Quran Seekho (Learn Quran Online)

Quran Seekho (Learn Quran Online)

Share

We are an Online Quran Teaching Academy - Learn Quran at the comfort of your home! We are offering Basic Quran Reading course free.

Online learning is a relatively new concept that enables people to learn at the comfort of their home irrespective of their geographical location and availability of required resources in the area. We offer online Quran teaching to our Muslim families who do not have local resources available for Quran learning. With our experienced Quran tutors (hafiz-e-qurans, Qaris), both male and female, we de

26/07/2024

اس دفعہ ۱۴ اگست پر ایک درخت پاکستان کے نام
بینڈ باجوں پٹاخوں کا بائیکاٹ کریں
صدقہ جاریہ میں حصہ ڈالیں

24/11/2023

جنگ بندی ہو چکی ہے۔
مگر ہمیں معلوم ہے جنگ بند نہیں ہوئی۔ جنگ جاری ہے اور جاری رہے گی۔ اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کا منصوبہ ابھی باقی ہے۔ فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں رُوم رُوم جکڑی ہے۔ اہلِ اسلام کے القدس پہ ابھی فاروق و صلاح الدین کے لشکروں کے گھوڑے نہیں ہنہنائے۔
جنگ بندی ہو چکی ہے۔ مگر ہمیں معلوم ہے یہ ایک جنگ سے دوسری جنگ تک کا وقفہ ہے۔
ابھی شہیدوں کے لاشے دفنانے، عمارتوں کے ملبے اٹھانے، ماؤں کی میتوں، جگرگوشوں کے مردہ بدنوں اور بچھڑی ہوئی محبتوں کو کفن دینے کی مہلت ملی ہے۔ ابھی عالمِ اسلام کو وقت ملا ہے ارضِ فلسطین تک دستِ سہارا دراز کرنے کا۔ ان کے لٹے ہوئے ہسپتالوں کے سائے میں زخمیوں تک طبی امداد پہنچانے کا۔ ان کے ساتھ مل کر مرہم لگانے اور مسکرانے کا۔
ہم بھی جانتے ہیں اور دنیا بھی جان لے کہ جنگ جاری رہے گی!
امت کے والدین جان جائیں کہ جنگ کے ہنگامے ابھی تھمے نہیں۔ جگر پاروں کو اب مجاہد بنا کر محاذوں پہ اتارنا ہو گا۔ ان کا بابا بلیک شیپ کی بجائے تاریخِ اسلامی سے رشتہ جوڑنا ہو گا۔ سنڈریلا اور بیٹ مین کا دور گزر گیا۔ اب صلاح الدین ایوبی اور نور الدین زنگی سے ہیروز کا سحر اٹھانا ہو گا۔ اب رات کی تاریکی میں جن بابے نہیں آیا کریں گے۔ اب صبح کے تڑکے سے گھوڑوں کے سُموں کی چنگاریاں نئے عہد کے سورج جلائیں گی۔ رسولِ ہاشمیﷺ کی سیرت اب جوان ہوتے بدن میں دمکتی دکھائی دے گی۔
اب پیسہ اور مستقبل نامی بلاؤں سے جوانوں کو جان چھڑانی ہو گی۔ اب صرف نظریہ چلے گا۔ فقط کردار راج کرے گا۔ اگر اسرائیل اپنا نظریہ ماں کی گود، پارلیمنٹ کی پیشانی، ملک کے دستور اور تعلیم کے نصاب میں پوری جرأت سے بھر سکتا ہے تو ہمیں بھی 'انسانیت' اور 'بنیادی حقوق' جیسے بوسیدہ افکارات کو لات رسید کرنا ہو گی۔ دین ہو گا تو فقط اسلام ہو گا۔ سکہ اور قانون چلے گا تو فقط دینِ محمدﷺ کا۔ آسمان پر دو خدا نہیں ہیں اور زمین پہ بھی دوسرے کسی خدا کا راج نہیں ہو گا !!
مسلم نوجوانوں کے لیے سیاست، معیشیت، ابلاغ اور سائنسی تحقیق میں آنا فرض ہو چکا۔ اب انگریزی اور عربی یکساں روانی سے بولنے کی مہارت کی ضرورت ہے۔ کافروں اور قاتلوں کے ٹکڑوں پہ پلنے کی بجائے اپنے خونِ جگر پہ جینا ہے تو اپنی نئی دنیا بسانا فرضِ عین ہے ہم پر!
جنگ جاری رہے گی۔ مگر ارضِ مقدس کے مکینوں کو مبارک ہو!
وہ میدانوں میں مسکراتے ہوئے لہو بہا کر امت کے بےحمیت حکمرانوں کو بتا گئے کہ تمہارے ایوانوں میں اسرائیل کو تسلیم کر لینے کے باوجود وہ اپنے خون سے اس مسئلے کو زندہ رکھنا جانتے ہیں۔ آج ایوانوں کی سیاہی ہار چکی اور میدانوں کا لہو جیت چکا۔
قدس کے والدین کو مبارک ہو۔ ان کی پروان اٹھائی نسل نے سوشل میڈیا پہ پل پل کی خبر دے کر عالمی گونگے بہرے میڈیا کو سکرینوں پہ شکست دی ہے۔ ان کے دمکتے سٹوڈیو، مشہور صحافی اور قیمتی کیمرے جوانانِ قدس کے جذبوں کے آگے ڈھیر ہو گئے۔
جنگ ابھی جاری ہے۔ مگر ایوانوں، سکرینوں اور باطل نظریوں پہ چھائی موت جیسی شکست زمینِ قدس اور امتِ مسلمہ کو مبارک ہو!
کل کو ہم میدانوں کی جنگ بھی مل کر جیتیں گے۔
باذن الله!
القدس لنا!

ڈاکٹر مریم خالد
#طائرِحرم

12/03/2023
07/09/2022
19/03/2021

Let's spare some time to beautify your recitation by learning Qur'an with Tajweed.
Inbox for details

14/02/2021
02/04/2020
16/03/2020

ہم شادی کیوں کرتے ہیں اورکیاہم اس کی اہمیت جانتے ہیں ؟

ہمارے معاشرے میں شادی کی تیاری کا مطلب ہے کہ شادی کی شاپنگ کرنا ،شادی کی تقریبات کا انتطام کرنا ۔کیا ہم نے کبھی اس بات کو سمجھنے کی ضرورت محسوس کی ہے کہ جن بچوں کی شادی ہورہی ہے ، ان کو قرآن وحدیث کی روشنی میں ایک دوسرے کے حقوق و فرائض سمجھانے کی کوشش کی ہے۔کیا والدین ان کو سورۃ النساء،سورۃ النور اور سورۃ البقرہ کی چند آیات جو کہ شادی سے متعلق ہیں ،اس کا ترجمہ اور تفسیر پڑھنے کے لیے وقت نکالتے ہیں تاکہ دولہا ،دولہن اپنے رشتے کی نوعیت کو بہترین طریقے سے جان سکیں ۔ہم میں سے کتنے افراد ایسے ہیں جو جانتے ہیں کہ شادی کا اصل مقصد کیا ہے ْ؟اگر سوال کیا جائے کہ شادی کا مقصد کیا ہے تو زیادہ تر افراد کا جواب یہ ہوتا ہے کہ سنت رسول ﷺ ہے یا پھر نسل کی بقا کے لیے ضروری ہے ۔
نکا ح مذہبی فریم ورک ہے اور اسی فریم ورک کو مدنظر رکھیں تودرحقیت نکاح کے دو بنیادی مقاصد ہیں ۔پہلا مقصد فرد کی نفسیاتی ،جذباتی اورجبلی ضرورت کی تکمیل ہے اور تکمیل تعلق کے نتیجے میں ہوتی ہے ۔انسان کی تکمیل تب ہی ممکن ہے جب انسان حقیقی خوشی اور اطمینان محسوس کرتا ہے اور یہ نکاح کے دیر پا تعلق کے ساتھ ہی ممکن ہے ۔وہ تعلق جو نکاح کے بغیر قائم ہوتا ہے اس میں وقتی خوشی تو ہو سکتی ہے لیکن اطمینان اور سکون سے محروم ہو گا اور ایسا تعلق دیر پا نہیں ہو تا۔
نکاح کا دوسرا مقصد معاشرے کو نیکی کی راہ پر گامزن کرنا ہے ۔نکاح میں اعلان شرط ہے جس کے تحت انسان پر دوسرے انسان کی ذمہ داری عائد ہو تی ہے اور جب ان ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھایا جاتاہے تو معاشرے میں خیر ونیکی اور پاکیزگی کا عنصر نمو پا تا ہے۔نکاح کے نتیجے میں ہونے والی اولاد کی بہترین تربیت کی ذمہ داری ماں باپ دونوں پر ہے اور معاشرے میں امن وسکون تب ہی ممکن ہے جب معاشرے میں موجود افراد اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاہیں۔اس تعلق کو بہترین انداز میں نبھانے کے لیے شوہر اور بیوی پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جو نکاح کے رشتے کو دائمی خوشی اور مضبوطی عطا کرتی ہیں۔
شوہر کی ذمہ داری
شوہر کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو تحفظ فراہم کرے۔
اپنی بیوی کی عزت نفس کو ٹھیس نہ پہنچائے اور اس کی عزت کرے۔
اپنی بیوی کی تمام ضروریات کی تکمیل کرے ،اس کو توجہ ،محبت دے ،اس کی تعریف کرے اور اس کا شکریہ ادا کرے کہ اس کے گھر کے تمام افراد کا خیال ر کھتی ہے۔
شوہر کو یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کس رشتے کو کتنی اہمیت دینی ہے اور کون سا رشتہ سب سے اہم ہے ؟
شوہر کو ہر رشتے میں توازن رکھنا آنا چاہیے کیونکہ جب وہ رشتوں میں توازن قائم نہیں رکھ پاتا تو مسائل جنم لیتے ہیں۔
بیوی کی ذمہ داری
شوہر کی اور اپنی عزت کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ شوہر کی ذاتی ،نفسیاتی اور جذباتی ضرورت کا خیال کرنا ۔
بیوی کو شادی کے بعد اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اب وہ بیٹی ،بہن ہونے کے ساتھ بیوی ،بہو ،بھابی اور ماں بھی ہے اور اس کی ذمہ داری کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے ۔
مرد کو اللہ نے سربراہ بنایا ہے اس حقیقت کو خوشی اور محبت سے قبول کرتے ہوئے اس کی جائز باتوں کو مانتے ہوئے شوہر کو عزت اور احترم دیں ۔
ایک دوسرے کے عیبوں کا پردہ رکھیں اور اللہ سے اصلاح کی دعا کریں۔
اگر آپ کے شوہر اور آپ کی بیوی کے لیے آپ کی ذات بچوں سے زیادہ اہم ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا رشتے میں محبت ،سکون اور اطمینان ہے ۔بقول روتھ بیل کے :
’’خوشگوار شادی شدہ زندگی ان دو افراد کا مجموعہ ہے جو ایک دوسر ے کو معاف کرنا سیکھ جاتے ہیں ۔‘‘
شادی صرف جسمانی تعلق کا نام نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کی خامیوں ،پسندیدگیوں کے ساتھ جینا اور اپنی شخصیت کے نوکیلے کونوں کو تراشنے کا نام ہے۔

11/03/2020
Want your school to be the top-listed School/college in Sialkot?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Gondal Road, Cantt
Sialkot
51310