01/01/2026
سکھر: امّ المدارس جامعہ غوثیہ رضویہ میں طلبہ کے درمیان سالانہ تقریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت شیخ الحدیث حضرت مفتی محمد ابراہیم قادری نے فرمائی۔ اس موقع پر مجاہدِ اہلِ سنت مشرف محمود قادری بھی موجود تھے۔ اس بزم کی کامیابی میں امّ المدارس جامعہ غوثیہ رضویہ کے تمام اساتذہ کا کردار نہایت اہم رہا، جن کی محنت، نگرانی اور رہنمائی سے یہ علمی و تربیتی پروگرام خوش اسلوبی سے منعقد ہوا۔ بالخصوص حضرت علامہ مولانا حافظ شہزاد صاحب کی خدمات قابلِ تحسین رہیں، جنہوں نے طلبہ کی تیاری اور تربیت میں خصوصی توجہ دی۔
تقریری مقابلے میں سینئرز کیٹیگری میں پہلی پوزیشن مولانا احمد مشاہد قادری، دوسری پوزیشن مولانا صدام اختر مصطفائی اور تیسری پوزیشن مولانا محمد ساجد قادری نے حاصل کی، جبکہ جونیئرز کیٹیگری میں پہلی پوزیشن فیاض احمد، دوسری پوزیشن حافظ محمد قادری اور تیسری پوزیشن محمد انس طاہری کے حصے میں آئی۔
نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں شیلڈز اور حوصلہ افزائی کے لیے انعامات شیخ الحدیث حضرت مفتی محمد ابراہیم قادری کے دستِ مبارک سے تقسیم کیے گئے، جس سے طلبہ کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔
اس موقع پر صدارتی خطاب کرتے ہوئے شیخ الحدیث حضرت مفتی محمد ابراہیم قادری نے فرمایا کہ مدارس کے طلبہ میں تقریری مقابلے نہایت اہم اور مفید سرگرمیاں ہیں۔ ان مقابلوں کے ذریعے طلبہ میں اعتماد، خود اعتمادی اور اظہارِ خیال کی صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔ طلبہ قرآن و سنت، اخلاقیات اور معاشرتی مسائل پر مدلل گفتگو کرنا سیکھتے ہیں، جس سے ان کی علمی اور فکری تربیت بہتر ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ تقریری مقابلے طلبہ کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارتے ہیں اور انہیں اساتذہ و عوام کے سامنے بات کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں، جس سے ان کی شخصیت میں وقار، زبان میں روانی اور سوچ میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ ساتھ ہی یہ سرگرمیاں مثبت مقابلے کے جذبے کو فروغ دے کر نظم و ضبط اور برداشت جیسی اعلیٰ صفات بھی پیدا کرتی ہیں۔ مدارس کے طلبہ کے لیے ایسے مقابلے علمی ترقی، دینی شعور اور عملی زندگی میں کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔