Wisdom qoutes

Wisdom qoutes

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Wisdom qoutes, Education Website, police line awan chowk new pind sukkur, Sukkur.

11/12/2025

احساس غربت
(قاسم علی شاہ)
یہ 18ویں صدی کی بات ہے۔ لندن کی سڑکوں پر گھوڑا گاڑیاں دوڑتی تھیں، چراغوں سے گلیاں روشن ہوتیں اور اشرافیہ محفلوں میں اپنی دولت کے جلوے دکھاتے تھے۔ اسی زمانے میں جان ایلن نامی شخص بھی لندن میں رہتا تھا جو نہ صرف پارلیمنٹ کا رکن بلکہ ایک بڑا جاگیرادار بھی تھا۔لوگوں کا خیال تھا کہ بھرپور دولت کے ساتھ جان ایلن شاہانہ زندگی گزارتا ہوگا لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ لاکھوں پاؤنڈ کا مالک ہونے کے باوجودجان ایلن پرانے کپڑے پہنتا، جب وہ پھٹ جاتے تو انھیں رفو کروا کر دوبارہ استعمال کرتا۔ وہ کئی ماہ تک ایک ہی کوٹ پہنے رہتا اور جب اس میں بڑے بڑے سوراخ ہو جاتے تو اپنے ہاتھ سے سیتا، مگر نیا خریدنے کی زحمت نہ کرتا۔ انگلینڈ میں شدید سردی پڑتی تھی، لوگ کمروں کو گرم رکھنے کے لیے کوئلہ جلاتے تھے لیکن جان ایلن اسے بھی فضول خرچی سمجھتا، وہ ٹھنڈ میں کانپتا رہتااور کمبل لپیٹ کرخود کو گرم کرنے کی کوشش کرتا لیکن گرمائش کا کوئی انتظام نہ کرتا۔ شاید وہ پیسے کو انتہائی قیمتی چیز سمجھتا تھا، اسی وجہ سے معمولی چیزوں پر رقم خرچ کرنے کو فضول خرچی سمجھتا تھا۔ اس کی کوشش ہوتی کہ کسی دعوت میں جاکر پیٹ پوجا کرلیا جائے تاکہ گھر میں کھانے بنانا نہ پڑے۔ اس کے پاس چھتری نہیں تھی، جب بارش ہوتی تو وہ پرانے کپڑے پہن کر باہر نکلتا، ان عادات کی وجہ سے وہ بیمار ہوگیا۔ لوگ اسے علاج کرانے کا کہتے، مگر اس کاخیال تھا کہ علاج کرانا پیسے برباد کرنا ہے میں خود ہی ٹھیک ہوجاؤں گا لیکن ایسا نہ ہوسکا، آئے روز مرض کی شدت میں اضافہ ہوتا رہا اور آخر کار1789ء میں وہ انتہائی اذیت کی حالت میں مرگیا۔

کسی داناکی یہ بات بالکل سچ ہے کہ”غربت ختم ہوجاتی ہے لیکن بعض لوگوں میں احساس غربت ختم نہیں ہوتی۔“
احساس غربت ختم نہ ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایسے لوگوں کا دل انتہائی تنگ ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اگر زندگی میں کامیاب ہوجائیں اور دنیا جہاں کی دولت سمیٹ لیں لیکن دل کی تنگی کی وجہ سے یہ دولت نہ ان کے اپنے کام آتی ہے نہ معاشرے کے کسی دوسرے فرد کے، ایسے لوگوں کا رزق پھر چیونٹیاں کھا جاتی ہیں اور مرتے وقت یہ لوگ اپنا مال و دولت چھوڑ جانے کی حسرت لیے اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام نے بھی مال کی فروانی سے زیادہ دل کی کشادگی پر زور دیا ہے، کیوں کہ تنگ دلوں میں نہ اللہ رہتا ہے اور نہ ہی اللہ کی مخلوق۔

دوسری طرف جس انسان دل کا کھلا ہوتوا س کا ہاتھ بھی کھلا ہوتاہے اور دل کی اسی کشادگی کی وجہ سے اس کا ذہن بھی کھل جاتاہے،لیکن جو شخص پیسوں کودل میں جگہ دے دیتاہے اور اس کو اپنی سانس بنالیتاہے تو پھر ایک روپیہ خرچ کرنے سے بھی اس کی جان جاتی ہے اور اس کا شمار دنیا کے ان غریبوں میں ہوتاہے جن کے پاس صرف پیسہ ہے۔یہ ذہنی غربت کی نشانی ہے اور یادرکھیں کہ ذہنی غربت، مال ودولت کی غربت سے زیادہ خطرناک ہے۔

آج کی تحریری نشست میں ہم احساس غربت اوراس کی چند نشانیوں پر بات کریں گے۔

(1)احساس زیاں سے محرومی
احساس غربت کی پہلی نشانی نقصان کااحساس نہ ہوناہے۔ہر وہ شخص جو زندگی کی قدر نہیں کرتا اور اپنے قیمتی وقت کو بے مقصد کاموں میں خرچ کرتاہے تووہ ذہنی غربت ہے۔ایسے انسان میں احساس زیاں نہیں ہوتا، اس کو یہ فکر بالکل نہیں ہوتی کہ میرا کتناقیمتی سرمایہ ضائع ہورہاہے،حال آنکہ وقت اس قدر قیمتی چیز ہے جس کی قسم اللہ تعالیٰ بھی اٹھاتا ہے لیکن ذہنی غربت کا شکار انسان اس قیمتی دولت کی کوئی پرو ا نہیں کرتا۔

آپ نے کرکٹ میچ تو دیکھا ہی ہوگا۔اسٹیڈیم میں ہزاروں لوگ موجود ہوتے ہیں لیکن گراؤنڈ میں اتر کرکھیلنے والے چند ہی ہوتے ہیں۔اب ایسا شخص جس کو اچھے طریقے سے کرکٹ کھیلنا بھی نہیں آتا لیکن پھر بھی وہ پیسے خرچ کرکے ٹکٹ لیتاہے اور اپنا وقت نکال کر میچ دیکھنے جاتاہے۔ یہ ذہنی غربت کی نشانی ہے،کیوں کہ اس عمل کا اسے کوئی فائدہ نہیں، وہ اپنے جس فیورٹ کھلاڑی کو دیکھنے جارہاہوتاہے وہ تواس میچ کا لاکھوں روپے معاوضہ لے رہا ہوتاہے اور اس کو کوئی پروا نہیں ہوتی کہ اسے دیکھنے کون کہاں سے آرہا ہے۔یہ اس کا پیشہ ہے لیکن ذہنی غربت کا حامل شخص اس حقیقت کو جاننے کے باوجود بھی شخصیت پرستی میں اس قدرکھوجاتاہے کہ اپنا قیمتی وقت اور پیسہ ضائع کردیتاہے۔
احساس غربت میں مبتلا فردصرف گیم دیکھتا ہے، کھیلتا نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج آپ کو معاشرے میں بہت سے لوگ صرف دیکھنے والے ملیں گے کرنے والے نہیں۔آپ نے اگرواقعی زندگی میں کچھ بڑا کرنا ہے تو پھرتماشائی نہ بنیں بلکہ کھلاڑی بنیں۔

(2)ہائی جیکنگ
ایسافرد مادی چیزوں کے ہاتھوں بہت جلد ہائی جیک ہوجاتاہے۔
آج کل چوں کہ سوشل میڈیاکا دور ہے تو ایسا شخص آپ کو ہر وقت بلامقصد سوشل میڈیا پر موجود نظر آئے گا۔وہ ہر دوسرے فرد سے جھگڑا کرے گااورہر کمنٹ کاجواب دے گا۔وہ ان لوگوں سے بڑا متاثر ہوگا جو سوشل میڈیاپرفین فالونگ رکھتے ہیں یا پھر ٹی وی اسکرین پر نظر آتے ہیں۔واضح رہے کہ ٹی وی دیکھنا اور ٹی وی پر آنا دونوں میں فر ق ہے۔ذہنی غریب انسان اپنی زندگی میں کوئی محنت نہیں کرتااور نہ ہی خودکو اس قابل بناتاہے کہ وہ ٹی وی اسکرین تک پہنچے لیکن جو لوگ ٹی وی پرآتے ہیں، انھیں دیکھتا ہے اور ان کی محبت میں دوسروں سے لڑائی جھگڑا بھی کرلیتاہے۔

میں تسلیم کرتاہوں کہ سوشل میڈیا آج کی ایک بڑی حقیقت ہے لیکن سمجھ داری کا تقاضا یہ ہے کہ مجھے اس سے صرف اتنا ہی تعلق رکھنا چاہیے جتنی میری ضرورت ہے۔میں اس کو اپنا مقصد حیات نہیں بناسکتا۔جیسے میرے پاس اگرگاڑی ہے تو مجھے صرف ڈرائیونگ پرتوجہ دینی چاہیے،اگرمیں اس کا ریڈی ایٹر صاف کرنے لگ جاؤں یاپھر اس کا ٹائرنکال کر پنکچر لگانے لگ جاؤں تویہ اپنے وقت اور توانائی کو ضائع کرنے والی بات ہے۔یہ میرا کام نہیں ہے بلکہ اس کے لیے مخصوص لوگ موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ بہترطریقے سے یہ کام کرسکتے ہیں لیکن ذہنی غریب انسان اس فلسفے کے الٹ چل رہاہوتاہے۔وہ ہر اس کام میں ہاتھ ڈالتا ہے جس کا کوئی فائد ہ نہیں ہوتا۔وہ اپنی ذہنی اور جسمانی توانائیوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ ضائع کرتاہے جب کہ اس کے برعکس ”احساس فراوانی“والافرد مقصد کے ساتھ جیتا ہے اورہر اس چیز سے دور رہتاہے جو اس کے وقت اور توانائی کو ضائع کردے۔

(3)سستی
احساس غربت کاشکارشخص آپ کو سستی اور کاہلی کامظاہرہ کرنے والاملے گا۔یہ لوگ بروقت قدم نہیں اٹھاتے۔یہ مناسب وقت کابہانہ بناکر سوئے پڑے رہتے ہیں۔یہ آپ کو”سوچتے ہیں، دیکھتے ہیں، ابھی وقت نہیں آیا“ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے دکھائی دیں گے اور اسی چکر میں یہ لوگ بہترین مواقع کو گنوادیتے ہیں اور پھر ٹسوے بہاکر روتے ہیں۔

مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہورہی ہے کہ میرے اندر شروع ہی سے ذمہ داری کا بھرپور احساس رہا ہے۔میں یونیورسٹی کا طالب علم تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ ٹیوشنز بھی پڑھایاکرتا تھا اور 2001میں ماہانہ ایک لاکھ سے اوپر کماتا تھا۔کیوں کہ مجھے معلوم تھا کہ میرے پاس وقت بھی ہے توانائی بھی ہے اور ایک بہترین موقع بھی۔جب کہ آج کل کے طلبہ پڑھنے کے دوران تو والدین سے پیسے مانگتے ہی ہیں،افسوس تو اس بات کا ہے کہ ڈگری لینے کے بعد بھی وہ والدین کے بھروسے زندگی جی رہے ہوتے ہیں اور اپنا خرچہ اٹھانے کے لیے کوئی چھوٹا موٹاکام بھی نہیں اپناتے۔یادرکھیں کہ اپنی زندگی کی ذمہ داری خود نہ اٹھانے والا شخص کبھی بڑا انسان نہیں بنتا۔

ذہنی غریب انسان سے اگر آپ پوچھیں کہ ڈگر ی کے بعدکیا کرنا ہے تو وہ کہے گا:”میرے ماموں انگلینڈ میں ہوتے ہیں،وہ مجھے بلائیں گے تو میں باہر چلاجاؤں گاورنہ پھر دیکھیں گے“۔جب کہ ذہنی مال دار انسان محنت و مشقت کا عادی ہوتاہے۔وہ اپناوقت ضائع نہیں کرتااور نہ ہی وہ دوسروں کے سہارے اپنی زندگی جیتاہے۔وہ اپنا سفر جلد سے جلدشروع کرتاہے اور اسی وجہ سے وہ باقی لوگوں سے آگے بڑھ جاتاہے۔
احساس غربت کا ماراشخص ہر وقت نوکری کی فکر ہوتی ہے جب کہ ذہنی مال دارانسان نوکری کی فکر نہیں کرتا، وہ زندگی میں کچھ بڑا کرنے کی کوشش کرتاہے اورنوکری لینے کے بجائے نوکریاں دینے والابنتاہے۔

(4)الزام تراشی
ہر ذہنی غریب شخص آپ کو دوسروں پر الزام لگانے والا ملے گا۔ وہ انسانوں سے، معاشرے سے، ملک کے نظام سے الغرض ہر چیز سے شکایت کررہاہوتاہے۔وہ خود کچھ نہیں کرتا، اپنے حصے کی شمع روشن نہیں کرتالیکن دوسروں پر تنقید اور الزام تراشی ضرورکرتاہے۔یادرکھیں کہ دوسروں کو موردِالزام ٹھہرانے والا شخص زندگی میں کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتا۔ کامیابی کا پہلا اصول ہی یہ ہے کہ آپ نے اپنی ذمہ داری خود اٹھانی ہے۔آپ نے محنت کرنی ہے، اپنی محنت سے آپ کامیاب ہوتے ہیں یا پھر ناکام دونوں صورتوں میں آپ خودکو ذمہ دارسمجھتے ہیں۔

(5)دِکھاوا
ایسافردہر وقت دکھاوے کی فکر میں ہوتاہے۔وہ اپنے پا س موجود چیزوں کی نمود ونمائش کرواناچاہتاہے۔وہ چاہتاہے کہ لوگ مجھے محسوس کریں، میری طرف توجہ دیں اور میں نے جوکپڑے پہنے ہیں، جو گھڑی میرے ہاتھ میں ہے یا جو موبائل میرے پاس ہے، لوگ اس پر واہ واہ کریں۔ایسا شخص معمولی گاڑی خرید کر اس کے پیچھے جوتالٹکائے گااور”ماں کی دُعا،جنت کی ہوا“لکھوائے گاجب کہ اس کے برعکس ذہنی مال دار انسان کو’شوآف‘ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔اس کا کام ہی اس کا دِکھاوا ہوتاہے۔

(6)حسد
ایساشخص چیزوں کو ہمیشہ منفی زاویے سے دیکھتا اور دوسروں کے لیے اپنے دل میں حسد رکھتاہے۔ہر کامیاب شخص کے بارے میں اس کاموقف یہ ہوتاہے کہ یہ دھوکا دہی سے کامیاب بنا ہے،اس میں اپنی کوئی محنت شامل نہیں۔وہ حقیقی کامیاب کہانیوں کے بارے میں بھی کہتاہے کہ بس ان کاتو داؤ لگ گیا ہے،ان کااپنا کوئی کمال نہیں۔
اس طرح کارویہ ہمارے معاشرے میں عام ہے۔یہاں لوگ امیر آدمی کے پیچھے باتیں کرتے ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ وہ امیربننابھی چاہتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ انسان جس سے نفرت کرتاہے اس جیساکبھی بھی نہیں بن سکتا۔کسی انسان جیسا بننے کے لیے محبت شرط ہے۔ہمارا معاشرہ بھی کامیاب اس لیے نہیں ہورہا کہ یہ کامیاب ہوناتو چاہتاہے لیکن کامیاب لوگوں سے نفرت بھی کرتاہے۔

(7)کام کی عزت
ذہنی غریب انسان ہمیشہ اپنے کام کو بوجھ سمجھتا ہے۔وہ ’بڑے‘ اور ’چھوٹے‘ کے ترازو میں کاموں کو تولتاہے۔جس کام کو وہ چھوٹا سمجھتا ہے تو اس کو کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتاہے،جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے نیت چھوٹی یا بڑی ہوتی ہے۔پھر چاہے وہ کسی مسجد یاخانقاہ میں لوگوں کے جوتے ٹھیک کرناہی کیوں نہ ہو،اگر اس کے پیچھے نیت خالص ہو تو اللہ کے ہاں یہ عمل مقبول ہے لیکن اگرکوئی شخص منبر پر بیٹھ کر دین کی خدمت کررہاہے اور اس کی نیت ٹھیک نہیں تو یہ عمل کسی کام کا نہیں۔

ذہنی طورپر مال دار انسان ہمیشہ اپنے کام سے محبت اور اس کی عزت کرتاہے۔وہ اس کو اللہ کا انعام سمجھتا ہے اور چھوٹے سے چھوٹے کام کو بھی کرنے سے شرماتانہیں۔باہر ممالک میں ہرشخص چاہے وہ عام ہے یا خاص، اپنے سارے کام خود کرتاہے چنانچہ گوگل جیسی بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز بھی اپنے کپ میں کافی بھرکرخود لاتے ہیں، اپنا بریف کیس اور چھتری خود اٹھاتے ہیں اور اس کوعیب بالکل نہیں سمجھتے۔

میں ایک بارپھر یاد دلا دوں کہ غربت ختم کی جاسکتی ہے لیکن احساس غربت نہیں۔ اس لیے ہمیشہ اپنا دل کھلا رکھیں، اپنی زندگی کا مقصد ڈھونڈیں اور اس کے مطابق جئیں۔ الزام تراشی سے بچیں اور اپنی کامیابی یا ناکامیابیوں کا ذمہ خود اٹھائیں، دکھاوے اور حسد کی آگے سے خود کو پاک کریں تاکہ آپ کے لیے راستے کھل جائیں اور جو بھی کام آپ کر رہے ہیں اس کو بھرپور عزت دیں تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی عزتوں سے نوازے۔

11/12/2025

چھوٹے قدم، بڑے نتائج
(قاسم علی شاہ)
دوسری جنگ عظیم نے دنیا پر انتہائی خطرناک اثرات چھوڑے۔ اس جنگ نے انسانیت کو تباہی، بربادی اور ظلم و ستم کے ایسے مناظر دکھائے جو تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔ جاپان بھی اس کی زدمیں آیا تھا۔ جاپانی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی۔ وسائل محدود تھے اور قوم شدید بحران کا سامنا کر رہی تھی۔ ایسے میں امریکا نے جاپانی صنعتوں کو بحال کرنے کے لیے ڈاکٹر ولیم ایڈورڈز ڈیمنگ اور ڈاکٹر جوزف کو بھیجا جنھوں نے جاپانیوں پر ایسا احسان کیا جس کی بدولت یہ قوم دوبارہ پاؤں پر کھڑے ہونے کی قابل ہوگئی۔ ان ماہرین نے جاپانی انجینئرز کو سمجھایا کہ اگر آپ بڑے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ روزانہ چھوٹے چھوٹے مثبت قدم اٹھائے جائیں۔ اس نکتے نے آگے چل کر کائزن (Kaizen) فلسفے کی شکل اختیار کی۔کائزن دو الفاظ پر مشتمل ہے: کائی (تبدیلی) اور زن (اچھائی)۔ ٹویوٹا وہ پہلی کمپنی تھی جس نے اس فلسفے کو عملی جامہ پہنایا۔ کمپنی انتظامیہ نے اصول بنایا کہ ہم نے پیداوار کو بڑھاناہے، فضول خرچی اور ضیاع کو کم کرنا ہے اور ہر ملازم کو اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ وہ روزانہ اپنے کام کے طریقے میں کوئی نہ کوئی چھوٹی بہتری لائے۔ یہ سوچ رفتہ رفتہ جاپانی صنعت کا طرہ امتیاز بن گئی، اس کی بدولت معیشت مستحکم ہونا شروع ہوگئی اور 1980 تک جاپانی معاشی طورپر دنیا کا طاقتور ملک بن گیا۔ مغربی دنیا اس انقلاب پر حیران تھی۔ اس نے یہ راز جاننے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اس شان دار ترقی کے پیچھے کائزن کا فلسفہ ہے۔ چنانچہ امریکی اور یورپی کمپنیوں نے اسے اپنانے میں دیر نہیں لگائی اور فوری طورپر اس پر عمل پیر اہوئے۔ آج کی دنیا میں کائزن کا فلسفہ نہ صرف جاپانی صنعت اور سماج کی پہچان ہے بلکہ یہ ایسا عالمی اصول بن چکا ہے جو فرد، ادارے اور معاشرے کو مسلسل بہتری کی طرف لے جاتا ہے۔

اس فلسفے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کوئی بھی بہتری اچانک بڑے فیصلے کرنے سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے اقدامات کے ذریعے آتی ہے۔ یہ فلسفہ بتاتا ہے کہ بڑا ہدف چھوٹی چھوٹی کامیابیوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے ہاں اکثر لوگ زندگی میں بڑے خواب تو دیکھتے ہیں مگر ان کے لیے ایسی منصوبہ بندی کرتے ہیں جو شروع ہی سے بوجھل اور ناقابلِ عمل ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یا تو وہ راستے میں ہار مان لیتے ہیں یا تھک کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

کائزن کا پہلا اصول یہ ہے کہ اگر آپ روزانہ صرف ایک چھوٹا سا قدم اٹھائیں تو وقت کے ساتھ ساتھ یہ چھوٹے قدم بڑے نتائج پیدا کر دیں گے۔
کائزن ہمیں بتاتاہے کہ بہتری وقتی عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل سفر ہے۔ یہ اس فلسفے کادوسرا اصول ہے۔بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی بڑے ہدف کو حاصل کر لیا تو گویا کام مکمل ہو گیا۔ لیکن کائزن کہتاہے کہ جب بھی آپ کسی منزل پر پہنچیں تو اسے اگلے سفر کی ابتدا سمجھیں۔یہ سوچ انسان کو رکنے نہیں دیتی بلکہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے اور آگے بڑھنے پر ابھارتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جاپانی صنعتوں میں کبھی یہ نہیں کہا جاتا کہ اب ہم مکمل ہو گئے ہیں، بلکہ وہ ہمیشہ یہ مانتے ہیں کہ بہتری کی مزید گنجائش موجود ہے۔

کائزن فلسفے کے مطابق اصل کامیابی مقدار بڑھانے میں نہیں بلکہ معیار بہتر کرنے میں ہے۔ مثال کے طور پر اگرکوئی شخص بہت زیادہ مصروف رہتاہے لیکن اس کاکوئی کام معیاری نہ ہوتو اس کی محنت ضائع جاتی ہے۔کائزن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ چاہے کام کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، اسے بہترین انداز میں انجام دیا جائے۔ اس سوچ سے انسان اپنی عادتوں میں اعلیٰ معیار پیدا کرتا ہے جو زندگی کے ہر پہلو پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔

کائزن کا چوتھا اصول یہ ہے کہ مسائل چھپانے سے بہتری ممکن نہیں۔ اکثر ادارے یا افراد اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ناکامی یا کمزوری ظاہر نہ ہو۔ لیکن کائزن کہتا ہے کہ اگر آپ ترقی چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی کمزوریوں اور خامیوں کو پہچانیں اور ان پر کھل کر بات کریں۔ یہی سوچ ذاتی زندگی میں بھی اپنائی جا سکتی ہے کہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کیاجائے اوران سے سیکھنے کی کوشش کی جائے۔

پانچویں اصول کے طورپر کائزن پیغام دیتاہے کہ بہتری اجتماعی شمولیت کے ذریعے آتی ہے۔ کسی ادارے میں اگر صرف مینیجر بہتری کی بات کرے اور باقی ملازمین اس میں شامل نہ ہوں تو تبدیلی ممکن نہیں۔ اسی طرح گھر یا سماج میں اگر صرف ایک فرد آگے بڑھے اور باقی ساتھ نہ دیں تو کامیابی محدود ہو جائے گی۔کائزن کے فلسفے کے تحت ہر فرد، چاہے وہ چھوٹا سا کام کرنے والا ہو یا سب سے بڑے فیصلے کرنے والا، سب کو برابر اہمیت دی جائے کیوں کہ اجتماعی تعاون کے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں۔

کائزن کافلسفہ کہتاہے کہ تبدیلی فوری طور پر نظر نہیں آتی۔اگر کوئی شخص ایک دن یا ایک ہفتے کی مشق کے بعد نتائج دیکھنا چاہے تو وہ مایوس ہو گا۔جیسے قطرہ قطرہ مل کردریا بنتاہے،ا سی طرح حقیقی کامیابی ان لوگوں کو ملتی ہے جو صبر اور مستقل مزاجی کے ساتھ چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔

کائزن اور مغربیSelf-helpنظریات میں کئی مماثلتیں ہیں۔ دونوں کا مقصد انسان کو اپنی زندگی بہتر بنانے کی ترغیب دینا ہے۔ جیسے مغربی مصنفین اسٹیفن کووی یا جیمز کلئیر نے عادات کی اہمیت پر زور دیا، بالکل اسی طرح کائزن بھی چھوٹی تبدیلیوں کو بڑی کامیابی کی بنیاد مانتا ہے۔لیکن فرق یہ ہے کہ مغربی نظریات اکثر بڑی اور فوری تبدیلیوں پر زور دیتے ہیں، جب کہ کائزن صبر، تسلسل اور بتدریج بہتری کا قائل ہے۔ مزید یہ کہSelf-helpزیادہ تر فرد کی ذاتی کامیابی اور خوشی پر مرکوز ہے، جب کہ کائزن ادارے اور معاشرے کو ساتھ لے کر چلنے والا فلسفہ ہے۔

آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم کائزن کے فلسفے کو عملی طورپر کیسے اپناسکتے ہیں۔
1۔ صحت
صحت کے سلسلے میں کائزن کا فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اچانک بڑی تبدیلیاں لانے کے بجائے معمولی مگر مستقل اقدامات زیادہ پائیدار نتائج دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اچانک سخت ورزش کا ارادہ کرے تو جلد تھک کر چھوڑ دے گا۔ لیکن اگر وہ روزانہ صرف چند منٹ ہلکی چہل قدمی سے آغاز کرے، آہستہ آہستہ اسے بڑھائے یا کھانے میں چھوٹے چھوٹے فیصلے کرے کہ آج میں نے چینی کم استعمال کرنی ہے یاغذا میں سبزی شامل کرنی ہے تویہ عادتیں اس کی صحت پر بہترین اثرات مرتب کریں گی۔

2۔ معاش
مالی کامیابی کے لیے بھی کائزن کا اصول کارآمد ہے۔ لوگ اکثر بڑی بچت یا اچانک سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا لیتے ہیں لیکن مستقل مزاجی کے بغیر یہ ناکام ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی شخص روزانہ کے اخراجات پر قابو پاتے ہوئے آہستہ آہستہ بچت بڑھائے یا خریداری سے پہلے سوچنے کی عادت ڈالے کہ میں جو خریدرہاہوں اس کی واقعی مجھے ضرورت ہے تو یہ چھوٹے قدم مستقبل میں بڑی مالی فراوانی کا سبب بنتے ہیں۔ جاپانی قوم ”کاکیبو“ یعنی گھریلو بجٹ ڈائری استعمال کرتے ہیں، جس کے ذریعے روزانہ اخراجات درج کرکے غیر ضروری خرچ پر بڑی حد تک قابو پایا جاتا ہے۔

3۔ تعلقات
رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے بڑے وعدوں یا مہنگے تحائف کی نہیں بلکہ چھوٹی مگر بامعنی باتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص روزانہ اپنے بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزارے یا شریکِ حیات کومکمل توجہ دیتے ہوئے باتیں کرے اوراس دوران موبائل بند رکھے تو اس کی بدولت بھی رشتہ مضبوط ہوگا۔ اسی طرح دفتر میں اگر کوئی اپنے ساتھی کی بات سننے کے لیے وقت نکالے یامدد پر اس کا شکریہ ادا کرے تو یہ مثبت رویے مجموعی ماحول کو خوش گوار بنا دیتے ہیں۔

4۔ تعلیم
تعلیم کے میدان میں بھی اچانک اور وقتی محنت کے بجائے بتدریج سیکھنے کی عادت زیادہ کارآمد ہے۔ امتحان کے دنوں میں رات بھر پڑھنے کے بجائے اگر کوئی طالب علم روزانہ صرف کچھ وقت مطالعہ کرے تو اس تسلسل کی بدولت وہ بآسانی کورس مکمل کرلے گااوراس کا ذہن بھی پختہ ہوگا۔ اسی طرح نئی زبان یا ہنر سیکھنے کے لیے ایک ہی دن میں گھنٹوں لگانے کے بجائے روزانہ دس یا پندرہ منٹ کی مشق زیادہ کارآمد ہے۔

5۔ سکون
کائزن کا اطلاق انسان کی روحانی اور ذہنی زندگی پر بھی ہوتا ہے۔ روزانہ کے چھوٹے چھوٹے مراقبے مثلاً ایک منٹ تک اپنے سانس پر دھیان دینا، رفتہ رفتہ ذہن کو پرسکون کرتا ہے۔ اسی طرح روزانہ کے آغاز پر کسی ایک مثبت جملے یا دعا کے ساتھ دن شروع کرنا دماغ میں توانائی اور امید پیدا کرتا ہے۔ جاپانی قوم کاخیال ہے کہ چندلمحے شکراور خاموشی کی کیفیت میں گزارنا بھی زندگی کو پُر سکون بنادیتاہے۔

ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر طرف مقابلے کی فضا ہے اور ہر شخص تیز رفتار زندگی گزار رہا ہے۔ کائزن کا فلسفہ ہمیں انفرادی و اجتماعی بہتری کے لیے شان دار رہنمائی فراہم کرتا ہے۔اس وقت اداروں کو ٹیکنالوجی، معاشی چیلنجز اور ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے۔ اس کے لیے کائزن بتدریج بہتری کے ذریعے اداروں کو پائیدار ترقی کی طرف لے جاتا ہے۔ فرد کی سطح پر کائزن ہمیں سکھاتا ہے کہ بڑے خواب دیکھنے سے پہلے چھوٹے قدم اٹھائیں، جیسے روزانہ تھوڑا مطالعہ، وقت پر سونا اور دوسروں سے اچھا سلوک کرنا۔ معاشرتی سطح پر کائزن اتحاد، تعاون اور اجتماعی بھلائی کو فروغ دیتا ہے۔ آنے والا دور آج سے زیادہ تیزرفتار ہوگا، مستقبل میں کائزن ایسی کنجی ثابت ہو سکتا ہے جو فرد اور معاشرے کو زیادہ موثر،ہم آہنگ، ترقی یافتہ اور پائیدار بنائے۔
معروف فلسفی کنفیوشس کہتا ہے کہ یہ اہم نہیں کہ آپ کتنی آہستگی سے چلتے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ آپ رکیں نہیں۔

11/12/2025

لالچ یا عزم؟
(قاسم علی شاہ)
ایڈورڈ ڈیس اور ریچرڈریان انسانی نفسیات پر دسترس رکھتے ہیں اور اس میدان میں بہترین خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ انھوں نے یہ بات جاننے کی کوشش کی کہ انسان کے اندر موٹیویشن (تحریک) کیسے پیدا ہوتی ہے۔ وہ کون سا جذبہ ہے جس کے تحت انسان مشکل ترین کام کرنے کے لیے بھی راضی ہوجاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک تجربہ کیا۔ انھوں نے لوگوں کی دو جماعتیں بنائیں اور دونوں کوایک ہی پہیلی حل کرنے کا ہدف دیا۔ پہلی جماعت کو کہا گیا کہ پہیلی حل کرنے کے بعد آپ کو انعام دیا جائے گا جب کہ دوسری جماعت کو کہا گیا کہ یہ ایک دلچسپ سرگرمی ہے، اگر آپ اس میں شرکت کرلیں تو بہت اچھا رہے گا۔ پہلے دن دونوں جماعتوں نے لگن کے ساتھ کام کیا، حسب وعدہ پہلی جماعت کو انعام دیا گیا۔ اگلے روز پہلی جماعت کو کہا گیا کہ آج آپ نے ایک اور پہیلی حل کرنی ہے مگر آپ کو انعام نہیں ملے گا۔ یہ سن کر ان لوگوں کی ہمت جواب دے گئی جب کہ دوسری جماعت نے دوسرا ہدف بھی دلچسپی سے مکمل کیا۔ اس تجربے سے ایڈورڈ ڈیس اور ریچرڈریان نے یہ نتیجہ نکالا کہ بیرونی انعام انسان کو وقتی تحریک دیتا ہے مگر اندرونی دلچسپی سے پیدا ہونے والی تحریک طویل اور دیرپا ہوتی ہے۔ اس تجربے کو Self-determination تھیوری کا نام دیا گیا، جس نے تعلیمی نظام اور قیادت کے نظریات کو بدل دیا۔ یہ تھیوری بتاتی ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کوئی شخص واقعی محنت کرے تو اسے صرف انعام کا لالچ نہ دیں بلکہ اسے مقصد دیں۔ مقصد اتنی طاقتور چیز ہے کہ وہ انسان سے ہر طرح کے حالات میں کام کروا سکتا ہے۔

معروف فلسفی فریڈرک نطشے بھی کہتاہے کہ جس کے پاس جینے کی وجہ ہو وہ کسی بھی مشکل کو برداشت کر سکتا ہے۔
یہ جملہ واضح کرتا ہے کہ انسان کی قوت دراصل اس کے مقصد سے جڑی ہے، جب کوئی فرد مقصدکی اہمیت سے باخبر ہوجائے تووہ بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہوجاتاہے۔مثال کے طورپرطالب علم جب یہ جان لے کہ میری محنت سے میرا خواب مکمل ہوگاتو وہ راتوں کی نیند قربان کر دیتا ہے۔ مزدور کو جب یہ یقین ہوجائے کہ میری مشقت سے میرے بچوں کی زندگی میں بہتری آئے گی تووہ کام کی سختی اور گرمی کی شدت کی بھی پروا نہیں کرتا۔

”تحریک“(Motivation)عارضی کیفیت نہیں بلکہ ایک روحانی قوت ہے جو مقصد سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ دل سے اٹھنے والا وہ جذبہ ہے جو انسان کو تھکنے نہیں دیتا،جو ناکامی کے بعد اسے نئے عزم کے ساتھ اٹھنے کاحوصلہ دیتاہے۔زندگی کا بڑا سبق یہی ہے کہ حقیقی ”تحریک“کسی کتاب، تقریر یا موقع سے نہیں آتی،یہ صرف اس وقت جنم لیتی ہے جب انسان کے سامنے Motive(مقصد)ہو، جب اسے معلوم ہو کہ وہ کیوں جی رہا ہے اور کس خواب کے لیے کوشاں ہے۔

تحریک حاصل کرلینے کے بعد ہدف تک بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے پاس وژن بھی ہو، کیوں کہ اکثرایسا ہوتاہے کہ انسان کو کسی چیز سے تحریک مل جاتی ہے، وہ محنت کرنے لگ جاتاہے لیکن غیر محسوس طریقے سے اس کا شوق لالچ(Greed)میں بدل جاتاہے۔لالچ ایسی کیفیت ہے جس میں انسان کی خواہشات کی کوئی حد نہیں رہتی،وہ ہر چیز زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا چاہتا ہے، چاہے اس کے لیے کسی کا حق مارنا پڑے یا اصول توڑنے پڑیں۔یہی وجہ ہے کہ مطلوبہ ہدف حاصل کرنے کے باوجود وہ رُکتا نہیں، وہ مزید کی حرص میں مبتلا ہوجاتاہے۔یہ ایسی چیز ہے جس میں مبتلافردنہ صرف اپنے لیے بلکہ معاشرے کے لیے بھی خطرناک بن جاتاہے۔

آج کا انسان سوچتاہے کہ میں نے فلاں گاڑی لینی ہے۔طویل عرصے تک پیسے جوڑ جوڑ کرجب وہ گاڑی لے لیتاہے توکچھ دن بعد اس کے دل میں زیادہ اچھی گاڑی کی خواہش پیداہوجاتی ہے۔وہ اس کے لیے کوشش کرنے لگتاہے۔جب وہ بھی حاصل کرلیتاہے تواس کے بعد مزید اچھی اوراسٹائلش گاڑی چاہتاہے۔وہ خواہشات کے دائرے میں گھومتارہتاہے اوراس کا یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔یہ چیزاسے جھنجھلاہٹ میں مبتلا کردیتی ہے جس کی وجہ سے اس کا سکون اور اطمینان ختم ہوجاتاہے۔

لالچ پر قابو پانا بہت ضروری ہے کیوں کہ انسان کانفس کبھی بھی مادی چیزوں سے سیر نہیں ہوتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی (بھری ہوئی) دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری حاصل کرنا چاہے گا، آدمی کا پیٹ مٹی کے سوا کوئی اور چیز نہیں بھر سکتی۔(صحیح مسلم:2415)

دنیا کاکوئی شخص بھی Wishes Cycle(خواہشات کا دائرہ) کو مکمل نہیں کرسکتا، آپ نے وہ مشہور کہانی سنی ہوگی جس میں ایک شخص کو کہاگیا کہ سامنے موجودکئی ہزارایکٹر زمین میں سے آپ جتنی زمین عبور کرلیں گے، وہ آپ کی ملکیت شمار ہوگی، مگر شرط یہ ہے کہ صبح نکلناہے اور شام تک واپس آنا ہے۔وہ اپناسفر شروع کرتاہے اوردوپہر تک اچھی خاصی زمین عبورکرلیتاہے۔اسے دوپہر کوواپس مڑناچاہیے تھالیکن اس پر لالچ غالب آگیا، اس نے سوچا، میں سہ پہر تک زمین گھیرتاہوں، اس کے بعد واپس چلاجاؤں گا۔ سہ پہر آگئی تو اس نے سوچاابھی میرے جسم میں توانائی موجودہے میں چند مربع زمین مزیدگھیرتاہوں اور اس کے بعد دوڑکرواپس پہنچ جاؤں گا۔ وہ زیادہ سے زیادہ زمین گھیرنے میں مصروف رہااور جب واپسی کا وقت آیاتودیر ہوچکی تھی، وہ دوڑنے لگا،لیکن کچھ دیر میں ہانپنے لگا۔اس کی رفتارآہستہ ہوگئی، ٹانگوں میں توانائی کم ہوگئی، وہ ڈگمگاکر گرپڑا،کچھ لمحے ساکت پڑے رہنے کے بعد وہ اٹھااور تیزرفتاری کے ساتھ دوڑنے لگالیکن جسم نے ساتھ نہیں دیا۔وہ منہ کے بل زمین پر گرگیا،اس میں دوبارہ اٹھنے کی ہمت نہیں تھی۔وہ رینگنے لگالیکن کچھ دیر بعد جسم نے جواب دے دیا۔مایوسی اورتھکن کی وجہ سے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں اورپھر وہ بے ہوش ہوگیا۔

پیسہ زندگی کے لیے ضروری ہے لیکن صرف پیسہ ہدف نہیں ہوناچاہیے۔پیسے کے لیے مناسب کوشش ضرور کرنی چاہیے مگر جنونی نہیں بنناچاہیے کیوں کہ جو لوگ صرف مال و دولت کواپنا ہدف بنالیتے ہیں وہ زندگی کے دوسرے شعبوں میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ زندگی کے سات شعبے ہیں۔ روحانیت،صحت،تعلقات، کام، پیسہ، ساکھ اورمعاشرے کی خدمت۔ہمیں ان سب میں کامیاب ہوناچاہیے۔اگرہم صرف ایک چیز پر توجہ دیں اور باقی کو نظرانداز کردیں تو اس کی وجہ سے زندگی غیر متوازن ہوجائے گی۔توازن حسن کی علامت ہے جب کہ بے اعتدالی بدصورتی کوجنم دیتی ہے۔

ہدف حاصل کرنے کے لیے ہمیں لالچ کے بجائے عزم(Grit)سے کام لیناچاہیے۔Gritکا مطلب ہے:”مقصد کے ساتھ طویل مدت تک وابستہ رہنے کا جذبہ“۔یہ محنت، صبر اور مستقل مزاجی سے جنم لیتا ہے۔ لالچ میں انسان اندھااورحریص بن جاتاہے جب کہ Gritمیں فرد مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب چلتارہتاہے۔اس کی منزل نہ صرف اسے فائدہ دیتی ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مفید ہوتی ہے۔

Gritکاتصورامریکی ماہر نفسیات انجیلاڈک ورتھ نے پیش کیا اور اسی نام سے ا س نے ایک بہترین کتاب بھی لکھی۔انجیلا نے اپنے کریئر کا آغاز استادکے طورپر کیا۔اس نے دیکھا کہ بعض طلبہ بھرپور ذہانت رکھنے کے باوجود اوسط کارکردگی دکھاتے ہیں جب کہ اوسط ذہانت کے حامل طلبہ شان دار نتائج حاصل کرتے ہیں۔اس کے اندر سوال پیدا ہوا کہ ایسا کیوں ہے؟

اس کا جواب پانے کے لیے انجیلا نے ”ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی“ اور”نیشنل اسپیلنگ بی“ جیسے بڑے اداروں میں وقت گزارااور اس پر یہ راز آشکار ہوا کہ کامیابی ذہانت سے نہیں مستقل مزاجی سے جنم لیتی ہے۔ ویسٹ پوائنٹ میں اس نے دیکھا کہ اوسط ذہانت مگر مضبوط عزم کے طلبہ سخت ترین تربیت میں بھی کامیاب رہے۔اسی طرح اسپیلنگ بی کے مقابلوں میں اس نے دیکھا کہ جن بچوں نے سب سے زیادہ مشق کی، وہی کامیاب ہوئے۔اس نے مزیدتحقیق کے لیے کاروباری اداروں اور جامعات کا رُخ کیا اوریہاں بھی یہ اسے معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنے مقصد کے ساتھ جڑے رہتے ہیں وہی کامیابی پاتے ہیں۔

انجیلاکہتی ہے کہ ہرشخص اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے پُرجوش نظرآتاہے لیکن عزم اور مستقل مزاجی بہت کم لوگوں میں نظرآتی ہے۔حال آنکہ کامیابی کی کنجی یہی ہے۔

جب ہم ”لالچ“ کے بجائے ”عزم“ سے کام لیتے ہیں تویہ ہمیں بے شمار فوائد دیتاہے۔
1۔ مقصد کے ساتھ وابستگی
عزم ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم اپنے مقصد کے ساتھ جڑے رہیں۔ ہمارے ہاں اکثر لوگ وقتی طورپرجوش میں آکر کسی کام کا آغاز کر لیتے ہیں مگرجیسے ہی مشکلات آتی ہیں تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔عزم کاحامل انسان مقصد سے عشق رکھتا ہے۔ وہ ناکامی کواختتام نہیں بلکہ سبق سمجھتا ہے۔ یہی مستقل مزاجی اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔

2۔ ناکامیوں سے سبق
عزم کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ہمیں ناکامی سے ڈرنے کے بجائے اس سے سیکھنا سکھاتاہے۔ لچک دار سوچ رکھنے والا فرد نقصان سے بھی سیکھنے کی کوشش کرتاہے۔اسی لیے جب وہ گرتا ہے تو اٹھنے کا نیا طریقہ ڈھونڈلیتاہے۔یہ رویہ اسے وقت کے ساتھ مضبوط بنا دیتا ہے۔عزم رکھنے والافردمایوسی کے اندھیروں میں بھی امید کی کرن تلاش کر لیتا ہے۔

3۔ خوداعتمادی
عزم انسان کوخوداعتماد بناتاہے۔ مستقل مزاجی سے محنت کرنے والے شخص کو اپنی صلاحیتوں کاعلم ہوجاتاہے۔ جب وہ کسی تجربے میں کامیاب ہوتاہے تویہ کامیابی اس کاحوصلہ بڑھاتی ہے اوراگر وہ ناکام ہوجائے توناکامی اس کا عزم کمزور نہیں کرتی۔ وہ اپنے وقت، توانائی اور ترجیحات کو بہتر انداز میں منظم کرتاہے۔ یوں عزم نہ صرف اسے کامیابی دیتاہے بلکہ اس کی شخصیت سازی بھی کرتاہے۔

4۔ طویل مدتی کامیابی
دنیا میں ہونے والے بڑے بڑے کارنامے راتوں رات نہیں ہوئے بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی محنت اور قربانی تھی۔ عزم انسان کو صبر کی عادت دیتا ہے۔ یہ اسے سکھاتا ہے کہ اصل کامیابی جلد بازی میں نہیں بلکہ مستقل مزاجی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عزم رکھنے والے لوگ دیر سے سہی مگر پائیدار کامیابی حاصل کرتے ہیں اور معاشرے پردیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔

5۔ ذہنی و جذباتی مضبوطی
عزم انسان کو صرف جسمانی یا عملی استقامت نہیں بلکہ جذباتی طاقت بھی دیتا ہے۔ یہ فردکو اندر سے مضبوط بناتا ہے۔ ایسا فرد جب مشکلات کا سامنا کرتا ہے تو گھبرانے کے بجائے سکون سے کام لیتا ہے۔ عزم کے حامل لوگ زندگی کے نشیب و فراز کو عبور کرنا جانتے ہیں۔ عزم انھیں خود پر قابو اور امید دینا سکھاتا ہے۔ اس بنیاد پر یہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور دوسروں کے لیے مثال بنتے ہیں۔

11/12/2025

کام یاب لوگوں کی منفرد عادت
(قاسم علی شاہ)
استاد نے کلاس میں بچوں سے ایک دل چسپ تجربہ کروایا۔ اس نے بچوں کے سامنے چار ٹوکرے رکھے۔ ایک ٹوکرا چھوٹی گیندوں سے بھرا تھا اور تین خالی تھے۔ استاد نے ایک بچے کو بلایا اور اسے کہا کہ بھرے ٹوکرے سے ایک ایک گیند نکال کر خالی ٹوکرے میں ڈالتے جاؤ مگر ایک وقت میں ایک گیند سے زیادہ نہیں اٹھانا۔ بچہ کام میں لگ گیا، کچھ دیر بعد استاد نے اسے روک کر پوچھا کہ تم نے کتنی گیندیں خالی ٹوکرے میں ڈالی ہیں؟ بچے نے گن کر بتایا، 25۔ اس کے بعد استاد نے دوسرے طالب علم کو بلایا اور اس سے کہا کہ تم نے دوسرے نمبرپر موجود خالی ٹوکرے میں گیندیں ڈالنی ہیں اور تمھارے پاس ایک منٹ ہے۔ وقت پورا ہونے پر دیکھا گیا تو طالب علم نے 35گیندیں منتقل کی تھیں۔اس کے بعد استاد نے تیسرے طالب علم کو بلایا اور اس سے کہا، تمھارے پاس بھی ایک منٹ ہے، تم نے 35 سے زیادہ گیندیں تیسرے نمبر پر موجود خالی ٹوکرے میں ڈالنی ہیں۔ جب تیسرے طالب علم کا وقت پورا ہوا اور دیکھا گیا تو اس نے 48 گیندیں منتقل کی تھیں۔ کلاس میں موجود تمام بچے حیران تھے۔ استاد مسکرایا اور بولا:”دیکھو بچو! تمھارے سامنے تین لڑکوں نے اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، پہلے بچے نے صرف 25 گیندیں ٹوکرے میں ڈالیں، اس کے سامنے ہدف نہیں تھا اور وہ وقت کا پابند بھی نہیں تھا۔ دوسرے طالب علم کے پاس ایک منٹ تھا۔ اس کی کوشش تھی کہ میں وقت پورا ہونے سے پہلے زیادہ سے زیادہ گیندیں ٹوکرے میں ڈالوں، چنانچہ اس نے پہلے طالب علم سے دس گیندیں زیادہ منتقل کیں۔ جب کہ تیسرے طالب علم کی کارکردگی دونوں طلبہ سے زیادہ بہتر تھی کیوں کہ اس کے پاس ہدف بھی تھا اور وہ وقت کا پابند بھی تھا، چنانچہ اس نے ہدف کا اندازہ لگایا، اپنے وقت اور توانائی کو بہتر انداز میں استعمال کیا اور دونوں سے بازی لے گیا۔ اس سرگرمی کا مقصد آپ کو یہ سمجھانا ہے کہ آپ جو بھی کام منصوبہ بندی کے ساتھ کریں گے، اس میں وقت کم خرچ ہوگا اور ہدف بھی پورا ہوگا اور اگر آپ تیاری کے بغیر کام کریں گے تو آپ کی کارکردگی کمزور ہوگی اور وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی توانائی بھی ضائع ہوگی۔“
بنجمن فرینکلن کہتا ہے کہ کسی کام کی تیاری میں ناکامی کا مطلب یہ ہے کہ آپ ناکام ہونے کے لیے تیاری کررہے ہیں۔
فرض کریں کہ کسی شخص کو دس ہزار روپے، پانچ افراد (خدمت کے لیے) اور بارہ گھنٹے کا وقت دے کر کہا جائے کہ آج کا دن تم اپنی مرضی سے گزارو اور شام کو دن بھرکا حساب کریں گے تو وہ اسے کیسے گزارے گا؟
معاشرے کے عمومی مزاج کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسا فرد صبح کسی ریسٹورنٹ جاکر ناشتہ کرے گا۔ اس کے بعد اگر وہ کاروبار کرتا ہے تو ان پیسوں اور افراد کو اپنے کام میں شامل کرکے منافع کمانے کی کوشش کرے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ان افراد کو گھریا اپنے ادارے کے کسی کام میں لگا دے، ان سے مفت میں کام کروا کر اخراجات بچ جانے پر خوش ہو۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ گھلنے ملنے والا شخص ہوا ور ان تمام افراد کو ڈرائنگ روم میں بٹھا کر دن بھر ان کے ساتھ گپ شپ کرتا رہے، کوئی فلم دیکھے اور تمام پیسے کھانے پینے پر اڑا دے۔
عقل مند ایسا نہیں کرے گا۔ اسے جب بھی ایسا موقع ملے تو وہ مزے اڑانے کے بجائے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ وہ کچھ وقت نکال کر منصوبہ بندی کرے گا کہ میں بارہ گھنٹوں، دس ہزار روپے اور افرادی قوت کو موثر اندا زمیں کیسے استعمال کرسکتا ہوں۔ دراصل یہی وہ سوچ ہے جو کسی فرد کو عام سے خاص بناتی ہے۔ آپ نے اگر کسی شخص کی قابلیت کو جانچنا ہے تو دیکھیں کہ وہ کام سے پہلے کیسی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ اس کی Planning کا معیار ثابت کرے گا کہ وہ کس قدر ذہین ہے۔
ڈیل کارنیگی کہتا ہے کہ ایک گھنٹہ منصوبہ بندی میں لگا دینا دس گھنٹے ضائع ہونے سے بچا دیتا ہے۔
جب آپ کسی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے سے پہلے منصوبہ بندی کرتے ہیں تو اس کی بدولت آپ کے اہداف اور مقاصد واضح ہوجاتے ہیں۔ آپ کی کوشش جلدرنگ لے آتی ہے اور آپ مختصر وقت میں مطلوبہ نتائج حاصل کرلیتے ہیں۔
منصوبہ بندی کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس کی بدولت آپ ہدف کے مختلف پہلوؤں پر غور کرسکتے ہیں۔ اس کام میں کون کون سی رکاوٹیں پیش آسکتی ہیں، میرے پاس کتنے Options ہیں اور اگر یہ کام نہ ہوسکا تو متبادل کیا ہے۔ کام کا تجزیہ کرنا ایسا عمل ہے جو آپ کی فیصلہ سازی کی مہارت کو نکھارتا ہے۔
منصوبہ بندی کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے آپ اپنے وقت، وسائل اور توانائی کا تفصیلی جائزہ لے سکتے ہیں۔ آپ کو ہر قدم پر جن چیزوں کی ضرورت پڑسکتی ہے، ان کا تعین کرسکتے ہیں اور کام شروع کرنے سے پہلے ان کی موجودگی کو یقینی بناکر اپنا ہدف بآسانی حاصل کرسکتے ہیں۔
انسانوں کی اکثریت اپنے خطہ آرام (Comfort Zone) میں رہنا پسند کرتی ہے اور تبدیلی کو جلدی قبول نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی نیاکام پیش آرہا ہو تو اکثر لوگ بے چینی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ معلوم نہیں یہ کام اچھے طریقے سے مکمل ہوگا یا نہیں۔ایسے میں اگر وہ کچھ وقت نکال کر منصوبہ بندی کرلیں اور اپنے لیے لائحہ عمل بنالیں تو ان کا خوف دور ہوگا، وہ ذہنی تناؤ سے بچ سکیں گے اور پُراعتماد ہوکر اپناکام شروع کرسکیں گے۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ منصوبہ بندی ہماری تنقیدی اور تخلیقی صلاحیت کو پروان چڑھاتی ہے؟
جب کسی کام کے لیے Roadmap بنایا جاتا ہے تو اس میں پیش آنے والی ممکنہ مشکلات کو بھی زیر غور لایا جاتا ہے اور ان کا سدباب کیا جاتا ہے۔ یہ عمل ہماری تخلیقی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے جس سے ہم بہتر انداز میں مسائل حل کرسکتے ہیں۔ منصوبہ بندی ہمیں اعتماد کی دولت سے بھی نوازتی ہے۔ ہمارا اپنی صلاحیتوں پر یقین بڑھ جاتا ہے اور ہم بغیر کسی خوف کے مشکل سے مشکل کام کو بھی سرانجام دے دیتے ہیں۔
وقت سے پہلے تیاری کو Proactive Approach (پہل قدمی) کہا جاتا ہے۔ ایسا شخص کم وقت میں زیادہ نتائج حاصل کرلیتا ہے اور اس کے پاس ایسے بہت سے مواقع ہوتے ہیں جن کی بدولت وہ ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی میں ترقی کرسکتا ہے۔
ہمارے ہاں Proactive Approach پر عمل نہیں کیا جاتا اور اکثر لوگ کہتے ہیں کہ جب کام سرپہ پڑے گا تو دیکھا جائے گا۔ اس رویے کے بہت سے نقصانات ہیں۔ ایسا شخص جلدی بوکھلا جاتا ہے۔وہ کام کو بغیر لائحہ عمل کے پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اکثر ناکام ہوتا ہے۔ ایسا شخص ہر عمل پر ردعمل دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ تناؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسا فرد جلد باز ہوتا ہے۔وہ مستقل کام یابی کے بجائے عارضی حل چاہتا ہے اور کام سے جان چھڑاتا ہے۔ ایسا بندہ آپ کو اہم کاموں میں بھی مختلف طرح کے جگاڑ لگاتا نظر آئے گا۔
ایسے لوگوں میں برداشت کی کمی ہوتی ہے۔ یہ حالات پر قابو نہیں پاسکتے۔ معمولی واقعات پر بھی شدید ردعمل دیتے ہیں۔ یہ لوگ خود پر قابو پانے کے بجائے بیرونی عوامل پر زیادہ نظر رکھتے ہیں اور ہرواقعے پر ردعمل دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی توانائی ضائع ہوجاتی ہے۔ ان لوگوں کو اگر کوئی بات بری لگے تو وہ شدید ردعمل دیتے ہیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی کوشش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں لڑائی جنم لیتی ہے۔
منصوبہ بندی کرنے والے فرد کے پاس بہت سے مواقع ہوتے ہیں لیکن جو منصوبہ بندی کے بغیر کام کرتا ہے وہ اس کام میں موجود مواقع نہیں دیکھ سکتا، یوں وہ بہت سی مفید چیزوں سے محروم ہوجاتا ہے۔
عقل مند انسان React کے بجائے Respond کرتا ہے۔ اگر اس کے ساتھ کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آجائے تو وہ جذبات میں آکر قدم نہیں اٹھاتا بلکہ تحمل سے کام لیتا ہے۔ وہ اس واقعہ کے مثبت پہلوؤں پر غورکرتا ہے اور اگر اس میں کوئی فرد ملوث ہو تو وہ اس کی ذہنی کیفیت اورمجبوری کوسمجھنے کی کوشش کرتاہے اور اسے بتاتاہے کہ تمھارایہ عمل درست نہیں تھا۔
یادرکھیں کہ عمل اور ردعمل کے درمیان ایسا باریک نقطہ ہے جس میں بے شمار Options (اختیارات) ہوتے ہیں اور سمجھ دار انسان انھی کو پیش نظر رکھتا ہے۔ یہ خصوصیت صرف انسان کو حاصل ہے اوریہی چیز اسے تمام مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے کیوں کہ باقی مخلوقات کے پاس Options نہیں ہیں، وہ اپنی جبلت کی پابند ہیں اور اسی کے مطابق ردعمل دیتی ہیں۔یہاں تک کہ جنگل کا بادشاہ (شیر) بھی ایک ہی ردعمل دیتا ہے۔ آپ اس کے سامنے ہنسیں یا روئیں، خطرہ بھانپ کر وہ آپ پر حملہ آور ہوگا۔
قدیم یونان میں ایک کہانی سنائی جاتی تھی کہ ایک شخص کے مرنے کا وقت قریب آیا تو اس کے سامنے تین آدمی آئے جو انتہائی غصے میں تھے اور مرنے والے شخص کو گھورتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ تو ہمارا مجرم ہے۔ اس نے پوچھا تم کون ہو اور میں نے کیا جرم کیا ہے؟ ان میں سے ایک بولا: ”میں وقت ہوں جسے تم نے بے دردی سے ضائع کیا۔“ دوسرا بولا:”میں توانائی ہوں جسے تم نے بے مقصد کاموں میں خرچ کیا۔“تیسر ابولا:”میں وہ وسائل ہوں جو تمھیں ملے لیکن افسوس کہ تم نے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ اب ہم تم سے اپنا حساب مانگنے آئے ہیں۔“
انسان کی زندگی تین چیزوں سے مرکب ہے۔ وقت، توانائی اور وسائل۔ اگر کسی شخص کے پاس ان میں سے ایک چیز بھی نہ ہو تو اس کی زندگی ادھوری ہے۔ ان نعمتوں سے بھرپور انداز میں مستفید ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ہم Proactive Approach اپنالیں اور زندگی کو منظم کرلیں۔لائحہ عمل کے بغیر زندگی گزارنے کا بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ تین نعمتیں (وقت، توانائی اور وسائل) ضائع ہوجاتی ہیں اور ہمارے پاس افسوس کرنے کے سوا کچھ نہیں بچتا۔
میں نے زندگی کے موضوع پر بے شمار کتابیں پڑھی ہیں اور ایسے لوگوں سے بھی ملا ہوں جن کی عمر 80 سے زائد تھی۔ ان تمام تجربات کے بعد میں یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مرنے والے شخص کا سب سے بڑا پچھتاوا یہ ہوتا ہے کہ میں نے اپنے وقت، توانائی اور وسائل کو درست انداز میں استعمال نہیں کیا۔ زندگی کا سورج جب ڈھلنے لگے تو اس وقت انسان تمنا کرتا ہے کہ کاش! مجھے دوبارہ وقت ملے، کاش! مجھے جوانی جیسی توانائی دوبارہ ملے لیکن ایسا نہیں ہوسکتا۔ نہ گزرا وقت واپس آسکتا ہے، نہ ہی توانائی اور وسائل دوبارہ مل سکتے ہیں۔ ان نعمتوں کی قدر کیجیے اور Proactive Approach اپنا کر خود کو پراعتماد اور کامیاب بنائیے کیوں کہ یہ ایسی شان دار عادت ہے جس پر دنیا کی کام یاب ترین شخصیات عمل پیرا تھیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Sukkur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

Police Line Awan Chowk New Pind Sukkur
Sukkur
65200