Aisha Khan عائشه خان

Aisha Khan عائشه خان Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Aisha Khan عائشه خان, Education, Sindhar.

20/08/2020
Listen this beutiful Bayan & share with your friends
22/06/2019

Listen this beutiful Bayan & share with your friends

سوال ___غیبت کی تعریف کیا هے ، غیبت کسے کهتے هے ؟ آخر غیبت کس طرح زنا سے بهی زیاده بدتر هوتی هے ؟-----------------------...
22/10/2017

سوال ___غیبت کی تعریف کیا هے ، غیبت کسے کهتے هے ؟ آخر غیبت کس طرح زنا سے بهی زیاده بدتر هوتی هے ؟
---------------------------
جواب___غیبت کی تعریف یه هے که کسی شخص کی عدم موجودگی میں اس کے متعلق کوئی ایسی بات کرنا که وه بات واقع میں اس میں موجود هو اگر وه سنے تو وه اس سے ناراض هوجائے اور اس بات کو ناپسند کرے.

اگر اس میں وه برائی اور عیب موجود هی نهیں اور کوئی بیان کرے کسی سے تو پهر اس کو غیبت نهیں بلکه بهتان کهتے هیں یه تو اس سے بهی بڑا گناه هے.

دوسری بات کا جواب.....حضرت ابی سعید و جابر رضی الله تعالی عنه سے روایت هے که نبی علیه السلام نے فرمایا * الغیبته اشد من الزنا....غیبت کرنا زنا کرنے سے زیاده سخت هے *
* یه حدیث مشکوته میں هے ص415 *

علماء کرام نے لکها هے مثلا ایک یه که زنا میں آدمی یه سمجهتا هے که میں نے گناه کیا هے اس پر وه نادم هوتا هے اور توبه و استغفار بهی کرتا هے مگر غیبت کرنے والا غیبت کو معمولی گناه سمجه کر چهوڑ دیتا هے توبه کی طرف اس کا دهیان نهیں جاتا .

دوسرا مطلب بعض علماء یه فرماتے هیں که غیبت کرنے والا اس کو گناه هی شمار نهیں کرتا اس لئے یه وعید فرمائی گئی.

تیسرا مطلب یه هے که غیبت کرنے والے کی توبه قبول نهیں هوتی کیونکه یه حقوق العباد هے جس کی غیبت کی هے جب تک وه معاف نه کرے الله تعالی اس کو معاف نهیں فرماتے هیں.

* کتاب مظاهرحق ج4 ص487 *
-------------------------------------------------------
** غیبت کرنے سے بدبو **

جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک مردار کی بدبو اٹھنے لگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو یہ کیسی بدبو ہے ؟ یہ اُن لوگوں کی بدبو ہے جو مومنین کی غیبت .کرتے ہیں

( فتح الباري لابن حجر: 10/485 ،
مجمع الزوائد: 8/94
________________________________________
* ظاهرجان احسن....طالب دعا *

همارے پیج کو لائک کریں.

مالی فراوانی اور عزت وسربلندی کے اسباب :____________________________________عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -...
11/08/2017

مالی فراوانی اور عزت وسربلندی کے اسباب :
____________________________________
عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلاَّ عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلاَّ رَفَعَهُ اللَّهُ ».
(صحيح مسلم :6757 باب اسْتِحْبَابِ الْعَفْوِ وَالتَّوَاضُعِ)

02/07/2017
( زکوتہ ادا کرنے کا آسان و مددگار فارم )یہ قیمتی فارم خود بھی شئیر کریں اور اپنے دوستوں تک بھی پہنچائے تاکہ آپ بھی اس خی...
21/05/2017

( زکوتہ ادا کرنے کا آسان و مددگار فارم )
یہ قیمتی فارم خود بھی شئیر کریں اور اپنے دوستوں تک بھی پہنچائے تاکہ آپ بھی اس خیر کے کام میں شامل ہوسکے

-------------------------
ظاہرجان احسن..... طالب دعا

13/05/2017

رمضان آنے سے پہلے 4 چار بڑے خطرناک کام ہیں ان سے توبہ کرلو.
ورنہ بخشش نہیں ہوگی.

اپنے دوستوں سے بھی شئیر کرلیں.
------------------------
ظاہرجان احسن.... طالب دعا

شب براءت؛ فضائل، مسائل، بدعات🌴===========================🍀ماہ شعبان کی پندرھویں رات بہت فضیلت والی رات ہے۔احادیث مبارکہ ...
11/05/2017

شب براءت؛ فضائل، مسائل، بدعات🌴
===========================
🍀ماہ شعبان کی پندرھویں رات بہت فضیلت والی رات ہے۔احادیث مبارکہ میں اس کے بہت سے فضائل وارد ہوئے ہیں اور اسلاف امت بھی اس کی فضیلت کے قائل چلے آ رہے ہیں۔ اس رات کو ”شب براءت“ کہتے ہیں، اس لیے کہ اس رات لا تعداد انسان رحمت باری تعالیٰ سے جہنم سےنجات حاصل کرتے ہیں۔

⭕شب براءت کے متعلق لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔بعض تو وہ ہیں جو سرے سے اس کی فضیلت کے قائل ہی نہیں بلکہ اس کی فضیلت میں جو احادیث مروی ہیں انھیں موضوع و من گھڑت قرار دیتے ہیں۔جبکہ بعض فضیلت کے قائل تو ہیں لیکن اس فضیلت کے حصول میں بے شماربدعات، رسومات اور خود ساختہ امور کے مرتکب ہیں، عبادت کے نام پر ایسے منکرات سر انجام دیتے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔

✅اس بارے میں معتدل نظریہ یہ ہے کہ شعبان کی اس رات کی فضیلت ثابت ہے لیکن اس کا درجہ فرض و واجب کا نہیں بلکہ محض استحباب کا ہے، سرے سےاس کی فضیلت کا انکار کرنا بھی صحیح نہیں اور اس میں کیے جانے والے اعمال و عبادات کو فرائض و واجبات کا درجہ دینا بھی درست نہیں۔

🔷فضیلت شب براءت احادیث مبارکہ سے:

شبِ براءت کی فضیلت میں بہت سی احادیث مروی ہیں،اگرچہ ان میں سے بعض سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں، لیکن متعدد طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے ان کا ضعف کم ہوجاتا ہے اور یہ فضائل میں قابل عمل ضعیف احادیث میں شامل ہے ۔
(تفصیل کے لیے دیکھیے میری کتاب”فضائل اعمال اور اعتراضات کا علمی جائزہ“ ص:12،13)

مزید امت کا تعامل اور اسلاف کا اس رات کےقیام پر عمل پیرا چلے آنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ روایات مقبول ہیں اور لیلۃ البراءت کی اصل ضرور ہے۔ چند ایک روایات نقل کی جاتی ہیں۔

🌷حدیث نمبر 1:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہےکہ[ ایک رات] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
أَتَدْرِينَ أَيَّ لَيْلَةٍ هَذِهِ ؟ "، قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " هَذِهِ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَطْلُعُ عَلَى عِبَادِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِلْمُسْتَغْفِرِينَ، وَيَرْحَمُ الْمُسْتَرْحِمِينَ، وَيُؤَخِّرُ أَهْلَ الْحِقْدِ كَمَا هُمْ ۔
قال الامام البیہقی: هَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ
(شعب الایمان للبیہقی: رقم الحدیث 3554، جامع الاحادیث للسیوطی: رقم 7265،کنز العمال: رقم الحدیث 7450)

ترجمہ(اے عائشہ!) کیا تمھیں معلوم ہے کہ یہ کون سی رات ہے؟میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے۔ اس رات اللہ رب العزت اپنے بندوں پر نظر رحمت فرماتے ہیں؛ بخشش چاہنے والوں کو بخش دیتے ہیں، رحم چاہنے والوں پر رحم فرماتے ہیں اور بغض رکھنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔

🌷حدیث نمبر 2:

عَنِ أَبِي بَكْرٍالصِّدِّیْقِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَنْزِلُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِكُلِّ شَيْءٍ إِلَّا رَجُلٍ مُشْرِكٍ أَوْ فِي قَلْبِهِ شَحْنَاءُ
(شعب الایمان للبیہقی: رقم الحدیث3546، مجمع الزوائد للہیثمی: رقم 12957)
قال الہیثمی: رواه البزار وفيه عبد الملك بن عبد الملك ذكره ابن أبي حاتم في الجرح والتعديل ولم يضعفه وبقية رجاله ثقات (مجمع الزوائد للہیثمی:تحت الرقم 12957)
قال المنذری: اسنادہ لا باس بہ
(الترغیب و الترہیب: تحت الرقم 4190)

ترجمہ:حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں (کما یلیق بشانہ)اس رات ہر ایک کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے اس شخص کےجو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والا ہویا وہ شخص جس کے دل میں ( کسی مسلمان کے خلاف) کینہ بھرا ہو۔

🌷حدیث نمبر 3:

عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : هل تدرين ما هذه الليل ؟ يعني ليلة النصف من شعبان قالت : ما فيها يا رسول الله فقال : فيها أن يكتب كل مولود من بني آدم في هذه السنة وفيها أن يكتب كل هالك من بني آدم في هذه السنة وفيها ترفع أعمالهم وفيها تنزل أرزاقهم۔(مشکوۃ المصابیح: رقم الحدیث1305)

ترجمہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اے عائشہ!) کیا تمھیں معلوم ہے کہ اس رات یعنی شعبان کی پندرھویں رات میں کیا ہوتا ہے؟حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس میں کیا ہوتا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس سال جتنے انسان پیدا ہونے والے ہوتے ہیں وہ اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں اور جتنے لوگ اس سال میں مرنے والے ہوتے ہیں وہ بھی اس رات میں لکھ دیے جاتے ہیں۔اس رات بنی آدم کےا عمال اٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات میں لوگوں کی مقررہ روزی اترتی ہے۔
تنبیہ: اس حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ شبِ براءت کے بعد والے سال میں پیدا ہونے والے اور فوت ہونے والے انسانوں کے نام وغیرہ اس رات میں لکھے جاتے ہیں جبکہ یہ چیزیں تو لوحِ محفوظ میں لکھی جا چکی ہیں، پھر لکھنے کا کیا مطلب؟ جواب یہ ہے کہ اس رات میں لکھنے سے مراد یہ ہےکہ لوحِ محفوظ سے فہرستیں لکھ کران امور سے متعلقہ فرشتوں کے سپرد کی جاتی ہیں۔ و اللہ اعلم بالصواب

🌷حدیث نمبر 4:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ: هَذِهِ اللَّيْلَةُ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَلِلَّهِ فِيهَا عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ بِعَدَدِ شُعُورِ غَنَمِ كَلْبٍ، لَا يَنْظُرُ اللهُ فِيهَا إِلَى مُشْرِكٍ، وَلَا إِلَى مُشَاحِنٍ ، وَلَا إِلَى قَاطِعِ رَحِمٍ، وَلَا إِلَى مُسْبِلٍ ، وَلَا إِلَى عَاقٍّ لِوَ الِدَيْهِ، وَلَا إِلَى مُدْمِنِ خَمْرٍ
(شعب الایمان للبیہقی: رقم الحدیث3556، الترغیب و الترہیب للمنذری: رقم الحدیث 1547)
ترجمہ: حضرت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائےاور فرمایا:یہ شعبان کی پندرھویں رات ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابرلوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے لیکن اس رات مشرک،کینہ رکھنے والے، قطع رحمی کرنے والے، ازار ٹخنوں سے نیچے رکھنے والے، ماں باپ کے نافرمان اور شراب کے عادی کی طرف نظر(رحمت) نہیں فرماتے۔
مزید روایات کے لیے ”شبِ براءت کی فضیلت“ از مولانا نعیم الدین صاحب ملاحظہ فرمائیں۔ یہ کتاب انٹرنیٹ سے ڈائون لوڈ کی جاسکتی ہے۔

💐شب براءت اکابرین امت کی نظر میں:

🌱1: جلیل القدر تابعی حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مَا مِنْ لَيْلَةٍ بَعْدَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفْضَلُ مِنْ لَيْلَةِ النِّصْفِ من شَعْبَانَ
(لطائف المعارف: ابن رجب الحنبلی: ص151)
ترجمہ: لیلۃ القدر کے بعدشعبان کی پندرھویں رات سے زیادہ افضل کوئی رات نہیں۔

🌱2: علامہ ابن رجب الحنبلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لَيْلَةِ النِّصْفِ من شَعْبَانَ كَانَ التَّابِعُوْنَ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ كَخَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ وَمَكْحُوْلٍ وَ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ وَ غَيْرِهِمْ ،يُعَظِّمُوْنَهَا وَ يَجْتَهِدُوْنَ فِيْهَا فِي الْعِبَادَةِ وَ عَنْهُمْ أَخَذَالنَّاسُ فَضْلَهَا وَ تَعْظِيْمَهَا۔
(لطائف المعارف: ابن رجب الحنبلی: ص151)
ترجمہ:اہلِ شام کے تابعین حضرات مثلاً امام خالد بن معدان،امام مکحول، امام لقمان بن عامر وغیرہ شعبان کی پندرھویں رات کی تعظیم کرتے تھےاور اس رات خوب محنت سے عبادت فرماتے تھے۔انہی حضرات سے کوگوں نے شبِ براءت کی فضیلت کو لیا ہے۔

🌱3:امام محمد بن ادریس الشافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَبَلَغَنَا أَنَّهُ كان يُقَالُ إنَّ الدُّعَاءَ يُسْتَجَابُ في خَمْسِ لَيَالٍ في لَيْلَةِ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةِ الْأَضْحَى وَلَيْلَةِ الْفِطْرِ وَأَوَّلِ لَيْلَةٍ من رَجَبٍ وَلَيْلَةِ النِّصْفِ من شَعْبَانَ وأنا أَسْتَحِبُّ كُلَّ ما حُكِيَتْ في هذه اللَّيَالِيِ من غَيْرِ أَنْ يَكُونَ فَرْضًا
(کتاب الام للشافعی: ج1 ص231 العبادة لیلۃ العيدين، السنن الکبریٰ للبیہقی: ج3، ص319)
ترجمہ:ہمیں یہ بات پہنچی ہےکہا جاتا تھا کہ پانچ راتوں میں دعا[زیادہ] قبول ہوتی ہے۔۱: جمعہ کی رات، ۲:عید الاضحیٰ کی رات،۳: عید الفطر کی رات، ۴:رجب کی پہلی رات، ۵:نصف شعبان کی رات۔ میں نے ان راتوں کے متعلق جو بیان کیا ہے اسے مستحب سمجھتا ہوں فرض نہیں سمجھتا۔

🌱4:علامہ زین الدین بن ابراہیم الشہیربابن نجیم المصری الحنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَمِنْ الْمَنْدُوبَاتِ إحْيَاءُ لَيَالِي الْعَشْرِ من رَمَضَانَ وَلَيْلَتَيْ الْعِيدَيْنِ وَلَيَالِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ وَلَيْلَةِ النِّصْفِ من شَعْبَانَ كما وَرَدَتْ بِهِ الْأَحَادِيثُ وَذَكَرَهَا في التَّرْغِيبِ وَالتَّرْهِيبِ مُفَصَّلَةً
(البحر الرائق لابن نجیم: ج2، ص56)
ترجمہ:رمضان کی آخری دس راتوں میں، عیدین کی راتوں میں،ذوالحجہ کی دس راتوں میں، شعبان کی پندرھویں رات میں شب بیداری کرنا مستحبات میں سے ہے جیسا کہ احادیث میں آیا ہےاور علامہ منذری رحمہ اللہ نے انہیں ترغیب و الترہیب میں مفصلاً بیان کیا ہے۔

🌱5:خاتمۃ المحدثین حضرت علامہ مولانا محمد انور شاہ الکشمیری رحمہ ا للہ فرماتے ہیں:
اِنَّ هٰذِهِ اللَّيْلَةَ لَيْلَةُ الْبَرَاءَةِ وَصَحَّ الرِّوَايَاتُ فِي فَضّلِ لَيْلَةِ الْبَرَاءَةِ
(العرف الشذی: ج2 ص250 )
ترجمہ:یہ رات”لیلۃ البراءت“ ہے اور اس لیلۃ البراءت کی فضیلت کے بارے میں روایات صحیح ہیں۔

🌱6:حکیم الامت، مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”شبِ براءت کی اتنی اصل ہے کہ پندھویں رات اور پندرھواں دن اس مہینے کا بہت بزرگی اور برکت کا ہے ۔ “
(بہشتی زیور:حصہ ششم، ص58)

🌱7: شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم فرماتے ہیں:
”شب براءت کی فضیلت میں بہت سی روایات مروی ہیں، جن میں سے بیشتر علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے ”الدر المنثور“ میں جمع کر دی ہیں……ان روایات کے ضعف کے باوجود شبِ براءت میں اہتمامِ عبادت بدعت نہیں۔ اول تو اس لیے کہ روایات کا تعدد اور ان کا مجموعہ اس پر دال ہے کہ لیلۃ البراءت کی فضیلت بے اصل نہیں، دوسرے امت کا تعامل لیلۃ البراءت میں بیداری اور عبادت کا خاص اہتمام کرنے کا رہا ہے اور یہ بات کئی مرتبہ گزر چکی ہے کہ جو بھی ضعیف روایت مؤید بالتعامل ہے وہ مقبول ہوتی ہے۔ لہذا لیلۃ البراءت کی فضیلت ثابت ہے اور ہمارے زمانے کے بعض ظاہر پرست لوگوں نے احادیث کے محض اسنادی ضعف کو دیکھ کر لیلۃ البراءت کی فضیلت کو بے اثر قرار دینے کی جو کوشش کی ہے وہ درست نہیں“
(درسِ ترمذی: ج2 ص579)

🌗پندرہ شعبان کا روزہ:

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں:
عن علي بن أبي طالب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها . فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا . فيقول ألا من مستغفر لي فأغفر له ألا من مسترزق فأرزقه ألا مبتلى فأعافيه ألا كذا ألا كذا حتى يطلع الفجر
(سنن ابن ماجہ: رقم الحدیث 1388 ،شعب الایمان للبیہقی: ج3، ص378)

ترجمہ: جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شعبان کی پندرھویں رات آئے تو اس رات قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو کیونکہ اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے سے (لے کر صبح صادق تک) آسمانِ دنیا پر (کما یلیق بشانہ) نزول فرماتے ہیں، اور ارشاد فرماتے ہیں: ” ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا؟تو میں اس کو بخش دوں! ہے کوئی رزق کا طالب؟ میں اس کو رزق دوں! ہے کوئی مصیبت زدہ ؟میں اس کو مصیبت سے نجات دوں! ہے کوئی ایسا؟ ہو کوئی ایسا؟ اللہ رب العزت کی طرف سے یہ اعلان صبحِ صادق تک جاری رہتا ہے۔“
قلت: اسنادہ ضعیف و الضعیف یعمل بہ فی فضائل الاعمال، راجع للتفصیل الی کتابی”فضائل اعمال اور اعتراضات کا علمی جائزہ“

اس حدیث میں پندرہ شعبان کے روزے کا تذکرہ ہے اور پہلے گزر چکا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے ۔ نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایام بیض ( ہر مہینہ میں ۱۳، ۱۴، ۱۵)کے روزے بھی رکھا کرتے تھے، اور پندرہ شعبان بھی انہی تاریخوں میں سے ہے۔ ان وجوہ سے بعض علماء کرام نے پندرہ شعبان کا روزہ مستحب قرار دیا ہے۔ لیکن یہ ملحوظ رہے کہ اسے سنت یا ضروری نہ سمجھا جائے۔ صدرمفتی دار العلوم دیوبند مفتی عزیز الرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”پندرھویں تاریخ شعبان کا روزہ مستحب ہے، اگر کوئی رکھے تو ثواب ہے اور نہ رکھے تو کچھ حرج نہیں ہے“
(فتاوٰی دار العلوم دیوبند: ج 6ص309)

⛔شب براءت میں قبرستان میں جانا:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے :
فقدت رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة فخرجت فإذا هو بالبقيع فقال أكنت تخافين أن يحيف الله عليك ورسوله ؟ قلت يا رسول الله إني ظننت أنك أتيت بعض نساءك فقال إن الله عز و جل ينزل ليلة النصف من شعبان إلى السماء الدنيا فيفغر لأكثر من عدد شعر غنم كلب
(جامع الترمذی رقم:739)
ترجمہ:ایک رات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس نہ پایا، تو میں آپ کی تلاش میں نکلی۔ پس کیا دیکھا کہ آپ جنت البقیع میں تشریف فرماتھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کیا تمہیں اندیشہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر زیادتی کر سکتے ہیں؟تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے یہ گمان ہوا کہ شاید آپ کسی دوسری اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کی بخشش فرماتے ہیں۔

اس روایت سے آنحضرت کا شب براءت میں قبرستان جانا معلوم ہوا لیکن آپ کا اس پر مداوت اختیار کرنا ثابت نہیں لہذا اسے سنت مستمرہ نہ کہا جائے گا بلکہ شب براءت میں کبھی کبھی شب براءت میں زیارت قبور کے لیے چلا جائے تو مضائقہ نہیں۔لیکن ہر شب براءت میں جانے کا اہتمام والتزام کرنا ،اسے ضروری سمجھنا، اسے شب براءت کے ارکان میں داخل کرنا اور قبرستان کی اس حاضری کو شب براءت کا جزوِ لازم سمجھنا منکرات میں سے ہے۔ قبور پر اجتماعی حاضری ،میلہ ٹھیلا کا سماں اور چراغاں کرنا وغیرہ ایسے امور میں جو بدعات ہیں ۔اس طرح یہ عمل مستحب نہیں بلکہ گناہ بن جائے گا۔ آنحضرت سے جس درجہ میں یہ عمل ثابت ہوا اسی میں رکھا جائے تاکہ وہ عمل منکر اور گناہ ہونے سے بچ جائے۔ شیخ الاسلام حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ فرماتے ہیں :

” حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث باب سے لیلۃ البراءت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بقیع جانا معلوم ہوا، جو شبِ براءت میں قبرستان جانے کی اصل ہے۔ لیکن چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پر مداومت ثابت نہیں اس لیے اس کو سنتِ مستمرہ کا درجہ دینا بھی صحیح نہیں۔ہاں کبھی کبھی چلا جائے تو مضائقہ نہیں“
(درسِ ترمذی :ج2 ص581)

⚠شب براءت کی چند بدعات ومنکرات:❗

🚫1:مساجد میں شب بیداری کے لیے عوام کا اجتماع کرنا، اشتہارات واعلانات کے ذریعے لوگوں کو جمع کرنا ۔

🚫2:شب براءت میں خاص قسم کی نمازیں پڑھنا۔مثلاً ایک موضوع ومن گھڑت روایت کی بنا پر سو رکعت والی نماز پیش کی جاتی ہے۔(درس ترمذی: ج2ص579)

🚫3:شب براءت میں حلوہ کا پابندی سے پکانا اور اس کے بغیر شب براءت کی فضیلت سے محروم ہونے کا نظریہ رکھنا۔

🚫4:شب براءت میں فوت شدہ لوگوں کی ارواح کا اپنے گھروں میں واپس آنے کا عقیدہ رکھنا۔

🚫5:شب براءت میں قبرستان میں میلا کرنا،چراغاں کرنا اور جماعتوں اور ٹولیوں کی شکل میں جمع ہونا۔

🚫6:شب براءت میں مسور کی دال پکانے کو ضروری سمجھنا۔

🚫7:شب براءت میں آتش بازی کرنا۔
(بتصرف قلیل)
============================
📝متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن مدظلہ

اللہ کے رسول ( صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا:جب شیطان کو جنت سے نکالا جارہا تھا تو اس نے رب سے کہا :’’میں تیرے بندوں کو ...
03/05/2017

اللہ کے رسول ( صلى الله عليه وسلم) نے فرمایا:
جب شیطان کو جنت سے نکالا جارہا تھا تو اس نے رب سے کہا :
’’میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا جب تک ان کے جسم میں روح رہے گی۔‘‘
اس پر اللہ رب العزت نے فرمایا:’’ میں اپنے بندوں کو اُس وقت تک بخشتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے۔‘‘
(ترمذی : ۵۴۲)❤

{ آج کل امت مسلمه میں سنت کے خلاف طریقه رائج هو چکا هے اور غیر مسلموں کا طریقه اپنا چکے هیں }" کرسی اور میز " پر کهانا خ...
02/05/2017

{ آج کل امت مسلمه میں سنت کے خلاف طریقه رائج هو چکا هے اور غیر مسلموں کا طریقه اپنا چکے هیں }
" کرسی اور میز " پر کهانا خلاف سنت هے اور غیراقوام کا طریقه هے "
___ کهی آپ حضرات تو اس میں مبتلا نهیں ؟؟؟ ___}
-------------------------------------------------------------------------------

دراصل همارا اسلامی طریقه تو یهی هے اور سنت نبوی صلی الله علیه وآله وسلم که زمین پر دسترخوان بچها کر زمین پر بیٹه کر کهانا کهایا جائے یهی مسلمانوں کا اصل طریقه هے.
_________________________
آج کل بعض لوگوں کے یهاں " میز اور کرسی " کا جو رواج هے اس طریقے پر کهانا اسلامی تهذیب کے خلاف هے یه طریقه " متکبروں اور فیشن پرستوں کا هے جو مغربی تهذیب سے متاثر هوگئے هیں ان کا طریقه هے .اسے جتنا ممکن هوسکتے ترک کردینا چاهیئے.
البته کبهی کبهی بوقت ضرورت ایسے مواقع بهی پیش آجاتے هیں جهاں " میز اور کرسی " پر بیٹهنا پڑتا هے تو اسے بهی حرام ناجائز نهیں کها جاسکتا هے . مگر اس کی عادت بنا لینا جیسے که باقاعده سے گهروں میں هوتا هے یه قبیح کام هے اس کو ترک کردینا چاهیے ......... جیسے که کها گیا هے!
" مسلم راتشبه به کفار وفساق حرام است .... مسلمان کو کفار اور فساق یعنی فاسقین کی مشابهت اختیار کرنا حرام هے " اس لئے سنت طریقه اپنانا چاهیے.
__________________________
اسی طرح سے جو آج کل رواج هے که سب الگ الگ پلیٹ میں کهانا کهاتے هیں!
یه بهی اسلامی طریقه نهیں هے یه غیرقوم کا طریقه هے یه بهی کفار ایسا کرتے هیں گهروں میں محفلوں میں ایک ساته بیٹه کر مگر الگ الگ پلیٹ میں کهانا کهاتے هیں.
اب اگر هم بهی ایسا کرنے لگے تو پهر هم میں اور ان کے طریقے میں فرق هی کیا هے؟
حتی که یه وه لوگ بهی کرتے هیں جو توهم پرست هوتے هیں جو جو امراض کا متعدی هونے کا عقیده رکهتے هیں یعنی جو کهتے که بیماری مجهے بهی لگ جائی اگر کسی کے ساته ایک پیلٹ میں کهایا تو.
__________________________
همارے شان تو یه هونی چاهیے...... رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم نے فرمایا که سب کے ساته مل کر کهاو الگ الگ مت کهاو مل کر کهانے میں برکت هے.

الله تعالی کا پسندیه کهانا وهی هوتا هے جس میں بهت سے هاته هوں.
* جمع الفوائد *
---------------------------------------------------------
حدیث نمبر1:
" عن عمر بن الخطاب رضی الله عںه قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم کلوا جمیعا ولا تفرقوا فان البرکته مع الجماعته "
ترجمه: " حضرت عمر بن خطاب رضی الله عنه سے روایت هے که رسول الله صلی الله علیه وسلم نے ارشاد فرمایا که سب کے ساته مل کر کهاو اور الگ الگ مت کهاو ساته مل کر کهانے میں برکت هے.
* مشکوته شریف: ص370 ، باب الضیافته *

حدیث نمبر2:
" صحابه رضوان الله اجمعین نے رسول الله صلی الله علیه وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا " انا ناکل والا نشبع " هم کهاتے هیں لیکن شکم سیری نهیں هوتی ، نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے فرمایا " فلعلکم تفترقون " شاید تم لوگ الگ الگ کهاتے هو ، صحابه نے کها جی هاں!
آپ صلی الله علیه وسلم نے ارشاد فرمایا " فاجتمعوا علی طعامکم واذکروا اسم الله یبارک لکم فیه "
سب ایک ساته مل کر اور بسم الله پڑه کر کهاو تمهارے کهانے میں برکت هوگی.

* ابوداود شریف : ج2 ص172 ، باب فی الاجتماع علی الطعام *
--------------------------------------------------------
رها یه سوال که ساته کهانے میں کهانا ضائع اور برباد هوتا هے تو یه درحقیقت ایک شیطانی وسوسه هے اگر کهانے والوں کی تعداد کے مطابق کهانا نکالا جائے اور ضرورت پڑنے پر اور کهانا لیا جائے تو کهانا کس طرح سے ضائع هوگا ؟

اور اگر اس کے باوجود بهی کهانا بچ جائے تو اس میں کسی طرح کی کوئی خرابی پیدا نهیں هوتی لهذا اس کهانے کو ضائع نه کیا جائے
--------------------------------------------------------
اب ایک آیت کریمه سے مزید وضاحت جانیئے !!!

( لیس علیکم جناح ان تاکلوا جمیعا او اشتاتا .... سوره النور )
( پهر اس میں بهی تم پر کچه گناه نهیں که سب مل کر کهاو یا الگ الگ کهاو )

اس آیت سے بهی یه شبه نه رهے که اس آیت سے تو یه معلوم هوتا هے که ساته مل کر کهاو یا تنها تنها کهاو دونوں جائز هے کسی میں کچه حرج اور گناه نهیں تو پهر ساته مل کر کهانے پر اصرار کیوں هے ؟

اس کا جواب یه هے که آیت میں نفس جواز کو بیان کیا هے یعںی که دونوں طرح سے جائز هے اس میں گناه نهیں هے مگر دونوں میں افضل طریقه یه هے که سب مل کر کهائے یه بهی جائز هے اور کبهی اتفاق سے تنها کهانے کا هوا تب تنها بهی کهالیا کریں.

اور اس آیت کا شان نزول یه هے که بعض انصار رضی الله عنهم کی عادت مبارکه یه تهی که جب تک ان کے ساته کوئی مهمان نه هوتا تنها کهانا نهیں کهاتے تهے یا مهمان کی موجودگی میں مهمان هی کے ساته کهانے کو ضروری سمجهتے تهے تو اس آیت میں الله تعالی نے فرمایا که ساته مل کر کهاو یا تنها تنها سب جائز هے اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے کی ضرورت نهیں هے .
____________________________________
معارف القرآن ادریسی میں هے : نیز بعض انصار پر جود وکرم کا اس قدر غلبه تها که وه لوگ بے مهمان کے تنها کهانا گوارا نهیں کرتے تهے اور اپنی جان پر مشقت گوارا کرتے تهے اور مهمان کا انتظار کرتے تهے ان کے بارے میں یه آیت اتری ، تم پر کچه گناه نهیں هے.
* معارف القرآن مولانا اندریس کاندهلوی رحمه الله ج8 ص292 ،
تفسیر روح المعانی: ج18 ص221 *

تنها کهانے کا رواج اور خاص طور پر زمین پر سنت کے مطابق بیٹهنے کے بجائے ، غیر اقوام اور فیشن پرستوں کے طور طریقے هم میں عام هوگئے هیں اس سے همیں بچنا چاهیے خصوصاََ اهل علم حضرات کو

* الله همیں سنت کی عظمت اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں اور همیں غیرقوام یهود و نصاری کے ساته شابهت اختیار کرنے سے بچائے اور سنت پر استقامت سے رهنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین .
=====================
* ظاهرجان احسن....طالب دعا *

Address

Sindhar
75000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aisha Khan عائشه خان posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category