05/02/2026
چین نے جدید عسکری ٹیکنالوجی میں ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے مچھر کے برابر جسامت کا خفیہ جاسوس ڈرون متعارف کرا دیا ہے۔
یہ بایونک مائیکرو ڈرون نیشنل یونیورسٹی آف ڈیفنس ٹیکنالوجی میں تیار کیا گیا ہے، جسے خفیہ فوجی آپریشنز کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
صرف دو سینٹی میٹر لمبائی اور محض 0.3 گرام وزن رکھنے والا یہ ڈرون حیرت انگیز صلاحیتوں کا حامل ہے۔
اس کے پر ایک سیکنڈ میں 500 مرتبہ حرکت کرتے ہیں، جو اسے حقیقی کیڑے کی مانند پرواز کی صلاحیت دیتے ہیں۔
ڈرون جدید سینسرز سے لیس ہے جو خفیہ نگرانی اور معلومات اکٹھی کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
اس کا چار پروں والا ایک ورژن اسمارٹ فون کے ذریعے بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
انتہائی ننھی جسامت کے باعث یہ ڈرون روایتی ریڈار سسٹمز کی نظروں سے تقریباً اوجھل رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسے مائیکرو ڈرونز جدید جنگی حکمتِ عملی میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسی نوعیت کے آلات میں ناروے کا پام سائز “بلیک ہارنیٹ” ڈرون بھی شامل ہے جو امریکہ سمیت کئی ممالک کی افواج استعمال کر رہی ہیں۔
یہ پیش رفت مستقبل کی جنگوں میں خفیہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی واضح علامت قرار دی جا رہی ہے۔
Karakorum Institute Of Technology