09/09/2026
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اذان کی اواز ائی اور اگر آدمی راستہ میں پیدل چل رہا ہے اتنی دیر کے لیے کھڑا ہو جائے جتنی دیر تک اذان ختم نہیں ہو جاتی یعنی تمام کام چھوڑ کر اذان کا جواب دے درمختیار میں لکھا ہوا ہے
تو کیا اگر انسان چلتے چلتے یا کام میں مصروف رہتے ہوئے اذان کا جواب دے تو کیا گنہگار ہوگا یا نہیں
ساٸل :
اشرف خان نارووال
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
الجواب بعون الوھاب
سوال میں فقہ کی مشہور کتاب ”درمختار“کے حوالہ سے پوچھا گیا ہے
جس کی اصل عبارت کچھ یوں ہے۔
وَيُسْتَحَبُّ أَنْ يَكُونَ سَاكِنًا عِنْدَ الأَذَانِ وَإِقَامَةِ الصَّلاةِ"
اذان اور اقامت کے وقت انسان کے لیے خاموش اور ساکن یعنی ٹھہرا ہوا ہونا مستحب ہے
صاحب کتاب اس مقام پر اذان کے مستحبات ذکر کرتے ہوۓ لکھتے ہیں۔جس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ اذان ہو رہی ہو تو بندہ مصروف(کام کاج یا چل رہا) ہو توکلمات ِاذان کی تعظیم میں مصروفيات ترک (چھوڑ )کر مثلا کام کاج چھوڑ کر یا چل رہا ہے تو رک کر اذان کا جواب دینا مستحب عمل ہے اور اگر اس حالت کو اختیار نہیں کرتا مستحب کا تارک ہے
البتہ ایسا کرنے سے گناہگار نہیں ہو گا ۔
واللٰہ اعلم و رسولہ اعلم بالصواب
حررہ محمد نعیم اللٰہ مجددی
25ربیع الاول 8 ستمبر 2026 بروز منگل