The SISS
Where Every child shines with CONFIDENCE
The Smart international School System Shamozai
Quality Education | Character Building | Psychological Learning
AI-Based Classes & Student Assessment
📚 Admissions Open: KG – Grade 9
📍 Shamozai
31/03/2026
کیا آپ کا بچہ بات نہیں مانتا یا روٹین follow نہیں کرتا؟
بچوں کو ڈسپلن سکھانا ہر والدین کے لیے ایک چیلنج ہوتا ہے۔ اکثر ہم ڈانٹ یا سختی سے ڈسپلن لانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس سے بچے ضدی ہو جاتے ہیں اور بات ماننے کے بجائے دور ہو جاتے ہیں۔
ڈسپلن سکھانے کا بہترین طریقہ نرمی اور consistency ہے۔ بچوں کے لیے ایک واضح روٹین بنائیں اور خود بھی اس پر عمل کریں۔ جب اصول واضح ہوتے ہیں تو بچے آہستہ آہستہ انہیں سمجھنے اور اپنانے لگتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ بچوں کو وجہ سمجھائیں۔ اگر وہ جان لیں کہ کسی کام کی اہمیت کیا ہے تو وہ اسے بہتر طریقے سے قبول کرتے ہیں۔ یاد رکھیں، ڈسپلن سکھانا ایک process ہے، جو وقت اور صبر سے ہی ممکن ہوتا ہے۔
آپ اپنے بچے کو ڈسپلن سکھانے کے لیے کون سا طریقہ استعمال کرتے ہیں؟
27/03/2026
کیا آپ کا بچہ shy ہے
یا جلدی گھبرا جاتا ہے؟
بہت سے بچے ذہین ہونے کے باوجود صرف اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ ان میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے۔ وہ کلاس میں جواب نہیں دیتے، لوگوں کے سامنے بولنے سے گھبراتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو ظاہر نہیں کر پاتے۔
بچوں کا اعتماد بڑھانے کے لیے سب سے پہلے ان کی بات کو غور سے سنیں اور انہیں اہمیت دیں۔ جب بچہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی بات کی قدر کی جا رہی ہے تو اس کا اعتماد خود بخود بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ، چھوٹی چھوٹی کامیابیوں پر اس کی حوصلہ افزائی کریں اور اس کا موازنہ دوسروں سے نہ کریں۔
بچوں کو بولنے کے مواقع دیں، چاہے وہ گھر میں ہو یا کلاس میں۔ یاد رکھیں، ایک پراعتماد بچہ ہی اپنی تعلیم اور زندگی میں آگے بڑھتا ہے۔
آپ اپنے بچے کا اعتماد بڑھانے کے لیے کیا کرتے ہیں؟
Dear Parents & Students,
This is to inform you that the school will remain open tomorrow as per routine schedule.
All classes will be conducted regularly and attendance is mandatory.
22/03/2026
کیا آپ انجانے میں اپنے بچوں کو اپنا دشمن بنا رہے ہیں؟
"وہ بچہ جو کبھی آپ کی ایک آواز پر دوڑا چلا آتا تھا، آج آپ کو دیکھ کر کمرہ کیوں بدل لیتا ہے؟"
اکثر والدین کو لگتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ ان کے اور اپنے درمیان ایک ایسی دیوار کھڑی کر رہے ہوتے ہیں جسے وقت کے ساتھ گرانا ناممکن ہو جاتا ہے۔ ہم پیار کے نام پر ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں جو تاحیات تلخی کا سبب بنتی ہیں۔
کیسے بچا جائے؟ ان 4 باتوں پر غور کریں:
ہر وقت کی تنقید: اگر آپ کا بچہ صرف آپ کی زبان سے اپنی برائیاں ہی سنتا ہے، تو وہ آپ سے دور ہونا شروع ہو جائے گا۔ یاد رکھیں، مسلسل تنقید بغاوت کو جنم دیتی ہے۔
موازنہ کا زہر: "فلاں کا بیٹا دیکھو..." یہ جملہ بچے کے دل میں آپ کے لیے محبت نہیں بلکہ احساسِ کمتری اور نفرت پیدا کرتا ہے۔ ہر بچہ اپنی جگہ منفرد ہے۔
سخت لہجہ اور چیخنا چلانا: جب آپ اونچی آواز میں بات کرتے ہیں تو بچہ آپ کی بات نہیں سنتا، بلکہ وہ صرف آپ کے غصے سے خوفزدہ ہوتا ہے یا بدتمیز بن جاتا ہے۔
دوستی یا آمریت؟: اگر آپ صرف حکم چلائیں گے تو وہ آپ کو ایک 'باس' سمجھے گا 'والدین' نہیں۔ اس کے دوست بنیں تاکہ وہ اپنی غلطیاں کسی اور کو بتانے کے بجائے آپ سے شیئر کر سکے۔
نتیجہ:
بچے مٹی کی مانند ہوتے ہیں، آپ انہیں جیسا رنگ دیں گے وہ ویسے ہی بنیں گے۔ انہیں ڈرا کر نہیں، بلکہ ان کا اعتماد جیت کر ان کی اصلاح کریں۔ آج ہی اپنے رویے پر غور کریں، کہیں دیر نہ ہو جائے!
بقلم فاروق خان
ماہر نفسیات
تمام عالم اسلام کو ھماری طرف سے عید الفطر مبارک ہو
تمام عالم اسلام کو ھماری طرف سے عید الفطر مبارک ہو
عید کی تعطیلات کل بروز جمعہ سے 25 تاریخ بروز بدھ تک جاری رہیں گی۔ 26 تاریخ سے سکول معمول کے مطابق کھلے گا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.