14/04/2026
📢 اہم عوامی مسئلہ — ضلع شانگلہ کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی؟
میں سمیع اللہ خان اس اہم معاملے کی طرف متعلقہ حکام کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔
سال 2018 میں شانگلہ سے پولیس جوانوں کو ضلع سوات میں تعینات کیا گیا تھا اور انہوں نے سوات سے ہی اے ون بی ون سی ون A1, B1,C1 کی ہے اب جوکہ ان کی پروموشن کا وقت ایا ان کو واپس ضلع بدر کرنے کی فیصلے کی جارہی ہے ، اور اب اپنے فرائض میں تجربہ حاصل کر کے Head Constable جیسے عہدوں تک پہنچ چکے ہیں۔
مگر اب یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ان اہلکاروں کو زبردستی واپس ضلع شانگلہ بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
یہ عمل کئی حوالوں سے قابلِ تشویش ہے
یہ اہلکار اپنی مرضی کے بغیر واپس جانا نہیں چاہتے
ان کے ساتھ یہ اقدام ناانصافی اور زیادتی کے مترادف ہے
اس سے نئے بھرتی ہونے والے نوجوانوں کے مواقع بھی متاثر ہوں گے
شانگلہ کا پولیس کوٹہ پہلے ہی پورا ہو جائے گا، جس سے نئی بھرتیاں رک سکتی ہیں
ہماری مطالبہ
میں بطور سوشل ایکٹویسٹ، ڈی ایس پی شانگلہ، ڈی آئی جی صاحب، اور آئی جی پولیس سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ
کسی بھی فیصلے سے پہلے متعلقہ اہلکاروں سے رائے لی جائے
جو اہلکار اپنی مرضی سے ضلع شانگلہ آنا چاہتے ہیں، صرف انہیں ہی واپس بھیجا جائے
جو اہلکار واپس نہیں آنا چاہتے، انہیں زبردستی نہ بھیجا جائے
نئی بھرتیوں کے لیے مواقع کو یقینی بنایا جائے تاکہ مقامی نوجوانوں کو روزگار مل سکے
🤝 انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ فیصلے انسانی بنیادوں، میرٹ اور رضامندی پر کیے جائیں، نہ کہ زبردستی۔
✊ ہم اپنے نوجوانوں کے حق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔
سمیع اللہ خان چیئرمین شانگلہ یوتھ ونگ، ٹوریزم منسٹر پاک یوتھ پارلیمنٹ، سینئیر نائب صدر یوتھ اف شانگلہ
Sami Ullah Khan