ILM VERSE علم ورس

ILM VERSE  علم ورس

Share

کتابوں سے سوچ تک — علم ورس
Wisdom | Books | Growth

21/03/2026

ایک دن ایک بوڑھی عورت شہر کے سب سے بڑے بینک میں داخل ہوئی اور سیدھا مینیجر کے پاس جا کر بولی:
“میں اپنے اکاؤنٹ میں کچھ رقم جمع کروانا چاہتی ہوں۔”
مینیجر نے رسمی انداز میں پوچھا:
“کتنی رقم ہے؟”
وہ سکون سے بولی:
“کوئی دس لاکھ کے قریب…”
مینیجر چونک گیا۔
“اتنے پیسے؟ آپ کرتی کیا ہیں؟”
بوڑھی عورت مسکرائی:
“میں شرطیں لگاتی ہوں…”
مینیجر کو دلچسپی ہوئی۔
“اچھا؟ تو ایک شرط مجھ سے بھی لگا لیں!”
بوڑھی عورت نے فوراً کہا:
“ٹھیک ہے، ایک لاکھ کی شرط… مجھے لگتا ہے آپ نے وِگ پہن رکھی ہے!”
مینیجر ہنس پڑا:
“یہ میرے اصلی بال ہیں!”
“پھر شرط پکی؟”
“پکی!”
بوڑھی عورت نے کہا:
“کل میں اپنے وکیل کے ساتھ آؤں گی… تاکہ بعد میں کوئی مکر نہ جائے۔”
اگلے دن…
مینیجر پورا تیار، پورا پُراعتماد۔
بوڑھی عورت وکیل کے ساتھ آئی۔
بیٹھی… مسکرائی… اور بولی:
“ایک لاکھ کی شرط ہے، تسلی کے لیے میں خود چیک کر لوں؟”
مینیجر نے غرور سے کہا:
“ضرور!”
بوڑھی عورت نے اس کے بال پکڑ کر کھینچنے شروع کر دیے…
اور اچانک—
ساتھ بیٹھا وکیل دیوار سے سر مارنے لگا!
مینیجر گھبرا گیا:
“آپ کو کیا ہوا؟!”
وکیل بولا:
“مجھے کیا ہونا تھا…
میں تو پانچ لاکھ کی شرط ہار گیا!”
مینیجر: “کون سی شرط؟!”
وکیل نے کہا:
“اسی بوڑھی عورت نے مجھ سے شرط لگائی تھی…
کہ وہ آج شہر کے سب سے بڑے بینک کے مینیجر کے بال نوچے گی!”
سبق؟
کبھی کبھی لوگ جیتنے کے لیے نہیں…
آپ کو جیتنے کا یقین دلانے کے لیے کھیلتے ہیں۔
۔

#دانائی #چالاکی

Photos from ‎ILM VERSE  علم ورس ‎'s post 20/03/2026

اندھی عقیدت کا انجام…

ایک چھوٹا لڑکا گھبرایا ہوا شیوانا (قبل از اسلام ایران کا ایک مفکّر) کے پاس پہنچا اور ہانپتے ہوئے بولا:
“میری ماں… میری بہن کو قربان کرنے جا رہی ہے… معبد کے کہنے پر… خدارا اسے بچا لیں!”
شیوانا فوراً اس کے ساتھ چل پڑا۔
معبد میں داخل ہوا تو ایک ہولناک منظر سامنے تھا—
ایک ماں اپنی ننھی بیٹی کے ہاتھ پاؤں باندھ چکی تھی،
ہاتھ میں چھری تھی، ہونٹوں پر منتر… اور آنکھیں بند۔
لوگ خاموش تماشائی بنے کھڑے تھے۔
اور ایک طرف، پتھر کے چبوترے پر بیٹھا ایک کاہن
فخر سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔
شیوانا قریب پہنچا تو حیران رہ گیا—
ماں اپنی بیٹی کو بار بار سینے سے لگا رہی تھی، چوم رہی تھی…
محبت بھی انتہا پر، اور ظلم کا ارادہ بھی۔
اس نے نرمی سے پوچھا:
“تم یہ کیا کرنے جا رہی ہو؟”
عورت بولی:
“مجھے حکم ملا ہے کہ اپنی سب سے عزیز چیز قربان کر دوں،
تاکہ میری مشکلات ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں…”
شیوانا مسکرایا اور بولا:
“مگر یہ بچی تمہاری سب سے عزیز چیز کیسے ہو سکتی ہے؟
جسے تم مارنے جا رہی ہو، وہ عزیز نہیں ہوتی…
تمہاری اصل عزیز تو وہ ہے،
جو وہاں بیٹھا ہے…
جس کے کہنے پر تم اپنی ہی بیٹی کی جان لینے کو تیار ہو گئی ہو۔”
ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا…
عورت نے فوراً بچی کے بند کھول دیے
اور چھری لے کر کاہن کی طرف لپکی—
مگر وہ پہلے ہی فرار ہو چکا تھا۔
کہتے ہیں، اس دن کے بعد وہ کاہن کبھی واپس نہیں آیا۔
اصل خطرہ بت نہیں ہوتے…
اصل خطرہ وہ ہوتے ہیں جو ہمارے ذہنوں پر قابض ہو جائیں۔
جس دن ہم اپنے “کاہنوں” کو پہچان گئے،
اسی دن ہمارے مسائل حل ہونا شروع ہو جائیں گے۔



14/03/2026

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً سات کروڑ لوگ ایسے ہیں
جن کی ماہانہ آمدنی محض 8484 روپے ہے۔

یہ رقم سننے میں شاید ایک عدد لگتی ہو، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسے گھر کی پوری کہانی ہے جو ہر مہینے بقا کی جنگ لڑتا ہے۔ اگر یہی شخص اپنی ساری ماہانہ کمائی صرف 201 یونٹ بجلی کے بل پر خرچ کر دے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟ بچوں کی روٹی، دوائی، کرایہ اور دیگر ضروریات کہاں سے پوری ہوں گی؟
ایسے حالات میں جینے والے انسان کے لیے عالمی سیاست، جنگوں اور طاقت کے مظاہروں کی خبریں محض دور کی آوازیں ہوتی ہیں۔ اسے اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ دنیا کے کس ملک نے کس پر حملہ کیا یا کون سی بڑی طاقت کس کے خلاف صف بندی کر رہی ہے۔ اس کے لیے تو اصل جنگ وہ ہے جو وہ ہر روز مہنگائی کے خلاف لڑ رہا ہے۔
اس کی زندگی کا ہر دن ایک سوال بن کر سامنے آتا ہے۔ اگر آج گھر میں ایک وقت کا کھانا میسر آ گیا تو اگلے وقت کی فکر دل میں جاگ اٹھتی ہے۔ اگر بجلی کا بل ادا کر دیا تو باقی مہینے کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے؟ اس کے خواب بھی ضرورتوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو کسی سیاسی بحث کا حصہ نہیں بنتے، کسی ٹی وی ٹاک شو میں نظر نہیں آتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی خاموش جدوجہد ہی اس معاشرے کی اصل تصویر ہے۔ ان کے لیے سب سے بڑی خبر کوئی عالمی تنازع نہیں، بلکہ آٹے، چینی، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے۔ کیونکہ ان کی زندگی کی جنگ سرحدوں پر نہیں، بلکہ اپنے ہی گھر کے چولہے کے سامنے لڑی جا رہی ہوتی ہے۔

13/03/2026
09/03/2026

کہتے ہیں ایک بادشاہ کا بیٹا تھا جس کی تین مرتبہ شادی ہوئی، لیکن ہر بار وہ کچھ ہی عرصے بعد اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ کبھی طلاق کی وجہ نہیں بتاتا تھا۔
بادشاہ کو یہ بات سخت ناگوار گزری۔ آخرکار غصے میں آ کر اس نے اپنے بیٹے کو محل سے نکال دیا۔
شہزادہ شہر چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں نکل پڑا۔
کافی گھومنے کے بعد اسے ایک مالدار شخص کے ہاں بکریاں چرانے کا کام مل گیا۔
نوجوان کی شرافت، خاموشی اور سمجھ داری نے اس مالدار شخص کو بہت متاثر کیا۔
اس شخص کی ایک ہی بیٹی تھی۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ اس لڑکے سے اپنی بیٹی کی شادی کروا دوں تاکہ وہ ہمارے ساتھ ہی رہے۔
جب اس نے بیٹی سے اس بارے میں بات کی تو بیٹی نے ایک شرط رکھی۔
اس نے کہا:
"میں اس نوجوان سے شادی کرنے سے پہلے چاہتی ہوں کہ آپ اس کے ساتھ کچھ دن سفر کریں تاکہ اس کی اصل سمجھ اور عقل کو جان سکیں۔"
باپ نے بیٹی کی بات مان لی۔
اگلے دن اس نے نوجوان سے کہا کہ آج بکریاں نہ لے جانا، ہم دونوں چند دن کے لیے سفر پر نکلتے ہیں۔
سفر کے دوران وہ ایک بڑے گلے کے پاس سے گزرے۔
نوجوان نے کہا:
"یہ کتنی زیادہ ہیں، اور کتنی کم ہیں۔"
مالک کو عجیب لگا لیکن وہ خاموش رہا۔
تھوڑی دیر بعد وہ ایک اور گلے کے پاس سے گزرے۔
نوجوان نے کہا:
"یہ کتنی کم ہیں اور کتنی زیادہ ہیں۔"
اب مالک کے ذہن میں خیال آیا کہ شاید لڑکا زیادہ سمجھدار نہیں ہے۔
آگے چلتے ہوئے وہ ایک قبرستان کے پاس سے گزرے۔
نوجوان نے کہا:
"یہاں کچھ زندہ ہیں اور کچھ مردہ۔"
مالک اور بھی حیران ہوا۔
کچھ دور ایک خوبصورت باغ آیا۔
نوجوان نے باغ کو دیکھ کر کہا:
"مجھے نہیں معلوم یہ باغ ہرا بھرا ہے یا سوکھا ہوا۔"
مالک نے دل میں سوچا کہ بیٹی نے شاید اسی لیے کہا تھا کہ اس کے ساتھ سفر کرو۔
کچھ دیر بعد وہ ایک گاؤں پہنچے اور پانی مانگا۔
گاؤں والوں نے ان کے سامنے دودھ رکھ دیا۔
نوجوان نے پہلے خود پیا اور پھر مالک کو دیا۔
کچھ فاصلے پر وہ ایک اور گاؤں پہنچے۔ وہاں انہوں نے پانی مانگا تو لوگوں نے انہیں پانی دیا۔
اس مرتبہ نوجوان نے پہلے مالک کو دیا اور پھر خود پیا۔
مالک کے دل میں خیال آیا کہ اس نے دودھ میں مجھے بعد میں دیا اور پانی میں پہلے، یہ عجیب بات ہے۔
جب وہ سفر سے واپس آئے تو مالک نے سارا واقعہ اپنی بیٹی کو سنایا۔
بیٹی مسکرا کر بولی:
"ابا جان، یہ نوجوان تو بہت عقل مند ہے۔"
مالک حیران ہوا اور پوچھا:
"وہ کیسے؟"
بیٹی نے وضاحت کی۔
پہلے گلے کے بارے میں اس کا مطلب یہ تھا کہ وہاں مینڈھے زیادہ اور بکریاں کم تھیں۔
دوسرے گلے میں بکریاں زیادہ اور مینڈھے کم تھے۔
قبرستان کے بارے میں اس کا مطلب یہ تھا کہ
جس نے نیک اولاد چھوڑی وہ مر کر بھی زندہ ہے،
اور جس نے کچھ نہیں چھوڑا وہ واقعی مر گیا۔
باغ کے بارے میں اس کا مطلب یہ تھا کہ
اگر باغ مالک نے اپنی کمائی سے بنایا ہے تو وہ ہرا بھرا ہے،
اور اگر قرض لے کر بنایا ہے تو وہ حقیقت میں سوکھا ہوا ہے۔
دودھ والی بات کی وجہ یہ تھی کہ برتن میں دودھ نیچے بیٹھ جاتا ہے اور پانی اوپر آ جاتا ہے۔
اس نے پہلے اوپر والا پانی پیا اور آپ کو خالص دودھ دیا۔
اور کنویں کے پانی میں صاف پانی اوپر آتا ہے، اس لیے اس نے پہلے آپ کو دیا۔
بیٹی کی یہ باتیں سن کر مالک حیران رہ گیا۔
اسے یقین ہو گیا کہ نوجوان واقعی غیر معمولی سمجھ رکھنے والا ہے۔
چنانچہ اس نے اپنی بیٹی کی شادی اس سے کر دی۔
شادی کی پہلی رات نوجوان نے اپنی بیوی کے سر پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر پوچھا:
"یہ سر کس کا ہے؟"
بیوی نے جواب دیا:
"یہ پہلے میرا تھا، اب تمہارا ہے۔"
نوجوان نے کہا:
"تو پھر سفر کی تیاری کرو…
میں بکریاں چرانے والا نہیں ہوں۔
میں ایک بادشاہ کا بیٹا ہوں…
اور میں تم جیسی سمجھدار عورت کی تلاش میں نکلا تھا۔"

سبق:
عقل کا اندازہ انسان کے ظاہری الفاظ سے نہیں بلکہ اس کی سوچ اور حکمت سے ہوتا ہے۔



08/03/2026

مردہ مچھلی کا زندہ ہونا، سمندر میں سرنگ اور علمِ خضر کا راز
سورۃ الکہف (آیات 61 تا 70) کا حیران کن پہلو

جدید بائیولوجی ہمیں بتاتی ہے کہ جب کسی جاندار کے خلیے مکمل طور پر مر جائیں، اس کا ڈی این اے ٹوٹ جائے اور وہ خوراک بن جائے تو اس میں دوبارہ زندگی آنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔
فزکس کا قانون Entropy بھی یہی کہتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز آہستہ آہستہ زوال کی طرف جاتی ہے، زندگی کی طرف نہیں لوٹتی۔
لیکن قرآن ہمیں ایک ایسا واقعہ بتاتا ہے جو یاد دلاتا ہے کہ
قوانینِ فطرت خود اللہ کے بنائے ہوئے ہیں — اور جب وہ چاہے انہیں بدل بھی سکتا ہے۔
سورۃ الکہف میں حضرت موسیٰؑ کے ایک عجیب سفر کا ذکر آتا ہے۔
یہ صرف سفر نہیں تھا بلکہ علم، حقیقت اور الٰہی حکمت کی تلاش تھی۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جب موسیٰ اور ان کا خادم دو سمندروں کے سنگم (مجمع البحرین) تک پہنچے تو وہ اپنی مچھلی بھول گئے، اور وہ مچھلی سمندر میں ایک عجیب راستہ بناتی ہوئی چلی گئی۔
(الکہف 61)
روایات کے مطابق وہ مچھلی پکی ہوئی مردہ مچھلی تھی جو وہ سفر کے لیے بطور خوراک ساتھ لے جا رہے تھے۔
لیکن اس مقام پر ایک حیران کن واقعہ پیش آیا۔
وہ مچھلی اچانک زندہ ہو گئی اور سمندر میں کود گئی۔
قرآن کہتا ہے کہ اس نے پانی میں سرنگ جیسا راستہ بنا لیا۔
پانی عام طور پر فوراً اپنے خلا کو بھر دیتا ہے، لیکن اس واقعے میں پانی میں مچھلی کا راستہ ایک واضح نشانی بن گیا۔
یہی وہ علامت تھی جس کے ذریعے اللہ نے موسیٰؑ کو بتایا تھا کہ یہی وہ مقام ہے جہاں انہیں ایک خاص بندے سے ملنا ہے۔
لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ موسیٰؑ اور ان کا خادم اس واقعے کو فوراً سمجھ نہ سکے اور آگے نکل گئے۔
کچھ دیر بعد موسیٰؑ نے کہا:
ہمارا کھانا لاؤ، اس سفر نے ہمیں تھکا دیا ہے۔
تب ان کے خادم کو اچانک یاد آیا کہ چٹان کے پاس مچھلی زندہ ہو کر سمندر میں چلی گئی تھی۔
یہ سن کر موسیٰؑ فوراً بول اٹھے:
"یہی تو وہ مقام تھا جس کی ہم تلاش کر رہے تھے!"
پھر وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے۔
وہاں انہیں اللہ کا ایک خاص بندہ ملا۔
قرآن اس کا نام نہیں لیتا، لیکن اسلامی روایت میں وہ حضرت خضرؑ کے نام سے مشہور ہیں۔
اللہ فرماتا ہے:
ہم نے اسے اپنی طرف سے خاص رحمت عطا کی تھی اور اسے اپنے پاس سے ایک خاص علم سکھایا تھا۔
یہی وہ علم ہے جسے علماء علمِ لدنی کہتے ہیں۔
یعنی ایسا علم جو کتابوں یا تجربات سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے براہِ راست عطا ہوتا ہے۔
یہاں ایک حیران کن منظر سامنے آتا ہے۔
موسیٰؑ جیسے عظیم پیغمبر، جن پر تورات نازل ہوئی، خضرؑ سے ادب کے ساتھ کہتے ہیں:
"کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ علم سکھائیں جو اللہ نے آپ کو دیا ہے؟"
یہ علم کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔
حقیقی عالم وہی ہوتا ہے جو ہمیشہ سیکھنے کے لیے تیار رہتا ہے۔
خضرؑ نے جواب دیا:
آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔
کیونکہ آپ اس بات پر کیسے صبر کریں گے جس کی حقیقت آپ کے علم میں نہیں؟
یہ جملہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری کو بیان کرتا ہے۔
ہم اکثر صرف ظاہری منظر دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں جبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہوتی ہے۔
آخرکار خضرؑ نے موسیٰؑ کو ساتھ رکھنے کی ایک شرط رکھی:
"میرے ساتھ رہنا ہے تو کسی بات پر سوال نہیں کرنا جب تک کہ میں خود اس کی وضاحت نہ کروں۔"
یہی وہ سفر تھا جس میں بعد میں:
کشتی کو نقصان پہنچایا جاتا ہے
ایک بچے کو قتل کیا جاتا ہے
اور ایک گرتی ہوئی دیوار کو تعمیر کیا جاتا ہے
اور آخر میں ان سب کے پیچھے چھپی حیران کن حکمت سامنے آتی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے:
• انسانی علم محدود ہے
• ہر واقعہ وہ نہیں ہوتا جو ہمیں نظر آتا ہے
• اللہ کی حکمت ہماری سمجھ سے کہیں بڑی ہے
• اور علم حاصل کرنے کے لیے عاجزی اور صبر دونوں ضروری ہیں
قرآن کا یہ قصہ دراصل ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کائنات میں بہت سی حقیقتیں ایسی ہیں جو ہماری عقل سے آگے ہیں۔
اور شاید اسی لیے اللہ ہمیں بار بار یہ یاد دلاتا ہے:
"تمہیں علم بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔"


08/03/2026

ُقُل أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ
مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ
وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ
وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ

08/03/2026

َتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

02/03/2026

جو لوگ اسے ایک نظر میں پڑھ گئے…
کمنٹ میں “Done” لکھ دیں 😎
اور جو نہ پڑھ سکے… وہ دوبارہ غور کریں 😉



Want your school to be the top-listed School/college in Sialkot?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Sialkot
Sialkot
51310