اقوال زرین، شاعری اور اسلامی معلومات

  • Home
  • Pakistan
  • Swabi
  • اقوال زرین، شاعری اور اسلامی معلومات

اقوال زرین، شاعری اور اسلامی معلومات میری شاعری، مضامین، اقوال اور دیگر دلچسپ اور معلوماتی تحریروں کے لیے یہ پیج لائیک اور فالو کریں۔شکریہ

اسلامی معلومات، اصلاحی اقوال، شاعری اور مضامین پڑھنے کے لیے پیج فالو کیجیے۔
❣️ جزاکم اللہ خیرا ❣️
فیس بک آئی ڈی 👇
Abbas Ali Abbas
https://www.facebook.com/DoctorAbbasAliAbbas

28/08/2026

سورہ کہف کی تلاوت کرکے درود شریف کا ورد کریں۔
💚اللھم صل علی سیدنا💚
❤️محمد و علی آل سیدنا❤️
🌹محمد و بارک وسلم🌹

*** میری پسندیدہ شخصیت: حضرت محمد مصطفی ﷺ ***اللہ تعالی نے انسانوں کو پیدا فرمایا تو ان کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام عل...
26/08/2026

*** میری پسندیدہ شخصیت: حضرت محمد مصطفی ﷺ ***
اللہ تعالی نے انسانوں کو پیدا فرمایا تو ان کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کا سلسلہ بھی جاری فرمایا۔ حضرت محمد ﷺ اس سلسلے کے آخری پیغمبر ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب قیامت تک کوئی اور پیغمبر نہیں آئے گا۔

آپ ﷺ میری سب سے زیادہ پسندیدہ شخصیت ہیں، کیوں کہ نہ صرف یہ کہ آپ ﷺ نے ہمیں دین پہنچایا بلکہ عملی طور پر دین کے مطابق زندگی گزار کر ہمیں جینے کا سلیقہ سکھایا۔

آپ ﷺ 9 ربیع الاول عام الفیل بمطابق 22 اپریل 571ء کو مکے میں پیدا ہوئے۔ آپ ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے آپ ﷺ کا نام محمد ﷺ رکھا۔ آپ ﷺ کے والد کا نام حضرت عبداللہ اور والدہ کا نام حضرت آمنہ تھا۔ آپﷺ کے والدین آپ ﷺ کے بچپن ہی میں وفات پا گئے اور آپ ﷺ کی پرورش کی ذمہ داری حضرت عبدالمطلب نے اٹھائی اور پھر ان کی وفات کے بعد آپ اپنے چچا ابوطالب کے زیر پرورش رہے۔

جب آپ ﷺ جوان ہوئے تو آپ ﷺ نے تجارت کو اپنا پیشہ بنایا۔ آپ ﷺ اتنے سچے اور امانتدار تھے کہ مکہ میں آپ ﷺ صادق اور امین کے لقب سے مشہور ہوئے۔ آپ ﷺ اپنا کام خود کرتے اور ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتے۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی کو گالی نہیں دی، بات ہمیشہ نرمی سے کرتے، بچوں پر شفقت فرماتے اور لوگوں کی غلطیوں کو معاف فرماتے۔ مختصراً یہ کہ تمام خوبیاں آپ ﷺ کی ذات میں موجود تھیں۔ جب آپ ﷺ کی عمر 40 سال ہوئی تو اللہ تعالی نے آپ ﷺ کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ باوجود اس کے کہ آپ ﷺ کی سچائی مشہور تھی لیکن جب آپ ﷺ نے نبوت کا اعلان کیا تو آپ کے اپنے گھرانے کے لوگ بھی مخالف بن گئے۔

نبوت کے بعد آپ ﷺ نے مکے میں تقریباً 13 سال گزار کر لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔ مسلمانوں کی ایک مختصر جماعت تیار ہو گئی اور اسلام رفتہ رفتہ پھیل رہا تھا لیکن کـــــــــــــفار مکہ کے لیے یہ بات ناقابل برداشت تھی کہ لوگ ان کے بتوں کی پوجا چھوڑ کر ایک اللہ کی عبادت شروع کریں۔ لہذا انہوں نے آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اذیتیں پہنچانا شروع کیں۔ جب ان کے ظلم و ستم کے باوجود مسلمان اپنے دین پر ثابت قدم رہے اور اسلام پھیلتا رہا تو آخر کار انہوں نے آپ ﷺ کو قید کرنے، جلاوطن کرنے اور حتی کہ قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے کــــــــــــفار مکہ کے ارادوں سے آگاہ کرکے آپ ﷺ کو مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیا۔

حضور ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر مدینہ ہجرت کی تو وہاں آپ ﷺ نے انصار اور مہاجرین کے مابین اخوت کا ایسا مضبوط رشتہ قائم کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ کی مؤثر حکمت عملی کے نتیجے میں مدینے میں امن و امان کی فضا قائم ہوئی اور مسلمانوں نے سکھ کا سانس لیا۔ دعوت کے کام میں مزید اضافہ ہوا اور اسلام کی دعوت عرب کے اطراف میں واقع ممالک تک پہنچ گئی۔ اسی دوران آپ ﷺ کی سرپرستی میں کـــــفــــــــار مکہ اور دیگر غیر مسلموں سے کئی کامیاب معرکے بھی ہوئے اور آخر کار آٹھ ہجری میں مسلمانوں نے مکہ فتح کیا۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے جانی دشمنوں کو بھی معاف فرمایا اور عام معافی کا اعلان کرکے عفو درگزر کی عملی مثال پیش کی۔

آپ ﷺ نے دس ہجری میں حج کے دوران ایک تاریخی خطبہ دیا جس میں آپ ﷺ نے حقوق العباد کی ادائیگی پر بہت زور دیا۔ حج سے واپسی کے بعد آپ ﷺ چند دن بہت بیمار رہے۔ اس دوران بھی آپ ﷺ کو اپنی امت کی فکر تھی اور اسی فکر کے ساتھ آپ ﷺ پیر کے دن 12 ربیع الاول 11 ہجری کو اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔
#احساسات ✍️ عباس علی عباسؔ
(یہ مضمون خصوصی طور پر بچوں کے لیے لکھا گیا ہے۔ تاہم بڑوں کے لیے بھی اسے پڑھنا باعث خیر ہے۔)

20/08/2026
[ تعلیمی اداروں میں ہوس پرستی کے اسباب اور سد باب ]ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم انسان پیدا کیے گئے ہیں اور ہمارے دل اسلام کے...
19/08/2026

[ تعلیمی اداروں میں ہوس پرستی کے اسباب اور سد باب ]
ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم انسان پیدا کیے گئے ہیں اور ہمارے دل اسلام کے نور سے منور کیے گئے ہیں، لیکن بڑی بد نصیبی کی بات ہے کہ ہم انسان اور مسلمان ہونے کے باوجود بھی ایسے ایسے کارنامے انجام دیتے ہیں کہ جانور لفظ ہمارے لیے کم پڑ جاتا ہے۔

استاذ کا مقام نہایت بلند ہے اس لیے استاذ کو روحانی باپ کہا گیا ہے اور تعلیمی ادارے کو مادر علمی جیسے معزز لقب سے نوازا گیا ہے، لیکن افسوس کہ کئی بار نہ استاذ کو یہ یاد رہتا ہے کہ میں پیغمبری پیشہ سے وابستہ ایک روحانی باپ ہوں اور نہ مادر علمی جیسے مقدس مقام کا کچھ لحاظ کیا جاتا ہے۔

ہمارے تعلیمی اداروں میں ہوس پرستی معمول کی بات بن گئی ہے لیکن اس میں سارا قصور اساتذہ یا اداروں کے دیگر ملازمین کا نہیں ہے۔ کچھ کمی کوتاہی طالبات اور والدین کا بھی ہے ورنہ آئے دن ناخوشگوار واقعات منظر عام پر نہ آتے۔

ہوس پرستی کی سب سے بڑی وجہ مخلوط نظام تعلیم ہے اور یوں تو اس کے علاوہ بھی بہت سارے اسباب ہیں لیکن ذیل میں چند اسباب اجمالاً ذکر کیے گئے ہیں۔
* والدین کا اپنی بچیوں کا اسلامی طرز پر تربیت نہ کرنا اور گھر کا ماحول حد سے زیادہ روشن خیال ہونا۔
* والدین کا اپنی بچیوں کے لباس اور روزانہ کی بنیاد پر حد سے زیادہ بن سنور کر گھر سے نکلنے پر نظر نہ رکھنا یا نظر آنے کے باوجود نظر انداز کرنا۔
* والدین کا اتنا سخت مزاج ہونا کہ بچیاں اپنے مسائل بھی بیان کرنے سے قاصر رہیں۔
* والدین کا اپنی بچیوں کو حد سے زیادہ آزادی دینا اور ان پر کسی قسم کی نظر نہ رکھنا۔
* طالبات کا روشن خیال اور دین بیزار طالبات سے تعلقات رکھنا۔
* طالبات کا یونیورسٹی آتے ہی اپنے اسلامی اور معاشرتی اقدار کو بھول جانا۔
* طالبات کا بے جا فیشن کرکے لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنا۔
* طالبات کا اساتذہ سے تعلقات پر فخر کرنا۔
* طالبات کا ہر ایک سے آزادانہ گفتگو کرنا اور ناز و ادا سے پیش آنا.
* طالبات کا ہر بات کو معمولی سمجھ کر اسے نظر انداز کرنا اور والدین یا کسی اور کے سامنے اسے زیر بحث نہ لانا۔
* طالبات کا ہاسٹل میں قیام کرنا اور وہاں اپنے کام کے بجائے غیر ضروری سرگرمیوں میں شامل ہونا اور بے جا تعلقات بنانا۔
* طالبات کا مختلف ناموں سے منعقد کیے گئے مخلوط پارٹیوں میں شامل ہونا اور سیر و تفریح یا تعلیمی دوروں کے لیے نکلنا۔
* اساتذہ کا ریسرچ وغیرہ کے دوران طالبات کو بے جا تنگ کرنا اور پھر نرمی دکھا کر ان کو رفتہ رفتہ قریب لانا۔
* اساتذہ کا شروع ہی سے بعض طالبات پر مہربان رہنا اور اسائنمنٹ وغیرہ میں کافی حد تک یا پھر مکمل چھوٹ دینا۔
* اساتذہ یا دیگر ملازمین کا محبت کا اظہار کرنا اور طالبات کا اس کو سچ سمجھنا۔
* اساتذہ کا طالبات کو زیادہ نمبرات کا لالچ دے کر تعلقات بڑھانا یا پھر طالبات کا زیادہ نمبرات کی لالچ میں خود ہی اساتذہ سے تعلقات بڑھانا۔
* اساتذہ کی قدر اور عزت کرتے ہوئے طالبات کا نرمی سے پیش آنا اور ادب کرتے ہوئے بے ادبی کو بھی برداشت کرنا۔
* کلرک وغیرہ کا کسی کام میں رکاوٹ بننا اور پھر طالبات کو تعلقات کے لیے مجبور کرنا یا حد سے زیادہ نرمی اور ہمدردی دکھا کر تعلقات بڑھانا۔
* مرد ملازمین کا یونیورسٹیوں میں پہلے سے موجود فی میل سٹاف اور طالبات کے ذریعے دیگر طالبات سے تعلقات بڑھانا۔
* اساتذہ یا دیگر کسی ملازم کا ہر ایک سے شفارس کرکے طالبات کا اعتماد حاصل کرنا اور خود کو خیر خواہ ظاہر کرنا۔
* اساتذہ وغیرہ کا مختلف طریقوں سے طالبات کو قریب لانا اور پھر ایک معمولی غلطی پر ہزار بار بلیک میل کر کے سنگین غلطیاں کروانا۔

ہوس پرستی کا سد باب کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن ہمت کی جائے تو اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔ ذیل میں کچھ امور ذکر کیے جا رہے ہیں جو ہوس پرستی کے سدباب میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
* سرکاری اور انفرادی طور پر مخلوط نظام تعلیم سے جہاں تک ممکن ہو، کنارہ کشی اختیار کی جائے۔
* ادارے کے سربراہان خود بھی اپنے کردار کو پاک رکھیں اور اپنے ہر ماتحت پر خصوصی نظر رکھیں کہ کسی کی عزت سے نہ کھیلے۔
* طالبات اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ہر پل اپنی اسلامی تشخص کو یاد رکھیں۔
* طالبات سادگی اختیار کریں اور بے جا فیشن کرنے اور نازک لب و لہجہ استعمال کرنے سے گریز کریں۔
* طالبات خوب محنت اور ایمانداری سے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھیں اور کسی کی بے جا حمایت اور ہمدردی حاصل کرنے سے صاف انکار کریں۔
* طالبات خوش اخلاقی سے پیش آئیں لیکن اتنا نرم مزاج ہر گز نہ رکھیں کہ لوگوں کے دلوں میں تعلقات بنانے کی امیدیں پیدا ہو جائیں۔
* طالبات ہر چھوٹی اور بڑی بات اپنے والدین کے سامنے روزانہ کی بنیاد پر زیر بحث لائیں۔
* طالبات نمبرات اور ڈگریوں سے زیادہ فکر اپنی عزت نفس اور اسلامی اقدار کی کریں۔
* طالبات اپنے اساتذہ یا کسی کے ساتھ بھی ضروری کام کی باتوں کے علاوہ اضافی گپ شپ اور ہنسی مذاق سے گریز کریں۔
* طالبات مرد اساتذہ سے ضروری کام کے سلسلے میں بھی تنہائی میں ملنے سے گریز کریں۔
* طالبات کے بھائی اور والد کو کبھی کبار یونیورسٹی آنا چاہیے تاکہ لوگوں کو احساس ہو کہ یہ طالبات لا وارث نہیں ہیں۔
* بھائی یا والد یونیورسٹی ساتھ چلا جائے یا ویسے کسی وقت ملنے آ جائے تو اس پر انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یوں ظاہر کریں کہ یہ میرے محافظ ہیں۔
* طالبات کو اساتذہ سے کچھ راہنمائی حاصل کرنا ہو تو ایس ایم ایس اور وٹس ایپ کے بجائے کال پر بات کرتے ہوئے یہ احساس دلائیں کہ آپ کے والدین اور بھائی وغیرہ اس گفتگو کو سن رہے ہیں، اور بہتر رہے گا کہ حقیقتاً بھی وہ سن رہے ہوں۔
* اگر بالفرض کسی طالبہ نے کوئی غلط قدم اٹھا لیا ہو اور اب وہ بلیک میل ہو رہی ہو، تو اب بھی بلیک میل کرنے والے کو دو ٹوک الفاظ میں بتایا جائے کہ میں نے اپنی فیملی ممبرز کو اس معاملے کے بارے میں بتا دیا ہے اور مزید بلیک میل کرنے کی کوشش کی تو میں ایف آئی کرکے آپ کی عزت کو بھی خاک میں ملا دوں گی۔
* طالبات کو کوئی بھی مسئلہ پیش آئے تو والدین، فیملی کے کسی سمجھدار اور مخلص انسان یا پھر کسی اچھی سہیلی سے مشورہ ضرور لیا کریں۔
* ایک بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ نمبرات اور ڈگریوں پر سمجھوتا کریں لیکن اپنی عزت پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔
* معاشرے کے مخلص افراد کو باقاعدہ ایک تنظیم بنانا چاہیے جو طلبہ اور طالبات کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ ہوس پرستی کے روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات کریں۔

امید ہے ہوس پرستی کے مندرجہ بالا اسباب سے دوری اختیار کی جائے اور اور سدباب کے ضمن میں بیان کی گئیں باتوں پر عمل کیا جائے تو ان شاء اللہ عزتیں محفوظ ہو جائیں گی اور ہوس پرستی میں کافی کمی آئے گی۔
اس موضوع پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور مزید بہت کچھ لکھنے کی گنجائش ہے لیکن میں اپنی اس تحریر کا اختتام مرحومہ پروین شاکر کے اس شعر پر کرتا ہوں۔ ؎
اپنے کردار کو موسم سے بچائے رکھنا
لوٹ کر پھول میں واپس نہیں آتی خوشبو
اللہ تعالیٰ ہم سب کی عزتوں کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین۔
#احساسات ✍️ عباس علی عباسؔ

 #احساسات 🌹
13/08/2026

#احساسات 🌹

Address

Swabi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when اقوال زرین، شاعری اور اسلامی معلومات posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category