حکمت و دانائی کی باتیں

حکمت و دانائی کی باتیں

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from حکمت و دانائی کی باتیں, Education, swabi, Swabi.

16/12/2022

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
حکمت و داناٸی پیج پر احباب کے زہن میں جس قسم کے سوالات ہو وہ پوچھ سکتے ہیں۔ہم آپ کی رہنماٸی کیلٸے ہر وقت حاضر ہیں۔
جزاك اللهُ‎

06/05/2021

جب حاکم موٹا ہو جائے تو جان لو کہ وہ رب کی امانت میں خیا نت کررہا ہے ؟ صر ف اللہ کی رضا کے لیے ہی نیک اعمال کیا کرو۔ عمدہ کھانوں اور اچھے لباس کا استعمال اگرچہ اصولاً ممنوع نہیں لیکن ان کا ترک ان کے اختیار سے کہیں بہترہے۔ علم زیادہ معلومات کا نام نہیں بلکہ یہ تو خاص نور ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ لوگوں کےدلوں میں ڈالتا ہے۔ دین اور شرافت میں خرابی کے بعد ملنے والے دنیا میں خیر نہیں ہے۔ اللہ کی رضا کے لیے جب کوئی کام سرانجام دو تو اسے بہترانداز میں سرانجام دو۔

آوارہ اور فحش لوگوں سے ہمیشہ دور رہو۔ وہی بات پوچھو جو پو چھنے کے قابل ہوا اور جو قابل نہیں اسے چھوڑ دیا کرو۔ علم ایک قابل احترام چیز ہے اس کے پاس جاتے رہنا چاہیے۔ نیک کام وہ ہیں ۔ جو ہمارے سامنے روشن ہوں۔ موت کی سختی سے نجات پانا چاہتے ہو تو یہ ایک کام کرو کہ تمہارا باطنی عمل تمہارے ظاہر ی عمل سے زیادہ ہونا چاہیے۔ ایمان محض قول نہیں بلکہ قول و عمل کا مجموعہ ہے۔ علم میں کوئی چیز معمولی نہیں ہوا کرتی ہے۔ علم ایک نور ہے

کاکام غوروفکر کرکے کسی چیز کو قبول کرنا ہے جبکہ جاہل کا کام سنی سنائی بات کا روایت کردینا ہے۔ سب سے اعلیٰ درجے کی دولت زبانِ ذاکر، دلِ شاکر اور زنِ فرمانبردار ہے۔ خواہش پر غالب آنا فرشتوں کی صفت ہے اور خواہش سے مغلوب ہونا چوپایوں کی صفت ہے۔تکلف بہت بڑھ جائے تو یہ محبت میں کمی کا باعث بن جاتا ہے۔کسی شخص کا اس کی غیر موجودگی میں ایسا ذکر کرنا جسے اگر وہ سنے تو رنجیدہ ہو، غیبت ہے۔

ظالم کی موت پر ملول ہونا بھی ظلم میں شامل ہے۔کتے سے پانچ خصلتیں سیکھو: بھوکا ہوتا ہے مگر اپنے مالک کا دروازہ نہیں چھوڑتا، تمام رات جاگتا ہے اور مالک کے گھر کی چوکیداری کرتا ہے، خواہ کتنا ہی ماریں کسی دوسرے کے دروازے پر نہیں جاتا،اس کا کوئی مکان نہیں ہوتا، اس کے پاس کوئی مال نہیں ہوتا۔ لوگوں کی نیکیوں کو ظاہر کرنا چاہیے اور برائیوں سے چشم پوشی لازم ہے۔ بچوں کی اصلاح مکتب میں ہے اور عورت کی گھر میں۔جتنی چاہے نمازیں پڑھو اور روزے رکھو، اس وقت تک فائدہ نہیں پا سکتے جب تک مال ح رام سے پرہیز نہ کرو گے۔

28/11/2015

’’اصلاح انسان کی خدائی تدبیریں ‘‘
صوفیائے کرام ہمیشہ سے انسان کو اپنے آپ پر غور کی دعوت دیتے، آفاق کے مشاہدے سے نکال کر انفس کی گہرایوں میں غرق کرتے، دوئی کی تفریق سے نکال کر یکسوئی میں محو کرتے رہے ہیں، فرماتے ہیں کہ اے بندے یہ سب کائنات تیرے اندر ہی موجود ہے تو غور کیوں نہیں کرتا: ﴿ وَفِیْ أَنفُسِکُمْ أَفَلَا تُبْصِرُون﴾ (الذاریات: 21) اور خود تم میں (نشانیاں ہیں) تم غور نہیں کرتے کیا۔ صوفیائے کرام کا یہ قول ایک مجمل قول ہے جس سے بندے کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ خود میں غور کیسے کیا جائے؟ اِس کتاب میں شیخ اکبرؒ نے نہایت تفصیل سے انسان کی توجہ اس منہج پر دلائی ہے جس سے وہ اپنے آپ میں غور کر کے اس منزل کو پا سکتا ہے۔ آپؒ نے اس کائنات کو انسان کبیر اور انسان کو کائنات اصغر کہا ہے اور دلائل سے بتایا ہے کہ اس انسان کے اندر بھی وہ تمام اشیاء موجود ہیں جو اس کائنات کے اندر موجود ہیں بلکہ یہ انسان اس کائنات کی روح ہے جیسے روح اس جسم کی تدبیر کرتی ہے ویسے ہی انسان کامل اس کائنات کی تدبیر کرتا ہے، روح (خلیفہ) خالق کی نائب ہے، اس کائنات کو پہنچنے والا فیض انسان کامل کے توسط سے ہی اس تک پہنچتا ہے لہذا اس انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی نظراپنے خالق پر رکھے اور اُس کی ادنی مخلوقات کو اپنے دل میں گھر نہ بنانے دے۔ رزق کی مثال دیتے ہوئے آپؒ فرماتے ہیں کہ رزق کے پیچھے بھاگنے والے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ ایک شخص سورج کے سامنے کھڑا ہو، لازماً اس کا سایہ اس کے پیچھے ہو گا۔ اگر وہ سورج کو چھوڑ کر اپنے سایے کی طلب میں کوشاں ہو جائے تو اس کا سایہ آگے آگے دوڑے گا اور وہ شخص اس کے پیچھے پیچھے ، ایسے دوڑنے میں اس شخص نے وہ حصہ بھی گنوا دیا جو اسے سورج کی طرف منہ کرنے سے حاصل ہونا تھا۔ آپؒ فرماتے ہیں: سورج ذات حق تعالٰی ہے سایہ دنیا ہے اور جو سایہ تیرے پاؤں میں تجھ سے ملا ہوا ہے وہ تیرا رزق ہے۔ پس اس انسان کو بھی اپنے رب کی طرف لوٹنا چاہیے نہ کہ وہ اس دنیا کی طلب میں ہی ساری زندگی گنوا دے اور رب کی طرف سے ملنے والا حصہ بھی کھو بیٹھے.

آپ نے انسانی مملکت کو ایک بادشاہت سے تشبیہ دی ہے جس طرح ایک مملکت میں بادشاہ ، وزیر، مشیر، محافظ، قاضی، سپاہ سالار، فوج اور رعایا ناگزیر ہے ویسے ہی اس جسم انسانی میں بھی یہ سب موجود ہیں۔ انسان اپنی زندگی کے مراحل ویسے ہی طے کرتا ہے جیسے کوئی پودا طے کرتا ہے، یہ جوان ہوتا ہے پھر اس سے بیج لیا جاتا ہے ، کئی پودوں کی نسل چلتی ہے جبکہ کچھ کی رک جاتی ہے، پھر یہ پودا بوڑھا ہو کر ختم ہو جاتا ہے انسان کی مثال ایسی ہی ہے شیخ اکبر کے نزدیک اس انسان کا بھائی اور دوسرا پودا یہ کائنات ہے۔ کائنات کے بڑھنے کی مثال انسان میں ناخن اور بال ہیں، کائنات میں چار عناصر ہیں انسان کی تخلیق بھی انہی عناصر سے ہوئی ہے۔ کائنات میں درندے اور وحشی جانور ہیں انسان میں بھی قہر غضب کمینگی اور حسد ہے۔ جیسے کائنات میں نیک روحیں اور فرشتے ہیں ویسے ہی انسان میں اعمال صالحہ ہیں۔ زمین میں موجود پہاڑوں کی مثال انسان میں ہڈیاں ہیں۔ زمین میں بہتے دریاوں کی مثال اس کی رگوں میں گردش خون ہے۔ جیسے کائنات میں سورج ایک روشن چراغ ہے ویسے ہی جسم میں روح ایک روشنی ہے؛ جب یہ جسم سے جدا ہوتی ہے تو جسم اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ کائنات میں چاند ہے انسان میں اس کی مثال قوت عقل ہے جیسے چاند سورج سے روشنی اخذ کرتا ہے ویسے ہی عقل روح سے نور اخذکرتی ہے، جیسے چاند گھٹتا اور بڑھتا ہے ویسے ہی عقل عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہے اور پھر بڑھاپے میں کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ عالم علوی میں موجود عرش کی مثال جسم انسانی میں دل ہے اور اسی طرح کی دوسری مثالیں۔
امورمملکت چلانے کا طریقہ
اس کتاب میں آپؒ نے مملکت کے امور چلانے کے لئے ایک نہایت مفید طریقہ وضع کیا ہے جس سے دنیاوی مملکت میں بھی مدد لی جا سکتی اور اگر اس دل کی مملکت کی اصلاح کی جائے تو شیخ اکبرؒ کی مراد اور منشأ تو یہی ہے۔ آپ نے ان تمام مسائل پر روشنی ڈالی ہے جو اس مملکت جسمانی کی تدبیر میں خلیفہ کو پیش آ سکتے ہیں۔ اس جسمانی مملکت کا بادشاہ یا خلیفہ روح ہے اور اس کا نائب یا وزیر، عقل ہے جیسے دنیاوی مملکت کی بقا عدل کے بغیر ممکن نہیں ویسے ہی اس جسمانی مملکت کا دارو مدار بھی عدل و انصاف پر ہے۔ اسی طرح جسم میں عدل کو قاضی کہا گیا ہے اور ارادے کو کاتب کہا ہے جو کہ لوح قلب پر امور نفس لکھتا ہے پھر اعضاء سے اعمال کا ظہور ہوتا ہے ؛ زبان ان سب کی مترجم ہے۔ آپ نے اس مملکت میں خلیفہ کے مقابل ایک قابل اطاعت سرکش انقلابی سردار کا ذکر بھی کیا ہے جسے خواہش کہا ہے اس کا مادہ نار ہے جو کہ نور کے الٹ ہے جبکہ روح کا مادہ نور ہے۔ خواہش کے وزیر کا نام شہوت ہے اور اس کے پاس بھی فوج ، ایلچی ، قاصد اور دیگر کارندے ہیں اس کی کوشش ہوتی ہے کہ اس جسمانی مملکت کے غیر آباد علاقوں پر اپنا تسلط قائم کرکے تیری رعایا کو تجھ سے بغاوت کرنے پر اکسائے۔ نفس ان دونوں بادشاہوں (روح اور خواہش) کے درمیان برزخ ہے کبھی وہ ایک کی بات مانتا ہے تو نیکی کرتا ہے اور جب دوسرے کا غلبہ ہو تو برائی سرزد ہوتی ہے۔ نفس کی تخلیق کے بارے میں شیخ اکبرؒ نے اپنی کتاب (شجرۃ الکون) میں فرمایا ہے "انسان کی تخلیق سے قبل شیطان کو اللہ نے زمین پر فرشتوں کے ساتھ خلافت دے رکھی تھی، وہ زمین پر کافی عرصہ اللہ کی عبادت کرتا رہا۔ جب اللہ تعالٰی نے ملک الموت کو زمین سے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے لئے مٹی لانے کو کہا تو اس وقت شیطان زمین پر اکٹر کر چلتا تھا اور اس مٹی کو اپنے پاؤں تلے روندتا تھا۔ پس جب آدم علیہ السلام کی مٹی کو خمیر کیا گیا اور آپ کی صورت تخلیق کی گئی تو اس پاؤں سے روندی ہوئی مٹی نے نفس کی شکل اختیار کی جبکہ دل کی تخلیق اس مٹی سے ہوئی جس پر شیطان کا قدم نہ پڑا تھا لہذا نفس میں شیطانی اوصاف کا ظہور ہوا اور یہ اس مٹی پر شیطان کے قدم لگنے کی وجہ سے تھا۔ اسی وجہ سے شیطان نے آدم پر تکبر کیا۔ اور اللہ کے اس قول
﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیْْطَانِ﴾ (النور: ۲۱) اے ایمان والوں شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو (یعنی جو چیز اس کے قدموں کے نیچے کی مٹی سے پیدا ہوئی ہے)"۔
مرید کے لئے وصیتیں
کتاب کے آخر میں آپؒ مرید کی رہنمائی کرتے ہوئے اسے بہت سی وصیتیں کرتے ہیں جو راہ سلوک میں اس کے لئے فائدہ مند ہیں۔ آپ نے مرید کو تلاش مرشد کے دوران مختلف احکامات دئیے ہیں جن پر عمل کر کے اس کے لئے اس راہ میں آنا آسان ہو جائے گا۔ سب سے پہلے اس پر شریعت کی پابندی لازم ہے، پھر غذا کا باب ہے، پتھروں کے خواص اور موسموں کے اثرات پر بھی ایک باب ہے۔ پھر خلوت کی تیاری ہے جس میں جسم کو آسائشوں سے روکنے کا عادی بنانا ہے اس کے بعد آپ نے اسے تلاش مرشد کے لئے سفر کا حکم دیا ہے اور ان جگہوں کی بھی نشاندہی کی ہے جہاں مرید کو کوئی شیخ مل سکتا ہے جیسے کہ ویرانے، پہاڑ، ساحل، جنگل وغیرہ۔ جب مرید کو کوئی مرشد میسر آ جائے تو مرید پر مرشد کے حقوق کو تفصیلی بیان کیا ہے؛ جیسے کہ مرشد کی تعظیم اور خدمت، اس کے دوست سے حسن سلوک کرنا اور اس کے دشمن سے قطع تعلقی، مرشد کے احکامات پر عمل کرنا، اس پر یقین رکھنا، مرشد کی غیر موجودگی میں بھی اس کی موجودگی والی تعظیم کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اردو کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس کتاب کا نہایت ہی سہل ترجمہ کیا ہے جس میں ایک سے زائد عربی نسخوں سے مدد لی گئی ہے تاکہ اصل عربی عبارت میں موجود سقم کو دور کیا جائے

01/10/2015

حواس عقل کے پابند ھیں اور عقل روح کے تابع ھوتی ھے...
روح پر جب تک دنیاوی خیالات کا غلبہ رھتا ھے وہ ادراکات سے محروم رھتی ھے...جب وہ دنیاوی
خیالات کے خس وخاشاک سے صاف ھو جاتی ھےتو اس کو باطنی ادراکات حاصل ھونے لگتے ھیں..
لیکن ....اگر توفیق ِ خداوندی شامل ِ حال نہ ھو تو نفسانی خواھشات رکاوٹ بنی رھتی ھیں
جب انسان عقل کے تابع ھوتا ھے تو محاسن ِ ظاھری، اس کے محکوم بن جاتے ھیں...انسان کو نیند
کی حالت میں خواب اسی لئے نظر آتے ھیں کہ حواس ِ ظاھری معطّل ھو جاتے ھیں....جب عقل کا
غلبہ ھو تو وہ بیداری میں بھی حواس کو معطّل کر سکتی ھے اور خواب والی چیزیں بیداری میں
بھی نظر آ جاتی ھیں

01/10/2015

جس طرح جسم کے پانچ یا چھ حواس ہیں جن کے ذریعے اس ظاہری دنیا کی اشیاء ہمیں شعور حاصل ہوتا ہے، اسی طرح انسانی روح کے بھی چھ حواس ہیں جن کو تصوف کی اصطلاح میں لطائف ستہ کہا جاتا ہے اور جن کے ذریعے باطنی دنیا کا ہمیں شعور حاصل ہوتا ہے .

17/09/2015

علم کی قدر طالب اور عالم کے ساتھـ ہوتی ہے جبکہ مال کی اور مالی منفعت والی فنون کی قدر جاہل کے پاس ہوتی ہے۔

14/09/2015

روح کی کوئی زبان نہیں۔ روح پر دن اور رات اثر انداز نہیں ہوتے۔ روح جس طرح دن کو دیکھتی ہے اسی طرح رات کو دیکھتی ہے۔ نہ ہی روح پر حرارت کا اثر ہوتا ہے۔۔

14/09/2015

موت کے بعد دنیاوی زندگی ایسے لگے گی جیسے کوئی خواب دیکھـ رہا تھا۔

13/09/2015

دنیاوی فنون مثلا mbbs ڈاکٹر انجنئیر سائنس وغیرہ کو علم کہنا جہالت ہے۔ کیونکہ جب قیامت قریب ہو جائیگا تو علم اٹھا لیا جائیگا۔ اور یہ فنون انتہا کو پہنچ چکی ہوگی۔ لہذا علم حاصل کرو۔ علم روشنی ہے۔فن دنیاوی منفعت کیلئے کام آتا ہے۔ آخرت کیلئے یہ قابل قبول نہیں ہے۔

12/09/2015

الہام
اللہ کی طرف سے انبیاء یا اولیاء کو جو اطلاع یا ہدایت روحانی طور پر دی جاتی ہے۔ اس کو الہام کہتے ہیں۔ اس میں مرد اورعورت کی تخصیص نہیں۔ حضرت موسی کی والدہ کو حضرت موسیٰ کی حفاظت اور سلامتی کے متعلق الہام خداوندی ہوا تھا، جس کا قرآن میں ذکر ہے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کے حواریوں کو بھی الہام ہوتا تھا۔ الہام سوتے اور جاگتے دونوں حالتوں میں ہوسکتا ہے۔ لیکن صرف خدا کے برگزیدہ بندوں کو ہی ہوتا ہے۔ اس لیے صفائی قلب ، اعمال حسنہ اور یقین کی درستی کے ساتھ تائید توفیق الہی ضروری ہے۔ اسی کی ایک قسم کشف ہے۔ وحی انبیا کے لیے مخصوص ہے۔

Photos 16/06/2015
Want your school to be the top-listed School/college in Swabi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Swabi
Swabi
25000