23/07/2024
*آم کے پودوں کی کانٹ چھانٹ کی اقسام اور ان کو کرنے کا وقت*
آم کے پودوں کی کانٹ چھانٹ کا بنیادی مقصد پودوں کے تمام حصوں تک ہوا اور روشنی کے گزرکو یقینی بنانا ہے تاکہ پودے اندر سے صاف ستھرے ہوں،اِس سے نہ صرف پھل زیادہ اور اچھی کوالٹی کابنتا ہے بلکہ کیڑوں اور بیماریوں کا تدارک بھی آسان ہوجاتا ہے۔
آم کے پودوں کی کٹائی *پانچ مختلف پوائنٹ* کو مدنظر رکھتے ہوئے کی جاتی ہے۔
1۔ *پودے کے تنے اور ٹہنیوں کی صفائی:*
تنا اورٹہنے بڑے پودوں کے زمین سے اونچائی کا تقریباً ایک چوتھائی ہوتا ہے۔ اِس حصّہ پر کوئی نئی شاخ، پتے نہیں ہونے چاہئیں۔ اِس جگہ کو ہمیشہ صاف ستھر رکھا جاتا ہے تاکہ یہاں کیڑوں کو سخت گرمی اورسردی میں پناہ نہ مل سکے کیوں کہ یہاں پر موجود شاخیں اور پتے موسم کی شدت میں کیڑوں کو بہترین پناہ گاہ مہیا کرتے ہیں۔ اس کٹائی کیلئے کوئی مخصوص وقت نہیں ہے تاہم شدید گرمی اور سردی سے پہلے اِن جگہوں کی صفائی ضروری ہے۔
2۔ *گھنی شاخوں کی چھدرائی کرنا(روشن دان بنانا):*
پودے کی بیرونی گھنی شاخیں پودے کے اندر ہوا اور روشنی کو گزرنے نہیں دیتی جس کی وجہ سے پودے کی اندرونی شاخیں نہ صرف پھل نہیں اٹھاتی بلکہ اس سے پودے کا اندرونی حصہ مختلف کیڑوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔پودے کے اوپر سورج والی سمت سے زیادہ گھنی شاخوں کی چھدرائی کرنے سے پودے کے اندر ہوا اور روشنی کی گزر گاہیں بن جاتی ہیں جس سے یہ دونوں مسائل حل ہوجاتے ہے۔ کٹائی کا یہ عمل سال بھر کِسی وقت بھی کیا جاسکتا ہے تاہم گرمیوں کے اختتام پر یہ عمل انجام دینا سب سے بہتر ہے۔ کیوں کہ سردیوں میں پودے کے اندر روشنی پہنچنے سے پودے کے اندر والی شاخیں پھل دینے کیلئے تیار ہو جاتی ہیں اور وہاں پر موجود کیڑے بھی تلف ہوجاتے ہیں۔
3۔ *پودوں کی جسامت کنٹرول کرنا:*
آم کے پودوں کی جسامت میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے اور یوں یہ پودے قد اور پھیلاؤ میں بہت بڑے ہوجاتے ہیں۔ پودوں کے ٹہنے ایک پودے سے دوسرے پودوں کے اندر چلے جاتے ہیں اور اس طرح یہ پودے چاروں طرف سے نہ صرف روشنی حاصل نہیں کرپاتے بلکہ باغات کے اندر ہوا کا گزر بھی متاثر ہوجاتا ہے۔جہاں جہاں پودے آپس میں جڑے ہوتے ہیں وہاں وہاں سے پھل بھی نہیں دے پاتے۔ اِن پودوں کو اوپراور سائیڈ سے کاٹ کر چھوٹا کردیا جاتا ہے اور ان پودوں کی جسامت کو اُس حد تک محدود کر دیا جاتا ہے جو پودوں کے درمیانی فاصلہ کے حساب سے مناسب ہو۔کٹائی کا یہ عمل پھل توڑنے کے فوراً بعد کرنا ضروری ہے تاکہ پودے کے اوپر نئی شاخیں جلد نکل آئیں اور وہ اگلے سال پھل دینے کیلئے تیار ہو جائیں۔
4۔ *پودے کی چھتری کو زمین سے اونچا کرنا:*
پودے کی وہ تمام شاخیں جو زمین کے ساتھ لگ رہی ہوں انہیں کاٹنا ضروری ہے تاکہ پودے کے نیچے ہوا اور روشنی پہنچ سکے اور پودے کی شاخیں زمین سے دور رہیں۔ پودے کے نیچے زمین پر مستقل سایہ رہنے کی وجہ سے یہاں کیڑے اور بیماریاں ہمیشہ موجود رہتی ہیں جووقتاً فوقتاً پودے کو نقصان پہنچاتی رہتی ہیں۔ پودے کی نچلی شاخیں زمین سے 3فٹ اونچی ہونی چاہیں۔چھتری زمین سے3فٹ سے کم یا زیادہ اونچائی درست نہیں۔ کٹائی کا یہ عمل بھی کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے مگر پھل توڑنے کے فوراً بعد یہ عمل زیادہ فائدہ مند ہے۔
5۔ *بیمار اور خشک شاخوں کی کٹائی:*
پودے کے اوپرموجود خشک اور بیمارشاخیں پودے پر بیماری پھیلانے کا سبب بنتی ہیں یہ شاخیں پھولوں اور نئے شگوفوں پر بیماری کو پھیلاتی ہیں اِ س طرح یہ بیمارشاخیں پود ے کے اوپر موجود پھل کو بھی متاثر کرتی ہے جو بعد ازاں پکنے پر خراب ہو جاتا ہے لہذا اِن شاخوں کا پودے سے کاٹنا بہت ضروری ہے یہ شاخیں پھل کی برداشت کے بعد اور پھول نکلنے سے پہلے دو تین دفعہ پودوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر کاٹ دینی چاہیں۔
Muhammad Iqbal, Scientific Officer,
Mango Research Station, Shujabad