18/04/2020
پرائیویٹ اسکولوں کے بارے میں معاشرے کا عمومی رویہ , جس پر پچھلے کچھ سالوں میں لوگوں کا اعتقاد مضبوط ہوتا جا رہا ہے...
یہ مافیا ہیں , لوٹتے ہیں , ظالم ہیں....
پرائیویٹ اسکول ناجائز کمائی کے اڈے ہیں, لوٹ مار کر رہے ہیں، پرائیویٹ اسکول بند کریں ,ہزاروں روپے فیس چارج کرتے ہیں....وغیرہ وغیرہ
اور اسطرح کی ساری بحث کرنے والے اینکرز , اخباروں کے صفحے کالے کرنے والے جرنلسٹ , وکلاء اور صبح صبح اپنے بچے پرائیویٹ اسکول میں چھوڑ کے آنے والے کچھ سرکاری اسکولوں کے استاد اور باقی ملازمین ،حکومتی عہدے دار وزیر مشیر وغیرہ اور کچھ ذہنی مریض عوام بھی ان کے ساتھ ہیں , ان میں سے کوئی بھی کبھی بھی آپ کو ان سوالوں کا جواب نہیں دے گا کہ...
دس لاکھ سے 3 کروڑ روپے فی کیس فیس چارج کرنے والا وکیل ڈکیت نہیں ہے.؟؟؟
دس لاکھ روپے فی میچ کی فیس چارج کرنے والا کھلاڑی ڈاکو نہیں ہے؟؟؟
دس لاکھ میں گھر کا نقشہ بنانے والا آرکیٹیکٹ ڈاکو نہیں ہے...؟؟؟
دس لاکھ میں شادی کا جوڑا بنانے والا ڈیزائنر ڈکیت نہیں ہے...؟؟؟
700روپے میں ایک چائے کا کپ بیچنے والا 5 سٹار ہوٹل ظالم نہیں ھے؟؟؟
دس لاکھ میک اپ اور فوٹو گرافی کا چارج کرنے والا اسٹوڈیو ڈکیت نہیں ہے...؟؟؟
سات لاکھ ماہانہ تنخواہ لینے والے بیورکریٹ ظالم نہیں ہیں؟
5منٹ چیک اپ کرنے کے بعد مریض سے 1000 روپے سے لے کر 5000 روپے فیس لینے والا ڈاکٹر مافیا نہیں ھے؟؟؟
سات ہزار کا لان کا برانڈڈ سوٹ خرید کر,آٹھ ہزار کا چائنیز اٹالین فوڈ کھا کر ,چار ہزار کا جوتا خرید کر , 500 روپے سے لے کر 2500 روپے ماہانہ فیس جس میں بچے کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ہر سہولت اور ذمہ داری بھی جس پرائیویٹ اسکول کی ھوتی ھے اس کی ماہانہ فیس کا سن کر کہتے ہیں , " اتنی زیادہ فیس " .....
کھلاڑیوں , ڈیزائنرز ,اور ڈھابوں سے پلازے کھڑے کر دینے والے فوڈ چینز کی محنت اور ہمت کی داستانیں سب کو یاد ہوں گی ....مگر
زندگی بھر کی سخت محنت اور مشکل ترین انبیاء کے پیشہ تعلیم پھیلانے والے کا 500 سے 2500 روپے ماہانہ فیس پر سب کی نظر ھے جس سے وہ بلڈنگ کا کرایہ بھی دے گا ٹیچرز اور باقی سٹاف کو تنخواہ بھی دے گا بجلی گیس پانی اور فون کے بل بھی ادا کرے گا حکومتی فیس اور ٹیکس بھی بھرے گا اس کی 500 سے لے کر 2500 روپے ماہانہ فیس کو لے کر وہ لوگ ظلم کہتے ہیں جو خود چل کر اس ادارے میں پہنچتے ہیں اپنا بچہ اپنی مرضی سے داخل کرواتے ہیں اور باہر جا کر اسی اسکول اور ادارے کو مافیا اور ڈکیت کہتے ہیں۔یہ پسماندہ سوچ آخر کیوں ھے؟؟
اس وقت کوئی یہ کیوں نہیں سوچتا کہ
کوئی بھی پرائیویٹ اسکول کسی والدین کو اپنا بچہ اس کے اسکول میں داخل کرنے پر مجبور نہیں کرتا...
اگر کوئی شخص ان پرائیویٹ اسکولوں کی فیس افورڈ نہیں کر سکتا تو ان کے پاس کیوں جاتا ھے؟؟؟
اگر اپنی مرضی سے ایسے اداروں کے دروازے پر جاتا ھے تو کیوں باہر نکل کر اسی ادارے کو گالیاں دیتا ہے جس میں اپنا مستقبل یعنی اپنا بچہ چھوڑ کے آتا ھے۔۔
پرائیویٹ اسکولز کے بارے میں یہ منافقانہ رویہ پورے پاکستان میں کیوں ھے؟؟؟ اس کو کون روکے گا؟؟
جس وقت جس کا جی چاہے جہاں مرضی کھڑا ھو وہ پرائیویٹ اسکولوں کو گالی دے اور اپنی بھڑاس نکال لے۔۔
افسوس.