و راحت کا طلب گار رہتا ہے تو وہ معمولی تکلیف پر بھی چلانے لگتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص زندگی کو غم اور دکھ کا مجموعہ سمجھتا ہے وہ ہر وقت مایوس رہتا ہے، اسے اللہ کی رحمت نظر نہیں آتی، اس وجہ سے اس کا سکون ختم ہوجاتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر یا راہ گزر رہتا ہے۔ “(صحیح بخاری:6416)
سفر میں راحت کم اور مشقت زیادہ ہوتی ہے۔ جب مسلمان خود کو مسافر سمجھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ میری منزل دنیا نہیں آخرت ہے۔ اس سوچ کے ساتھ سفر کرتے ہوئے وہ دنیاوی چیزوں سے دل نہیں لگاتا۔ اسے اگر راحت ملے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اگر تکلیف ملے تو اس پر صبر کرتا ہے۔
زندگی غم، خوشی، دکھ، راحت، درد اور لذت سے بنا ایک مکمل پیکج ہے۔ اس کے اچھے اور برے حالات خدا کی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ اس میں پیش آنے والے کچھ واقعات ایسے ہیں جو ہمارے دائرہ اختیار میں ہیں اور کچھ اختیار سے باہر ہیں۔ مثال کے طور پر کہیں زلزلہ آیا، بہت سے لوگ اس کی زد میں آئے، کچھ زخمی ہوئے اور کچھ فوت ہو گئے یا کسی علاقے میں سیلاب آیا، لوگوں کی فصلیں تباہ ہوگئیں، گھر منہدم ہوگئے اور مویشی سیلابی ریلے میں بہہ گئے یا ڈرائیونگ کرتے ہوئے اچانک دوسری لین سے ایک گاڑی آپ کے سامنے آگئی اور جب تک آپ اپنی گاڑی روک پاتے وہ زور دار انداز میں آپ کی گاڑی سے ٹکرا گئی۔
دوسری قسم کے حالات وہ ہیں جن پر ہمیں اختیار حاصل ہے۔ مثال کے طور پر گاڑی چلتے چلتے اچانک رُک گئی، معلوم ہوا کہ پٹرول ختم ہوگیا ہے، یا کوئی شخص بیمار ہے اور ڈاکٹر کے پاس نہیں جارہا، کچھ عرصے بعد مرض شدت اختیار کرگیا اور وہ اٹھنے بیٹھنے سے بھی قاصر ہوگیا یا بجلی کا بل آچکا ہے لیکن اگلے روز تک موخر کرتے کرتے آخری تاریخ گزر گئی۔ یہ تمام مثالیں انسان کی کوتاہی اور غفلت پر دلالت کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
”اور تمھیں جو مصیبت پہنچی وہ اسی کے سبب ہے جو تمھارے ہاتھوں نے کمایا۔ “(سورہ شوریٰ:30)
اس سے واضح ہوتا ہے کہ زندگی میں آنے والی مشکلات دراصل ہمارے ہاتھوں کی کمائی ہے۔کہیں نہ کہیں ہم غلطی کرتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں۔
جو چیزیں ہمارے اختیار سے باہر ہیں اور خواہش کے باوجود بھی ہم انھیں بدل نہیں سکتے، اس کے بارے میں شریعت نے صبر کا حکم دیا ہے۔ برداشت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے یہ امید رکھنی چاہیے کہ اس تکلیف میں میرے لیے خیر ہوگی۔ ہمارے ہاں ہر اس چیز کو مصیبت کہا جاتا ہے جو مالی، جسمانی یا نفسیاتی نقصان کا باعث بنے، جب کہ لفظ مصیبت کا ماخذ ’ص و ب‘ ہے جس کا معنی ٹھیک اور درستی ہے۔ اس بنیاد پر مصیبت کا مطلب ہے: ”ہر وہ چیز جو ٹھیک اپنے ہدف پر پہنچے“۔ لوگ نقصان کی صورت میں شکوہ کرتے ہیں کہ صرف میں کیوں اس کی گرفت میں آیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ وہ نقصان ہمارے لیے پیدا ہوئی تھی کسی اور کے لیے نہیں۔ لہٰذا اس پر ناشکرے پن کا اظہار کرنا درست نہیں بلکہ اللہ سے صبر، ہمت اور آسانی مانگنی چاہیے، کیوں کہ ہر مشکل میں کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور ہوتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”مسلمان کو جو بھی دکھ، گھٹن، حزن، ملال اور تکلیف و غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ اگر کانٹا ہی چبھ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ضرور اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے۔“(الادب المفرد، حدیث نمبر:492)
وہ چیزیں جو ہمارے دائرہ اختیار میں ہیں اور ہم انھیں بدل سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اس کے بارے میں ہم سے حساب لیا جائے گا۔ بہت سے لوگ اختیار رکھنے کے باوجود کام مکمل نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ’یہ اللہ کی مرضی تھی، میں اس میں کیا کرسکتا ہوں‘، یہ دراصل اپنی ذمہ داریوں سے فرار ہے اور بدقسمتی سے معاشرے میں یہ رویہ بڑھ رہا ہے۔
بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ہر کام کو قسمت کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے حصے کی محنت نہیں کرتے اور بدقسمتی کا ڈھونگ رچا کر دوسروں کی ہم دردیاں سمیٹنا چاہتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہم حقیقی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہاں کسی بھی چیز کو حاصل کرنے کے لیے کوشش شرط ہے۔ اللہ کی مدد بھی تب آتی ہے جب انسان اپنی بھرپور کوشش کرلے۔ سب سے بڑی مثال غزوہ بدر کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے موقع پر ساز و سامان جمع کیا، لشکر ترتیب دیا اور بہترین جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لیے میدان کا انتخاب کیا اور تیاری مکمل ہونے کے بعد اللہ کے حضور کھڑے ہوکر اپنی فتح کی دعا مانگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مدد کے لیے فرشتے بھیجے۔
زندگی میں بعض اوقات انسان مسلسل پریشانیوں کا شکار ہوتا ہے۔ وہ کوئی کام شروع کرتا ہے اور اس میں ناکام ہو جاتا ہے۔ اسے سمجھ نہیں آتا کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے اور میں کیسے اپنے حالات بہتر کروں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ انسان کچھ دیر ٹھہر کر اپنی زندگی کا جائزہ لے اور جن چیزوں پر اسے اختیار حاصل ہے انھیں درست کرنے کی کوشش کرے۔ ایسی صورت حال کے لیے چند کار آمد تدابیر آپ کے سامنے پیش کی جارہی ہیں۔
(1) شکر
آپ کتنے ہی بدترین حالات کا سامنا کیوں نہ کررہے ہوں، شکر گزاری اختیار کیجیے آپ کی زندگی بدل جائے گی۔ اس بات پر کامل ایمان رکھیے کہ اس مشکل میں میرے لیے خیر ہوگی۔ انسان کی زندگی میں آنے والی مصیبت دراصل اس کی شخصیت سازی کرتی ہے۔ آج کا انسان جلد باز ہے، وہ Process میں جانے کے بجائے جلد از جلد نتیجہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ جب کسی مشکل کا شکار ہوتا ہے تو فوری طورپر اسے راحت میں بدلنا چاہتا ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی شخصیت سازی Process میں ہوتی ہے۔ مشکلات کے مرحلے سے گزر کر ہی وہ ذہنی طور پر مضبوط بنتا ہے لیکن ہم مسائل کو جلدی ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس فائدے سے محروم ہو جاتے ہیں جو مشکل کے بدلے میں ہمیں ملنا تھا۔ لہٰذا شکر ادا کیجیے اور صبر سے کام لیجیے۔
(2) صحبت
بعض اوقات جب ہم مسائل کا شکار ہوتے ہیں تو ہمارے دوست احباب میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمیں واپس اسی کنویں میں دھکیلتے رہتے ہیں۔ وہ اپنی باتوں، خیالات اور رویے سے ہمارے حوصلوں کو توڑتے ہیں جس کے نتیجے میں ہم روز بروز مایوس ہوتے جاتے ہیں۔ لہٰذا ایسے حالات میں سب سے پہلے اپنے تعلقات کا جائزہ لیں، ایسے تمام لوگوں سے جان چھڑائیں جو آپ کو ناامید بناتے ہیں اور ایسے لوگ ڈھونڈیں جو پر امید ہوں، جو آپ کے ساتھ مخلص ہوں اور باصلاحیت بھی ہوں۔ آپ کو جب بھی محسوس ہو کہ کسی شخص پر اللہ کا کرم ہے تو اس کے ساتھ جڑجائیں، آپ بھی کرم میں شامل ہوجائیں گے۔ بہترین لوگوں کے ساتھ صحبت رکھنے کی بدولت آ پ بڑے بڑے مصائب پر قابو پانا سیکھ جائیں گے۔
(3) علم
اللہ جب کسی انسان پر مہربان ہوتا ہے تو اسے تدبر، علم اور حلم عطا کرتا ہے۔ اس کی آنکھ کھل جاتی ہے جس سے وہ آنے والے وقت کو دیکھنا شروع کرلیتا ہے اور اس کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ وہ فلم ڈائریکٹر کی طرح زندگی کے سیٹ پر اپنی مرضی سے چیزیں لگاتا ہے اور مستقبل کو بہتر بناتا ہے۔ یاد رکھیں کہ زندگی شطرنج کا کھیل ہے۔ اس میں کبھی رکنا، کبھی پلٹنا، کبھی ہارنا اور کبھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس میں آہستہ آہستہ آگے بڑھا جاتا ہے اور کبھی کبھار نتائج کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے زندگی کو کرکٹ کا کھیل سمجھ لیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہر گیند پر چھکا ماریں اور زیادہ سے زیادہ رنز بنائیں لیکن گیند ہماری وکٹ اڑا دیتی ہے۔ ہم آؤٹ ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد زندگی ہمیں مصائب اور مشکلات سے بھرپور محسوس ہوتی ہے۔
(4) ہجرت
حالات بدلنے کے لیے ہجرت بہترین عمل ہے۔ ہماری ناکامی کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ایک ہی مقام پر بیٹھ جاتے ہیں اور وہاں سے نکلنے کی جرات نہیں کرتے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری حالت بد سے بدتر ہوتی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں فوری طور پر وہاں سے نکلنا چاہیے۔
ہمارے مشاہیر میں بے شمار شخصیات نے ہجرت کی اور اللہ نے انھیں شہرت و عزت سے نوازا۔خراسان سے علی بن عثمان الہجویریؒ اور ایران سے معین الدین چشتیؒ نکلے اور ان کا فیض ہندوستان بھر میں پھیل گیا۔ معروف ادیب احمد ندیم قاسمی صاحب انگہ (خوشاب) سے، معروف مزاح نگار اور میرے استاد عطاء الحق قاسمی صاحب وزیر آباد سے، معروف سیاح اور سفرنامہ نگار مستنصرحسین تارڑ صاحب گکھڑ سے اور میرے مرشد واصف علی واصف خوشاب سے نکلے، لاہور آئے اور لاکھوں لوگ ان کی خدمات سے مستفید ہوئے۔ ہجرت انسان کو بڑا بنا دیتی ہے۔ جب انسان رحمت ڈھونڈنے نکلتا ہے تو قدرت اس کے لیے راستے آسان بنا دیتی ہے۔ اگر آپ کی زندگی مشکلات کا شکار ہے تو ہجرت کیجیے، ہوسکتا ہے آپ کا رزق کہیں اور موجود ہو۔ اگر آپ علاقہ نہیں بدل سکتے تو محلہ بدل لیجیے، محلہ بھی نہیں بدل سکتے تو گھر کا کمرہ ہی بدل لیجیے۔ کسی ہوادار کمرے کا انتخاب کیجیے تاکہ آپ کی ذہنی کیفیت بہتر ہوسکے اور آپ بہتر انداز میں اپنے مسائل کا حل ڈھونڈ سکیں۔
(5) سخاوت
جب انسان پر مشکل حالات آتے ہیں تو وہ اپنے لیے فکرمند ہوتا ہے اور بانٹنا چھوڑ دیتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا دل تنگ ہو جاتا ہے۔ آپ مشکل حالات میں بھی ہاتھ کھلا رکھیں اور جس قدر ہوسکے اپنی نعمتیں بانٹیے۔ میں جب بھی زندگی میں Stuck (منجمد) ہوا تو میں نے بانٹنا شروع کیا، حیرت انگیز طور پر میرے لیے راستے کھلتے گئے۔ یہ نسخہ کیمیا ہے۔ میں نے ہمیشہ بانٹنے والوں کا رزق بڑھتے دیکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر کرم کرتا ہے اور ان کی زندگی پر چھائے کالے بادل چھٹ جاتے ہیں۔

21/08/2025
Want your school to be the top-listed School/college in Swat?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Mingora, Swat. Ok
Swat