01/08/2023
متحرک لوگ ہی کام یاب ہوتے ہیں
سنگلاخ چٹانوں پر مشتمل یہ علاقہ اس وقت سردی کی لپیٹ میں تھا۔ رات کی تاریکی سے ماحول پر سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اس اندھیرے میں آگ جل رہی تھی جس کی روشنی دور سے نظر آرہی تھی۔ کچھ فاصلے پر دو افراد کھڑے بہ غور اس آگ کا جائزہ لے رہے تھے۔ ان میں سے ایک شخص شکل و صورت سے انتہائی معزز لگ رہا تھا جب کہ دوسرے کی انکساری بتارہی تھی کہ وہ اس کا خادم ہے۔ معزز شخص بولا: ”لگتا ہے یہ مسافر ہیں اور رات کی وجہ سے یہاں رُک گئے ہیں۔ چلو ان کی خبرگیری کرتے ہیں۔“وہ دونوں وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک خاتون نے آگ پر ہانڈی رکھی ہے اور پاس بیٹھے بچے بھوک کی وجہ سے رو رہے ہیں۔ معزز شخص نے پوچھا، ”اس ہانڈی میں کیا ہے؟“عورت نے بے بسی جواب دیا:”اس میں پانی ہے، بچوں کو بہلانے کے لیے چڑھایاہے تاکہ وہ اسی حالت میں سوجائیں۔ اللہ ہی ہمارے اور عمر کے درمیان فیصلہ کرے گا۔“وہ شخص حیرانی سے بولا:” اللہ تم پر رحم فرمائے، عمر کو تیرا حال کیسے معلوم ہوگا۔“خاتون بولی:”وہ ہم پر حکومت کرتا ہے، ہمارے حالات سے بے خبر کیسے ہے؟“معزز شخص نے یہ بات سنی تو اپنے خادم کے ساتھ واپس پلٹا۔ بیت المال پہنچ کر آٹے کا تھیلا اور کچھ راشن لیا اورخادم سے کہا،”یہ میرے کندھوں پر رکھ دو۔“خادم نے اصرار کیا کہ امیر المو منین! میں اٹھا لیتا ہوں تو وہ بولا: ”کیا کل قیامت کے دن بھی میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟“پیٹھ پر بوجھ لادے وہ عورت کے پاس پہنچے اور راشن اس کے حوالے کیا۔ کچھ دیر بعد کھانا بن گیا۔ بچے سو چکے تھے، خاتون نے انھیں اٹھایا، کھانا کھلایا اور اس کے بعد شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنے لگی:”اے مہربان انسان! امیر المومنین بننے کے حق دار تم ہو نہ کہ عمر۔“حضرت عمر ؓ نے فرمایا:”جب تم امیرالمومنین کے پاس جاؤ گی تو وہاں مجھے ہی پاؤگی۔“اس کے بعد وہ کچھ دیر وہاں کھڑے رہے، جب بچے کھاپی کر اور کھیل کود کر سوگئے تووہ واپس چلنے لگے اور خادم سے کہا: ”اسلم! بھوک نے بچوں کو بلکنے پر مجبور کیا تھا، اس لیے میں نے چاہا کہ اب انھیں پرسکون حالت میں بھی دیکھ لوں۔“(مناقب حضرت عمر فاروق،120)
ہماری تاریخ اس طرح کے بے شمار واقعات سے مزین ہے، جس میں عظیم شخصیات بڑے منصب پر فائز ہونے کے باوجود بھی لوگوں کی خبرگیری کرتی تھیں اور اپنے ہاتھ سے کام سرانجام دیتی تھیں۔ دین اسلام کا حسن ہی یہی ہے کہ یہ خدمت اور انکساری کا حکم دیتا ہے اور اس کی بھرپور حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ آپ اگر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کپڑے خود دھوتے، جوتے مرمت کرتے، بکری کا دودھ دوہتے اور گھر والوں کی مدد بھی کرتے تھے۔
اس مزاج کو اگر آج کے تناظر میں دیکھا جائے توصورت حال بہت ہی افسوس ناک ہے۔ آج ہماری قوم سستی اور مفت خوری کا شکار ہوچکی ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ بیٹھے بٹھائے سب کچھ مل جائے اور مجھے مشقت نہ اٹھانا پڑے۔ یہ مزاج اس قدر پختہ ہوچکا ہے کہ اب کام اور کام کرنے والے شخص کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ آپ نے ”کاما“اور”کمی“ کا لفظ سنا ہوگا۔ یہ ان لوگوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو مختلف طرح کے کام سرانجام دیتے ہیں، لیکن ہمارے معاشرے میں یہ لفظ اب حقارت کی علامت بن چکا ہے اور کام کرنے والے اس طبقے کو کم تر سمجھا جاتا ہے۔ اس رویے کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہم کوشش، جدوجہد اور محنت کرنے کوپسند نہیں کرتے بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔
ہمارے نوجوان ڈگری لینے کے بعد نوکری کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ اگرنوکری نہ ملے اور انھیں کام کرناپڑجائے تو وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتے،جب کہ دوسری طرف والدین بھی اس چیز کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم نے ڈگری اس لیے حاصل ہے کہ اب تم کام کرو۔
البتہ بیرون ملک جاکر جب یہ نوجوان فرش دھوتے ہیں، گھروں کی صفائی کرتے ہیں یاسپراسٹورمیں سیلزمین بنتے ہیں توانھیں شرم محسوس نہیں ہوتی۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مغربی معاشرے میں کام کوحقیر نہیں سمجھاجاتا،جب کہ ہمارے ہاں یہ ذلت کی علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر شعبے میں آپ کونکموں کی بڑی تعداد نظر آئے گی۔
ڈینئیل اسمتھ کینیڈا کی سیاست دان خاتون اورکنزرویٹوپارٹی کی راہنما ہے۔اکتوبر2022ء میں وہ البرٹا کی Premier(وزیر اعلیٰ)منتخب ہوگئی۔چند دن پہلے اس کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ کچن میں کام کرتی ہوئی نظر آرہی تھی۔بعد میں معلوم ہوا کہ وہ اس کے شوہر کا ریسٹورنٹ ہے۔ وہ چھٹی کے دن شوہر کے ریسٹورنٹ جاتی ہے اورمختلف طرح کے کاموں میں اس کی مدد کرتی ہے۔آج کے دور میں یہ ایسی مثال ہے جس کی نظیر ہمارے ہاں نہیں ملتی۔دراصل یہ کینیڈین معاشرے کاکمال ہے جہاں حکم ران بھی کام کرنے کوعیب نہیں سمجھتے۔جب کہ ہمارے ہاں بچہ گھر میں کسی چیز کو ہاتھ لگالے تو ماں کہتی ہے، ہائے میرابیٹا، تم کیوں کررہے ہو میں ہوں ناں۔مائیں سمجھتی ہیں کہ وہ بچوں سے محبت کررہی ہیں، لیکن حقیقت میں یہ محبت نہیں ظلم ہے۔اسی رویے کی وجہ سے بچے کام چور بنتے ہیں۔بڑے ہوکر وہ چاہتے ہیں کہ ہر چیزتیارمل جائے اور انھیں اپنی جگہ سے ہلنا بھی نہ پڑے۔
معاشرے میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ باپ داد ا نے پوری زندگی لگاکرکاروبارکھڑا کیااورجب اختیارات کام چوراولاد کے ہاتھ میں آگئے تو انھوں نے موج مستیوں میں ساری دولت اڑاکر رکھ دی اورپائی پائی کامحتاج ہوگئی۔
معروف امریکی اداکار آرنلڈ شوارزنیگرکہتاہے کہ اگرتمھارے ہاتھ جیبوں میں ہوں تو تم کبھی بھی کام یابی کی سیڑھی پر نہیں چڑھ سکتے۔
احساس ذمہ داری سے لبریزانسان ہی کام یابی پاتاہے۔ایسا شخص جسے کام کرنے میں شرم محسوس نہ ہو بلکہ لطف آئے تو وہ زندگی میں بڑا مقا م پاسکتاہے۔
کام کرنے سے انسان کو بہت سے جسمانی اور نفسیاتی فوائد ملتے ہیں۔
کام چاہے اپنی موٹر بائیک دھونا ہو، کپڑے استری کرنے ہوں، دیواروں کی صفائی ہو، کتابوں کو ترتیب سے رکھنا ہو،سبزی کاٹناہو، کھانابنانا، فرش دھونا حتیٰ کہ پنسل تراشنا بھی ہوتو اس کی بدولت آپ کو اطمینان اورتکمیل کی خوشی ملتی ہے۔آپ اپنی نظروں میں قابل اعتمادبنتے ہیں۔یہ چیزآپ کے حوصلے کو بڑھاتی ہے اورآپ کومزید کاموں کی طرف بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔
کام کرنے سے انسان کی توجہ بڑھتی ہے۔ہم ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں صبح سے شام تک ہم مختلف طرح کی معلومات (Information)لیتے ہیں۔ ہمارے ذہن میں بامقصد اور بے مقصد چیزوں کاانبار لگ جاتاہے۔یہ ہمارے دماغ کو انتہائی مصروف رکھتاہے جو کہ بعض اوقات پریشانی کا سبب بھی بنتاہے۔ہمیں اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کچھ دیر کے لیے اس شورشرابے سے الگ ہوجائیں اور اس کا بہترین حل ہاتھ سے کام کرنا ہے۔کام کرنا ایسی سرگرمی ہے جس میں ہمارا ذہن ایک جگہ پرمرتکز ہوجاتاہے۔ہم پرسکون ہوجاتے ہیں اورساتھ ہی ہماری قوت ارتکاز بھی بڑھتی ہے۔
آپ اگر تاریخ سے واقف ہیں توآپ کومعلوم ہوگا کہ پرانے زمانے کے بادشاہ کوئی نہ کوئی مشغلہ اپناتے تھے۔بادشاہ جلال الدین اکبر موسیقی کا دل دادہ تھا اورکئی کئی گھنٹے تان سین کے راگ سنتا رہتا تھا۔اورنگ زیب عالم گیر خطاطی کرتا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ہاتھ سے ٹوپیاں بھی سیتاتھا۔ بہادرشاہ ظفر شاعری کاشوقین تھا اوراپنے دربار میں نامی شعرا کو بلاکر محفل شعر و سخن سجاتا تھا اور ان پر زروجواہر لٹاتا تھا۔
یہ لوگ ایسا کیوں کرتے تھے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ پیشہ ورانہ مصروفیات انسان کو تھکادیتی ہیں۔اس کے بعد دماغ کو آرام چاہیے ہوتاہے۔ایسے میں کوئی مشغلہ یا شوق اپنانے سے ذہن کو یک سوئی ملتی ہے اور وہ بہت سی فکروں سے آزاد ہوجاتاہے۔
توجہ اورارتکاز (Focus) کے موضوع پر مغربی دنیا میں بہت کام ہواہے اور بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ان میں سے ایک شان دار کتاب The One Thingہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اگرآپ زندگی میں بڑی کام یابی چاہتے ہیں تو واحدچیزپر توجہ رکھیں۔آپ کادماغ اگرخیالات سے بھراہوگا اور آپ کے سامنے مختلف طرح کے اختیارات (Options)ہوں گے تو آپ کشمکش کاشکار ہوجائیں گے اور بڑاقدم نہیں اٹھاسکیں گے۔
ایک عقل مند کا کہنا ہے کہ اگر تم بہ یک وقت دوچوہوں کے پیچھے بھاگ رہے ہو توایک بھی نہیں پکڑسکوگے۔
تحقیق بتاتی ہے کہ کام کرنے سے انسان کاذہن تیزہوتاہے۔جب انسان کام کررہا ہوتووہ لمحہئ موجود(Mindful)میں ہوتاہے۔یہ ایسی شان دارچیز ہے جوبراہ راست انسان کے دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے اوراس میں خوش گوارتبدیلیاں لاتی ہیں۔اس کی بدولت انسان کی تخلیقی صلاحیت بڑھتی ہے۔
مکیش امبانی اس وقت دنیا کا تیسرا مال دارترین انسان ہے۔وہ کہتا ہے کہ بے سہارا(کام چور)لوگوں کے لیے دنیا میں کوئی جائے پناہ نہیں لیکن کام کرنے والوں کے لیے پوری دنیا کھلی ہے۔
کام آپ کو قدر و منزلت عطا کرتاہے۔
تعلیمی اداروں میں کتابیں تو پڑھائی جاتی ہیں لیکن عملی تربیت نہیں دی جاتی۔یہی وجہ ہے کہ آج تجارتی دنیا میں باصلاحیت افراد کی شدید ضرورت ہے اور ا س خلا میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔United States Department of Educationنے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ”پرانے لوگوں کے ریٹائر ہونے کی وجہ سے اگلے پانچ سالوں میں تجارتی میدان میں 68فی صدنئے ہنرمندوں کی ضرورت پڑے گی۔“جب امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک کا یہ حال ہے تو ہمارے ہاں اس سے بھی زیادہ گنجائش موجود ہے۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کام علاج بھی ہے۔اس کی بدولت انسان کی بے چینی،پریشانی اور فکریں کم ہوجاتی ہیں۔کام کرنے کے بعد انسان کو گہری اورپرسکون نیند آتی ہے، جو اسے بہت سی نفسیاتی بیماریوں سے بچاتی ہے۔
امریکامیں Whit-Collar Jobکرنے والے بہت سے لوگوں کوبوریت کا سامنا کرتے دیکھا گیا ہے۔جب اس پر تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ دفاتر میں چہل پہل کم ہوتی ہے، سارادن کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر کام کرنا ہوتاہے جس کی وجہ سے لوگ بے زار ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات بے حسی کامظاہرہ بھی کرتے ہیں۔ان افراد کے لیے یہ تجویز پیش کی گئی کہ فارغ وقت میں خود کو جسمانی طورپر مصروف رکھیں تاکہ اندر کاغبار نکل آئے، فکریں کم ہوجائیں اورآپ پرسکون زندگی بسرکرسکیں۔
کام کرنا اس بات کی علامت ہے کہ ہم جی رہے ہیں۔
انسان نے ابتدا سے ہی مختلف طرح کی آزمائشیں اور مشکلات دیکھی ہیں، جن سے لڑتے لڑتے وہ ارتقائی سفر طے کرتا آیا ہے۔انسانی ذہن اب بھی اس بات پر یقین رکھتاہے کہ زندگی گزارنے کے لیے متحرک رہناضروری ہے۔جب انسان کام میں مصروف ہوتاہے تو ذہن سمجھ جاتاہے کہ وہ زندہ ہے لیکن جس وقت وہ کام چوری کرتاہے تواس چیز کے ذہن پر برے اثرات پڑتے ہیں اور وہ بے چین، پریشان اورمختلف طرح کی فکروں کا شکار ہوجاتاہے۔
آپ اگر کام یابی،صحت اور مال داری چاہتے ہیں توسستی کی چادر اُتارپھینکیے،خود کو متحرک رکھیے اورکوئی بھی کام انجام دینے میں شرم محسوس نہ کیجیے۔
Al Azhar Public High School Takhta Band
24/05/2023
14/05/2023
14/05/2023
14/05/2023
09/04/2023
09/04/2023
03/03/2023
25/02/2023
31/01/2023
30/01/2023