Muhammad UMER GOHAR
I want to educate peoples how they can export products. I want to share my knowledge regarding my business.
I wish everyone try to do business and export products in international markets.
دُنیا بھر میں مہنگائی کی شرح میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے شاید ہی کوئی طبقہ یا فرد ایسا ہو جسے مُشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑا رہا ہو۔ اس سب کے بیچ اکثر والدین خاص طور پر اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔
دل و دماغ میں یہی چل رہا ہوتا ہے کہ کیا وہ اپنے بچوں کو باشعور اور مثبت شہری بنانے کے لیے بہتر تعلیم دے پائیں گے؟ کیا اُن کے پاس اتنے مالی وسائل ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی تعلیم اور تربیت کے لیے اُنھیں کسی اچھے تعلی ادارے میں داخل کروا سکیں۔
اب یہاں یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ہمارے بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر ایک ایسی چیز ہے جس میں تمام والدین شریک ہیں۔
پہلی تشویش عام طور پر اچھی صحت کو برقرار رکھنے یا زندگی میں اپنے انتخاب سے خوش رہنے کے بارے میں ہوتی ہے۔
لیکن جیسے جیسے وہ انھیں بڑے ہوتے دیکھتے ہیں، ایک تشویش جو اکثر پیدا ہوتی ہے وہ ان کی معاشی خوشحالی کے گرد گھومتی ہے۔
برطانیہ میں سٹینڈرڈ لائف کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہر 10 میں سے سات والدین اپنے بچوں کے مالی مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں۔
اس تشویش کے عام طور پر دو پہلو ہوتے ہیں، ایک یہ کہ اپنے مستقبل کے لیے بچت کیسے کریں، دوسرا یہ ہے کہ کیا وہ اس بچت کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔
مطالعات سے پتا چلا ہے کہ کم عمری سے بچت کرنے کی عادت سے بچے مستقبل میں اپنے معاشی معاملات بہتر انداز میں چلا پاتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
لیکن یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ بچت کرنا اتنا آسان نہیں ہے، جیسا کہ امریکہ کی ڈیوک یونیورسٹی کے معاشی ماہر اور مصنف ڈین ایریلی کہتے ہیں: ’پیسے کی خامیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے بارے میں کبھی بھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ کب تک کسی کے پاس رہے گا، اسی وجہ سے ہمارے لیے یہ سوچنا بہت مشکل ہے کہ طویل مدت میں اس کا اصل مطلب کیا ہے۔‘
بی بی سی کے پوڈ کاسٹ ’منی بوکس‘ میں ان کا کہنا تھا کہ ’جو چیز واقعی اہم ہے وہ یہ ہے کہ انھیں (بچوں کو) کچھ کنٹرول رکھنے اور پیسے کے بارے میں اپنے کچھ فیصلے کرنے کا موقع دیا جائے تاکہ شاید وہ کچھ غلطیاں کر سکیں۔‘
معاشی ماہر سٹیفنی فٹزجیرالڈ کا کہنا ہے کہ ’اوہ، کاش میں نے کچھ پیسے بچا لیے ہوتے یا میں نے اُنھیں کسی ایسی چیز پر خرچ کیا ہوتا جو طویل عرصے تک میرے پاس رہتی۔‘
ایک سانپ ایک جگنو کا پیچھا کر رہا تھا جگنو جو صرف چمکنے کے لیے جیتا تھا جگنو نے رک کر سانپ سے کہا کیا میں آپ سے تین سوال پوچھ سکتا ہوں سانپ نے کہا ہاں .1 کیا میں اس مخلوق سے تعلق رکھتا ہوں جو آپ کی غذا ہے ۔ سانپ نے کہا نہیں ۔ 2 ۔ کیا میں نے آپ کو کچھ کہا سانپ نے کہا نہیں 3 پھر تم مجھے کیوں ہڑپ کرنا چاہتے ہو سانپ نے جواب دیا کیونکہ میں تم کو چمکتا ہوا دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتا کہانی کا اخلاقی سبق ۔۔۔ اکثر کچھ لوگ آپ کو چمکتا ہوا دیکھ کر برداشت نہیں کر سکتے اسی لیے وہ لوگ سانپوں کی طرح کام کرتے ہیں خاموش اور آپ کو تباہ کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں جہاں بہت سے سانپ اپنے مفاد کی خاطر کسی اور کو چمکنے نہیں دیتے خدا تعالی ہم سب کو اور ہمارے متعلقین ۔ حاسدوں ۔ دشمنوں ۔ بغض رکھنے والوں اور شر پھیلانے والوں سے اور ان کے شر سے ہمیشہ بچائے رکھے آمین ۔
Restaurant waloon ki 2 numberiyaan
Video ko share kr dain shayad koi action ly sky
10/10/2023
Malaysia Tour for 4 days | Singapore to Malaysia #batucaves #gentinghighland #sunwaylagoon #kltower Malaysia Tour for 4 days | Singapore to Malaysia you can get visa for Malaysia How you can book your ho...
10/10/2023
https://youtu.be/7fFdCFxT4nY?si=w9990EnFmsNgsTxQ
Malaysia Tour for 4 days | Singapore to Malaysia #batucaves #gentinghighland #sunwaylagoon #kltower Malaysia Tour for 4 days | Singapore to Malaysia you can get visa for Malaysia How you can book your ho...
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Sialkot