10/09/2026
شیخ ملی بابا ۱۶ویں صدی کے نامور یوسفزئی عالم، مورخ اور ملک احمد خان یوسفزئی کے اہم ترین مشیر تھے، جنہوں نے سوات اور ملاکنڈ میں یوسفزئی قبیلے کی سیاسی و سماجی تنظيم کاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دفترِ شیخ ملی
انہوں نے پشتو اور قبائلی تاریخ کی پہلی جامع اور باقاعدہ دستاویز "دفترِ شیخ ملی" مرتب کی:
شجرہ نسب اور حدود: اس میں یوسفزئی قبیلے کی تمام شاخوں (خیلوں) کے شجرہ نسب، زمینوں اور حدود کا مکمل ریکارڈ محفوظ کیا گیا۔
آئین کی حیثیت: یہ دستاویز صدیوں تک سوات، دیر اور بونیر میں قبائلی دستور اور قانون کے طور پر نافذ رہی۔
ویش نظام (زمینوں کی تقسیم)
ان کا سب سے بڑا اور تاریخی کارنامہ "ویش نظام" کا نفاذ تھا:
انصاف پرور تقسیم: سوات اور گرد و نواح کی فتح کے بعد انہوں نے تمام زرخیز اور غیر زرخیز زمینوں کو مختلف قبائلی شاخوں میں یکساں تناسب سے تقسیم کیا۔
دورانیاتی تبادلہ: ہر ۵ سے ۱۰ سال بعد قبائل کے درمیان زمینوں کا تبادلہ کیا جاتا تھا تاکہ کوئی ایک خاندان ہمیشہ بہتر زمینوں پر قابض نہ رہے اور آپسی ناانصافی یا جنگ و جدل کا خاتمہ ہو۔
سیاسی و اخلاقی قیادت
انہوں نے ملک احمد خان کے ساتھ مل کر نہ صرف عسکری اور سیاسی حکمت عملی تیار کی بلکہ خطے کے لوگوں کی اخلاقی و دینی تربیت بھی کی، جس کی بدولت سوات میں ایک مستحکم قبائلی نظام قائم ہوا۔
شیخ ملی کا قبر مبارک بابوزئ سوات کے گاوں بلوگرام اور قمبر کے درمیان واقع ھے۔ شکریہ