.تفسیر القرآن پارہ 01|| سورۃ بقرۃ
❣️ایت نمبر 02
درس قرآن: نوجوان خطیب ابن خطیب فصیح اللسان مولاناقاری ❣️ #حامداحمدعثمانی بن
استاذ العلماء شیخ القرآن والحدیث
💗 ؒ صوابی
ناظم اعلی: دارالعلوم اسلامیه عربیہ چھوٹا لاھور شھید بابا
& 📖 ACA
دارالعلوم اسلامیه عربیہ چھوٹا لاھور شھید بابا
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from دارالعلوم اسلامیه عربیہ چھوٹا لاھور شھید بابا, Education, .
اس عید کے بابرکت موقع پر یا اسکی رقم
دارالعلوم اسلامیه عربیہ چھوٹا لاھور شھید بابا کو دیجئے ۔
جزاکم اللّہ💐
یو شیئر ورلہ ضرور ورکئ
21/05/2026
احباب حضرات متوجہ ھوں
Plzzz sharee
19/05/2026
🌿✨ آج میرے محترم استادِ گرامی مولانا ثاقب شاہ صاحب نے ایک ایسا شعر سنایا جس نے دل کے بند دریچے کھول دیے۔
انہوں نے فرمایا کہ یہ شعر ان کے عظیم استاد، بانیِ دارالعلوم اسلامیہ عربیہ شہید بابا، شیخ الحدیث والقرآن حضرت مولانا امین الحق نور اللہ مرقدہ اکثر سنایا کرتے تھے۔ ✨🌿
📖
“نَرْقَعُ دُنْيَانَا بِتَمْزِيقِ دِينِنَا
فَلَا دِينُنَا يَبْقَى وَلَا مَا نُرَقِّعُ”
🖋 ترجمہ:
“ہم اپنی دنیا کو سنوارنے کے لیے اپنے دین کو پھاڑتے چلے جاتے ہیں، مگر انجام یہ ہوتا ہے کہ نہ ہمارا دین باقی رہتا ہے اور نہ وہ دنیا جسے سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں۔”
💔 یہ شعر صرف دو مصرعے نہیں، بلکہ آج کے مسلمان کی پوری داستان ہے۔
آج انسان دولت کے لیے غیرت بیچ رہا ہے، شہرت کے لیے حیا چھوڑ رہا ہے، وقتی فائدے کے لیے سچائی قربان کر رہا ہے، اور دنیا کی چند لمحاتی آسائشوں کے لیے اپنے رب کے احکامات کو پسِ پشت ڈال رہا ہے۔
🌙 ہم نے سمجھ لیا کہ دین شاید ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دین ہی انسان کی اصل زینت، اصل سکون اور اصل کامیابی ہے۔
جب قومیں اپنے اصول بیچ دیتی ہیں تو ان کے ہاتھ میں نہ عزت رہتی ہے، نہ سکون، اور نہ ہی وہ دنیا جس کے لیے وہ سب کچھ لٹا دیتی ہیں۔
🤲 واقعی حضرت مولانا امین الحق نور اللہ مرقدہ کی ہر بات دل میں اتر جانے والی ہوتی تھی۔
ان کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ محض نصیحت نہیں بلکہ تقویٰ، اخلاص اور اللہ سے گہرے تعلق کی خوشبو لیے ہوتے تھے۔
ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ان کی ہر بات ایک صدف ہو جس کے اندر حکمت کے موتی پوشیدہ ہوں۔
کاش آج وہ مبارک ہستی ہمارے درمیان موجود ہوتی، کیونکہ ایسے اہلِ دل لوگ صرف علم نہیں دیتے بلکہ انسان کے دل کو بھی زندہ کر دیتے ہیں۔
😔 آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں۔
ہم سوچیں کہ کہیں ہم بھی اپنی دنیا کی مرمت کرتے کرتے اپنے ایمان کی بنیادیں تو نہیں گرا رہے؟
💭 یہ شعر میرے دل پر ایک خاموش قیامت بن کر اترا ہے۔
کاش ہم دنیا کے پیچھے بھاگنے سے پہلے یہ سوچ لیا کریں کہ اگر دین ہی کھو دیا تو پھر بچا کیا؟
✍️ — الحسیب ادبی ڈائری
17/05/2026
*آج، 17 مئی 2026، بروز اتوار*
تحصیل رزڑ، صوابی کی سطح پر *مسابقہ حسن تلاوتِ قرآن* کا باوقار انعقاد *مدرسہ اساس القرآن، یار حسین* میں عمل میں آیا۔
اس مبارک مجلس میں *مولانا قاری حامداحمد عثمانی صاحب*، نائب صدر تحصیل لاہور، نے بطورِ منصف شرکت فرما کر جج کے فرائض انجام دیے۔
تلاوت کے اس روح پرور مقابلے میں متعدد طلبہ نے نہایت عمدہ اور دلکش انداز میں کلامِ الٰہی پیش کیا۔ اختتام پر پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا۔
تقریب میں *مفتی نصیر صاحب*، صدر وفاق المدارس صوابی، نے خصوصی شرکت فرما کر مجلس کی رونق دوبالا کی۔
اللہ تعالیٰ تمام منتظمین، اساتذہ اور طلبہ کی کاوشیں قبول فرمائے اور قرآن سے محبت و تعلق کو ہمارے دلوں میں مزید مضبوط کرے۔ آمین۔
شب ھفتہ : بزم امین : کی جھلکیاں
دارالعلوم اسلامیه عربیہ چھوٹا لاھور شھید بابا اور الامین چلڈرن اکیڈمی کے طلبہ کی علمی و تربیتی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ہر ہفتہ کی شب ایک باقاعدہ “بزم” کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ بزم دارالعلوم کی بزمِ امین کمیٹی کے زیرِ نگرانی نہایت منظم انداز میں مسلسل جاری رہتی ہے۔
اس بزم میں تمام طلبہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں، جہاں انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ ہر نشست میں مقررہ ججز موجود ہوتے ہیں جو طلبہ کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لے کر مارکنگ کرتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
منتخب طلبہ کو سالانہ یومِ سرپرستان کے موقع پر خصوصی پروگرام میں اپنی صلاحیتیں پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے، جو نہ صرف ان کے اعتماد میں اضافہ کرتا ہے بلکہ دیگر طلبہ کے لیے بھی ایک مثبت مثال قائم کرتا ہے۔
16/05/2026
زندہ محسنوں کی ناقدری — ایک قومی المیہ
😢😭اے بے قدرہ قومہ
پشتون بیلٹ کی فضاؤں میں ایک عجیب ستم گری نے پرورش پائی ہے۔ یہاں کی ہوا میں ایک انوکھی تلخی گھل چکی ہے۔ یہاں محسنوں کو پہچاننے کی روایت نہیں، بلکہ انہیں آزمانے کا چلن ہے۔ یہاں عظمت کا معیار موت بن چکا ہے۔
یہاں رہبر کی قامت اُس وقت ناپی جاتی ہے جب وہ دنیا سے رخصت ہو چکا ہوتا ہے۔ یہاں زندہ لوگ تنہائی کی قبروں میں دفن رہتے ہیں، اور اصل تعظیم سنگِ مرمر کی قبروں کو نصیب ہوتی ہے۔ گالی دینا فخر سمجھا جاتا ہے اور تعلق توڑ دینا اصول مانا جاتا ہے۔ علماء ہوں، سیاسی قائدین ہوں یا سماجی خدمت گار، اُن کی دلاوری اور بصیرت کا اعتراف تب ہوتا ہے جب وہ یا تو خاک اوڑھ چکے ہوں یا دیارِ غیر کی راہوں میں گم ہو چکے ہوں۔
شیخ الاسلام قاضی فضل اللہ بھی اسی تلخ روایت کا شکار ہوئے۔ وہ علمی کہکشاں اب دیارِ غیر میں بسنے پر مجبور ہے۔ اُن کے علم کی روشنی کئی نسلوں کے لیے چراغ بن سکتی تھی، مگر ہم نے انہیں اتنا تنہا کر دیا کہ انہیں وطن چھوڑنا پڑا۔ آج احساس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے ہی ہاتھوں علم و عمل کی ایک درخشاں کہکشاں کو بے حسی کے بوجھ تلے دبا دیا۔
ان کی علمی وسعت کسی تعارف کی محتاج نہ تھی۔ فلسفہ، تفسیر، حدیث، ادب، عروض و قوافی، سائنسی تحقیق اور دیگر فنون—وہ کسی ایک میدان کے نہیں بلکہ ہر فن کے شہسوار تھے۔
وقت نے کروٹ لی تو وہی مدارس، جو کبھی خاموش تھے، آج انہیں اپنے درمیان شیخ الحدیث بنانے کی آرزو رکھتے ہیں۔ ہر طرف انہیں واپس لانے کی خواہش دکھائی دیتی ہے۔ یہاں تک کہ دارالعلوم کراچی نے بھی شیخ الحدیث صاحب کو اپنے ہاں لانے کی جستجو کی۔ مگر تاریخ ہمیشہ ایک سوال چھوڑ جاتی ہے:
قدر ہمیشہ دیر سے کیوں پیدا ہوتی ہے؟
حضرت شیخ کا سنایا ہوا وہ درد بھرا شعر آج حقیقت بن کر سامنے کھڑا ہے۔ الفاظ مکمل یاد نہیں، مگر مفہوم کچھ یوں ہے:
اول بہ دی ویشتلمہ پہ کانڑو
اوس مې ښکلوي د قبر خاورې
یعنی:
جب زندہ تھا تو مجھے پتھروں سے زخمی کیا گیا،
اب میری قبر کی مٹی کو محبت سے سنوارا جا رہا ہے۔
یہ ہماری اجتماعی سوچ کا آئینہ ہے۔ ہم زندہ چراغوں سے نظریں چرا لیتے ہیں، اور بجھ جانے کے بعد روشنی کی داستانیں لکھتے ہیں۔ ہم زندہ اہلِ علم کو تنقید کے تیروں کا نشانہ بناتے ہیں، اور بعد از مرگ اُن کے نام پر محفلیں سجاتے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی روایت بدلیں، زندہ محسنوں کی قدر کرنا سیکھیں، علم کی توقیر کریں، اور اپنے رہبروں کو اُس وقت پہچانیں جب اُن کی آواز ہمارے درمیان موجود ہو۔ کیونکہ قومیں اپنے بزرگوں کی قبروں سے نہیں، بلکہ زندہ اہلِ دانش کے احترام سے زندہ رہتی ہیں۔
جس قوم میں عالم—اور وہ بھی شیخ الاسلام جیسا قد آور عالم—بے عزت ہو، جہاں سچ بولنے والا اکیلا رہ جائے، جہاں علم سے زیادہ الزام کی قیمت ہو، وہ قوم زوال کا شکار نہیں ہوتی بلکہ خودکشی کرتی ہے۔
اپنے رہنماؤں کو جلاوطنی کی طرف مت دھکیلو، ورنہ آنے والی نسلیں ہمارے بارے میں یہی لکھیں گی:
“یہ وہ لوگ تھے جو اپنے چراغ خود بجھا کر اندھیرے کا ماتم کرتے رہے۔”