The Read School.

The Read School.

Share

educational motivational and awareness

19/04/2025

# # # **English Dialogue:**

**Ali:** Hey Ahmed! You're finally here. What took you so long after school?
**Ahmed:** Man, you won’t believe it. The math teacher kept us 20 minutes extra.
**Ali:** Seriously? That’s so annoying.
**Ahmed:** Yeah, and because of that, I missed the school bus.
**Ali:** Oh no! Then what did you do?
**Ahmed:** First I waited to see if any van was still around. But no luck.
**Ali:** So how did you manage to get home?
**Ahmed:** I walked till the main road and luckily found a rickshaw.
**Ali:** That sounds like quite a hassle.
**Ahmed:** It was! And the worst part? I was carrying all my textbooks today.
**Ali:** Oh man, that must’ve felt like a workout!
**Ahmed:** Totally. I’m so tired now. And we still have that science homework!
**Ali:** Don't worry, let’s finish it together on a video call tonight.
**Ahmed:** That would be awesome. Thanks, yaar.

---

# # # **Urdu Translation:**

**علی:** ارے احمد! آخر کار آ ہی گئے۔ اتنی دیر کیوں لگا دی اسکول کے بعد؟
**احمد:** یار، یقین نہیں آئے گا۔ میتھ کے ٹیچر نے ہمیں بیس منٹ زیادہ روک لیا۔
**علی:** واقعی؟ یہ تو بہت پریشان کن ہے۔
**احمد:** ہاں، اور اسی وجہ سے میری اسکول بس نکل گئی۔
**علی:** اوہ نہیں! پھر کیا کیا تم نے؟
**احمد:** پہلے تو دیکھا کہ شاید کوئی وین ابھی بھی ہو، لیکن کوئی نہیں ملی۔
**علی:** پھر تم گھر کیسے پہنچے؟
**احمد:** میں مین روڈ تک پیدل گیا، وہاں جا کے ایک رکشہ مل گیا۔
**علی:** یہ تو واقعی بڑی جھنجھٹ ہوئی۔
**احمد:** بالکل! اور سب سے بری بات یہ کہ آج میرے سارے نصابی کتابیں ساتھ تھیں۔
**علی:** اوہ بھائی، یہ تو جم کرنے جیسا ہو گیا ہوگا!
**احمد:** سچ میں! اب تو بہت تھکا ہوا ہوں۔ اور اوپر سے سائنس کا ہوم ورک بھی ہے۔
**علی:** فکر نہ کرو، آج رات ویڈیو کال پر ساتھ مل کر کر لیتے ہیں۔
**احمد:** زبردست ہوگا، شکریہ

18/04/2025

Here are some common English sentences with their Urdu translations for daily use:

1. **How are you?**
**آپ کیسے ہیں؟**

2. **I am fine, thank you.**
**میں ٹھیک ہوں، شکریہ۔**

3. **What is your name?**
**آپ کا نام کیا ہے؟**

4. **My name is Ali.**
**میرا نام علی ہے۔**

5. **Where are you going?**
**آپ کہاں جا رہے ہیں؟**

6. **I am going to the market.**
**میں بازار جا رہا ہوں۔**

7. **Please help me.**
**براہ کرم میری مدد کریں۔**

8. **I don't understand.**
**مجھے سمجھ نہیں آ رہا۔**

9. **What time is it?**
**کتنے بجے ہیں؟**

10. **I am hungry.**
**مجھے بھوک لگی ہے۔**

01/03/2025

**رمضان کے پہلے دس دنوں کی عبادات: رحمت کے لمحات**

رمضان المبارک کا مہینہ برکتوں اور رحمتوں کا مجموعہ ہے، اور اس کے تین عشرے مخصوص برکات کے حامل ہوتے ہیں۔ پہلا عشرہ، جو یکم رمضان سے دسویں رمضان تک محیط ہے، "عشرۂ رحمت" کہلاتا ہے۔ یہ دن رحمتِ خداوندی کو سمیٹنے، روحانی پاکیزگی حاصل کرنے، اور عبادات میں خصوصی شوق پیدا کرنے کے ہیں۔

# # # **رحمت کے دروازے کھلتے ہیں**
اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے پہلے عشرے کو اپنی خاص رحمتوں سے نوازا ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ رمضان کا پہلا حصہ رحمت، دوسرا مغفرت، اور تیسرا جہنم سے نجات کا ہے۔ اس لیے ہمیں ان دس دنوں میں خصوصی طور پر اللہ کی رحمت کے طلبگار بننا چاہیے۔

# # # **پہلے عشرے کی عبادات**

# # # # 1. **نماز کی پابندی**
رمضان کی برکتوں سے فیض یاب ہونے کے لیے پنج وقتہ نماز کی مکمل ادائیگی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تہجد، اشراق اور چاشت کی نماز پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ اللہ کی رحمت سمیٹی جا سکے۔

# # # # 2. **قرآن کی تلاوت**
رمضان قرآن کے نزول کا مہینہ ہے، اس لیے پہلے عشرے میں قرآن کی تلاوت کو اپنا معمول بنانا چاہیے۔ روزانہ کم از کم ایک پارہ پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ رمضان کے اختتام تک مکمل قرآن کریم ختم کیا جا سکے۔

# # # # 3. **دعا اور استغفار**
یہ عشرہ رحمت کا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ سے اپنی بخشش اور دنیا و آخرت میں بھلائی کی دعا کرنی چاہیے۔ خصوصاً درج ذیل دعا زیادہ سے زیادہ پڑھنی چاہیے:

*"رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ"*
(اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے)۔

# # # # 4. **روزہ اور صبر**
روزہ صبر کی تربیت دیتا ہے اور اللہ کے قریب لے جاتا ہے۔ روزے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال اور ذکر الٰہی میں مشغول رہنا چاہیے۔

# # # # 5. **صدقہ و خیرات**
رمضان میں ہر نیکی کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، اس لیے پہلے عشرے میں مستحقین کو صدقہ و خیرات دینا چاہیے تاکہ اللہ کی رحمت حاصل ہو۔

# # # # 6. **افطار میں دوسروں کو شامل کرنا**
حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق جو شخص روزہ دار کو افطار کراتا ہے، اسے بھی روزے کا ثواب ملتا ہے۔ اس لیے اپنے دسترخوان کو دوسروں کے لیے وسیع کریں اور اللہ کی رحمتیں سمیٹیں۔

# # # **نتیجہ**
پہلا عشرہ ہمیں اللہ کی رحمت کے قریب لے جانے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر ہم ان دس دنوں میں عبادات، دعا، تلاوتِ قرآن، صدقہ اور نیکیوں میں اضافہ کریں، تو ہم اللہ کی بے پناہ رحمت کے مستحق بن سکتے ہیں۔ یہ عشرہ اللہ کے قریب ہونے اور اپنی روحانی اصلاح کا سنہری موقع ہے، جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

اللہ ہمیں رمضان کے پہلے عشرے میں زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

28/02/2025

**رمضان المبارک کی فضیلت اور اہمیت**

رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ اور تمام مہینوں میں سب سے بابرکت مہینہ ہے۔ یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم نازل فرمایا، جو انسانیت کے لیے ہدایت اور فلاح کا ذریعہ ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں:

**"شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس و بینات من الھدی والفرقان"**
*(البقرہ: 185)*

ترجمہ: "رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔"

اس آیت مبارکہ سے رمضان کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ یہ مہینہ قرآن کی روشنی سے منور ہے، اور ہمیں اس میں زیادہ سے زیادہ عبادات، تلاوتِ قرآن اور دعا و استغفار میں مشغول رہنا چاہیے۔

# # # **روزے کی فرضیت اور فضیلت**
اسلام کے بنیادی ارکان میں روزہ ایک اہم رکن ہے، جو ہر مسلمان پر فرض کیا گیا ہے۔ روزے کا مقصد تقویٰ اختیار کرنا اور اللہ کی قربت حاصل کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:

**"یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون"**
*(البقرہ: 183)*

ترجمہ: "اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم متقی بن جاؤ۔"

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے کا مقصد صرف بھوکا اور پیاسا رہنا نہیں بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھ کر اللہ کی رضا حاصل کرنا اور تقویٰ اختیار کرنا ہے۔

# # # **حدیث مبارکہ میں رمضان کی فضیلت**
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

**"جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں۔"**
*(صحیح بخاری: 1899، صحیح مسلم: 1079)*

اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ رمضان برکتوں، رحمتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اپنے عروج پر ہوتی ہے اور وہ اپنے بندوں کی بخشش کے دروازے کھول دیتا ہے۔

# # # **لیلۃ القدر کی فضیلت**
رمضان کی آخری دس راتوں میں ایک رات "لیلۃ القدر" کہلاتی ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

**"لیلۃ القدر خیر من الف شہر"**
*(القدر: 3)*

ترجمہ: "لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔"

یہ رات عبادت، دعا اور ذکر کے لیے بہت خاص ہے۔ جو مسلمان اس رات میں عبادت کرتا ہے، اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

# # # **رمضان میں صدقہ اور سخاوت**
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں سب سے زیادہ سخی ہوتے تھے۔ صدقہ و خیرات کرنا، ضرورت مندوں کی مدد کرنا اور یتیموں کا خیال رکھنا اس مہینے میں مزید برکت اور اجر کا باعث بنتا ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

**"نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کرتے، خصوصاً جب جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے تو آپ تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔"**
*(صحیح بخاری: 6)*

# # # **اختتامیہ**
رمضان المبارک ایک عظیم نعمت ہے جو اللہ نے ہمیں عطا کی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس مہینے کو عبادات، استغفار، توبہ، ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن، صدقہ و خیرات اور صبر و شکر کے ساتھ گزاریں۔ یہ مہینہ ہمیں نیکیوں کی طرف راغب کرنے اور برائیوں سے دور رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مقدس مہینے کی برکتوں سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

**رمضان مبارک!**

25/02/2025

**جواب شکوہ** علامہ اقبال کی ایک شاہکار نظم ہے جو ان کی مشہور نظم **"شکوہ"** کے جواب میں لکھی گئی تھی۔ **"شکوہ"** میں شاعر نے مسلمانوں کی زبوں حالی، ان کے مسائل اور اللہ سے ان کی شکایات کو ایک دل سوز انداز میں پیش کیا تھا۔ اس کے برعکس، **"جواب شکوہ"** میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرضی جواب دیا گیا ہے، جس میں مسلمانوں کی کمزوریوں، ان کی بے عملی اور دین سے دوری کی نشاندہی کی گئی ہے۔

# # # **نظم کا خلاصہ**

**ابتدائی حصّہ:**
نظم کا آغاز اللہ تعالیٰ کے کلام سے ہوتا ہے، جہاں وہ مسلمانوں کے شکوے کو قبول کرتے ہیں لیکن فرماتے ہیں کہ شکایت کرنے والے خود اپنی حالت پر غور کریں۔

> **"کون ہے تارکِ آئینِ رسولِ مختار؟
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار؟"**

یہاں مسلمانوں کی موجودہ زبوں حالی کی وجوہات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ وہ دین سے دور ہو چکے ہیں اور مصلحت پسندی اختیار کر لی ہے۔

**مسلمانوں کی غلطیاں:**
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان کے ماضی کی شان و شوکت یاد دلاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ صرف دعاؤں اور فریادوں سے کامیاب نہیں ہو سکتے بلکہ عمل کی ضرورت ہے۔

> **"تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو؟
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!"**

یہاں اقبال نے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ ان کے آباؤ اجداد بہادر، علم دوست اور جدوجہد کرنے والے تھے، لیکن آج کے مسلمان ہاتھ پر ہاتھ دھر کر محض انتظار کر رہے ہیں۔

**ایمان کی کمزوری اور عمل کی کمی:**
اقبال مسلمانوں کو بتاتے ہیں کہ ان کا ایمان کمزور ہو چکا ہے اور وہ اپنے کردار میں اسلامی تعلیمات کی جھلک نہیں دکھاتے۔

> **"کس نے لوٹا ہے تمہیں عِشقِ وَطن سے بہرہ؟
اور غیروں کی محبت میں ہے رنگیں سپرہ!"**

یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسلمان اپنی شناخت کھو چکے ہیں اور دوسروں کی تقلید میں اپنی اصل روحانی و قومی اقدار سے دور ہو گئے ہیں۔

**ماضی کی یاد دہانی:**
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یاد دلاتے ہیں کہ اگر وہ اسلام کے سچے اصولوں پر عمل کرتے تو آج بھی دنیا پر راج کر رہے ہوتے۔

> **"کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کیا تُو نے؟
وہ کیا گردُوں تھا، تُو جس کا ہے اک ٹُوٹا ہوا تارا؟"**

یہاں اقبال مسلمانوں کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ کسی زمانے میں دنیا کے رہنما تھے لیکن آج وہ اپنی شناخت کھو چکے ہیں۔

**آخر میں پیغام:**
نظم کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تلقین کرتے ہیں کہ اگر وہ کامیابی چاہتے ہیں تو انہیں اپنے کردار کو مضبوط کرنا ہوگا، ایمان کو تازہ کرنا ہوگا، اور قربانی اور محنت کے جذبے کو اپنانا ہوگا۔

> **"کی محمد سے وفا تُو نے، تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں"**

یہ اشعار مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا پیغام ہیں کہ اگر وہ حضرت محمدﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں، تو اللہ تعالیٰ کی مدد ان کے ساتھ ہوگی اور وہ ایک بار پھر دنیا پر غالب آ سکتے ہیں۔

# # # **نتیجہ**
**"جواب شکوہ"** دراصل مسلمانوں کو خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے اور انہیں بتاتا ہے کہ اگر وہ اپنی موجودہ حالت پر افسوس کر رہے ہیں تو اس کی وجہ خود ان کی کمزوری اور دین سے دوری ہے۔ اس نظم کا پیغام یہی ہے کہ کامیابی کا راستہ ایمان، عمل، قربانی اور اتحاد میں مضمر ہے۔

24/02/2025

علامہ اقبال کی نظم **"شکوہ"** اردو شاعری کا ایک شاہکار ہے جو 1909 میں لکھا گیا تھا اور پہلی بار 1911 میں انجمن حمایتِ اسلام کے جلسے میں سنایا گیا۔ یہ نظم مسلمانوں کی زبوں حالی، ماضی کی عظمت اور موجودہ تنزلی کے پس منظر میں لکھی گئی ہے۔ اس نظم میں علامہ اقبال نے ایک عاشقانہ اور دردمندانہ انداز میں اللہ سے شکوہ کیا ہے کہ مسلمان جو کبھی دنیا پر حکمرانی کرتے تھے، آج زوال کا شکار کیوں ہیں؟

# # # **نظم کا خلاصہ**
یہ نظم دراصل ایک **مناظرانہ** شاعری ہے، جس میں شاعر اللہ سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کی موجودہ بدحالی کا گلہ کرتا ہے۔ نظم کا بنیادی موضوع **مسلمانوں کی شکایت اور ان کی عظمتِ رفتہ** ہے۔ اقبال نے ایک دردمند اور شکوہ کناں لہجے میں یہ سوالات اٹھائے ہیں کہ مسلمانوں نے تیرے دین کی خدمت کی، تیری کبریائی کے ترانے گائے، دنیا میں تیرے دین کا بول بالا کیا، پھر بھی آج وہ ذلیل و خوار کیوں ہیں؟

# # # **نظم کے اہم نکات**
1. **مسلمانوں کی قربانیاں**
- شاعر بیان کرتا ہے کہ مسلمانوں نے ہر جگہ اللہ کی کبریائی کے نعرے بلند کیے، دین کی سربلندی کے لیے میدانِ جنگ میں اپنی جانیں نچھاور کیں، اندلس، ہندوستان اور ایران میں اللہ کے دین کا جھنڈا لہرایا۔
- وہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں نے دینِ حق کے فروغ کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیں اور اللہ کی رضا کے لیے جہاد کیا۔

2. **مسلمانوں کی محبت اور فداکاری**
- شاعر ذکر کرتا ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ اللہ کی رضا کے لیے جدوجہد کی، نہ صرف جنگوں میں بلکہ علمی اور تہذیبی میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
- وہ یاد دلاتا ہے کہ جب دنیا میں ہر طرف کفر اور شرک کا اندھیرا تھا، تب مسلمانوں نے اسلام کے چراغ جلائے۔

3. **بدحالی اور زوال پر شکوہ**
- اقبال اللہ سے شکوہ کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے اتنی قربانیاں دینے کے باوجود بھی آج زوال اور پستی کا سامنا کیوں کیا؟
- شاعر سوال کرتا ہے کہ اگرچہ دوسرے مذاہب کے پیروکار عیش و عشرت میں ہیں، مگر مسلمان غلامی اور ذلت میں کیوں مبتلا ہیں؟
- وہ اللہ سے پوچھتا ہے کہ کیا یہ انصاف ہے کہ کفار ترقی کریں اور اہلِ ایمان مشکلات میں گھرے رہیں؟

4. **اللہ کی طرف سے جواب کی تمہید**
- نظم کے آخر میں شاعر اس بات کا ذکر کرتا ہے کہ یہ شکایت صرف محبت کی وجہ سے ہے، کیونکہ ایک سچا عاشق ہی اپنے محبوب سے شکوہ کرتا ہے۔
- اقبال نے یہ سوالات اس امید کے ساتھ اٹھائے کہ اللہ مسلمانوں کو دوبارہ وہی عروج عطا کرے گا جو انہیں ماضی میں حاصل تھا۔

# # # **ادبی اور فکری پہلو**
- **لب و لہجہ:**
یہ نظم ایک دردمندانہ اور شکوہ کناں انداز میں لکھی گئی ہے، جس میں شاعر کا درد، تڑپ اور بے چینی واضح جھلکتی ہے۔
- **زبان:**
اس نظم کی زبان انتہائی شاندار، مؤثر اور فصیح ہے، جس میں عربی و فارسی کے الفاظ کی خوبصورتی جھلکتی ہے۔
- **بیانیہ:**
نظم کا بیانیہ مناظرانہ اور مکالماتی ہے، یعنی شاعر اللہ سے براہ راست مخاطب ہے۔
- **موضوع:**
نظم کا بنیادی موضوع مسلمانوں کا ماضی، حال اور مستقبل ہے۔ اقبال نے مسلمانوں کو ان کی عظمتِ رفتہ یاد دلانے کی کوشش کی ہے تاکہ وہ دوبارہ بیدار ہوں اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوں۔

# # # **نتیجہ**
"شکوہ" محض اللہ سے گلہ نہیں بلکہ مسلمانوں کو بیدار کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اقبال نے اس نظم کے ذریعے امتِ مسلمہ کو اپنی کھوئی ہوئی عظمت یاد دلائی اور انہیں جھنجھوڑا کہ اگر وہ اپنے ایمان، عمل اور اتحاد میں مضبوط ہوں تو دوبارہ ترقی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ نظم بعد میں **"جوابِ شکوہ"** کے ساتھ مکمل ہوتی ہے، جس میں اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو ان کی کوتاہیوں کا احساس دلایا جاتا ہے۔

22/02/2025

دوستی کا سچا مطلب

کسی گاؤں میں دو دوست، احمد اور فراز، رہتے تھے۔ دونوں بچپن کے ساتھی تھے اور ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہتے۔ احمد ایک ایماندار اور نیک دل انسان تھا جبکہ فراز کچھ جلد باز اور غصے والا تھا۔

ایک دن دونوں نے جنگل کی سیر کا منصوبہ بنایا۔ جنگل میں چلتے چلتے وہ ایک خطرناک ریچھ کے سامنے آ گئے۔ ریچھ کو دیکھ کر فراز خوفزدہ ہو گیا اور فوراً ایک درخت پر چڑھ گیا، مگر احمد درخت پر چڑھنا نہیں جانتا تھا۔

اس نے جلدی سے زمین پر لیٹ کر سانس روک لی، کیونکہ اسے معلوم تھا کہ ریچھ مردہ انسان کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ ریچھ احمد کے قریب آیا، اس کے کان کے پاس آیا اور کچھ دیر سونگھنے کے بعد چلا گیا۔

جب ریچھ دور چلا گیا تو فراز درخت سے نیچے آیا اور احمد سے مذاق میں پوچھا، "یہ ریچھ تمہارے کان میں کیا کہہ رہا تھا؟"

احمد نے مسکراتے ہوئے کہا، "ریچھ نے مجھے کہا کہ سچے دوست مشکل وقت میں ساتھ نہیں چھوڑتے!"

یہ سن کر فراز کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے احمد سے معافی مانگی۔ احمد نے اسے معاف کر دیا اور دونوں نے عہد کیا کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔

سبق:
سچی دوستی وہی ہوتی ہے جو مشکل وقت میں ساتھ دے، نہ کہ خود کو بچانے کے لیے دوسرے کو چھوڑ دے۔

04/10/2023
Photos from Taleem City's post 02/03/2023
Want your school to be the top-listed School/college in Sialkot?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Chak Khoja Bajwat
Sialkot

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00