11/12/2025
احساس غربت
(قاسم علی شاہ)
یہ 18ویں صدی کی بات ہے۔ لندن کی سڑکوں پر گھوڑا گاڑیاں دوڑتی تھیں، چراغوں سے گلیاں روشن ہوتیں اور اشرافیہ محفلوں میں اپنی دولت کے جلوے دکھاتے تھے۔ اسی زمانے میں جان ایلن نامی شخص بھی لندن میں رہتا تھا جو نہ صرف پارلیمنٹ کا رکن بلکہ ایک بڑا جاگیرادار بھی تھا۔لوگوں کا خیال تھا کہ بھرپور دولت کے ساتھ جان ایلن شاہانہ زندگی گزارتا ہوگا لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ لاکھوں پاؤنڈ کا مالک ہونے کے باوجودجان ایلن پرانے کپڑے پہنتا، جب وہ پھٹ جاتے تو انھیں رفو کروا کر دوبارہ استعمال کرتا۔ وہ کئی ماہ تک ایک ہی کوٹ پہنے رہتا اور جب اس میں بڑے بڑے سوراخ ہو جاتے تو اپنے ہاتھ سے سیتا، مگر نیا خریدنے کی زحمت نہ کرتا۔ انگلینڈ میں شدید سردی پڑتی تھی، لوگ کمروں کو گرم رکھنے کے لیے کوئلہ جلاتے تھے لیکن جان ایلن اسے بھی فضول خرچی سمجھتا، وہ ٹھنڈ میں کانپتا رہتااور کمبل لپیٹ کرخود کو گرم کرنے کی کوشش کرتا لیکن گرمائش کا کوئی انتظام نہ کرتا۔ شاید وہ پیسے کو انتہائی قیمتی چیز سمجھتا تھا، اسی وجہ سے معمولی چیزوں پر رقم خرچ کرنے کو فضول خرچی سمجھتا تھا۔ اس کی کوشش ہوتی کہ کسی دعوت میں جاکر پیٹ پوجا کرلیا جائے تاکہ گھر میں کھانے بنانا نہ پڑے۔ اس کے پاس چھتری نہیں تھی، جب بارش ہوتی تو وہ پرانے کپڑے پہن کر باہر نکلتا، ان عادات کی وجہ سے وہ بیمار ہوگیا۔ لوگ اسے علاج کرانے کا کہتے، مگر اس کاخیال تھا کہ علاج کرانا پیسے برباد کرنا ہے میں خود ہی ٹھیک ہوجاؤں گا لیکن ایسا نہ ہوسکا، آئے روز مرض کی شدت میں اضافہ ہوتا رہا اور آخر کار1789ء میں وہ انتہائی اذیت کی حالت میں مرگیا۔
کسی داناکی یہ بات بالکل سچ ہے کہ”غربت ختم ہوجاتی ہے لیکن بعض لوگوں میں احساس غربت ختم نہیں ہوتی۔“
احساس غربت ختم نہ ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کا دل انتہائی تنگ ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اگر زندگی میں کامیاب ہوجائیں اور دنیا جہاں کی دولت سمیٹ لیں لیکن دل کی تنگی کی وجہ سے یہ دولت نہ ان کے اپنے کام آتی ہے نہ معاشرے کے کسی دوسرے فرد کے، ایسے لوگوں کا رزق پھر چیونٹیاں کھا جاتی ہیں اور مرتے وقت یہ لوگ اپنا مال و دولت چھوڑ جانے کی حسرت لیے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام نے بھی مال کی فروانی سے زیادہ دل کی کشادگی پر زور دیا ہے، کیوں کہ تنگ دلوں میں نہ اللہ رہتا ہے اور نہ ہی اللہ کی مخلوق۔
دوسری طرف جس انسان دل کا کھلا ہوتوا س کا ہاتھ بھی کھلا ہوتاہے اور دل کی اسی کشادگی کی وجہ سے اس کا ذہن بھی کھل جاتاہے،لیکن جو شخص پیسوں کودل میں جگہ دے دیتاہے اور اس کو اپنی سانس بنالیتاہے تو پھر ایک روپیہ خرچ کرنے سے بھی اس کی جان جاتی ہے اور اس کا شمار دنیا کے ان غریبوں میں ہوتاہے جن کے پاس صرف پیسہ ہے۔یہ ذہنی غربت کی نشانی ہے اور یادرکھیں کہ ذہنی غربت، مال ودولت کی غربت سے زیادہ خطرناک ہے۔
آج کی تحریری نشست میں ہم احساس غربت اوراس کی چند نشانیوں پر بات کریں گے۔
(1)احساس زیاں سے محرومی
احساس غربت کی پہلی نشانی نقصان کااحساس نہ ہوناہے۔ہر وہ شخص جو زندگی کی قدر نہیں کرتا اور اپنے قیمتی وقت کو بے مقصد کاموں میں خرچ کرتاہے تووہ ذہنی غربت ہے۔ایسے انسان میں احساس زیاں نہیں ہوتا، اس کو یہ فکر بالکل نہیں ہوتی کہ میرا کتناقیمتی سرمایہ ضائع ہورہاہے،حال آنکہ وقت اس قدر قیمتی چیز ہے جس کی قسم اللہ تعالیٰ بھی اٹھاتا ہے لیکن ذہنی غربت کا شکار انسان اس قیمتی دولت کی کوئی پرو ا نہیں کرتا۔
آپ نے کرکٹ میچ تو دیکھا ہی ہوگا۔اسٹیڈیم میں ہزاروں لوگ موجود ہوتے ہیں لیکن گراؤنڈ میں اتر کرکھیلنے والے چند ہی ہوتے ہیں۔اب ایسا شخص جس کو اچھے طریقے سے کرکٹ کھیلنا بھی نہیں آتا لیکن پھر بھی وہ پیسے خرچ کرکے ٹکٹ لیتاہے اور اپنا وقت نکال کر میچ دیکھنے جاتاہے۔ یہ ذہنی غربت کی نشانی ہے،کیوں کہ اس عمل کا اسے کوئی فائدہ نہیں، وہ اپنے جس فیورٹ کھلاڑی کو دیکھنے جارہاہوتاہے وہ تواس میچ کا لاکھوں روپے معاوضہ لے رہا ہوتاہے اور اس کو کوئی پروا نہیں ہوتی کہ اسے دیکھنے کون کہاں سے آرہا ہے۔یہ اس کا پیشہ ہے لیکن ذہنی غربت کا حامل شخص اس حقیقت کو جاننے کے باوجود بھی شخصیت پرستی میں اس قدرکھوجاتاہے کہ اپنا قیمتی وقت اور پیسہ ضائع کردیتاہے۔
احساس غربت میں مبتلا فردصرف گیم دیکھتا ہے، کھیلتا نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج آپ کو معاشرے میں بہت سے لوگ صرف دیکھنے والے ملیں گے کرنے والے نہیں۔آپ نے اگرواقعی زندگی میں کچھ بڑا کرنا ہے تو پھرتماشائی نہ بنیں بلکہ کھلاڑی بنیں۔
(2)ہائی جیکنگ
ایسافرد مادی چیزوں کے ہاتھوں بہت جلد ہائی جیک ہوجاتاہے۔
آج کل چوں کہ سوشل میڈیاکا دور ہے تو ایسا شخص آپ کو ہر وقت بلامقصد سوشل میڈیا پر موجود نظر آئے گا۔وہ ہر دوسرے فرد سے جھگڑا کرے گااورہر کمنٹ کاجواب دے گا۔وہ ان لوگوں سے بڑا متاثر ہوگا جو سوشل میڈیاپرفین فالونگ رکھتے ہیں یا پھر ٹی وی اسکرین پر نظر آتے ہیں۔واضح رہے کہ ٹی وی دیکھنا اور ٹی وی پر آنا دونوں میں فر ق ہے۔ذہنی غریب انسان اپنی زندگی میں کوئی محنت نہیں کرتااور نہ ہی خودکو اس قابل بناتاہے کہ وہ ٹی وی اسکرین تک پہنچے لیکن جو لوگ ٹی وی پرآتے ہیں، انھیں دیکھتا ہے اور ان کی محبت میں دوسروں سے لڑائی جھگڑا بھی کرلیتاہے۔
میں تسلیم کرتاہوں کہ سوشل میڈیا آج کی ایک بڑی حقیقت ہے لیکن سمجھ داری کا تقاضا یہ ہے کہ مجھے اس سے صرف اتنا ہی تعلق رکھنا چاہیے جتنی میری ضرورت ہے۔میں اس کو اپنا مقصد حیات نہیں بناسکتا۔جیسے میرے پاس اگرگاڑی ہے تو مجھے صرف ڈرائیونگ پرتوجہ دینی چاہیے،اگرمیں اس کا ریڈی ایٹر صاف کرنے لگ جاؤں یاپھر اس کا ٹائرنکال کر پنکچر لگانے لگ جاؤں تویہ اپنے وقت اور توانائی کو ضائع کرنے والی بات ہے۔یہ میرا کام نہیں ہے بلکہ اس کے لیے مخصوص لوگ موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ بہترطریقے سے یہ کام کرسکتے ہیں لیکن ذہنی غریب انسان اس فلسفے کے الٹ چل رہاہوتاہے۔وہ ہر اس کام میں ہاتھ ڈالتا ہے جس کا کوئی فائد ہ نہیں ہوتا۔وہ اپنی ذہنی اور جسمانی توانائیوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ ضائع کرتاہے جب کہ اس کے برعکس ”احساس فراوانی“والافرد مقصد کے ساتھ جیتا ہے اورہر اس چیز سے دور رہتاہے جو اس کے وقت اور توانائی کو ضائع کردے۔
(3)سستی
احساس غربت کاشکارشخص آپ کو سستی اور کاہلی کامظاہرہ کرنے والاملے گا۔یہ لوگ بروقت قدم نہیں اٹھاتے۔یہ مناسب وقت کابہانہ بناکر سوئے پڑے رہتے ہیں۔یہ آپ کو”سوچتے ہیں، دیکھتے ہیں، ابھی وقت نہیں آیا“ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے دکھائی دیں گے اور اسی چکر میں یہ لوگ بہترین مواقع کو گنوادیتے ہیں اور پھر ٹسوے بہاکر روتے ہیں۔
مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ میرے اندر شروع ہی سے ذمہ داری کا بھرپور احساس رہا ہے۔میں یونیورسٹی کا طالب علم تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ٹیوشنز بھی پڑھایاکرتا تھا اور 2001میں ماہانہ ایک لاکھ سے اوپر کماتا تھا۔کیوں کہ مجھے معلوم تھا کہ میرے پاس وقت بھی ہے توانائی بھی ہے اور ایک بہترین موقع بھی۔جب کہ آج کل کے طلبہ پڑھنے کے دوران تو والدین سے پیسے مانگتے ہی ہیں،افسوس تو اس بات کا ہے کہ ڈگری لینے کے بعد بھی وہ والدین کے بھروسے زندگی جی رہے ہوتے ہیں اور اپنا خرچہ اٹھانے کے لیے کوئی چھوٹا موٹاکام بھی نہیں اپناتے۔یادرکھیں کہ اپنی زندگی کی ذمہ داری خود نہ اٹھانے والا شخص کبھی بڑا انسان نہیں بنتا۔
ذہنی غریب انسان سے اگر آپ پوچھیں کہ ڈگر ی کے بعدکیا کرنا ہے تو وہ کہے گا:”میرے ماموں انگلینڈ میں ہوتے ہیں،وہ مجھے بلائیں گے تو میں باہر چلاجاؤں گاورنہ پھر دیکھیں گے“۔جب کہ ذہنی مال دار انسان محنت و مشقت کا عادی ہوتاہے۔وہ اپناوقت ضائع نہیں کرتااور نہ ہی وہ دوسروں کے سہارے اپنی زندگی جیتاہے۔وہ اپنا سفر جلد سے جلدشروع کرتاہے اور اسی وجہ سے وہ باقی لوگوں سے آگے بڑھ جاتاہے۔
احساس غربت کا ماراشخص ہر وقت نوکری کی فکر ہوتی ہے جب کہ ذہنی مال دارانسان نوکری کی فکر نہیں کرتا، وہ زندگی میں کچھ بڑا کرنے کی کوشش کرتاہے اورنوکری لینے کے بجائے نوکریاں دینے والابنتاہے۔
(4)الزام تراشی
ہر ذہنی غریب شخص آپ کو دوسروں پر الزام لگانے والا ملے گا۔ وہ انسانوں سے، معاشرے سے، ملک کے نظام سے الغرض ہر چیز سے شکایت کررہاہوتاہے۔وہ خود کچھ نہیں کرتا، اپنے حصے کی شمع روشن نہیں کرتالیکن دوسروں پر تنقید اور الزام تراشی ضرورکرتاہے۔یادرکھیں کہ دوسروں کو موردِالزام ٹھہرانے والا شخص زندگی میں کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا۔ کامیابی کا پہلا اصول ہی یہ ہے کہ آپ نے اپنی ذمہ داری خود اٹھانی ہے۔آپ نے محنت کرنی ہے، اپنی محنت سے آپ کامیاب ہوتے ہیں یا پھر ناکام دونوں صورتوں میں آپ خودکو ذمہ دارسمجھتے ہیں۔
(5)دِکھاوا
ایسافردہر وقت دکھاوے کی فکر میں ہوتاہے۔وہ اپنے پا س موجود چیزوں کی نمود ونمائش کرواناچاہتاہے۔وہ چاہتاہے کہ لوگ مجھے محسوس کریں، میری طرف توجہ دیں اور میں نے جوکپڑے پہنے ہیں، جو گھڑی میرے ہاتھ میں ہے یا جو موبائل میرے پاس ہے، لوگ اس پر واہ واہ کریں۔ایسا شخص معمولی گاڑی خرید کر اس کے پیچھے جوتالٹکائے گااور”ماں کی دُعا،جنت کی ہوا“لکھوائے گاجب کہ اس کے برعکس ذہنی مال دار انسان کو’شوآف‘ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس کا کام ہی اس کا دِکھاوا ہوتاہے۔
(6)حسد
ایساشخص چیزوں کو ہمیشہ منفی زاویے سے دیکھتا اور دوسروں کے لیے اپنے دل میں حسد رکھتاہے۔ہر کامیاب شخص کے بارے میں اس کاموقف یہ ہوتاہے کہ یہ دھوکا دہی سے کامیاب بنا ہے،اس میں اپنی کوئی محنت شامل نہیں۔وہ حقیقی کامیاب کہانیوں کے بارے میں بھی کہتاہے کہ بس ان کاتو داؤ لگ گیا ہے،ان کااپنا کوئی کمال نہیں۔
اس طرح کارویہ ہمارے معاشرے میں عام ہے۔یہاں لوگ امیر آدمی کے پیچھے باتیں کرتے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ وہ امیربننابھی چاہتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ انسان جس سے نفرت کرتاہے اس جیساکبھی بھی نہیں بن سکتا۔کسی انسان جیسا بننے کے لیے محبت شرط ہے۔ہمارا معاشرہ بھی کامیاب اس لیے نہیں ہورہا کہ یہ کامیاب ہوناتو چاہتاہے لیکن کامیاب لوگوں سے نفرت بھی کرتاہے۔
(7)کام کی عزت
ذہنی غریب انسان ہمیشہ اپنے کام کو بوجھ سمجھتا ہے۔وہ ’بڑے‘ اور ’چھوٹے‘ کے ترازو میں کاموں کو تولتاہے۔جس کام کو وہ چھوٹا سمجھتا ہے تو اس کو کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتاہے،جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے نیت چھوٹی یا بڑی ہوتی ہے۔پھر چاہے وہ کسی مسجد یاخانقاہ میں لوگوں کے جوتے ٹھیک کرناہی کیوں نہ ہو،اگر اس کے پیچھے نیت خالص ہو تو اللہ کے ہاں یہ عمل مقبول ہے لیکن اگرکوئی شخص منبر پر بیٹھ کر دین کی خدمت کررہاہے اور اس کی نیت ٹھیک نہیں تو یہ عمل کسی کام کا نہیں۔
ذہنی طورپر مال دار انسان ہمیشہ اپنے کام سے محبت اور اس کی عزت کرتاہے۔وہ اس کو اللہ کا انعام سمجھتا ہے اور چھوٹے سے چھوٹے کام کو بھی کرنے سے شرماتانہیں۔باہر ممالک میں ہرشخص چاہے وہ عام ہے یا خاص، اپنے سارے کام خود کرتاہے چنانچہ گوگل جیسی بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز بھی اپنے کپ میں کافی بھرکرخود لاتے ہیں، اپنا بریف کیس اور چھتری خود اٹھاتے ہیں اور اس کوعیب بالکل نہیں سمجھتے۔
میں ایک بارپھر یاد دلا دوں کہ غربت ختم کی جاسکتی ہے لیکن احساس غربت نہیں۔ اس لیے ہمیشہ اپنا دل کھلا رکھیں، اپنی زندگی کا مقصد ڈھونڈیں اور اس کے مطابق جئیں۔ الزام تراشی سے بچیں اور اپنی کامیابی یا ناکامیابیوں کا ذمہ خود اٹھائیں، دکھاوے اور حسد کی آگے سے خود کو پاک کریں تاکہ آپ کے لیے راستے کھل جائیں اور جو بھی کام آپ کر رہے ہیں اس کو بھرپور عزت دیں تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی عزتوں سے نوازے۔