19/05/2026
فتحِ قسطنطنیہ — وہ رات جس نے دنیا بدل دی
29 مئی 1453ء
رات کا آخری پہر تھا۔
بحرِ مرمرہ کی سرد ہوائیں قسطنطنیہ کی عظیم فصیلوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ آسمان پر بادل ایسے منڈلا رہے تھے جیسے تاریخ خود کسی بڑے سانحے کے انتظار میں سانس روکے کھڑی ہو۔ شہر کی گلیوں میں عجیب خاموشی تھی۔ وہ خاموشی جو طوفان سے پہلے پیدا ہوتی ہے… وہ خاموشی جس میں تہذیبوں کی آخری سسکیاں سنائی دیتی ہیں۔
دور کہیں ایک گرج دار آواز ابھری۔
“اللہ اکبر… اللہ اکبر!”
عثمانی لشکر کی صفوں سے بلند ہونے والی یہ صدا رات کے سینے کو چیرتی ہوئی قسطنطنیہ کی دیواروں تک پہنچی۔ فصیلوں پر کھڑے بازنطینی سپاہیوں کے چہروں پر خوف کی پرچھائیاں لرزنے لگیں۔ کئی ہفتوں سے جاری محاصرے نے شہر کی روح کو تھکا دیا تھا۔ بازار ویران تھے، گرجا گھروں میں دعائیں ہو رہی تھیں، عورتیں اپنے بچوں کو سینے سے لگائے بیٹھی تھیں، اور بوڑھے آسمان کی طرف دیکھ کر پوچھ رہے تھے:
“کیا واقعی روم کا سورج غروب ہونے والا ہے؟”
یہ صرف ایک شہر کا محاصرہ نہیں تھا۔
یہ دو دنیاؤں کا تصادم تھا۔
یہ ایک ہزار سالہ سلطنت کے خاتمے اور ایک نئی دنیا کے آغاز کی رات تھی
وہ شہر جو دنیا کا تاج تھا
قسطنطنیہ…
وہ شہر جسے دنیا نے “شہروں کی ملکہ” کہا۔
یہ شہر صرف پتھروں، محلوں اور بازاروں کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ صدیوں کی تہذیب، علم، مذہب اور اقتدار کا مرکز تھا۔ اس کے عظیم گنبد سورج کی روشنی میں ایسے چمکتے تھے جیسے زمین پر ستارے اتر آئے ہوں۔ اس کی بندرگاہوں میں دنیا بھر کے جہاز لنگر انداز ہوتے، بازاروں میں ریشم، مصالحے اور سونا بکتا، اور اس کے کتب خانوں میں یونانی فلسفے سے لے کر رومی تاریخ تک ہزاروں قلمی نسخے محفوظ تھے۔
شہر کے قلب میں کھڑی Hagia Sophia اپنی شان و شوکت کے ساتھ گویا پوری مسیحی دنیا کی علامت تھی۔ اس کے گنبد کے نیچے شہنشاہوں کی تاج پوشی ہوتی، اور اس کی دیواروں میں صدیوں کی دعائیں گونجتی تھیں۔
مگر اب یہ عظیم شہر بوڑھا ہو چکا تھا۔
بازنطینی سلطنت، جو کبھی تین براعظموں پر حکمرانی کرتی تھی، اب صرف قسطنطنیہ اور چند اطرافی علاقوں تک محدود رہ گئی تھی۔ خزانے خالی تھے، فوج کمزور تھی، اور یورپ اپنی داخلی جنگوں میں الجھا ہوا تھا۔
مگر شہر کی فصیلیں اب بھی ناقابلِ تسخیر سمجھی جاتی تھیں۔
تھیوڈوسیئن دیواریں.
وہ عظیم دیواریں جنہوں نے صدیوں تک ہر حملہ آور کو روکے رکھا تھا۔ عرب آئے، بلغار آئے، روس آئے… مگر یہ دیواریں کبھی نہ ٹوٹیں۔
لیکن اب ایک نیا طوفان اٹھ رہا تھا۔
عثمانی سلطنت کے تخت پر ایک ایسا نوجوان بیٹھا تھا جس کی آنکھوں میں آگ تھی۔
صرف اکیس برس کی عمر… مگر ارادے فولاد سے زیادہ سخت۔
بچپن ہی سے اس نے ایک حدیث سنی تھی:
“قسطنطنیہ ضرور فتح ہوگا، پس کیا ہی بہترین امیر ہوگا اس کا امیر، اور کیا ہی بہترین لشکر ہوگا وہ لشکر۔”
یہ الفاظ اس کے دل میں بجلی کی طرح اتر گئے تھے۔ وہ خود کو اسی پیش گوئی کا حصہ سمجھنے لگا۔
ایک رات اس نے اپنے استاد سے کہا:
“یا تو میں قسطنطنیہ فتح کروں گا… یا قسطنطنیہ مجھے ختم کر دے گا۔”
اس نوجوان سلطان نے صرف تلوار پر بھروسہ نہیں کیا۔ وہ علم، انجینئرنگ اور حکمتِ عملی کا ماہر تھا۔ اس نے توپیں تیار کروائیں، بحری بیڑا مضبوط کیا، اور پورے عثمانی لشکر کو ایک ہی مقصد پر متحد کر دیا۔
ایک ہنگری انجینئر “اوربان” نے اس کے لیے ایسی عظیم توپ بنائی جس جیسی دنیا نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جب وہ توپ چلتی تو زمین کانپ اٹھتی، اور میلوں دور تک آواز سنائی دیتی۔
بازنطینیوں نے پہلی بار جب اس توپ کی گرج سنی تو کئی لوگوں نے صلیب بنا کر دعائیں مانگنا شروع کر دیں۔
محاصرہ شروع ہوتا ہے
6 اپریل 1453ء۔
عثمانی فوج قسطنطنیہ کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
کہتے ہیں سلطان محمد فاتح کے لشکر کی تعداد تقریباً ایک لاکھ کے قریب تھی، جبکہ شہر کے محافظ صرف چند ہزار تھے۔ مگر بازنطینی سپاہی جانتے تھے کہ اگر یہ شہر گرا… تو ایک پوری دنیا بدل جائے گی۔
شہر کے دفاع کی قیادت Constantine XI Palaiologos کر رہا تھا — بازنطینی سلطنت کا آخری شہنشاہ۔
وہ جانتا تھا کہ اب پسپائی کا کوئی راستہ نہیں۔
اس نے اپنے سپاہیوں سے کہا:
“یہ شہر صرف ہمارا نہیں… یہ ہمارے آباؤ اجداد کی میراث ہے۔ ہم یا تو اسے بچائیں گے… یا اس کی دیواروں پر مر جائیں گے۔”
پھر جنگ شروع ہوئی۔
دن رات توپوں کی گرج سنائی دیتی۔ عثمانی توپیں دیواروں کو پیٹتی رہتیں، اور بازنطینی راتوں کو ٹوٹی ہوئی فصیلیں دوبارہ تعمیر کرتے۔ شہر کے اندر خوف پھیل رہا تھا۔
گرجا گھروں میں دعائیں جاری تھیں۔
بازار بند تھے۔
گلیوں میں بھوک بڑھ رہی تھی۔
مگر سلطان محمد فاتح رکنے والا نہیں تھا۔
---
وہ حیران کن چال جس نے تاریخ بدل دی
قسطنطنیہ کی بندرگاہ “گولڈن ہارن” ایک عظیم زنجیر سے بند تھی تاکہ عثمانی بحری جہاز اندر داخل نہ ہو سکیں۔
بازنطینی مطمئن تھے کہ سمندر کی طرف سے خطرہ ختم ہو چکا۔
لیکن پھر ایک رات…
شہر کے لوگوں نے عجیب آوازیں سنیں۔
لکڑیوں کے چرچرانے کی آواز…
لوہے کے گھسٹنے کی آواز…
صبح ہوئی تو لوگوں نے دیواروں سے باہر دیکھا — اور ان کے چہروں کا رنگ اڑ گیا۔
عثمانی جہاز پہاڑیوں کے اوپر سے گزر کر گولڈن ہارن کے اندر پہنچ چکے تھے۔
سلطان محمد فاتح نے جہازوں کو چکنی لکڑیوں پر رکھ کر خشکی کے راستے سمندر میں اتار دیا تھا۔
یہ منظر دیکھ کر شہر میں کہرام مچ گیا۔
ایک پادری نے لرزتی آواز میں کہا:
“یہ انسان نہیں… تقدیر آ گئی ہے۔”
28 مئی 1453ء۔
شہر پر عجیب اداسی چھائی ہوئی تھی۔
لوگ Hagia Sophia میں جمع تھے۔ کوئی رو رہا تھا، کوئی دعا مانگ رہا تھا، کوئی اپنے گناہوں کی معافی طلب کر رہا تھا۔
شہنشاہ کانسٹنٹائن نے آخری خطاب کیا:
“میں تم سب سے معافی چاہتا ہوں… اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو۔”
سپاہیوں کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
دوسری طرف عثمانی لشکر میں جوش کی کیفیت تھی۔ سلطان محمد فاتح گھوڑے پر سوار لشکر کے درمیان آیا۔ اس کی آواز میں بجلی تھی۔
“کل صبح… یا تو قسطنطنیہ ہمارا ہوگا… یا ہم مٹی میں ہوں گے!”
رات بھر قرآن کی تلاوت ہوتی رہی۔ سپاہی دعائیں کرتے رہے۔ دور شہر کی فصیلوں پر مشعلیں جل رہی تھیں، اور آسمان پر بادل ایسے تیر رہے تھے جیسے تاریخ خود اس لمحے کو دیکھ رہی ہو۔
29 مئی کی صبح۔
توپوں نے آگ اگلنا شروع کی۔
زمین لرز اٹھی۔
عثمانی سپاہی موجوں کی طرح دیواروں کی طرف بڑھے۔ تیروں، بارود اور چیخوں سے فضا بھر گئی۔ زخمیوں کی کراہیں، گھوڑوں کی ہنہناہٹ، اور “اللہ اکبر” کی صدائیں ایک ہولناک شور میں بدل گئیں۔
پھر… ایک بڑا شگاف پیدا ہوا۔
عثمانی فوج دیواروں کے اندر داخل ہونے لگی۔
شہنشاہ کانسٹنٹائن نے اپنا شاہی لباس اتار دیا تاکہ عام سپاہیوں کی طرح لڑ سکے۔ روایت ہے کہ اس نے آخری بار کہا:
“کیا کوئی عیسائی نہیں جو میرے ساتھ مرے؟”
پھر وہ ہجوم میں غائب ہو گیا۔
اس کی لاش کبھی یقینی طور پر شناخت نہ ہو سکی۔
اور یوں ایک ہزار سالہ بازنطینی سلطنت ختم ہو گئی۔
قسطنطنیہ کی گلیاں خون سے بھر گئیں۔
لوگ بھاگ رہے تھے۔
عمارتوں سے دھواں اٹھ رہا تھا۔
چیخیں ہر طرف گونج رہی تھیں۔
وہ شہر جو کبھی علم و تہذیب کا مرکز تھا، اب شکست کی راکھ میں ڈوب چکا تھا۔
مؤرخ Steven Runciman نے لکھا:
> “یہ صرف ایک شہر کا سقوط نہیں تھا، بلکہ قرونِ وسطیٰ کا اختتام تھا۔”
مگر اسی تباہی کے درمیان ایک عجیب منظر بھی تھا۔
سلطان محمد فاتح شہر میں داخل ہوا۔ جب وہ Hagia Sophia پہنچا تو کچھ لمحے خاموش کھڑا رہا۔
گرد و غبار فضا میں تیر رہا تھا۔ عظیم گنبد خاموش تھا۔ صدیوں کی تاریخ اس عمارت کی دیواروں میں سانس لے رہی تھی۔
کہتے ہیں سلطان نے مٹی اٹھا کر اپنی پگڑی پر ڈالی اور آہستہ سے کہا:
“ہر چیز فنا ہونے والی ہے…”
پھر اس نے حکم دیا کہ شہر کو دوبارہ آباد کیا جائے، لوگوں کو تحفظ دیا جائے، اور قسطنطنیہ کو عثمانی سلطنت کا دارالحکومت بنایا جائے۔
فتحِ قسطنطنیہ صرف ایک فوجی کامیابی نہیں تھی۔
اس واقعے نے دنیا کی تاریخ بدل دی۔
یورپ خوفزدہ ہو گیا۔ تجارتی راستے بدل گئے۔ بہت سے یونانی علماء یورپ کی طرف ہجرت کر گئے، اور انہی علوم نے بعد میں نشاۃِ ثانیہ کو جنم دیا۔
دوسری طرف عثمانی سلطنت ایک عالمی طاقت بن کر ابھری۔
قسطنطنیہ اب “اسلام بول” بننے لگا… پھر وقت کے ساتھ وہ Istanbul کہلایا۔
اس شہر کی گلیوں میں اب اذانوں کی آواز گونجنے لگی۔ بازار دوبارہ آباد ہوئے، مدارس قائم ہوئے، اور مشرق و مغرب کا سنگم ایک نئی شکل میں ابھر آیا۔
آج بھی اگر آپ Istanbul کی فصیلوں کے پاس کھڑے ہوں… تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہوا میں ابھی تک توپوں کی گونج باقی ہے۔
بحرِ مرمرہ کی لہریں آج بھی انہی دیواروں سے ٹکراتی ہیں۔
Hagia Sophia آج بھی کھڑی ہے… خاموش، مگر صدیوں کی کہانیاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے۔
فتحِ قسطنطنیہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سلطنتیں ہمیشہ قائم نہیں رہتیں۔ طاقت، دولت، عظمت… سب وقت کے ہاتھوں بدل جاتے ہیں۔
وہ خواب جو کسی نوجوان کے دل میں جل اٹھیں…
وہ تاریخ کا رخ موڑ سکتے ہیں۔
29 مئی 1453ء کی وہ رات صرف ایک شہر کی قسمت نہیں بدل رہی تھی۔
وہ انسانیت کے ایک پورے عہد کو الوداع کہہ رہی تھی…
اور ایک نئے زمانے کا دروازہ کھول رہی تھی۔
19/05/2026
سقوطِ بغداد: منگول آندھی جس کے بعد تاریخ کا دھارا بدل گیا
انسانی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک شہر، ایک سلطنت یا ایک نسل کی بربادی پر ختم نہیں ہوتے، بلکہ وہ پوری دنیا کی تہذیبی، علمی اور سیاسی تقدیر کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ سنہ 1258 میں رونما ہونے والا سقوطِ بغداد بھی تاریخ کا ایک ایسا ہی خونچکاں باب ہے، جس نے میسوپوٹیمیا کی ہزاروں سالہ تہذیب کے قدم اس طرح اکھاڑے کہ وہ آج تک سنبھل نہیں پائی۔ یہ داستان ہے ایک ایسے دارالخلافہ کی جو دنیا کا علمی اور ثقافتی مرکز تھا، لیکن وقت کے حکمرانوں کی غفلت اور منگولوں کی بے رحم عسکری قوت نے اسے چند ہی دنوں میں کھنڈر بنا دیا۔
منگول افواج نے پچھلے تیرہ دن سے بغداد کو اپنے سخت حصار میں لے رکھا تھا اور شہر کے باسیوں پر خوف و ہراس کے سائے گہرے ہو چکے تھے۔ جب دفاع کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں اور مزاحمت کا کوئی راستہ نہ بچا، تو دس فروری سنہ 1258 کو بغداد کی تاریخی فصیل کے عظیم الشان دروازے کھول دیے گئے۔ سینتیسویں عباسی خلیفہ مستعصم باللہ، جو اس وقت مسلم دنیا کے سب سے بڑے روحانی اور سیاسی منصب پر فائز تھے، اپنے وزرا، امرا اور اعیانِ سلطنت کے ہمراہ مرکزی دروازے سے برآمد ہوئے اور منگول سالار ہلاکو خان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ خلیفہ کو گمان تھا کہ شاید ہتھیار ڈالنے سے شہر اور اس کے مکینوں کی جان بخشی ہو جائے گی، لیکن ہلاکو خان نے وہی کیا جو اس کے دادا چنگیز خان پچھلی نصف صدی سے مفتوحہ علاقوں کے ساتھ کرتے چلے آئے تھے۔ اس نے خلیفہ کے سامنے ہی تمام عباسی اشرافیہ کو وہیں تلوار کے گھاٹ اتار دیا اور فاتح منگول دستے ام البلاد یعنی شہروں کی ماں کہلانے والے بغداد میں داخل ہو گئے۔
اس کے بعد کے چند دنوں میں بغداد کی گلیوں نے وہ وحشت دیکھی جس کا تصور کر کے بھی روح کانپ اٹھتی ہے۔ منگول سپاہی شہر میں بھوکے گدھوں اور غضبناک بھیڑیوں کی طرح پھیل گئے اور جو سامنے آیا اسے بے دردی سے ذبح کر دیا۔ بستر اور تکیے قیمتی اشیاء کی تلاش میں چاقوؤں سے پھاڑ دیے گئے، شاہی حرم کی عورتوں کو گلیوں میں گھسیٹا گیا اور وہ تاتاریوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنیں۔ اس قتلِ عام میں مارے جانے والوں کا درست تخمینہ لگانا تو ممکن نہیں، مگر مورخین کا اندازہ ہے کہ دو لاکھ سے لے کر دس لاکھ کے قریب بے گناہ لوگ منگولوں کی تلواروں، تیروں اور بھالوں کا شکار بنے۔ پورا شہر لاشوں کا ڈھیر بن چکا تھا اور چند ہی دنوں میں وہاں اس قدر تعفن پھیلا کہ خود ہلاکو خان کو بدبو کے باعث شہر سے باہر خیمہ لگانے پر مجبور ہونا پڑا۔ جب عباسیوں کے عظیم الشان شاہی محلات کو آگ لگائی گئی، تو ان میں استعمال ہونے والی آبنوس اور صندل کی قیمتی لکڑی کی خوشبو، فضا میں پھیلی موت اور سڑاند کی بدبو میں مدغم ہو گئی۔
یہی ادغام بغداد کے اساطیری دریا، دجلہ میں بھی دیکھنے کو ملا۔ یہ وہ دریا تھا جس کے دونوں کناروں پر الف لیلہ کی شہرزاد کا شہر آباد تھا، جہاں خلیفہ ہارون الرشید اور مامون الرشید کے قائم کردہ 'بیت الحکمہ' یعنی دارالترجمہ کی بدولت علم کی ندیاں بہتی تھیں۔ یہ وہ سنہرا دور تھا جب مترجموں کو کتابوں کے وزن کے برابر سونا بطور معاوضہ دیا جاتا تھا۔ یہ شہر دلکشا مسجدوں، وسیع کتب خانوں، عالیشان محلات، سرسبز باغات اور علم افروز مدرسوں کا گہوارہ تھا، جہاں فارسی کے عظیم شاعر شیخ سعدی نے خود مدرسہ نظامیہ سے تعلیم حاصل کی اور بعد میں اسی شہر کی بربادی پر ایک دلدوز نوحہ لکھا۔ لیکن منگولوں کی آمد کے بعد دجلہ کا مٹیالا پانی پہلے چند دن انسانی خون کی وجہ سے سرخ بہتا رہا اور پھر سیاہ پڑ گیا۔ یہ سیاہی ان لاکھوں نادر و نایاب کتابوں اور علمی نسخوں کی تھی جنہیں کتب خانوں سے نکال کر دریا میں پھینک دیا گیا تھا، اور ان کی سیاہی نے گھل گھل کر دریا کے پانی کو ہمیشہ کے لیے تلوخ کر دیا۔
اس بھیانک انجام کی بنیاد ہلاکو خان کے اس خط سے پڑی تھی جو اس نے محاصرے سے پہلے خلیفہ مستعصم کو لکھا تھا۔ اس نے خلیفہ کو متنبہ کیا تھا کہ وہ لوہے کے سوئے کو مکہ مارنے کی کوشش نہ کرے اور سورج کو بجھی ہوئی موم بتی نہ سمجھے۔ ہلاکو نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ بغداد کی دیواریں گرا دو، خندقیں پاٹ دو، حکومت چھوڑ کر ہمارے پاس آ جاؤ، ورنہ اگر ہم نے چڑھائی کی تو تمھیں زمین کی گہرائیوں میں پناہ ملے گی نہ بلند ترین آسمان میں۔ لیکن خلیفہ مستعصم باللہ، جن کے پاس اپنے اجداد جیسی عسکری طاقت تو نہیں تھی مگر وہ ایک زعم میں مبتلا تھے، نے جواب دیا کہ مشرق سے مغرب تک خدا کے ماننے والے اہلِ ایمان ان کی رعایا ہیں اور وہ خلیفہ پر حملے کی خبر سنتے ہی سینہ سپر ہو جائیں گے۔ انہوں نے ہلاکو خان کو 'نوجوان' کہہ کر مخاطب کیا اور واپس لوٹ جانے کا مشورہ دیا، جو کہ ایک بدترین سیاسی اور عسکری غلطی ثابت ہوئی۔
ہلاکو خان کو اپنی فوج اور جدید جنگی حکمتِ عملی پر پورا بھروسہ تھا۔ اس کے بھائی منگوقآن نے اسے تازہ دم دستے بھیجے تھے، جبکہ صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کا بدلہ لینے کے لیے آرمینیا اور جارجیا کے مسیحی فوجی بھی منگولوں کے ساتھ شامل ہو چکے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ منگول فوج کے پاس چینی انجینئرز کا ایک ایسا دستہ تھا جو منجنیقوں کی تیاری اور بارود کے استعمال میں مہارت رکھتا تھا۔ اگرچہ بغداد کے لوگ آتش گیر مادے 'نفتا' سے واقف تھے، لیکن دھماکہ خیز بارود اور دھوئیں کے بموں کا سامنا انہوں نے پہلی بار کیا تھا۔ منگولوں نے بارود کو لوہے اور مٹی کی ٹیوبوں میں بند کر کے دھماکے دار جدت دی تھی، جس کی وجہ سے ان کی منجنیقوں نے بغداد پر آتشی بارش برسائی اور فصیل کو جگہ جگہ سے توڑ دیا۔ محاصرے کے ایک ہفتے کے اندر ہی خلیفہ نے بھاری تاوان اور خطبے میں ہلاکو کا نام شامل کرنے کی شرط پر صلح کی پیشکش کی، مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی اور ہلاکو فتح کے دہانے پر کھڑا تھا۔
منگولوں کے عقیدے میں کسی بادشاہ کا خون زمین پر بہانا بدشگونی سمجھا جاتا تھا، اس لیے ہلاکو خان نے خلیفہ کے ساتھ ایک عجیب اور المناک کھیل کھیلا۔ شروع میں وہ خلیفہ کو یہ باور کراتا رہا کہ وہ اس کا مہمان بن کر آیا ہے۔ مورخ اور ہلاکو کے وزیر نصیر الدین طوسی کے مطابق، خلیفہ کو چند دن بھوکا رکھنے کے بعد ان کے سامنے ایک ڈھکا ہوا برتن لایا گیا۔ جب بھوکے خلیفہ نے بے تابی سے ڈھکن اٹھایا تو اس میں ہیرے جواہرات بھرے ہوئے تھے۔ ہلاکو کے کہنے پر کہ 'انہیں کھاؤ'، خلیفہ نے جواب دیا کہ ہیرے کیسے کھائے جا سکتے ہیں؟ اس پر ہلاکو نے تاریخی جملہ کہا کہ اگر تم ان ہیروں سے اپنے سپاہیوں کے لیے تلواریں اور تیر بنا لیتے تو میں یہ دریا عبور نہ کر پاتا۔ خلیفہ نے اسے خدا کی مرضی قرار دیا، تو ہلاکو نے کہا کہ اب جو میں تمہارے ساتھ کرنے جا رہا ہوں وہ بھی خدا ہی کی مرضی ہے۔ اس کے بعد خلیفہ کو نمدوں اور قالینوں میں لپیٹ کر ان کے اوپر گھوڑے دوڑا دیے گئے تاکہ ان کا خون زمین پر نہ گرے اور اس طرح عباسی خلافت کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
یہ وہی بغداد تھا جس کی بنیاد سنہ 762 میں خلیفہ ابوجعفر المنصور نے ایک چھوٹے سے گاؤں کے قریب رکھی تھی اور جو دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کا عظیم ترین شہر بن گیا تھا۔ یہ دنیا کا وہ پہلا شہر تھا جس نے دس لاکھ کی آبادی کا ہندسہ چھوا اور جہاں نویں صدی میں ہی شرح خواندگی اس قدر بلند تھی کہ تقریباً ہر شہری پڑھ لکھ سکتا تھا۔ بیت الحکمہ میں یونانی، لاطینی، سنسکرت اور سریانی زبانوں کے علوم کا عربی میں ترجمہ ہوا، اور یہی علوم صدیوں بعد یورپ پہنچے جہاں انہوں نے یورپی نشاۃ الثانیہ (Renaissance) کی بنیاد رکھی۔ الجبرا، ایلگوردم، الکیمی، زینتھ اور الکوحل جیسے درجنوں الفاظ اسی بغداد کی سائنسی ترقی کی دین ہیں۔ یہ شہر جابر بن حیان، الخوارزمی، الکندی، الرازی، الغزالی، طبری، امام ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبل جیسی عظیم عبقری شخصیات کا مسکن رہا تھا۔
آج اس واقعے کو گزرے صدیاں بیت چکی ہیں، لیکن بغداد پر چلنے والی اس ناگہانی منگول آندھی کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ اس تباہی کے بعد سے آج تک کوئی بھی مسلم شہر علم، حکمت اور شان و شوکت میں بغداد کے اس سنہرے دور کے عشرِ عشیر تک بھی نہیں پہنچ سکا۔ بعض دانشوروں اور ماہرین کا تو یہ بھی ماننا ہے کہ مغربی تہذیب کے پھلنے پھولنے کا راستہ دراصل اسی وقت ہموار ہوا جب منگولوں نے اپنے دور کی سب سے برتر اور ترقی یافتہ مسلم تہذیب کو ملبے کا ڈھیر بنا کر تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
#دجلہ
15/05/2026
رولا دینے والا واقعہ😢😢
حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نہایت خوبصورت تھے۔ تفسیر نگار لکھتے ہیں کہ آپ کا حسن اس قدر تھا کہ عرب کی عورتیں دروازوں کے پیچھے کھڑے ہو کر یعنی چھپ کر حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کرتی تھیں۔
لیکن اس وقت آپ مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک دن سرورِ کونین تاجدارِ مدینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر حضرت دحیہ کلبی پر پڑی۔ آپؐ ﷺنے حضرت دحیہ قلبی کے چہرہ کو دیکھا کہ اتنا حیسن
نوجوان ہے۔
آپ نے رات کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا مانگی؛ یا اللہ اتنا خوبصورت نوجوان بنایا ہے، اس کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے، اسے مسلمان کر دے، اتنے حسین نوجوان کو جہنم سے بچا لے۔ رات کو آپ نے دعا فرمائی، صبح حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔
حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کہنے لگے؛ اے اللہ کے رسول ! بتائیں آپؐ کیا احکام لے کر آئے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور اللہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔
پھر توحید و رسالت کے بارے میں حضرت دحیہ کلبی کو بتایا۔ حضرت دحیہ نے کہا؛ اللہ کے نبی میں مسلمان تو ہو جاؤں لیکن ایک بات کا ہر وقت ڈر لگا رہتا ہے ایک گناہ میں نے ایسا کیا ہے کہ آپ کا اللہ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا؛
اے دحیہ بتا تونے کیسا گناہ کیا ہے؟ تو حضرت دحیہ کلبی نے کہا؛ یا رسول اللہ میں اپنے قبیلے کا سربراہ ہوں۔ اور ہمارے ہاں بیٹیوں کی پیدائش پر انہیں زندہ دفن کیا جاتا ہے۔ میں کیونکہ قبیلے کا سردار ہوں اس لیے میں نے ستر گھروں کی بیٹیوں کو زندہ دفن کیا ہے۔ آپ کا رب مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اسی وقت حضرت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے؛
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم❤️❤️ ، اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اسے کہیں اب تک جو ہو گیا وہ ہو گیا اس کے بعد ایسا گناہ کبھی نہ کرنا۔ ہم نے معاف کر دیا ۔
حضرت دحیہ آپ کی زبان سے یہ بات سن کر رونے لگے۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ اب کیا ہوا ہے؟ کیوں روتے ہو ؟ حضرت دحیہ کلبی کہنے لگے؛ یا رسول اللہ، میرا ایک گناہ اور بھی ہے جسے آپ کا رب کبھی معاف نہیں کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا دحیہ کیسا گناہ ؟ بتاؤ ؟
حضرت دحیہ کلبی فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ،ﷺ میری بیوی حاملہ تھی اور مجھے کسی کام کی غرض سے دوسرے ملک جانا تھا۔ میں نے جاتے ہوئے بیوی کو کہا کہ اگر بیٹا ہوا تو اس کی پرورش کرنا اگر بیٹی ہوئی تو اسے زندہ دفن کر دینا۔
دحیہ روتے جا رہے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں۔ میں واپس بہت عرصہ بعد گھر آیا تو میں نے دروازے پر دستک دی۔ اتنے میں ایک چھوٹی سی بچی نے دروازہ کھولا اور پوچھا کون؟
میں نے کہا: تم کون ہو؟ تو وہ بچی بولی؛ میں اس گھر کے مالک کی بیٹی ہوں۔ آپ کون ہیں؟ دحیہ فرمانے لگے؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم،❤️ میرے منہ سے نکل گیا: اگر تم بیٹی ہو اس گھر کے مالک کی تو میں مالک ہوں اس گھر کا۔
یا رسول اللہ! میرے منہ سے یہ بات نکلنے کی دیر تھی کہ چھوٹی سی اس بچی نے میری ٹانگوں سے مجھے پکڑ لیا اور بولنے لگی؛ بابا بابا بابا بابا آپ کہاں چلے گئے تھے؟ بابا میں کس دن سے آپ کا انتظار کر رہی ہوں۔ حضرت دحیہ کلبی روتے جا رہے ہیں اور فرماتے ہیں؛
اے اللہ کے نبی! میں نے بیٹی کو دھکا دیا اور جا کر بیوی سے پوچھا؛ یہ بچی کون ہے؟ بیوی رونے لگ گئی اور کہنے لگی؛ دحیہ! یہ تمہاری بیٹی ہے۔ یا رسول اللہ! مجھے ذرا ترس نہ آیا۔ میں نے سوچا میں قبیلے کا سردار ہوں۔ اگر اپنی بیٹی کو دفن نہ کیا تو لوگ کہیں گے ہماری بیٹیوں کو دفن کرتا رہا اور اپنی بیٹی سے پیار کرتا ہے۔
حضرت دحیہ کی آنکھوں سے اشک زارو قطار نکلنے لگے۔ یا رسول اللہ وہ بچی بہت خوبصورت، بہت حیسن تھی۔ میرا دل کر رہا تھا اسے سینے سے لگا لوں۔ پھر سوچتا تھا کہیں لوگ بعد میں یہ باتیں نہ کہیں کہ اپنی بیٹی کی باری آئی تو اسے زندہ دفن کیوں نہیں کیا؟ میں گھر سے بیٹی کو تیار کروا کر نکلا تو بیوی نے میرے پاؤں پکڑ لیے۔ دحیہ نہ مارنا اسے۔ دحیہ یہ تمہاری بیٹی ہے۔
ماں تو آخر ماں ہوتی ہے۔ میں نے بیوی کو پیچھے دھکا دیا اور بچی کو لے کر چل پڑا۔ رستے میں میری بیٹی نے کہا؛ بابا مجھے نانی کے گھر لے کر جا رہے ہو؟ بابا کیا مجھے کھلونے لے کر دینے جا رہے ہو؟ بابا ہم کہاں جا رہے ہیں؟ دحیہ کلبی روتے جاتے ہیں اور واقعہ سناتے جا رہے ہیں
۔ یا رسول اللہ ! میں بچی کے سوالوں کاجواب ہی نہیں دیتا تھا۔ وہ پوچھتی جا رہی ہے بابا کدھر چلے گئے تھے؟ کبھی میرا منہ چومتی ہے، کبھی بازو گردن کے گرد دے لیتی ہے۔ لیکن میں کچھ نہیں بولتا۔ ایک مقام پر جا کر میں نے اسے بٹھا دیا اور خود اس کی قبر کھودنے لگ گیا۔
آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم❤️ دحیہ کی زبان سے واقعہ سنتے جارہے ہیں اور روتے جا رہے ہیں۔ میری بیٹی نے جب دیکھا کہ میرا باپ دھوپ میں سخت کام کر رہا ہے، تو اٹھ کر میرےپاس آئی۔ اپنے گلے میں جو چھوٹا سا دوپٹہ تھا وہ اتار کر میرے چہرے سے ریت صاف کرتے ہوئے کہتی ہے؛
بابا دھوپ میں کیوں کام کر رہے ہیں؟ چھاؤں میں آ جائیں۔ بابا یہ کیوں کھود رہے ہیں اس جگہ؟ بابا گرمی ہے چھاؤں میں آ جائیں۔ اور ساتھ ساتھ میرا پسینہ اور مٹی صاف کرتی جا رہی ہے۔ لیکن مجھے ترس نہ آیا۔
آخر جب قبر کھود لی تو میری بیٹی پاس آئی۔ میں نے دھکا دے دیا۔ وہ قبر میں گر گئی اور میں ریت ڈالنے لگ گیا۔ بچی ریت میں سے روتی ہوئی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ میرے سامنے جوڑ کر کہنے لگی؛ بابا میں نہیں لیتی کھلونے۔ بابا میں نہیں جاتی نانی کے گھر۔
بابا میری شکل پسند نہیں آئی تو میں کبھی نہیں آتی آپ کے سامنے۔ بابا مجھے ایسے نہ ماریں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ❤️ میں ریت ڈالتا گیا۔ مجھے اس کی باتیں سن کر بھی ترس نہیں آیا۔ میری بیٹی پر جب مٹی مکمل ہو گئی اور اس کا سر رہ گیا تو میری بیٹی نے میری طرف سے توجہ ختم کی اور بولی؛
اے میرے مالک میں نے سنا ہے تیرا ایک نبی آئے گا جو بیٹیوں کو عزت دے گا۔ جو بیٹیوں کی عزت بچائے گا۔ اے اللہ وہ نبی بھیج دے بیٹیاں مر رہی ہیں۔ پھر میں نے اسے ریت میں دفنا دیا۔ حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ واقعہ سناتے ہوئے بے انتہا روئے۔
یہ واقعہ جب بتا دیا تو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا رو رہے ہیں کہ آپؐ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے گیلی ہو گئی۔ آپؐ نے فرمایا؛ دحیہ ذرا پھر سے اپنی بیٹی کا واقعہ سناؤ۔ اس بیٹی کا واقعہ جو مجھ محمد کے انتظار میں دنیا سے چلی گئی۔ آپؐ نے تین دفعہ یہ واقعہ سنا اور اتنا روئے کہ آپ کو دیکھ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رونے لگ گئے
اور کہنے لگے؛ اے دحیہ کیوں رلاتا ہے ہمارے آقا کو؟ ہم سے برداشت نہیں ہو رہا۔ آپؐ نے حضرت دحیہ سے تین بار واقعہ سنا تو حضرت دحیہ کی رو رو کر کوئی حالت نہ رہی۔
اتنے میں حضرت جبرائیل علیہ اسلام حاضر ہوئے اور فرمایا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم❤️ ! اللہ سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم! دحیہ کو کہہ دیں وہ اُس وقت تھا جب اس نے اللہ اور آپؐ کو نہیں مانا تھا۔ اب مجھ کو اور آپ کو اس نے مان لیا ہے تو دحیہ کا یہ گناہ بھی ہم نے معاف کر دیا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس نے دو بیٹیوں کی کفالت کی، انہیں بڑا کیا، ان کے فرائض ادا کیے، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی اور ساتھ والی انگلی آپس میں ہیں.
۔
جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی اس کی یہ اہمیت ہے تو جس نے تین یا چار یا پانچ بیٹیوں کی پرورش کی اس کی کیا اہمیت ہو گی؟
بیٹیوں کی پیدائش پر گھبرایا نہ کریں انہیں والدین پر بڑا مان ہوتا ہےاور یہ بیٹیاں اللہ کی خاص رحمت ہوتی ہیں
واللہ اعلم بالصواب. کوئی غلطی ہوئی ہو تو اللہ پاک معاف فرمائے آمین.
کتاب" تنبیہات اسلام" سلسلہ نمبر 272 میں واقع ہے، ؟
11/05/2026
روایات کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کی کل عمر 960 سال یا 1000 سال تھی۔
وفات سے پہلے آپؑ نے اپنے بیٹے حضرت شیثؑ کو بلایا اور انہیں تمام ضروری علوم، اوقاتِ عبادت اور آنے والے طوفانِ نوحؑ کے بارے میں بھی آگاہ فرمایا۔
آپؑ نے حضرت شیثؑ کو نصیحت کی تھی کہ وہ اپنی نسل کو اللہ کی اطاعت پر قائم رکھیں۔
جمعہ کا دن:
حضرت آدمؑ کی پیدائش بھی جمعہ کو ہوئی، زمین پر نزول بھی جمعہ کو ہوا اور آپؑ کی وفات بھی جمعہ کے دن ہی ہوئی۔
تاریخی روایات (جیسے تاریخِ طبری اور البدایہ والنہایہ) کے مطابق، حضرت آدم علیہ السلام کی زندگی میں ان کی نسل بہت تیزی سے پھیلی۔
مفسرین اور مورخین بیان کرتے ہیں کہ حضرت آدمؑ کی وفات تک ان کی اولاد، پوتوں، پڑپوتوں اور ان کی نسل کی
مجموعی تعداد 40 ہزار (کچھ روایات میں ایک لاکھ یا اس سے بھی زائد) تک پہنچ چکی تھی۔
حضرت حواؑ کے ہر بطن سے جڑواں بچے (ایک لڑکا اور ایک لڑکی) پیدا ہوتے تھے۔
روایات کے مطابق حضرت حواؑ کے 20 بطن (40 بچے) یا بعض روایات کے مطابق 120 بطن ہوئے تھے۔
حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کے وقت ان کے بیٹے حضرت شیث علیہ السلام کا دورِ نبوت شروع ہو چکا تھا بلکہ وہ حضرت آدمؑ کے جانشین مقرر ہو چکے تھے۔
حضرت آدمؑ نے اپنی وفات سے قبل حضرت شیثؑ کو اپنا وصی اور جانشین مقرر کیا تھا۔ انہیں اللہ کی طرف سے 50 صحیفے عطا کیے گئے تھے۔
حضرت شیثؑ نے اپنے والد کی وفات کے بعد اللہ کے دین کی تبلیغ جاری رکھی اور لوگوں کو اللہ کی وحدانیت اور شریعتِ آدمؑ کی تعلیم دی۔
حضرت ادریسؑ، حضرت آدمؑ کی وفات کے کافی عرصہ بعد تشریف لائے تھے،
تاہم حضرت آدمؑ نے اپنی زندگی میں اپنی نسل میں آنے والے بعض انبیاء کا ذکر غیب کی خبروں کے طور پر سنا رکھا تھا۔
آپؑ کی قبرِ مبارک کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ کچھ کے مطابق آپؑ مکہ میں جبلِ ابو قبیس کے پاس دفن ہیں،
جبکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ طوفانِ نوحؑ کے وقت حضرت نوحؑ نے آپؑ کا تابوت اپنی کشتی میں رکھ لیا تھا
اور بعد میں اسے بیت المقدس یا خلیل (فلسطین) میں دفن کیا گیا۔
حضرت آدمؑ کی وفات کے بعد ان کی اولاد دو بڑے گروہوں میں تقسیم ہوگئی تھی.
شیثؑ کی اولاد:
یہ لوگ پہاڑوں پر رہتے تھے، پرہیزگار تھے اور اللہ کی عبادت کرتے تھے۔
قابیل کی اولاد:
یہ لوگ میدانوں میں رہتے تھے اور ان میں برائیاں اور گناہ پھیلنے لگے تھے۔
حضرت شیثؑ نے برسوں تک ان دونوں گروہوں کو سیدھے راستے پر رکھنے کی کوشش کی،
لیکن قابیل کی اولاد آہستہ آہستہ شرک اور فساد کی طرف مائل ہوگئی۔
حضرت آدمؑ کی وفات کے بعد حضرت شیثؑ پر اللہ نے 50 صحیفے نازل فرمائے۔
آپؑ نے ہی سب سے پہلے کپڑا بننا اور تجارت کرنا سکھایا۔
آپؑ کی شریعت میں نکاح کے قوانین کو مزید واضح کیا گیا
تاکہ بھائی بہن کے درمیان نکاح (جو آغاز میں مجبوری کی بنا پر جائز تھا) کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے.
10/05/2026
فاتحِ ہند شہاب الدین غوری اور معرکہِ ترائن: جب غرورِ ہند خاک میں ملا
تاریخِ عالم میں بعض معرکے ایسے گزرے ہیں جنہوں نے محض ملکوں کی سرحدیں ہی نہیں بدلیں بلکہ تہذیبوں اور نظریات کے رخ موڑ دیے۔ 1192ء میں لڑا جانے والا ترائن کا دوسرا معرکہ بھی ایک ایسا ہی تاریخ ساز موڑ تھا جس نے ہندوستان میں مستقل اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی۔ اس جنگ کا مرکزی کردار سلطان شہاب الدین غوری تھا، وہ مردِ مجاہد جس کا مقصود نہ مالِ غنیمت کا حصول تھا اور نہ ہی محض ملک گیری کی ہوس، بلکہ اس کی تگ و دو کا محور صرف اعلائے کلمۃ اللہ تھا۔ سلطان کی شخصیت کا خاصہ یہ تھا کہ وہ تخت و تاج کے شائق ہونے کے بجائے درویش صفت سپاہی تھے، جو میدانِ کارزار میں اپنے لشکریوں کے ساتھ اس طرح گھل مل کر رہتے کہ اجنبی کے لیے سلطان اور عام سپاہی میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ جب پرتھوی راج چوہان نے حملہ کیا تو وہ سلطان کی سادگی کی وجہ سے انہیں پہچاننے میں ناکام رہا۔
ترائن کی پہلی جنگ میں شکست کھا کر سلطان غوری خاموش نہیں بیٹھے تھے بلکہ ان کے دل میں حق کی سربلندی کی تڑپ مزید دوچند ہو گئی تھی۔ دوسری طرف پرتھوی راج چوہان پہلی فتح کے بعد تکبر کے نشے میں چور ہو چکا تھا اور اس نے رعایا پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا شروع کر دیے تھے۔ جب 1192ء میں دونوں افواج دوبارہ مدمقابل آئیں تو پرتھوی راج کی کثیر فوج، جو بظاہر ناقابلِ تسخیر معلوم ہوتی تھی، اسلامی لشکر کے عزم و استقلال کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ شکست کے آثار دیکھتے ہی پرتھوی راج نے ہاتھی سے اتر کر گھوڑے پر سوار ہو کر فرار ہونے کی کوشش کی، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک غوری سپہ سالار نے اسے عین اسی عالم میں گرفتار کر لیا اور سلطان کے سامنے پیش کر دیا۔ جس پرتھوی راج کے سر میں کل تک شہنشاہیت کا سودا تھا، آج وہ شہاب الدین غوری کے سامنے دونوں گھٹنوں کے بل ایک قیدی کی حیثیت میں جھکا ہوا تھا۔
سلطان غوری نے فاتحانہ وقار کے ساتھ جب پرتھوی راج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا کہ "اگر آج تو مجھے گرفتار کر لیتا تو میرے ساتھ کیا سلوک کرتا؟" تو مغلوب راجہ نے اپنے شاہانہ مزاج کے مطابق جواب دیا کہ "میں تیرے لیے سونے کا ایک قید خانہ بنواتا اور تجھے اس میں رکھتا۔" اس پر سلطان نے نہایت متانت سے جواب دیا کہ "لیکن ہم تیرے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو ایک جنگی قیدی کا مقدر ہوتا ہے۔" اس فتح کے نتیجے میں مسلمانوں کو بے پناہ مالِ غنیمت حاصل ہوا۔ مورخین، بالخصوص ابنِ اثیر کے مطابق، اس جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ چودہ ہزار ہاتھی آئے۔ سلطان نے ان میں سے اس خاص ہاتھی کو اپنے پاس رکھا جس نے پہلی جنگِ ترائن میں انہیں زخمی کیا تھا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ سلطان اپنی ہر چوٹ اور ہر آزمائش کو یاد رکھتے تھے تاکہ اسے فتح کی شکر گزاری میں بدل سکیں۔
جب پرتھوی راج کو اپنی موت سامنے نظر آئی تو اس نے جان بچانے کے لیے سلطان کو لالچ دینے کی کوشش کی۔ اس نے پیشکش کی کہ وہ ہندوستان کا بادشاہ بننے میں سلطان کی مدد کرے گا اور اتنا مال و دولت دے گا کہ پورے لشکر کے گھوڑے بھر جائیں گے۔ سلطان اسے ساتھ لے کر اجمیر میں واقع اس کے قلعے پہنچے، جہاں نوکر چاکر اور بے پناہ آسائشیں موجود تھیں۔ سلطان نے اس قلعے میں داخل ہوتے وقت پرتھوی راج کو اسی ہاتھی پر باندھ کر بٹھایا جس سے اتر کر وہ بھاگ رہا تھا۔ غوری لشکر نے تیزی کے ساتھ گرد و نواح کے تمام شہروں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ آخر کار، سلطان نے اسی قلعے میں سب کی موجودگی میں پرتھوی راج کے انجام کا فیصلہ کیا اور اسے کیفرِ کردار تک پہنچا کر تمام مفتوحہ علاقوں کا نظم و ضبط اپنے وفادار سپہ سالار قطب الدین ایبک کے سپرد کر دیا۔ شہاب الدین غوری، جس کے پیشِ نظر صرف اللہ کا دین تھا، سب کچھ ایبک کے حوالے کر کے خود واپس غزنی کی سادہ زندگی کی طرف لوٹ گئے، یہ ثابت کرتے ہوئے کہ مومن کی اصل منزل دنیاوی مال و منال نہیں بلکہ شہادت اور حق کی فتح ہے۔
10/05/2026
کیا پاکستان ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اپنی عوام کیلئے ایٹمی حملے سے بچاؤ کے لیے بنکرز بناتا ہے؟ 🤔
دنیا کے کچھ ممالک نے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے بہت مضبوط نظام بنایا ہوا ہے، ان میں سوئٹزرلینڈ ایک خاص مثال ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں تقریباً 3.7 لاکھ زیرِ زمین شیلٹرز موجود ہیں، اور قانون کے مطابق ہر شہری کے لیے کسی نہ کسی محفوظ بنکر تک رسائی لازمی ہے۔
یہ شیلٹرز صرف جنگ کے لیے نہیں بلکہ ہنگامی حالات، بمباری یا آفات میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وہاں کے کئی بنکر آج کل اسٹور روم یا عام استعمال کی جگہ بن چکے ہیں۔
پاکستان جیسے ایٹمی ممالک میں بھی دفاعی نظام موجود ہے، لیکن عام شہریوں کے لیے سوئٹزرلینڈ جیسا بنکر سسٹم نہیں بنایا گیا۔ یہ فرق پالیسی اور معاشی ترجیحات کی وجہ سے ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل میں ایسے نظام کی ضرورت محسوس کی جا سکتی ہے؟
آپ کی رائے کیا ہے، کیا پاکستان میں بھی شہریوں کے لیے ایسے حفاظتی شیلٹرز ہونے چاہئیں؟ 💬
10/05/2026
(حقیقت کی جستجو؛ ایڈم سمتھ، کارل مارکس اور شاہ ولی اللہ کا مکالمہ)
ایڈم سمتھ بولا! Adam Smith
دنیا کا سسٹم مسابقت/compitition پر قائم ہے۔ جب ہر شخص اپنا مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو معاشرہ خود بخود خوشحال ہو جائے گا۔ یہی سرمایہ داری نظام capitalism کا حسن ہے۔ آزاد منڈیindipendent trade میں مقابلہ ہی ترقی کی ضمانت ہے۔
کارل مارکس نے کہا! Karl marks
مگر یہ کیسا حسن ہے جو صرف سرمایہ داروں کے لیے ہے؟ محنت کش تو صرف machine کا پرزہ بن کر رہ جاتا ہے۔ تمہاری آزاد منڈی میں غریب اور امیر کے درمیان خلیجGap between rich and poor بڑھتی ہی جاتی ہے۔ سرمایہ دار عیش کرتے ہیں اور محنت کش استحصالexploitation کی چکی میں پِس کر رہ جاتے ہیں۔
ایڈم سمتھ (طنزیہ انداز میں):Adam smith
دیکھو، یہ تگ و دوHardworking ہی تو محنت کشوں کو بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ یہاں ہر شخص کو اپنی محنت کا پھل ملتا ہے۔ اسی مسابقت میں ترقی کا راز Secret of success پوشیدہ ہے۔
کارل مارکس (تلخ لہجے میں):
یہی تو تمہارا دھوکہFraud ہے! محنت کشوں کو ان کی محنت کا پورا صلہreward کبھی نہیں ملتا۔ سرمایہ دار ان کے پسینے سے محلات کھڑے کرتے ہیں۔ تمہاری مسابقت rivalry دراصل استحصال کا دوسرا نام ہے، جس میں دولت چند ہاتھوں میں مرتکزcentured ہو جاتی ہے اور عام آدمی غریب سے غریب تر ہو جاتا ہے۔ یہی تو ظلم ہے، اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو انقلابrevolution فرض ہو جاتا ہے۔
ایڈم سمتھ (سرگرداں ہو کر):
رُکو بھائی! کون سا دھوکہ، کون سا استحصال؟ یہ طبقاتیت،class discrimination یہ اونچ نیچ تو اوپر کی طرف سے ہے۔ آپ کو اگر یقین نہیں آ رہا تو مذہبی پیشواؤں سے پوچھ لیجیے۔ پادری کہتا ہے یہ بھوک و افلاس، مفلسی اور امیری سب تقدیر کا کھیل ہے۔ وہ کہتا ہے غریبوں، کمزوروں اور مزدوروں کو ہر حال میں صبر کرنا چاہیے، کیونکہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔Patiencs pays off
کارل مارکس (غصہ ہو کر):
انہیں تو آپ رہنے ہی دیجیے۔ ہم اچھی طرح جان چکے ہیں کہ مذہب سرمایہ دار کا ساتھی بن چکا ہے۔ یہ مزدور کو تسلی دینے کے لیے صبر و قناعت کا سبق پڑھاتا ہے۔ مزدور کے استحصال کے لیے سرمایہ دار اور مذہب ایک پیج پر ہیں۔ یہی مذہب انقلاب کی راہ میں زبردست رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اس لیے ہم اپنے پورے ہوش و حواس میں مذہب کو آپ کے پادریوں سمیت مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔Reject
(اتنے میں ایک اور آواز گونجتی ہے، یہ شاہ ولی اللہ ہیں، جو دونوں مکاتبِ فکر سے مختلف اپنا فلسفہ پیش کرتے ہیں)
سمتھ صاحب! تم نے انسان کو محض ایک مشین سمجھا، جس کا مقصد صرف دولت کمانا ہے۔ اور مارکس...! تم نے سرمایہ دار کے ظلم کو بخوبی پہچانا، کمال کر دیا۔ تم نے کمزوروں کے حقوق کی بات کی، واقعی کمال کر دیا۔ لیکن جب تم نے انسانی روح کو یکسر نظرانداز کیا، بہت ہی بُرا کیا۔ انسان صرف گوشت پوست کا پتلا نہیں، روح اور جسم دونوں کا مرکب ہے۔ جسم کی طرح روحSoul کی بھی ضروریات ہوتی ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مذہب کو رد کرنا خود اپنی حقیقت سے انکار کرنا ہے۔
کارل مارکس (حیران ہو کر):
عجیب بات کرتے ہو شاہ صاحب! کیا تم نے نہیں دیکھا کہ مذہب نے کس طرح مزدور کے استحصال کے لیے سرمایہ دار کا ساتھ دیا؟ مذہب تو ظلم سہنے کا درس دیتا ہے، صبر اور قناعت کا سبق پڑھاتا ہے۔ کیا یہ انقلاب کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ نہیں ہے؟
شاہ ولی اللہ (مسکراتے ہوئے):
یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ مذہب جب اپنی اصل حالت (Default Version) میں ہو تو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا سبق دیتا ہے۔ دُکھی انسانیت کی خاطر عدل و انصافJustice and fairness قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ مذہب تو ظلم برداشت کرنے کو گناہ قرار دیتا ہے۔ یہ نہ تو سرمایہ داری کی بے رحم طبقاتیت اور آزاد منڈی کو قبول کرتا ہے، اور نہ ہی تمہارے انقلاب کی بے روح مادیتMaterialism کو۔ یہ تو انسان کے جسم و روح دونوں کی کفالت کا بیڑا اٹھاتا ہے۔ دراصل آپ کو مذہب کی غلط تعبیر پڑھائی گئی ہے۔
ایڈم سمتھ (مُخِل ہوتے ہوئے):
شاہ صاحب، تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ انسان کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ یہ زندگی ایک جنگ ہےLife is a war۔ یہاں طاقتور آگے بڑھتے ہیں، کمزور پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کوئی بادشاہ تو کوئی گدا، کوئی امیر تو کوئی فقیر۔ یہی قدرت کا قانون ہے۔ وسائل محدود ہیں اور آبادی بڑھتی ہی جا رہی ہے، اس لیے بقا کی جدوجہد اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ اکٹھا کرنے کی دوڑ ہمیشہ جاری رکھنی چاہیے۔ سرمایہ ہی طاقت ہے، سرمایہ ہی عزت ہے،Power and respect is with money شہرت ہے، اور سرمایہ ہی نیک نامی ہے۔ نیز سرمایہ ہی اصلReality ہے۔ محنت تو سرمایہ کا معاون ہے، کیونکہ اس کے پاس Bargaining Power نہیں ہوتی۔
شاہ ولی اللہ (گہرے لہجے میں): سمتھ صاحب! آپ زندگی کو ایک سرمایہ دار کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ جب آپ ایک انسان کی نظر سے دیکھیں گے تو زندگی جنگ نہیں، محبت نظر آئے گی۔ آپ جان پائیں گے کہ یہ آگے نکل جانے کا نام نہیں، بلکہ ساتھ چلنے کا سفر ہے۔ مسئلہ وسائل کی کمی نہیں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہےUnfair distribution۔ طاقتور مسلسل آگے اس لیے نہیں بڑھ رہے کہ وہ محنت زیادہ کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ پرائی محنت پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔ مسابقتCompitition تو تب ہوگی جب بنیادی ضروریات پوری ہوں گی۔ دولت کمانے میں حرج نہیں .... لیکن اس کے لیے اساسbase foundation محنت ہونی چاہیے۔ محنت سرمایہ کا معاون نہیں، سرمایہ محنت کا معاون ہے۔ جسم کی ضروریات پوری ہونے کے ساتھ ساتھ روح کی غذا بھی برقرار رہے۔ یہی مکمل انسانیت کا فلسفہ ہے، جو نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔
ایڈم سمتھ خاموش اور لاجواب..!!
کارل مارکس (سوچ میں پڑ کر): یہ گفتگو میرے ذہن میں نئے سوالات جگا رہی ہے۔ کاش! میں نے کیپیٹلزم کے ردعمل میں جذباتی ہو کر فیصلہ نہ کیا ہوتا ... میں نے انسانی فطرت کو سمجھنے میں کچھ زیادہ ہی جلدی کر دی!
شاہ ولی اللہ (اطمینان سے): یہی مکالمے کا حسن ہے! سوالات ہی حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ غور و فکر سے ہی سچائی تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ مکالمے سے ہی سوچ کے نئے دروازے کھلتے ہیں اور
مکالمہ کبھی ختم نہیں ہوتا!
✍️