Pedagogy TV

Pedagogy TV

Share

"Pedagogy TV" is a Teaching TV. This page is to show School activities such as Urdu Speech, English Speech, Tableau, Science Experiments, and Funny Skits, etc.

Learning material is also available here.

26/06/2025

*صفر ہٹاؤ، پچاس لاؤ*
بطورِ قوم ہم جھوٹ کو معمول کا حصہ سمجھ چکے ہیں اور اس پر کوئی ندامت بھی محسوس نہں کرتے۔ ایک معمولی سی چیز پر پانچ ہزار روپے کی قیمت چسپاں کی جاتی ہے، اور پھر تھوڑی سی گفت و شنید کے بعد وہی چیز دو ہزار روپے میں فروخت کر دی جاتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ شے واقعی دو ہزار کی تھی تو پانچ ہزار لکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اور اگر وہ واقعی پانچ ہزار کی تھی تو پھر دو ہزار میں فروخت کر کے دکاندار نے کیا تین ہزار روپے کا نقصان برداشت کیا؟ ظاہر ہے، ایسا ہرگز نہیں ہوا۔ کوئی بھی دکاندار اپنے نفع کو نقصان میں بدلنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ جو قیمت ہم دیکھتے ہیں، وہ جھوٹ پر مبنی ہوتی ہے۔ اور جب ہم اس قیمت سے کچھ کم کروا لیتے ہیں، تو خوشی خوشی سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہترین سودا کر لیا۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ ہم صرف اس جھوٹ کی شدت کو کچھ کم کروا پاتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ایک اقتصادی دھوکہ ہے بلکہ ایک سماجی بیماری بھی بن چکا ہے، جو ہماری اخلاقی اقدار کو خاموشی سے چاٹ رہی ہے۔
بدقسمتی سے یہ عمل اس قدر عام ہو چکا ہے کہ ہمیں اس میں کچھ بھی غیر معمولی محسوس نہیں ہوتا۔ ہم اس جھوٹ کو غلطی تسلیم ہی نہیں کرتے، تو پشیمانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب احساسِ ندامت نہیں ہوگا تو توبہ کا تصور بھی ممکن نہیں رہے گا۔ یوں ہم ایک ایسا گناہ بار بار دہراتے رہتے ہیں، جو ہمارے احساس سے بھی خارج ہو چکا ہے۔
یہ نظام صرف گاہکوں کو ہی نہیں، بلکہ دیانت دار دکانداروں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ جو لوگ سچائی کے ساتھ قیمت لگاتے ہیں، ان کی نہ صرف حوصلہ شکنی ہوتی ہے بلکہ ان کے لیے معاشرے میں کاروبار کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی ایمانداری سے اصل قیمت پر چیز بیچنا چاہے، تو لوگ اسے لالچی یا ضدی سمجھ کر ناراض ہو جاتے ہیں — کیونکہ اب سب کو یقین ہو چکا ہے کہ ہر دکاندار جھوٹ بول رہا ہے۔
اس سارے تماشے میں اگر کوئی سب سے آگے ہے تو وہ پٹھان تاجر اور دکاندار ہیں۔ پچاس روپے کی چیز پر بلا جھجک پانچ سو مانگ لیتے ہیں، اور جیسے ہی گاہک ذرا سا منہ بناتا ہے یا بحث کی کوشش کرتا ہے، یک دم اُسی چیز کو اصل قیمت یعنی پچاس روپے میں تھما دیتے ہیں۔ یہ کوئی نایاب واقعہ نہیں، بلکہ روزمرہ کی حقیقت بن چکا ہے۔ یہاں تک کہ ایک جملہ اب ان کے لیے ضرب المثل بن گیا ہے:
"تم نے خان کا مانگنا دیکھا ہے، چھوڑنا نہیں دیکھا۔ صفر ہٹاؤ، پچاس لاؤ!"
یہ جملہ صرف ایک مذاق نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی رویے کی نمائندگی کرتا ہے، جو ہماری تجارت کا مزاج بن چکا ہے۔
یہ سب کچھ ہمیں بطور معاشرہ کھوکھلا کر رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر یہ احساس بیدار کریں کہ سچائی صرف عبادت میں نہیں بلکہ خرید و فروخت میں بھی ہونی چاہیے۔ جب تک ہم جھوٹ کو چھوٹ دیتے رہیں گے، ہماری سچائی بے وزن ہوتی جائے گی اور سچائی کے بغیر کوئی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔
خیراندیش: ظفراللہ خاں

PEDAGOGY TV 04/04/2025

*اطمینان*
درس و تدریس ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہر استاد کا اپنا تجربہ اور مشاہدہ ہوتاہے۔ ایک استاد کی زندگی میں سب سے بڑی خوشی تب ہوتی ہے جب اس کے شاگرد عزت اور محبت سے پیش آتے ہیں۔ آج مجھے ایک سابقہ شاگرد کی شادی میں شرکت کا موقع ملا، جہاں کئی دیگر شاگردوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ تقریب میں گرم جوشی اور احترام کا جو ماحول دیکھنے کو ملا، وہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔

شادی کی رنگین شام میں ہنسی مذاق، خوش گپیاں اور پرانی یادوں کا تذکرہ چلتا رہا۔ خوشی کے ان لمحات کو میں نے دل سے انجوائے کیا، لیکن اس تقریب میں ایک اور پہلو بھی تھا—ایک گہرا احساس۔ جب میں نے کامیاب شاگردوں کو خوشحال زندگی گزارتے دیکھا، تو دل میں یہ خیال ضرور آیا کہ ایک استاد کے پاس ظاہری دولت شاید نہ ہو، لیکن جو عزت، محبت اور روحانی سکون اسے ملتا ہے، وہ بے مثال ہے۔

ہم اساتذہ جب اپنی محنت کے ثمرات یوں اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہیں تو خون بڑھ جاتا ہے، حوصلہ جوان ہوجاتا ہے، اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بیٹری چارج ہوگئی ہو۔ وہ لمحہ ہمارے لیے کسی انعام سے کم نہیں ہوتا جب ہمارے شاگرد ہمیں اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ دیتے ہیں۔ یہ احساس ہمارے یقین کو مزید پختہ کرتا ہے کہ ہم نے درست راستہ چُنا، ہم نے علم کی شمع جلانے کا جو فیصلہ کیا، وہ بالکل صحیح تھا۔

یہی عزت افزائی ہمیں مزید کام کرنے، مزید نسلوں کو سنوارنے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا حوصلہ دیتی ہے۔ استاد کی اصل دولت اس کے شاگرد ہوتے ہیں، جو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ اس کی محنت کے چراغ ہیں، جو روشنی پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
شکریہ احمد منیر! آپ کی محبت، عزت افزائی اور خلوص میرے لیے کسی انمول تحفے سے کم نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بے شمار خوشیاں، کامیابیاں اور برکتیں عطا فرمائے۔ دعا ہے کہ آپ کی زندگی روشنی، خوشحالی اور سکون سے بھرپور رہے اور ہر قدم پر کامیابی آپ کا مقدر بنے۔ اللہ آپ کو عزتوں کی بلندیاں عطا کرے اور ہمیشہ اپنی رحمتوں کے سائے میں رکھے۔
ظفراللہ خاں
Govt. Furqan Shaheed High School Sheikhupura

PEDAGOGY TV "PEDAGOGY TV" Enhances the Confidence Level of Your Child. Education, Motivation, Information, Funny videos, School Functions, Tableau [Tablo], School Activities and Entertainment videos are presented on this YouTube channel PedagogyTV If you are the father of school-going children... Then must Subs...

20/03/2025
23/12/2024

چپلوں کی انشورنس
مساجد کو روحانیت کا مرکز اور پاکیزگی کا گہوارہ سمجھا جاتا ہے، مگر بدقسمتی سے یہ مقدس مقام بھی ہماری معاشرتی بے حسی سے محفوظ نہیں رہا۔ جوتی چوری جیسا "چھوٹا" مگر انتہائی پریشان کن مسئلہ صدیوں سے جاری ہے۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ پہلاہ جوتا کب چوری ہوا مگر نظیر اکبر آبادی کی نظمیں پڑھ کر لگتاہے کہ یہ دھندہ ہمارا موروثی دھندہ ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ معاشرے میں "جوتی چور" ایک الگ پیشہ بنتا جا رہا ہے۔
پچھلے ایک ہفتے میرے ایک دوست کی نماز کے دوران دو بار جوتیاں چوری ہوئیں۔ یہ سن کر میں نے ان سے کہا، "بھائی، شایدآپ کی جوتیاں چور کو زیادہ پسند آگئیں۔" وہ ہنسنے کی بجائے یہ بولے، "اب اگلی دفعہ جوتی کے ساتھ ساتھ تالا بھی لے جاؤں گا۔’’
یہ مسئلہ صرف مالی نقصان تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی گراوٹ اور تربیت کی کمی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ یہ ہماری معاشرتی تنزلی کی علامت ہے۔ ہم اپنے بچوں کو دیانت داری کا درس دینے کے بجائے شاید یہ سکھانے میں مصروف ہیں کہ "کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دو"۔
یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ جہاں نمازی اپنے روحانی سفر میں مصروف ہوتے ہیں، وہاں کچھ لوگ "جوتے چوری" کے پیشے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ نماز کے اختتام پر اگر کوئی نمازی اپنے جوتے نہ پائے، تو اس کی کیفیت کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے آپ کی عبادت کے نتیجے میں ملنے والے سکون کو چھین لیا ہو۔
المیہ یہ بھی ہےکہ ہم ایسے مسائل کو ہنس کر ٹال دیتے ہیں اورجوتا چوری سے متاثرہ شخص کا مذاق الگ سے بناتے ہیں۔ شاید یہی وجہ کہ ہم اس کا حل نہیں ڈھونڈ سکے۔ نہ رپٹ، نہ پرچہ اور نہ کوئی کیس۔ شاید آپ کو میری بات یہاں پر مزاحیہ لگی ہو۔ مگرٹھندے دل سے سوچیں ایک عام سا سفید پوش شخص جب جوتا خریدنے جاتاہے تو پانچ سے پندرہ ہزار باآسانی خرچہ آتاہے۔ جب اچانک ‘‘ ٹیکہ ’’ لگتاہے تو ایک دفعہ سر ضرور چکراتاہے۔
جوتا چوری کے زیادہ تر واقعات مساجد میں ہی پیش آتے ہیں مگر میں نے کبھی کسی مولانا سے اس پربات کرتے ہیں نہیں سُنا، وہ بزرگوں کی کرامات کے قصے سناتے تو نظر آتے ہیں مگر اپنے سامعین کی تربیت کرنے کی ذرا برابر بھی کوشش نہیں کرتے۔
فی زمانہ اس کے تدارک کے کئی ایک حل ضرور آپ کے پاس بھی ہوں گے ، آپ بھی ایسے حل شیئر کریں یا کمنٹس کریں ۔
میرے مطابق تو ایک حل یہ ہے کہ سی سی ٹی وی کیمرے لگائیں ، مساجد کے جوتا رکھنے والے حصے میں کیمرے نصب کیے جائیں تاکہ چوروں کی نشاندہی ہو سکے۔
دوسرا بڑی بڑی مساجد میں ایک نظام بنایا جائے جہاں نمازی اپنی جوتیاں ایک مقررہ جگہ پر رکھیں اور اس کے بدلے ٹوکن حاصل کریں۔تیسرے نمازیوں کو اس مسئلے کی سنگینی سمجھانے کے لیے خطیب حضرات وقت دیں اوراسے بھی ایک معاشرتی برائی سمجھیں۔
یہ مسئلہ بظاہر معمولی لگتا ہے، مگر یہ معاشرتی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ جب تک ہم اپنی اخلاقی تربیت پر توجہ نہیں دیں گے، یہ اور اس جیسے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ اور ایک دن بات اس نہج پر جا پہنچے گی کہ ہمیں چپل خریدنے کے بعد"چپلوں کی انشورنس" بھی کروانی پڑےگی اور پھر یہی ہمارے خطیب حضرات اس انشورنس کے حلال یا حرام کے فتوے دیا کریں گے۔
ظفراللہ خاں

12/12/2022

دسمبر کے مہینے کی تنخواہیں 31 دسمبر کو ہفتہ اور یکم جنوری کو اتوار ہونے کی وجہ سے 30 دسمبر کو دینے کا نوٹیفکیشن جاری ۔۔

04/09/2022

میں سیلاب کو عذاب نہیں کہہ سکتا کیونکہ مجھے یقین ہے اس میں مرنے والے سارے جہنمی تو نہیں ہوسکتے۔

Want your school to be the top-listed School/college in Sheikhupura?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Sheikhupura