15/09/2025
کبھی اس چھت کی منڈیر پر بیٹھ کے ہم دوست لوگ شدت سے چاند کے نکلنے کا انتظار کرتے ، تو کبھی موبائل پر جگجیت سنگھ ، کرن خان ، ہارون باچا , عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی اور بہت سارے گلو کاروں کی گائی ہوئی غزلیں سنتے ، تو کبھی ہمارے اندر کسی مفکر کی روح اتر جاتی اور فلسفہ ، سیاست ، ادب اور زندگی کے مختلف مسائل پر بحث کرتے ۔ کبھی چائے کا دور چلتا ۔۔۔ چائے کے ساتھ شاعری کی محفل بھی ہوتی ۔۔۔ آفففف آدھی رات کو ایسے ماحول میں چائے کا ملنا کتنی بڑی غنیمت تھی یار ! کبھی دوستوں کی ناکام محبتوں کا تذکرہ ہوتا تو کبھی بھٹکے ہوئے دوست لوگوں کو راہ راست پر لانے کی ناکام کوششیں ہوتی ۔ کبھی سگریٹ کے کش بھر بھر کے چاند کے چہرے پر پھونکے جاتے اور وہ غصہ ہوکے بادلوں کی اوٹ میں چھپ جاتی ۔ پتہ نہیں کتنی یادیں اور کیا کچھ وابستہ ہے یہاں سے ۔ مختصراً یہ کہ ہم دوست لوگ اگر کچھ ہے تو اسی ہاسٹل کی وجہ سے ہے اور اگر نہیں ہے تو بھی اس میں اس ہاسٹل کا ہاتھ ہے ۔ خدا کرے یہ ہاسٹل اسی طرح سلامت رہے ۔