26/06/2025
*صفر ہٹاؤ، پچاس لاؤ*
بطورِ قوم ہم جھوٹ کو معمول کا حصہ سمجھ چکے ہیں اور اس پر کوئی ندامت بھی محسوس نہں کرتے۔ ایک معمولی سی چیز پر پانچ ہزار روپے کی قیمت چسپاں کی جاتی ہے، اور پھر تھوڑی سی گفت و شنید کے بعد وہی چیز دو ہزار روپے میں فروخت کر دی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ شے واقعی دو ہزار کی تھی تو پانچ ہزار لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اگر وہ واقعی پانچ ہزار کی تھی تو پھر دو ہزار میں فروخت کر کے دکاندار نے کیا تین ہزار روپے کا نقصان برداشت کیا؟ ظاہر ہے، ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ کوئی بھی دکاندار اپنے نفع کو نقصان میں بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ جو قیمت ہم دیکھتے ہیں، وہ جھوٹ پر مبنی ہوتی ہے۔ اور جب ہم اس قیمت سے کچھ کم کروا لیتے ہیں، تو خوشی خوشی سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہترین سودا کر لیا۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ ہم صرف اس جھوٹ کی شدت کو کچھ کم کروا پاتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ایک اقتصادی دھوکہ ہے بلکہ ایک سماجی بیماری بھی بن چکا ہے، جو ہماری اخلاقی اقدار کو خاموشی سے چاٹ رہی ہے۔
بدقسمتی سے یہ عمل اس قدر عام ہو چکا ہے کہ ہمیں اس میں کچھ بھی غیر معمولی محسوس نہیں ہوتا۔ ہم اس جھوٹ کو غلطی تسلیم ہی نہیں کرتے، تو پشیمانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب احساسِ ندامت نہیں ہوگا تو توبہ کا تصور بھی ممکن نہیں رہے گا۔ یوں ہم ایک ایسا گناہ بار بار دہراتے رہتے ہیں، جو ہمارے احساس سے بھی خارج ہو چکا ہے۔
یہ نظام صرف گاہکوں کو ہی نہیں، بلکہ دیانت دار دکانداروں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جو لوگ سچائی کے ساتھ قیمت لگاتے ہیں، ان کی نہ صرف حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ ان کے لیے معاشرے میں کاروبار کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی ایمانداری سے اصل قیمت پر چیز بیچنا چاہے، تو لوگ اسے لالچی یا ضدی سمجھ کر ناراض ہو جاتے ہیں — کیونکہ اب سب کو یقین ہو چکا ہے کہ ہر دکاندار جھوٹ بول رہا ہے۔
اس سارے تماشے میں اگر کوئی سب سے آگے ہے تو وہ پٹھان تاجر اور دکاندار ہیں۔ پچاس روپے کی چیز پر بلا جھجک پانچ سو مانگ لیتے ہیں، اور جیسے ہی گاہک ذرا سا منہ بناتا ہے یا بحث کی کوشش کرتا ہے، یک دم اُسی چیز کو اصل قیمت یعنی پچاس روپے میں تھما دیتے ہیں۔ یہ کوئی نایاب واقعہ نہیں، بلکہ روزمرہ کی حقیقت بن چکا ہے۔ یہاں تک کہ ایک جملہ اب ان کے لیے ضرب المثل بن گیا ہے:
"تم نے خان کا مانگنا دیکھا ہے، چھوڑنا نہیں دیکھا۔ صفر ہٹاؤ، پچاس لاؤ!"
یہ جملہ صرف ایک مذاق نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی رویے کی نمائندگی کرتا ہے، جو ہماری تجارت کا مزاج بن چکا ہے۔
یہ سب کچھ ہمیں بطور معاشرہ کھوکھلا کر رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر یہ احساس بیدار کریں کہ سچائی صرف عبادت میں نہیں بلکہ خرید و فروخت میں بھی ہونی چاہیے۔ جب تک ہم جھوٹ کو چھوٹ دیتے رہیں گے، ہماری سچائی بے وزن ہوتی جائے گی اور سچائی کے بغیر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔
خیراندیش: ظفراللہ خاں