07/10/2025
از طرف: ناظر ہ فاچو
GPS چھو مک میرے لیے صرف ایک اسکول نہیں بلکہ ایک چھوٹا سا بچہ تھا — جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے پالا، پیر وں پر کھڑا کیا، اور چلنا سکھایا۔
جب میں نے 1 اکتوبر 2020 کو یہ ذمہ داری سنبھالی تو اسکول میں صرف 35 طلبہ، ایک کلاس روم اور ایک اسٹاف روم تھا۔
اور آج، اکتوبر 2025 تک، الحمدللہ یہی اسکول 8 سیکشنز، بہترین انرولمنٹ اور دو کیمپسز پر مشتمل ایک مثالی تعلیمی ادارہ بن چکا ہے۔
میری محنت اور ٹیم ورک کے نتیجے میں، 2022 اور 2023 میں مجھے ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کی جانب سے بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔
سال 2023 میں محکمہ تعلیم گلگت بلتستان کی ٹیم نے اسکول کا باقاعدہ معائنہ کیا، تمام ریکارڈ، ڈاکیومنٹس اور تعلیمی معیار کا جائزہ لیا، اور GPS Chumik کو “School of the Year” کا اعزاز دیا۔
اسی سال محترم ڈپٹی ڈائریکٹر جناب اشتیاق احمد کی جانب سے مجھے Outstanding Performance Award دیا گیا۔
محترم ڈپٹی ڈائریکٹر جناب لطیف بیگ صاحب جب بھی اسکول تشریف لائے، ہمیشہ بے حد سراہا اور تعریف فرمائی۔
حال ہی میں محترم ڈائریکٹر جناب عبدالوھاب صاحب نے اپنی ٹیم کے ساتھ اچانک وزٹ کیا۔ DG’s 32 Points Implementation، اسکول مینجمنٹ اور ہیڈمسٹریس کی کارکردگی سے خوش ہو کر Appreciation Certificate دینے کا اعلان کیا۔
چند دن بعد ڈائریکٹر جنرل آف اسکولز اور ان کی ٹیم نے بھی وزٹ کیا اور دوبارہ میری کارکردگی سے خوش ہو کر Appreciation Award دیا۔
یہ وہ اسکول تھا جہاں کبھی کوئی جانا نہیں چاہتا تھا، جس کا کوئی نام و نشان نہیں تھا —
اور آج، الحمدللہ وہی GPS Chumik ایک ایسا ادارہ بن چکا ہے جو بین الاقوامی سطح پر پہچانا جا رہا ہے۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسی اسکول کی ہیڈمسٹریس کو، جس نے دن رات ایک کر کے اسکول کو اس مقام تک پہنچایا، اس کی محنت کا صلہ یہ دیا گیا کہ اسے ایک ایسے علاقے میں بھیج دیا گیا جہاں نہ کوئی تعلق ہے، نہ کوئی پہچان۔
میں نہ تو کھرمنک سے تعلق رکھتی ہوں، نہ وہاں میری کوئی وابستگی ہے، پھر بھی میری LPC کھر منک میں ایڈجسٹ کر دی گئی۔
یہ فیصلہ میرے لیے نہایت حران کن ہے ۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مجھے اس سکول کو چھوڑ کر کہیں اور جانے پر اعتراض ہے۔میرایہ ریکارڈ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ پرائیویٹ ہو یا سرکاری،جہاں بھی کام کیا دل و جان سے کیا۔لیکن اس بار ایک ایسے علاقے میں جہاں جانے کے لئے کبھی ملازمت کا سوچا بھی نہیں وہاں بھیجنے کا کیا جواز ہے۔کیا ایک ملازم کا یہ حق نہیں کہ اسے معلوم ہو کہ دوران ملازمت کہا ں کہاں بھیجا جائے گا۔