مفتی طارق مسعود صاحب سے گزارش
مفتی صاحب مختلف مکاتب فکر نے اپنی استطاعت اور بساط کے مطابق ترہین مذہب اور توہین رسالت کے قوانین سے فائدہ اٹھایا ہے جس کا جتنا بس چل سکا اس نے اتنے مخالفین کو مارا ، مروایا اور پھنسایا۔
ہم تو سیدھے سادھے لوگ ٹھہرے ان قاتلوں کو گلوریفائی تو آپ ہی کے پیٹی بھائیوں نے کیا
کبھی بھی کسی کا موقف نہیں سنا گیا نہ ہی اس موقف کو میڈیا پر پیش کیا گیا۔
اب آپ نے اپنے آپ کو مبرا کر لیا اور اپنا موقف سوشل میڈیا پر پش کر دیا لوگ اسے سن کر اس پر اپنی رائے پیش کر رہے ہیں۔
عوام دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔
خدا راہ اس عوام کو تقسیم ہونے سے بچایئے
کوئی فرق نہیں پڑتا آپ اپنی جان کی قربانی دے دیجیے۔
جس دھج سے کوئی مقتل گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
اور ویسے پنجابی کی ایک کہاوت ہے
ماڑے دی مر گئی ماں تے کوئی لیندا نئیں ناں
تگڑے دا مرگیا کتا تے پنڈ سارا نئیں ستا
جناب تسی تگڑے او
اگر آپ جان کی قربانی دیں گے تو ہی اس قربانی کی کوئی وقت ہوگی اس بات پر بحث ہوگی
لوگ رائے دیں گے کہ توہیں کا الزام کسی بے گناہ کے سرپر تھوپنا نہیں چاہیے۔
اور اگر ایسا الزام کوئی لگاتا ہے تو الزام ثابت نہ ہونے پر وہی پھانسی کا پھندہ لگانے والے کے گلے میں ڈالنا چاہیے۔
اب اگر آپ ایسے چھپتے پھریں گ تو بات کیسے بنے گی۔
ڈریں نہیں یہ تو دین کی اور معاشرے کی بہت بڑی خدمت ہوگی۔
اللہ نے آپ کو موقع دیا ہے
آئیں کینڈا کے خوبصورت مناظر کو چھوڑیں اللہ کی جنّت کینیڈا سے بہت زیادہ خوبصورت ہے۔
وہاں دودھ شہد کی نہریں بہ رہی ہوں گی۔ اور ستر ستر حوریں ہوگی۔
حوروں کے حوالے سے تو آپ کا اور مولانا طارق جمیل صاحب کا شغف بھی کافی دلچسپ پے۔
حضور ھر کہوں گا یہ جان تو آنی جانی ہے۔
دیکھیں کشمیر کے نام پر افغان جہاد کے نام پر بھی تو ہزاروں مسلمان شہید ہوےئ تھے ناں
اگر وہ بھی امریکہ کینڈا میں چھپ کے بیٹھ جاتے تو دین کی خدت کیسے ہوتی
کہاں سے بنتے جامعات کے تنے بڑے کیمپسز کہاں سے آتیں کروڑوں کی لگژری گاڑیاں جن پر سواری کرکے علمائے کرام دین کی مزید خدمت کے لیے جوانوں کو ابھارتے مزید شہادتیں ہوتیں۔
مولانا دین تو لہو مانگتا ہے اور اگر آج دین کی سرفرازی کے لیے آپ کو لہو دینا پڑ رہا ہے تو عار کیسی؟
مولانا آپ تو خوش قسمت ہیں اللہ نے آپ کو اس مقصد کے لیے چنا۔
آئیے بسم اللہ کیجیے اور اپنا وجود مجاہدین ختم نبوت اور محبن و عاشقان رسول کے حوالے کر دیجیے۔ ہوسکتا ہے آپ کی غلطی کی تلافی توبہ سے نہ ہوتی ہو اس کے لیے کفارہ لازم ہو۔
اور یہ لہو آپ کے کفارے کا سبب بھی بن جائے۔
مولانا یہی جملے ہمارے نوجوان کئی عشروں سے سن سن کر جانیں دیتے آئے ہیں۔
آج اگر اپ کوئی ویسی ہی دین کی خدمت کے لیے ابھار رہا ہے تو تردد کیسا؟
امید ہے آپ ملک و ملت کے مفاد کے لیے بہتر فیصلہ کریں گے۔
وسیم لیاقت
Hello England
This page contains educational photos and videos by Mr. Waseem Liaquat and Mrs. Nayab Wasim.
Wrote my first English article since arriving in the UK, and I hope my friends will enjoy it.
Becoming a powerful nation mostly depends on how strong its economy is. Everything else comes second. When people moved out of forests and began trading, some thieves started stealing to get richer. And when traders got into fights, they did it to stay strong economically. If you look at the big wars in history, they were mainly about gaining power, growing the economy, or controlling trade routes. World War I, World War II, and other European wars, like the ones between the Roman and Prussian Empires, were all about making economies stronger.
The United States and the Soviet Union fought to prove their economic strength by weakening each other's economic power. Similarly, Japan destroyed two of its cities in pursuit of control over vital trade routes. Armies are formed to safeguard a nation's robust economy. Education and training programs are also geared towards enhancing economic prowess. A country tailors its education policies based on its current economic strength, the potential for future growth through its people, and the necessary skills for economic advancement. Ultimately, the advantages of a strong economy trickle down to benefit the populace.
In our country, the purpose of the army is not to defend a strong economy. If viewed impartially, our army has never protected the country's economy, nor has it played any role in improving it. Rather, he always strengthened himself by creating a state within the state, as a result of which the state became weaker, the people became miserable, the economy became so decrepit that the politicians also realized that we don't have anything to eat from it anymore. We will not be able to give any part of it to the army. And at that time all the politicians who are involved in the acquisition of power have been sitting on the mace of power.
Even the military leadership knows that imposing martial law or an emergency won't bring them any benefits. This is because the army has wiped out all sources of income. If you look around, you'll notice that many lucrative institutions were once led by retired generals, but now these institutions have crumbled. The country can only progress with a more effective economic strategy, which is hindered by the prevailing military mindset. These generals have often retreated from neighboring countries after losing in wars. But now, their battle is against their own nation and its people, and they're on the verge of losing it.
Nowadays, they're desperately seeking support, hoping someone will intervene to salvage their reputation by offering one-time aid and some scheme to sustain their extravagant lifestyle. In the past, they relied on offering their services through war contracts, but with no significant conflicts on the horizon and no countries extending loans, they've resorted to squeezing the people to an unbearable extent. They seem oblivious to the consequences of their actions, as do their supporters. What's needed now is unity rather than division. The crumbling wall just needs a few final pushes.
Wasim Liaquat
Portsmouth, UK
21 February 2024
کوئی بھی قوم ایک بڑی طاقت اپنی معاشی طاقت کی بنیاد پر بنتی ہے۔ باقی سب باتیں جزوی ہیں۔ جب انسان نے جنگلوں سے نکل بستیاں آبادکرنا شروع کیں تجارت کا آغاز کیا تو انہیں لوٹنے والے ڈاکوؤں نے بھی اپنی معاشی بہتری کے لیے لوٹنا شروع کیا اور تاجروں نے اگر جنگیں کرنا شروع کیں تو انہوں نے بھی اپنی معاشی برتری کو قائم رکھنے کے لیے اور اپنے آپ کو مزید مضبوط کرنے کے لیے جنگیں کیں۔ انسانی تاریخ کی بڑی بری جنگوں پر اگر نظر دوڑائیں تو ان کا مقصد آپ کو طاقت کی حصول معیشت کی وسعت یا کسی تجارتی راست پر قبضہ ہی نظر آئے گا۔ جنگ عظیم اوّ ل جنگ عظیم دوم یورپ میں ہونے والی دیگر جنگیں رومن اور پرشین ایمپائر کے درمیان جنگیں ان سب کا مقصد صرف اور صرف معیشت کی مضبوطی تھی۔ امریکہ اور سویت یونیں کے درمیان ہونے والی جنگ ک مقصد بھی ایک کی معاشی برتری کو ختم کرکے اپنی معاشی برتری قائم کرنا تھا۔ جاپانی بھی دنیا کے سب سے بڑے ٹریڈ روٹ پر قبضے کے حصول کی خاطر اپنے دو شہر ملبے کا ڈھیر بنوا بیٹھا تھا۔
فوجیں مضبوط معیشت کی حفاظت کے لیے پالی جاتی ہیں ۔ عوام کی تعلیم و تربیت کرنے کا مقصد بھی اسی معیشت کو مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ کوئی بھی ملک اپنی تعلیمی پالیسی اسی بنیاد پر ڈیزائن کرتا ہے کہ میں معاشی طور پر کتنا مضبوط ہوں اور میرے عوام کو مستقبل میں میں مجھے مزید کتنا مضبوط کر سکتے ہیں اور اس کے لیے کنکن کن علوم کی ضرورت ہے۔
اور اس مضبوط معیشت کا فائدہ عوام کو ہی منتقل ہوتا ہے۔
یہ باتیں دماغ کے کسی نہ کسی کونے کھدرے میں چھپی ہوئی تھیں لیکن برطانیہ آنے کے بعد ادراک ہوا کہ ان باتوں پر مہر نصدیق ثبت ہوئی۔
ہمارے ملک میں فوج مقصد کسی صورت مضبوط معیشت کا دفاع نہیں ہے ۔ اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو ہماری فوج نے ملک کی معیشت کی نہ تو کبھی حفاظت کی ہے نہ ہی اس میں بہتری کے لیے کوئی کردار ادا کیا ہے۔ بلکہ ریاست کے اندر ایک ریاست بنا کر ہمیشہ اپنے آپ کو ہی مضبوط کیا جس کے نتیجے میں ریاست کمزور ہوتی گئی عوام بدحال ہوتے گئے معیشت اس قدر خستہ حال ہوگئی کہ سیاستدانوں کو بھی اندازہ ہوگیا کہ نہ تو اب اس میں سے ہمیں کھانے کو کچھ ملے گا نہ اس میں سے ہم فوج کو کوئی حصہ دے سکیں گے۔ اور اس وقت طقت کے حصول میں جتنے بھی سیاستدان شامل ہیں وہ سبھی اقتدار کی گدی پر براجمان رہ چکے ہیں۔
فوج ی قیاد ت کو اس بات کی بھی ادراک ہے کہ اب اگر مارشل لا لگائیں گے یا ایمرجنسی لگائیں گے تو بھی ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ کیونکہ کمائی کے سارے ذرائع تو فوج ختم کر چکی ہے۔ آپ نظر دوڑا کر دیکھ لیں جتنے بھی کمائی والے ادارے تھے ان کے سربراہ ریٹائرڈ جرنیل تھے اب وہ ادارے تباہ ہوچکے ہیں۔
ملک کی بہتری صرف ور صرف بہتر معاشی پلان سے ممکن ہے جو اس فوجی مائنڈ سیٹ کی موجودگی میں ممکن نہیں۔
یہ جرنیل کئی بار ہمسایہ ملک سے جنگوں میں شکست کے ہاتھوں دوچر ہوچکے ہیں۔ لیکن اب ان کی جنگ اپنے ہی ملک کے ساتھ تھی اور عوام کے ساتھ تھی اب یہ اس میں ہارنے کے قریب ہیں۔ یہ بس اب سہارہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ کوئی آگے بڑھے اور ان کو ایک بار سہارہ دے کر ان کی ساکھ کو بچا لے ان کی عیاشیوں کے سامان کو جاری رکھنے کے لیے کوئی حیلہ کردے۔ کیوں اس سے پہلے تو یہ جنگوں میں ٹھیکوں پر اپنی خدمات دیتے تھے اب کوئی ایسی قابلِ ذکر جنگ متوقع نہیں اور کوئی ملک قرضہ دے نہیں رہا عوام کو ناقابلِ برداشت حد تک یہ نچوڑ چکے ہیں اس لیے آگے مزید آمدن یا کمائی کے حصول کا کوئی زریؑہ انہیں نظر نہیں آتا نا ہی ان کے حواریوں کو نظر آتا ہے۔
عوام کو تقسیم ہونے کی بجائے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ بس یہ دیوار گرنے ہی والی ہے کچھ آخری دھکوں کی ضرورت ہے۔
وسیم لیاقت
پورٹسماؤتھ برطانیہ
21 فروری
20/02/2024
فرانس اور سپین نے نپولین کی سربراہی میں برطانیہ اور فرانس کے درمیان موجود سمندری پٹی انگلش چینل پر قبضے کی خاطر بحری مہم کا آغاز کیا اس وقت برطانوی ایڈمرل لارڈ نیلسن نے بہت بہادری سے اس کا دفاع کیا اور جنگ میں نپولین کی فوجوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ 14 ستمبر 1805 وہ دن ہے جس دن ایڈمرل نیلسن پورٹسماؤتھ شہر میں داخل ہوا ۔ پورٹسماؤتھ اور اس کے گردونواح سے ایک جم غفیر ایڈمیرل کو دیکھنے کے لیے جمع ہوگیا تھا۔ لوگ شدید اضطراب کا شکار تھے کیوں کہ نپولین پورے یورپ پر قبضے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اور انگلش چینل میں بحری مہم میں اگر فرانس کامیاب ہوجاتا تو برطانیہ پر قبضے میں بہت بڑی رکاوٹ دور ہوجاتی۔ ایڈمرل لارڈ نیلسن 14 ستمبر کی صبح شہر میں داخل ہوا لوگوں سے مخاطب ہونے کے بعد جارج ہوٹل میں ناشتہ کیا واک کی اور اپنی مہم پر روانہ ہوگیا۔ یہی وہ شہر ہے جہاں ایڈمیرل نیلسن نے جنگ پر روانہ ہونے سے پہلے اپنا آخری دن گزارا۔ اس کے بعد وہ اپنی مہم پر روانہ ہوگیا اس مہم کے دوران ہی 21 اکتوبر کو ایڈمرل کو فرنچ سنائپر نے نشانہ بنایا جو ان کی موت کا سبب بنا۔
اس شہر نے اپنے ہیرو کو بہت زبردست طریقے سے خراج ِ تحسین پیش کیا ۔ آج بھی ان سے منصوب مختلف اشیا میوزیم کا حصہ ہیں۔ ان کا مجسمہ اولڈ پورٹسماؤٹھ کے گرینڈ پریڈ میں نصب ہے۔ جس طرح نپولین فرانسیسی تاریخ کا ایک شاندار جرنیل تھا اسی طرح ایڈمیرل برطانوی بحری فوج کا ایک شاندار ایڈمرل تھا۔
وسیم لیا قت
20 فروری 2024
پورٹسماؤتھ برطانیہ
20/02/2024
HMS Warrior
فرانس اور برطانیہ کے درمیان سمندری پٹی کو انگلش چینل کہتے ہیں۔ اس چینل پر اور برطانیہ پر قبضے کے لیے نپولین بونا پاٹ نے بھرپور کوشش کی۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی بیٹل آف ٹیرافیگلر بھی۔ اس جنگ مین برطانیہ کے زیرک اور بہادر ایڈمیرل نیلسن اور فرانس کے ایڈمرل پئیر چالس ویلینووا مدمقابل ائے ۔ نپولین کی اس جنگی مہم میں صرف فرانس ہی شامل نہیں تھا بلکہ سپین بھی اس کے ہم پلہ تھا۔ مقصد انگلش چینل پر قبضہ کرکے فرینچ اور سپینش نیوی کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا۔ ویسے بھی سمندری راستوں سے کے متبادل کوئی ٹریڈ روٹ نہیں ہوتا۔ان پر قبضہ ہی طاقت کی سب سے بڑی علامت ہے ۔ نپولین کی یہ مہم تو 1805 میں شروع ہوئی تھی۔ اور فرنچ نیوی نے پہلا لوہے کا جنگی جہاز گلوری بنایا اس سے پہلے لکڑی کے جہازوں کو ہی جنگی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ برطانیہ نے طاقت کے توازن کو قائم رکھنے کے لیے دنیا کا دوسرا آہنی جنگی بحری جہاز بنانا شروع کیا جو کہ 1961 میں مکمل ہوا۔ اس بحری جہاز نے ایک عرصہ برطانوی وقار کی اور اس کی سمندری حدود کی حفاظت کی۔ میرے عقب میں آپ اس شاہکار کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہ آج کل پورٹسماؤتھ کے برٹش نیوی میوزیم کی زینت ہے۔
وسیم لیا قت
20 فروری 2024
پورٹسماؤتھ برطانیہ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
Sialkot