1. سوال: اسلام میں حلال کیا ہے؟
جواب: جو چیز اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ نے جائز قرار دی ہو، وہ حلال ہے۔
2. سوال: اسلام میں حرام کیا ہے؟
جواب: جس چیز سے اللہ تعالیٰ اور رسول ﷺ نے منع فرمایا ہو، وہ حرام ہے۔
3. سوال: کیا جھوٹ بولنا حلال ہے؟
جواب: نہیں، جھوٹ بولنا حرام ہے۔
4. سوال: کیا سود لینا اور دینا جائز ہے؟
جواب: نہیں، سود لینا اور دینا حرام ہے۔
5. سوال: کیا چوری کرنا جائز ہے؟
جواب: نہیں، چوری کرنا حرام ہے۔
6. سوال: کیا حلال روزی کمانا عبادت ہے؟
جواب: جی ہاں، حلال روزی کمانا بڑی نیکی اور عبادت ہے۔
7. سوال: کیا رشوت لینا جائز ہے؟
جواب: نہیں، رشوت لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔
8. سوال: کیا والدین کی خدمت کرنا حلال اور نیکی ہے؟
جواب: جی ہاں، والدین کی خدمت بہت بڑی نیکی ہے۔
9. سوال: کیا شراب پینا جائز ہے؟
جواب: نہیں، شراب پینا حرام ہے۔
10. سوال: کیا دھوکہ دینا جائز ہے؟
جواب: نہیں، دھوکہ دینا حرام ہے۔
11. سوال: کیا حلال جانور کا شرعی طریقے سے ذبح کیا ہوا گوشت کھانا جائز ہے؟
جواب: جی ہاں، جائز ہے۔
12. سوال: کیا غیبت کرنا جائز ہے؟
جواب: نہیں، غیبت حرام ہے۔
13. سوال: کیا امانت میں خیانت کرنا جائز ہے؟
جواب: نہیں، امانت میں خیانت حرام ہے۔
14. سوال: کیا سچ بولنا نیکی ہے؟
جواب: جی ہاں، سچ بولنا نیکی اور ایمان کی علامت ہے۔
15. سوال: کیا یتیموں کا مال ناحق کھانا جائز ہے؟
جواب: نہیں، یہ سخت حرام گناہ ہے۔
صبغت العرفان قرآن اکیڈمی
عرفان علي سکندري مدرسه صديقيہ رحمانيہ صبغت الاسلام
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے دادا اور حضرت عثمان غنی کی نانی دونوں سگے بہن بھائی ہیں@
آئیں اک محفل یہاں بھی سجائیں ، سیدنا عثمان غنی رضی الله عنہ کی شان، مقام، خدمات میں کچھ لکھیں، شعر کی صورت میں یا نثر۔۔۔
28/05/2026
22/05/2026
https://chat.whatsapp.com/Kj5OHerb0pNDB5kcZ8Wx9G
*ذبح ڪرڻ کان اڳ قرباني جي جانورن مان نفعو وٺڻ ڪئين آھي....؟*
*مسئلو 80*
ذبح ڪرڻ کان اڳ قرباني جي جانورن مان نفعو وٺڻ جائز ناھي جئين ٻڪري ،مينھن مان کير ڏھڻ يا ڏاند کي اجرت (مزدوري) تي ڏيڻ جيڪڏهن نفعو ورتو اٿس ته انھن شين کي صدقو ڪري ڇڏي.
والله تـعـالي اعـلـم
*بھار شريعت ج 3 الف ص 347*
*03023639610*
(شـرعـي مسـائـل 1📚📚) WhatsApp Group Invite
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
چار افراد کا برابر رقم ملا کر جانور قربان کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ اگر چار افراد مِل کر برابر برابر رقم ڈال کر ایک بڑا جانور مثلاً گائے خرید کر بہ نیّتِ قربانی ذَبْح کریں تو ان کی قربانی ہوجائے گی یا نہیں حالانکہ بڑے جانور میں تو سات حصے ہوتے ہیں؟ نیز ان میں گوشت کی تقسیم کس طرح ہوگی۔
جواب
صورتِ مَسْئُولہ میں ان چار افراد کی قربانی ہوجائے گی کہ گائے، اونٹ وغیرہ جانوروں میں کم اَزکم ہر شخص کا ساتواں حصہ ہونا ضروری ہے اور اس سے زیادہ ہو تو حَرَج نہیں، گوشت وَزْن کر کے برابر برابر تمام شُرَکا میں تقسیم کیا جائے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضان مدینہ ستمبر 2017
19/05/2026
قسط نمبر 2
باقی رہی بات جانوروں کو تکلیف کی یا اس کی جان لینے کی تو اسلام میں جانوروں کو بلاوجہ یا بیجا تکلیف دینا سخت منع ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جانوروں کے ساتھ رحم، نرمی اور اچھا سلوک کرنے کی تعلیم دی ہے۔
ایک عورت صرف اس وجہ سے عذاب کی مستحق ہوئی کہ اس نے ایک بلی کو باندھ کر بھوکا رکھا، جبکہ ایک شخص کو اس لیے بخش دیا گیا کہ اس نے پیاسے کتے کو پانی پلایا۔ یہ احادیث بتاتی ہیں کہ اسلام جانوروں کے حقوق کا بھی خیال رکھتا ہے۔
قربانی یا حلال کرنے کے وقت بھی شریعت نے حکم دیا ہے کہ:
جانور کو کم سے کم تکلیف ہو
چھری تیز ہو
ایک جانور کے سامنے دوسرے کو ذبح نہ کیا جائے
مار پیٹ یا ظلم نہ کیا جائے
حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“اللہ نے ہر چیز میں احسان کو لازم کیا ہے، لہٰذا جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔”
اس لیے:
ظلم، مارنا، بھوکا رکھنا، تفریح کے لیے تکلیف دینا یا بے رحمی کرنا گناہ ہے۔
جبکہ ضرورتِ شرعی اور حلال مقصد کے لیے، رحم اور اصولوں کے ساتھ جانور ذبح کرنا جائز ہے۔
19/05/2026
مُستَحَب کام کیلئےگناہ کی اجازت نہیں
لیکن یاد رہے! چالیس دن کے اندر اندر ناخُن تَراشنا ، بَغْلوں اور ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا ضَروری ہے 40دن سے زِیادہ تاخیر گناہ ہے
۔چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت امامِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: یہ(یعنی ذُوالحِجّہ کے ابتِدائی دس دن میں ناخُن وغیرہ نہ کاٹنے کا)حکم صرف اِسْتِحْبابِی ہے ، کرے تو بہترہے نہ کرے تو مُضایَقہ نہیں، نہ اس کوحکم عُدُولی(یعنی نافرمانی) کہہ سکتے ہیں، نہ قربانی میں نَقْص (یعنی خامی) آنے کی کوئی وجہ، بلکہ اگر کسی شخص نے 31 دن سے کسی عُذر کے سبب خواہ بِلا عُذر ناخُن نہ تراشے ہوں کہ چاند ذِی الْحِجّہ کا ہوگیاتو وہ اگر چِہ قربانی کا اراد ہ رکھتا ہو اِس مُسْتَحَب پر عمل نہیں کرسکتا کہ اب دسویں تک رکھے گا تو ناخُن تراشوائے ہوئے اکتالیسواں دن ہوجائے گااور چالیس دن سے زیادہ نہ بنوانا گناہ ہے۔ فعلِ مُسْتَحَب کے لئے گناہ نہیں کرسکتا۔ (مُلَخَّص ازفتاوٰی رضویہ ج٢٠ ص٣٥٣۔٣٥٤)
18/05/2026
فرمانِ مُصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو عَشَرَہ ذُوالْحجَّہ سے زيادہ کسی دن میں اپنی عِبادت کیا جانا پسندیدہ نہیں اِس کے ہردن کا روزہ ایک سال کے روزوں اور ہرشب کاقِیام شبِ قَدْر کے برابر ہے۔ (جامع ترمذی ج۲ص۱۹۲حدیث۷۵۸)بعض احادیثِ مُبارَکہ کے مطابِق ذُوالحِجَّۃِ الْحَرام کا پہلا عَشَرہ (یعنی اِبتِدائی 10 دن) رَمَضانُ الْمُبارَک کے بعد سب دِنوں سے افضل ہیں۔ (فیضانِ سنت، ص:۱۴۰۳)بلکہ دن تو رَمَضان سے بھی افضل ہیں جبکہ راتیں رَمَضان کی افضل ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ان دنوں کو فضولیات میں ضائع کرنے کے بجائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت میں ہی بسر کریں، دن روزے سےاور شب عِبادَت میں گزاریں ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Shikarpur
78100