04/01/2021
Educational House
The main purpose of my page is to provide a right knowledge. including a short motivational story and so other thing.
04/01/2021
*لڑکیوں پرپابندیاں لگانے کی کیا وجہ ہے*
ایک بار ایک لڑکی نے مولاناصاحب سے کہاکہ ایک بات پوچھوں؟؟😐😐
مولانا صاحب نےفرمایا؛ بولو بیٹی کیا بات ھے؟؟😊😊
لڑکی نے کہا ہمارے سماج میں لڑکوں کو ہر طرح کی آزادی ہوتی ہے !! وہ کچھ بھی کریں؛ کہیں بھی جائیں، اس پر کوئی خاص روک ٹوک نہیں ہوتی!👍👍
اس کے بر عکس لڑکیوں کو بات بات پر روکا جاتا ہے۔ یہ مت کرو! یہاں مت جاو! گھر جلدی آجاؤ !!..٠٠😐😐
یہ سن کر مولانا صاحب مسکرائے اور فرمایا !!..
بیٹی آپ نے کبھی لوہے کی دکان کے باہر لوہے کے گودام میں لوہے کی چیزیں پڑیں دیکھیں ہیں ؟ یہ گودام میں سردی ٠گرمی ٠ برسات ٠رات٠ دن٠ اسی طرح پڑی رہتی ہیں ٠٠ اس کے باوجود ان کا کچھ نہیں بگڑتا اور ان کی قیمت پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا٠٠😇😇
لڑکوں کی کچھ اس طرح کی حیثیت ہے سماج میں!👍👍
اب آپ چلو ایک سنار کی دکان میں۔ ایک بڑی تجوری اس میں ایک چھوٹی تجوری اس میں رکھی چھوٹی سُندر سی ڈبی میں ریشم پر نزاکت سے رکھا چمکتا ہیرا٠۔۔☺☺
کیو نکہ جوہری جانتا ہے کی اگر ہیرے میں ذرا بھی خراش آ گئی تو اس کی کوئی قیمت نہیں رہے گی۔۔😑😑
اسلام میں بیٹیوں کی اہمیت بھی کچھ اسی طرح کی ھے🌹🌹🌹
۔ پورے گھر کو روشن کرتی جھلملاتے ہیرے کی طرح ذرا سی خراش سے اس کے اور اس کے گھر والوں کے پاس کچھ نہیں بچتا 😓😓
بس یہی فرق ہے لڑکیوں اور لڑکوں میں ٠😊
پوری مجلس میں خاموشی چھا گئ اس بیٹی کے ساتھ پوری مجلس کی آنکھوں میں چھائی نمی صاف صاف بتا رہی تھی لوہے اور ہیرے میں فرق ٠٠ 😇😇😇
*آپ سے التجا ہے کہ یہ پیغام*
*اپنی بیٹیوں بہنوں کو ضرور*
*سنائیں، دکھائیں اور پڑھائیں*👍
👍👍 دوستوں چلتے، چلتے ہمیشہ کی طرح وہ ہی ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو ....!
*جزاک اللہ خیرا کثیرا*
ایک دن ایک چرسی نے مجھ سے چرس کے لیے پیسے مانگے۔
میں نے کہا میں تجھے کھانا کھلاتا ہوں مگر چرس کے پیسے نہیں دوں گا۔اس نے کہا کھانا کھلانے والا کوئی اور ہے.
تم بس چرس کے لیے کچھ دو۔
نہ چاہتے ہوئے بھی میں نے اس کو چند روپے دے دیے۔ جب وہ چلا گیا تو میں اسے دیکھنے لگا کہ یہ کہا جاتا ہے اور کیا کرتا ہے۔
قریب میں کہیں شادی کا پروگرام تھا۔
لوگ کھانے کے برتن ادھر سے ادھر لے کے جارہے تھے۔ ایسے میں ایک آدمی کے ہاتھ سے ایک برتن چھوٹ کے گر گیا.اس نے اپنا برتن اٹھایا اور چل دیا۔
وہ چرسی اسی چاول کے سامنے بیٹھ گیا اور کھانے لگ گیا۔
جب اس کی نظر مجھ پہ پڑی تو اس نے ایک جملہ کہا جو آج بھی مجھے یاد ہے۔
اس نے کہا:
"اس کے ساتھ تعلقات آج کل کچھ خراب ہیں ورنہ برتن میں ھی دیتا ھے💔
کریم اتنا ہے کہ ناراض بھی ھو تو بھوکا نہیں دیکھ سکتا۔"
Allah 🥰🥰🥰🥰
ایک انگریز نے مسلمان عالم دین سے پوچھا کہ تمہارے اسلام میں اتنی شدت کیوں ہے کہ ایک عورت اجنبی مرد سے مصافحہ تک نہیں کرسکتی ہے؟
عالم دین نے بہت تحمل سے خوبصورت جواب دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا تمہارے ہاں ہر شخص ملکہ برطانیہ سے ہاتھ ملا سکتا ہے؟ مصافحہ کرسکتا ہے؟
انگریز نے جواب دیا ہرگز نہیں ملکہ برطانیہ کے پروٹوکول میں قانون صرف سات قسم کے افراد کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ ملکہ سے ہاتھ ملا سکتے ہیں.
عالم دین نے جواب دیا بعینہ ہماری شریعت میں 12 اصناف ہیں جنہیں شریعت ہاتھ ملانے کی اجازت دیتی ہے۔
باپ
دادا
شوہر
بیٹا
بھائی
چچا
ماموں
بھتیجا
بھانجا
پوتا
نواسہ
عالم دین نے فرمایا تمہارے نزدیک ملکہ کا یہ مقام اور احترام ہے کہ ہر کوئی ان سے ہاتھ نہیں ملا سکتا ہے اور تم نے یہ عزت صرف ملکہ کے لئے خاص کیا جب کہ ہمارے نزدیک تو ہر عورت ملکہ ہے۔۔
عربی سے ترجمہ
بقلم فردوس جمال!!!
ایک بجلی کے کھمبے پر ایک کاغذ چپکا دیکھ کر میں قریب چلا گیا اور اس پر لکھی تحریر پڑھنے لگا ،
لکھا تھا.........!
برائے کرم ضرور پڑہیں
اس راستے پر کل میرا 50 روپیہ کا نوٹ کھو گیا ہے ، مجھے ٹھیک سے دکھائی نہیں دیتا جسے بھی ملے برائے کرم پہنچا دے نوازش ہوگی................ !!!
ایڈریس:- ۔۔۔۔******۔۔۔۔*****۔۔۔
۔۔۔۔****۔۔۔۔****۔۔۔۔****۔۔۔۔****
یہ پڑھنے کے بعد مجھے بہت حیرت ہوئی کہ پچاس کا نوٹ کسی کے لیے اتنا ضروری ہے تو اس پتہ پر جانے کا ارادہ کیا اور اس گلی میں اس مکان کے دروازے پر آواز لگائی،
ایک ضعیفہ لاٹھی ٹیکتی ہوئی باہر آئی ، پوچھنے پر معلوم ہوا بڑی بی اکیلے رھتی ھیں اور کم دکھائی دیتا ہے ،
میں نے کہا " ماں جی آپ کا پچاس کا نوٹ مجھے ملا ہے..........!
اسے دینے آیا ہوں
یہ سن کر بڑھیا رونے لگی !
بیٹا ......... !
ابھی تک قریب قریب 50 لوگ مجھے پچاس کا نوٹ دے گئے ہیں!
میں ان پڑھ ہوں ٹھیک سے دکھائی بھی نہیں دیتا ، پتا نہیں کون میری اس حالت کو دیکھ کر میری مدد کرنے کے لئے لکھ کر چلا گیا.......!! !
بہت اصرار کرنے پر مائی نے پیسے تو رکھ لئے لیکن ایک درخواست کی کہ بیٹا وہ میں نے نہیں لکھا کسی نے میری مدد کی خاطر لکھ دیا ھے جاتے ہوئے اسے پھاڑ کر پھنک دینا بیٹا !!
میں نے ہاں کہہ کر ٹال تو دیا؛ ؛؛
لیکن میرے ضمیر نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ان سبھی لوگوں سے بڑھیا نے وہ کاغذ پھاڑنے کے لئے کہا ہوگا مگر کسی نے نہیں پھاڑا ۔
زندگی میں ہم کتنے صحیح ہیں کتنے غلط یہ صرف دو ہی جانتے ہیں
ایک " الله تعالیٰ "
دوسرا ہمارا " ضمیر " ،
میرا دل اس شخص کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ وہ شخص کتنا مخلص ہوگا جس نے بڑھیا کی مدد کا یہ طریقہ تلاش کیا ، ضرورت مندوں کی امداد کے کئی طریقے ہیں میں نے اس شخص کو دل سے دعائیں دیں کہ کسی کی مدد کرنے کے کتنے طریقے ہیں صرف مدد کرنے کی نیت ہونی چاہیئے راستہ اور رہنمائی اللہ سبحانہ کی طرف سے ہوجاتی ہے !!!
سبق آموز اور دلچسپ تحریر
*نصوح، کون تھا؟؟؟؟؟*
*(توبه نصوح)*
بنی اسرائیل کے ایک عابد کی کہانی.
نصوح ایک عورت نما آدمی تھا، باریک آواز، بغیر داڑھی اور نازک اندام مرد.
وہ اپنے ظاہری شکل وصورت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زنانہ حمام میں عورتوں کا مساج کرتا اور میل اتارتا تھا، کوئی بھی اسکی حقیقت نہیں جانتا سبھی اس کو عورت سمجھتی تھی۔
یہ طریقہ اسکے لئے ذریعہ معاش بھی تھا اور عورتوں کے جسم سے لذت بھی لیتا رہا
کئی بار وجدان کے ملامت کرنے پر اس نے اس کام سے توبہ بھی کردیا لیکن ہمیشہ توبہ تھوڑتا رہا.
ایک دن بادشاہ کی بیٹی حمام گئی حمام اور مساج کرنے کے بعد پتہ چلا کہ اسکا گرانبھا گوھر (موتی یا ہیرا) کھوگیا ہے
بادشاہ کی بیٹی نے حکم دیا کہ سب کی تلاشی لی جائے۔
سب کی تلاشی لی گئی ہیرا نہیں ملا
نصوح رسوائی کے ڈر کی وجہ سے ایک جگہ چپ گیا
جب اس نے دیکھا کہ شہزادی کے کنیزیں اس سے ڈھونڈ رہی ہیں
سچے دل سے خدا کو پکارا اور خدا کی درگاہ میں دل سے توبہ کیا اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی بھی یہ کام نہیں کرے گا میری لاج رکھ۔
اچانک باہر سے آواز آئی کہ نصوح کو چھوڑ دو ہیرا مل گیا،
نصوح نم آنکھوں سے شہزادی سے رخصتی لے کر گھر آگیا
نصوح نے قدرت کا کرشمہ دیکھ لیا تھا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کام سے توبہ کردیا۔
کئی دنوں سے حمام نہ جانے پر ایک دن شہزادی نے بلاوا بھیجا کہ حمام آکر میرا مساج کرے لیکن نصوح نے بہانہ بنایا کہ میرے ہاتھ میں درد ہے میں مساج نہیں کرسکتا ہوں
اس کے بعد کبھی حمام نہیں گیا۔
نصوح نے دیکھا کہ اس شہر میں رہنا اس کے لئے مناسب نہیں ہے سبھی عورتیں اس کو چاہتی ہے اور اس کے ہاتھ سے مساج لینا پسند کرتی ہے۔
جتنا بھی غلط طریقے سے مال کمایا تھا سب غریبوں میں بانٹ دیا اور شہر سے نکل کر کئی میل دور ایک
پہاڑی پر ڈیرہ ڈال کر عبادت خدا میں مشغول ہوگیا۔
ایک دن اس نظر ایک بھینس پر پڑی جو اس کے قریب گھاس میں
چر رہی تھی
اس نے سوچا کہ یہ کسی چرواہے سے بھاگ کر یہاں آگئی ہے تب تک میں اس کی دیکھ بھال کر لیتا ہوں جب تک اس کا مالک نہ آئے،
لہذا اس کی دیکھ بھال کرنے لگا کچھ دن بعد بھینسے نے بچہ دیا اور نصوح اس کا دودھ استعمال کرنے لگا۔
کچھ دن بعد ایک تجارتی قافلہ راستہ بھول کر ادھر آگئے جو سارے پیاس کی شدت سے نڈھال تھے
انہوں نے نصوح سے پانی مانگا
نصوح نے سب کو دودھ پلایا اور سب کو سیراب کردیا،
قافلے والوں نے نصوح سے شہر جانے کا راستہ پوچھا
نصوح نے انکو آسان اور نزدیکی راستہ دیکھایا
جانے سے پہلے تاجروں نے نصوح کو بہت سارا مال دیا۔
نصوح نے ان پیسوں سے وہاں کنواں کھودوایا آہستہ آہستہ وہاں لوگ بسنے لگے اور عمارتیں بننے لگے
وہاں کے لوگ نصوح کو بڑی عزت اور احترام سے دیکھتے تھے۔
رفته رفته نصوح کا آوازه پادشاه تک پہنچا وہی بادشاہ جو اس شہزادی کے باپ تھے،
بادشاہ کی دل میں نصوح سے ملنے کی بڑی اشتیاق پیدا ہوگئی
انہوں نے نصوح کو پیغام بھیجا کہ بادشاہ اس سے ملنا چاہتے ہیں مہربانی کرکے دربار تشریف لے آئے۔
جب نصوح کو بادشاہ کا پیغام ملا انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا اور معذرت چاہی کہ مجھے بہت سارے کام ہیں میں نہیں آسکتا،
بادشاہ کو بہت تعجب ہوا انہوں نے کہا کہ اگر نصوح نہیں آسکتے ہم خود اس کے پاس جائیں گے۔
جب بادشاہ نصوح کے علاقے میں داخل ہوئے خدا کی طرف سے ملک الموت کو حکم ہوا کہ بادشاہ کی روح قبض کرلے۔
اس زمانے کی رسم و رواج کے مطابق اور بادشاہ کو نصوح سے ملنے کی وجہ سے، لوگوں نے نصوح کو تخت پر بیٹھایا۔
نصوح نے اپنے ملک میں عدل اور انصاف کا نظام قائم کیا اور اسی شہزادی سے شادی کرلی۔
ایک دن نصوح تخت پر بیٹھ کر لوگوں کی داد ستانی کررہے تھے
ایک شخص وارد ہوا اور کہنے لگے کہ کچھ سال پہلے میری بھینس گم ہوگئی تھی
آپ کی عدالت سے اپنی بھینس کا طلب گار ہوں
نصوح نے کہا کہ تمہاری بھینس میرے پاس ہے
آج جو کچھ میرے پاس ہے وہ تمہارے بھینس کی وجہ سے ہے
نصوح نے حکم دیا کہ اس کے سارے مال اور دولت کا آدھا حصہ بھینس کے مالک کو دیا جائے۔
وہ شخص خدا کے حکم سے کہنے لگا:
ائے نصوح جان لو، نہ میں انسان ہوں اور نہ ہی وہ جانور بھینس ہے
بلکہ ہم دو فرشتے ہیں تمہیں امتحان کرنے کے لئے آئے تھے
یہ سارا مال اور دولت تمہارے سچے دل سے توبہ کرنے کا نتیجہ ہے
یہ سب کچھ تمہیں مبارک ہو،
وہ دونوں فرشتے نظروں سے غائب ہوگئے۔
اسی وجہ سے سچے دل سے توبہ کرنے کو (توبه نصوح) کہتے ہیں.
کتاب: مثنوی معنوی، دفتر پنجم
:انوار المجالس صفحہ 432۔
Click here to claim your Sponsored Listing.