25/05/2026
علم ایک ایسا نور ہے جو نسلوں کو تاریکی سے نکال کر اجالے کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی مقدس امانت ہے جس کی اہمیت کا اندازہ ہمیں قرآنِ پاک کی تعلیمات سے ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت نے کلامِ الٰہی میں بارہا علم حاصل کرنے والوں کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ سورۃ الزمر کی آیت نمبر نو میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: کہہ دیجیے! کیا علم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہو سکتے ہیں؟۔
یہ فرمان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ علم کا سفر نیت کی پاکیزگی اور سخت محنت سے شروع ہوتا ہے۔ اسی اہم سفر میں ایک پڑاؤ ہمارے تعلیمی نتائج ہیں۔
گورنمنٹ ہائی سکول صوابی انتظامیہ کو یہ بتاتے ہوئے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ چھٹی، ساتویں اور اٹھویں جماعت کے سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان انشاء اللہ پچیس مئی دو ہزار چھبیس کو صبح ساڑھے سات بجے کیا جائے گا۔
ہم جانتے ہیں کہ نتائج کا یہ وقت تمام طلباء کے لیے امیدوں اور اندیشوں کا مکسچر ہوتا ہے۔ کچھ کے لیے یہ جشن کا دن ہوگا اور کچھ کے لیے خاموش سوچ کا۔ مگر اس موقع پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نتائج کامیابی کی طرف ایک قدم ہیں، کوئی آخری منزل نہیں۔
ہمارے ہاں کامیابی کا تصور محض نمبروں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ علم وہ روشنی ہے جسے زندگی کے ہر شعبے میں استعمال ہونا ہے۔ ایک طالب علم جس نے ایمانداری سے پڑھا، اگر اس کے نمبر تھوڑے کم بھی ہیں، تو وہ اس طالب علم سے بہتر ہو سکتا ہے جس نے سمجھنے کے بجائے رٹا لگایا۔ قرآنِ مجید نے علم کو عقل و شعور سے جوڑا ہے۔ جو علم انسان کو اپنے رب، کائنات اور اس کی بنائی ہوئی چیزوں کو سمجھنے میں مدد دے، وہی اصل علم ہے۔
اس موقع پر ہم ایک سچی کامیابی کی کہانی کا ذکر کریں گے، جس نے ناممکن کو ممکن بنایا۔ دنیا کے مشہور سائنسدان تھامس ایڈیسن کو ان کے اساتذہ نے سکول سے یہ کہہ کر نکال دیا تھا کہ وہ 'سست دماغ' ہیں اور پڑھ نہیں سکتے۔ ان کی والدہ نے ان پر یقین رکھا اور گھر میں ان کی تعلیم و تربیت جاری رکھی۔ ہزاروں بار ناکامی کے باوجود ایڈیسن نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر بجلی کا بلب ایجاد کر کے دنیا کو روشن کر دیا۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اگر انسان کے اندر سچا جذبہ اور پختہ ارادہ ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے کامیاب ہونے سے نہیں روک سکتی۔
یاد رکھیے! نمبر اہم ہیں، مگر زندگی کی بڑی دوڑ کے لیے آپ کی کردار سازی، آپ کا حوصلہ اور کچھ نیا سیکھنے کا جذبہ زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتی۔
اس لیے، ہمارے پیارے طلباء، اگر آپ کے نتائج آپ کی امیدوں سے کم ہیں تو مایوس مت ہوں۔ اس کے بجائے، اپنی کمیوں پر غور کریں اور نئے عزم کے ساتھ آگے بڑھیں۔ یہ ناکامی نہیں بلکہ سیکھنے کا ایک نیا موقع ہے۔
والدین کے لیے یہ خاص پیغام ہے: اپنے بچوں کی ہمت بڑھائیں۔ ان پر نمبروں کا بے جا دباؤ نہ ڈالیں۔ ہر بچے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی خاص صلاحیت رکھی ہوتی ہے۔ آپ کی محبت اور رہنمائی ان کی چھپی ہوئی استعداد کو نکھار سکتی ہے۔ بچوں کے نتائج جو بھی ہوں، ان کا ہاتھ تھامے رکھیں اور انہیں احساس دلائیں کہ آپ ان پر فخر کرتے ہیں۔
نتائج کے فوراً بعد، ایک نئے سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ نئے تعلیمی سال میں داخلے اور کتابوں کے حصول کا عمل درج ذیل شیڈول کے مطابق ہوگا:
داخلہ اور بکس ایشو شیڈول:
ساتویں جماعت کے لیے داخلے اور کتابوں کا حصول یکم اور دو جون دو ہزار چھبیس کو ہوگا۔
آٹھویں جماعت کے لیے یہ عمل تین اور چار جون دو ہزار چھبیس کو مکمل کیا جائے گا۔
نویں جماعت کے طلباء کے لیے داخلے پانچ اور چھ جون دو ہزار چھبیس کو اوپن ہوں گے۔
اور چھٹی جماعت کے لیے داخلے سات اور آٹھ جون دو ہزار چھبیس کو ہوں گے۔
ہم تمام والدین سے گزارش کرتے ہیں کہ براہِ کرم درج ذیل ہدایات پر عمل کریں تاکہ یہ سارا عمل سکون اور صفائی سے مکمل ہو سکے:
پہلی بات، اپنے ساتھ بچے کے والد کا شناختی کارڈ کاپی ضرور لائیں۔
دوسری بات، اگر بچہ کسی دوسرے سکول سے آ رہا ہے تو اس کا سکول لیونگ سرٹیفکیٹ بھی لازمی لائیں۔
اور تیسری بات، داخلہ فیس بھی اپنے ساتھ لے کر آئیں۔
ہم تمام طلباء کے لیے دعاگو ہیں کہ وہ علم کے اس سفر میں کامیاب ہوں اور ہمارے ملک کا نام روشن کریں۔ آئیے مل کر علم کی شمع کو روشن کریں اور اپنی نسلوں کو ایک بہتر مستقبل کی طرف لے کر جائیں۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے علم میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں سچا علم حاصل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
سکول کا تمام عملہ آپ سب کو خوش آمدید کہنے کے لیے حاضر ہے۔
نیک تمنائیں،
پرنسپل
گورنمنٹ ہائی سکول صوابی
14/05/2026