27/11/2023
Today Quiz .
education Pakistan, prepation ppsc,fpsc,nts
27/11/2023
Today Quiz .
*پاکستان کے کروڑوں نوجوان جنریشن زی میں اتے ہیں۔* 🚶💔
وہ نسل جو سن 2000 کے بعد پیدا ہوئی ہے اور اج 23، 24 سال اس کی عمر ہو چکی ہے۔۔ پوری دنیا میں یہ نسل انسانی تاریخ کی سب سے جسمانی طور پر کمزور لاغر اور ذہنی طور پر نفسیاتی مریض نسل سمجھی جاتی ہے۔۔۔ یہ جس دور میں بڑی ہوئی ہے وہ تاریخ انسانی کا سب سے زیادہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا دور ہے۔۔۔ انفارمیشن ایج۔۔
یہ نسل بڑی ہوئی ہے ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے۔۔ اس کی دسترست میں انٹرنیٹ موبائل فون ٹیبلٹ ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا ہے۔ اس نسل کی تربیت بزرگوں نے نہیں سوشل میڈیا نے کی ہے۔۔
پوری دنیا میں اس نسل کا ایک ہی مسئلہ ہے۔۔ ان میں صبر کم ہے غصہ زیادہ، ان کی گردنوں میں خم آ گیا ہے جھک کر ہر وقت موبائل فون استعمال کرنے کی وجہ سے۔۔۔ ہر وقت سکرین کے اگے بیٹھ کر گھنٹوں کام کرنے کی وجہ سے ان کی انکھیں کمزور ہیں۔۔۔ سارا وقت بیٹھ کر ٹیکنالوجی سے کھیلنے کی وجہ سے ان کی جسمانی صحت انتہائی نحیف اور ناتوان ہے۔۔ اور انسانی تاریخ میں یہ نسل سب سے زیادہ وقت لے رہی ہے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں۔۔
مغربی دنیا میں لاکھوں نوجوان زی جنریشن کے اب واپس اپنے ماں باپ کے گھر لوٹ رہے ہیں کیونکہ وہ باہر کی دنیا میں گزارا ہی نہیں کر سکتے۔۔ ان کو بومی رینگ جنریشن کہا جا رہا ہے یا بومی رینگ چلڈرن۔۔۔ اسٹریلیا کے اس قدیم ہتھیار کے نام پر کہ جس کو ہوا میں پھینکو تو وہ گھوم کر واپس اپنے مالک کے پاس ا جاتا ہے۔۔۔
پاکستان میں اپ ان کو ٹک ٹاک جنریشن کہہ سکتے ہیں۔۔ اور کسی پاکستانی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس جنریشن کا کیا حال ہے۔۔ کیا ان کے اخلاق ہیں، کیا ان کی تعلیم ہے، کیا ان کی تہذیب ہے، کیا ان کی زبان ہے، کیا ان کی تربیت ہے، اور کیا تاریک ان کا مستقبل ہے۔۔
ذرا سوچیں یہ ملک کی تقریبا 40 سے 50 فیصد آبادی ہے۔۔۔ یعنی تقریبا 10 12 کروڑ۔۔
سوچیں اگر پاکستان کو غزہ عراق شام لیبیا یا یمن جیسی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا تو اس نسل کا کیا حال ہوگا۔۔۔
یہ لکڑی سے آگ نہیں جلا سکتے، ان کو نقشہ دیکھ کر مشرق اور مغرب کا علم نہیں ہے، ہتھیاروں کا استعمال اور سروائیول تو چھوڑ ہی دیں، یہ دھوپ میں آدھا گھنٹہ نہیں کھڑے رہ سکتے نہ پانچ کلومیٹر پیدل چل سکتے ہیں۔۔ یہ نسل نہ جسمانی سختیاں برداشت کر سکتی ہے نہ نفسیاتی سختیاں۔۔
اسی لیے معاشرے میں سب سے زیادہ شادیاں اسی نسل کی فیل ہو رہی ہیں، کیونکہ ان کو رشتوں کو نبھانا ہی نہیں آتا، چھوٹے بڑوں سے بات کرنے کا سلیقہ نہیں ہے، معاملات کو سلجھانے کا صبر نہیں ہے۔
آج آپ ویڈیو گیم کھیلتے کسی بچے کا نیٹ بند کر دیں پھر دیکھیں کہ اس میں کس طرح جن گھستا ہے۔۔۔ چھوٹے چھوٹے بچوں نے اپنے پورے پورے خاندان قتل کر دیے صرف انٹرنیٹ بند ہونے پہ۔۔
اور آپ کو ایک کمال کی بات بتائیں¡
غزہ میں جو مجاہدین اس وقت مشرق وسطٰی کی اتنی بڑی طاقت اور پوری دنیا کی طاقتوں کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں ان کا تعلق بھی جنریشن زی سے ہے۔۔
مگر غزہ والی وہ نسل ہے جو آگ اور خون کی بھٹی میں پک کر جوان ہوئی ہے۔۔۔ جس کی راتیں ایک راہب کی طرح اور جن کے دن ایک شہ سوار کی طرح ہوتے ہیں۔۔۔ جو صرف اس لیے زندگی گزارتے ہیں کہ مسجد اقصٰی کو یہودیوں سے آزاد کرا سکیں۔۔
پاکستان کی جنریشن زی میں کتنے کی خواہش یہ ہے کہ وہ بڑے ہو کر مسجد اقصٰی کو آزاد کرائیں یا غزوہ ہند میں شریک ہوں اور کتنوں نے اس مشن کے لیے تیاریاں کی ہیں؟ اس سوال کا جواب اتنا تکلیف دہ اور خوفناک ہے کہ انسان کو ڈر لگنے لگتا ہے۔۔ جو نسل نہ اپنے کسی کام کی ہو نہ پاکستان کے کسی کام کی نہ سیدی رسول اللہ کی امت کے کسی کام کی پھر اللہ اس نسل کو کیوں رکھے گا؟ یا اگر اس نسل سے کام لینا چاہتا ہے پھر اس کو اگ اور خون کی بھٹی میں سے گزارے گا تاکہ یہ کندن بن سکے۔۔۔ موجودہ حالت میں تو یہ پاکستانی قوم اور اس کی نوجوان نسل کسی کام کی نہیں ہے۔۔۔
اللہ بلا وجہ کسی قوم کو تبدیل کر کے اس کی جگہ دوسری قومیں نہیں لاتا۔۔۔ جب پچھلی فصل اجڑ جائے تو نئی فصل لگانے کے لیے کھیت میں پہلے ہل چلانا پڑتا ہے۔۔
قوموں کے عروج و زوال میں تہذیبوں کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔۔۔۔ گلی سڑی تہذیب یا قوم کو اکھاڑ کر اس کی جگہ ہل چلا کر پھر نئی قومیں وہاں آباد کی جاتی ہیں۔۔۔
پاکستانی قوم تیاری پکڑ لے اس پر ہل چلانے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔۔
وما علينا الا البلاغ
کسی دردمند دل کی تحریر
https://whatsapp.com/channel/0029Va8HXH64CrfmF9GA0A34
Everyone must follow my WhatsApp channel for best Motivational or current Affairs discussion..
29/08/2023
🌟 Empowering Punjab's Youth with e-Rozgaar! 💪💡
Witness the incredible impact of e-Rozgaar Program, a groundbreaking initiative by the Youth Affairs & Sports Department and brilliantly executed by Punjab Information Technology.
📊 Over 54,000 enthusiastic candidates, with a commendable 57% female participation, have wholeheartedly embraced this FREE training opportunity. Their dedication and hard work have led to a monumental achievement - collectively earning a staggering 8.15 Billion PKR through freelancing! 🚀📈
It's truly heartening to witness how e-Rozgaar Program has transformed lives and enabled financial independence. This achievement is a significant leap from the 3.6 Billion PKR earned last year, showcasing the program's unstoppable growth.
Embrace the digital revolution, unlock endless opportunities, and change your life today!
👉 Apply for e-Rozgaar: https://erozgaar.pitb.gov.pk/
15/08/2023
کیا آپ نے یہ سوچا ہے کہ قرآن پاک میں "اللّٰه تعالیٰ" نے یہ کیوں فرمایا کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے یہ کیوں نہیں کہا کہ ہر ذی روح کو موت آنی ہے!
آپ نے کبھی اس لفظ "ذائقہ" جس کو انگلش میں TASTE کہتے ہیں پر غور کیا ہے۔۔؟؟؟
سائنس کہتی ہے کہ ہرانسان کی چکھنے کی حس مختلف ہوتی ہے، اگر کسی کو کوئی چیز پسند ہی نہیں تو اسے اسکا ذائقہ برا ہی لگے گا چیز کا ذائقہ اس میں ڈالے گئے اجزاء پر منحصر ہوتا ہے اس لئے ہر شخص کی موت کا ذائقہ اسکے اعمال کے مطابق ہو گا اسکا ذائقہ دوسروں کی موت سے مختلف ہو گا۔۔۔
"یہ آپکی موت ہے تو اسکا ذائقہ بھی آپ ہی کو چکھنا ہو گا، لہذا ابھی سے اپنے معاملات اور اعمال درست کر لیں تا کہ موت کا ذائقہ کڑوا نہ لگے۔
اگست 1947، 14 اگست 2023 ایک خواب، ایک حقیقت، ایک روشنی، ایک وعدہ، اس ملک سے وفا کا جو ہمیں ابھی پورا کرنا ہے۔میر ے ملک کا ہر انسان کہ رہا ہے تم سلامت رہو ہزار برس ، ہر برس بن جاہے پچاس ہزار۔ شکریہ پاکستان ، شکریہ پاکستان ..
الیکشن کی تاریخ اور ووٹنگ سسٹم
ڈاکٹرمحبوب حسین
انتخابات کے ذریعے اپنے پسندیدہ امیدواروں کا چناو یا ناپسندیدہ امیدواروں کو مسترد کرنے کی روایت بہت پرانی ہے، تاریخی اعیتبار سے دیکھا جائے تو ۵۰۸ قبل مسیح میں قدیم یونان میں انتخابی عمل کا آغاز ہوچکا تھا اور یونانی" منفی الیکشن" کے ذریعے ہر سال اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے تھے، اس وقت تمام کے تمام ووٹرز مرد اور ایک خاص قطعہ زمین کے مالک ہوتے تھے ہر ووٹرز ووٹ کے ذریعے ایسے امیدوار کو مسترد کرتے تھے جسے وہ سمجھتے تھے کہ اسے اگلے دس سال کے لئے ملک میں نہیں ہونا چاہئے اور اسے جلا وطن کر دینا چاہئے۔
بیلٹ سسٹم کیا تھا؟
اس ابتدائی سسٹم میں مٹی کے ٹوٹے ہوئے برتنوں کے ٹکڑے بطور بیلٹ استعمال کئے جاتے تھے جن کے لئے ایک خاص اصلاح "اوسٹراکا" استعمال کی جاتی تھی، جس کے ذریعے سب سے زیادہ ووٹ لینے والے "غیر مقبول" امیدوار کو جلا وطن کر دیا جاتا تھا۔
اگر ہم عہد وسطی کی بات کریں تو۱۳ویں صدی میں وینس میں "گریٹ کونسل" کے انتخاب کا حوالہ ملتا ہے جو کہ چالیس افراد پر مشتمل ہوتی تھی، جس کا انتخاب "منظوری کے ووٹ" کے ذریعے عمل میں آتا تھاکہ جس میں وووٹر اپنے امیدوار کو"قابل قبول" ہونے کا ووٹ دیتا تھا ۔
جدید انتخابی نظام اور ووٹ کا حق:
برطانیہ جسے جمہوری اداروں کی تشکیل کے حوالے سے ایک خا ص ملک کا مقام دیا جاتا ہے، میں ۱۷۸۰ میں ووٹنگ کا نظام متعارف کروایا گیا۔ جب صرف تین فیصد آبادی کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ آغاز میں برطانوی پارلیمانی نظام غیر نمائندہ تھا جس کی ایک مثال بڑے صنعتی شہر جیسے کہ لیڈز، برمنگھم، اور مانچسٹر کو ویسٹ منسٹر (پارلیمنٹ) میں کوئی نمائندگی نہیں دی گئی تھی اور"ڈنوچ" جیسے چھوٹے سے ایک قصبے سے دو اراکین منتخب کر کے اسمبلی میں بھیجے جاتے تھے۔
انقلاب فرانس کے بعد انتخابی نظام میں اصلاح کی ضرورت پر زور دیا گیا اور تھامس پین
نے ریڈکل ریفارمز کے حوالے سے اہم کا م کیا۔ Rights of Man کی کتاب
اگر امریکہ کی بات کریں تو وہاں پہلے صدارتی انتخابات ۱۷۸۹ میں منعقد ہوتے ہیں جہاں سفید فام زمیداروں کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ جبکہ خواتین کو امریکی آئین میں ۱۹ویں ترمیم کے ذریعے ۱۹۲۰ میں ووٹر بنایا گیا۔
خواتین کو ووٹ کا حق:
خواتین کو ووٹ کا حق دینے کی روایت بہت پرانی نہیں ہے۔ امریکہ میں ۱۹۲۰، ناروے میں ۱۹۱۳ ، برطانیہ میں ۱۹۱۸ میں خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا یہاں پر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ مرد ووٹروں اور عورتوں کی عمر میں فرق رکھا گیا کہ مرد تو ۲۱ سال کی عمر میں ووٹ کا حق استعمال کر سکتا تھا مگر عورت کے لئے عمر کی حد ۳۰ سال رکھی گئی۔
سوئزر لینڈ جیسے ملک میں ۱۹۷۰ سے پہلے عورت کو ووٹ کا حق نہیں تھا۔ کویت میں یہ حق ۱۹۹۰ میں دیا گیا۔ ابھی بھی دنیا کے کچھ ممالک میں خواتین بلواسطہ یا بلاواسطہ اپنے ووٹ کےحق سے محروم ہیں۔
خفیہ بیلٹ کا آغاز:
اگر خفیہ رائے شماری کی بات کریں تو برطانیہ میں ۱۸۷۲ میں بیلٹ ایکٹ کے ذریعے اسے متعارف کروایا گیا اور پھر بتدریج اسے باقی جگہوں پر اختیار کر لیا گیا۔
انگریزوں کے دور میں ہندوستان میں ووٹنگ سسٹم:
۱۷۵۷ کی جنگ پلاسی اور ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کے دوران ایسٹ انڈیا کمپنی نے دیکھتے ہی دیکھتے تقریبا پورے ہندوستان پر اپنا قبضہ جما لیا اس دوران محدود پیمانے پر مقامی لوگوں کو نامزدگی کی بنیاد پر کونسلز میں نمائندگی دی گئی۔ جس کا آغاز ۱۸۳۳ کے چارٹر ایکٹ سے ہوتا ہے تاہم ۱۹۰۹کے ایکٹ کے تحت پہلی مرتبہ یہاں کے لوگوں کو ووٹ کا حق دیا گیا جبکہ ۱۹۳۵ کے گورنمٹ آف انذیا ایکٹ کے شیڈول چھ کے تحت ووٹر کی اہلیت کا تفصیلی معیار مقرر کیا گیا، اس ایکٹ کے پارٹ ون میں مرکزی اسمبلی جبکہ پارٹ ٹو میں گیارہ صوبوں کے لیے ووٹر کی اہلیت کا تفصیلی معیار طے کیا گیا ہے، جس کے مطابق اکیس سال کا نوجوان ووٹ کاسٹ کر سکتا تھا، دیگر شرائط میں خاص حد تک پراپرٹی رکھنے والا شخص، کوئی بھی سرکاری ملازم، حکومت کو ٹیکس ادا کرنے والا اور صحت مند ذہن رکھنے والا شخص ووٹ کاسٹ کرنے کا اہل تھا۔
محتلف صوبوں میں ووٹر کی اہلیت کا مختلف معیار:
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انگریزوں کے دور میں ہندوستان میں ہر صوبے کے لیے ووٹر کی اہلیت مختلف تھی، مثال کے طور پر اگر ہم تعلیمی معیار کی بات کریں تو بمبی، بنگال، بہار، اوڑیسہ اور سندھ میں رہنے والوں کے لیے کم از کم میٹرک تک تعلیم کا ہونا ضروری تھا، جبکہ سی پی، آسام، اور شمال مغربی سرحدی صوبے کے لیے مڈل پاس ہونے کی شرط تھی، اسی طرح پنجاب اور یوپی کے لیے پرائمری اور مدراس کے ووٹر کے لیے صرف خواندہ ہونا کافی تھا۔ پراپرٹی کی بنیاد پر ووٹر کی اہلیت کا معیار بھی مختلف صوبوں کے لیے مختلف تھا۔
قیام پاکستان کے بعد ووٹرز کی اہلیت:
پاکستان بننے کے بعد ۱۹۳۵ کے ایکٹ میں ترمیم کر کے ۱۹۴۷ کا عبوری آئین تشکیل دیا گیا، گیا جس میں کچھ شرائط نرم کرے مارچ ۱۹۵۱، دسمبر۱۹۵۱، مئی ۱۹۵۳،اپریل ۱۹۵۴ میں بلترتیب پنجاب، سرحد، سندھ اور بنگال میں انتخابات کروائے گئے، اسی اھلیت کے ساتھ ایوب خان کے دور میں بنیادی جمہوریت اور صدارتی انتخابات کروائے گئے، جبکہ ۱۹۷۰ کے عام انتخابات لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت منعقد ہوئے۔ ۲۰۰۲ میں ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعے پاکستان میں ووٹرز کی عمر کی حد ۲۱سال سے کم کر کے ۱۸ سال کر دی گئی۔ (برطانیہ اور امریکہ
میں ۱۸ سال کی حد ۱۹۷۰ اور ۱۹۷۱ میں کر دی گئی تھی.
28/07/2023
Today down newspaper.
26/07/2023
https://nomanwrites90.blogspot.com/2023/07/the-imf-deal-with-pakistan.html
The IMF deal with Pakistan The IMF deal with Pakistan is a recent development that has been in the news. The IMF stands for the International Monetary Fund, which is ...
19/07/2023
PDMA announcement:
19/07/2023
Down vocabulary: