Naqsh-E-Lasani Public School Geochak

Naqsh-E-Lasani Public School Geochak Enter to learn and leave to command

20/11/2025

کہتے ہیں کہ
جب سکندرِ اعظم نوجوان تھا اور
ارسطو سے تعلیم حاصل کر رہا تھا، تو ارسطو اکثر اپنے شاگردوں سے کہا کرتا:
"مجھ سے سوال کیا کرو، سوال سوچنا علم کی پہلی سیڑھی ہے۔"
مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ جب شاگرد سوال کرتے، تو ارسطو کبھی مکمل جواب نہیں دیتا، یا بات کو کسی اور طرف موڑ دیتا۔
یہ رویہ سکندر کو کھٹکتا رہا، حتیٰ کہ ایک رات اس نے ضبط کھو دیا۔
وہ غصے میں ارسطو کے خیمے میں آیا، جو مطالعے میں مصروف تھا، اور بلند آواز میں کہا:
"یہ کیسا طریقہ ہے؟ آپ سوال کرنے کا کہتے ہیں، لیکن جواب دینے سے کتراتے ہیں!"
ارسطو نے نہایت بردباری سے جواب دیا:
"میرا مقصد تمہیں معلومات دینا نہیں، سوچنے پر مجبور کرنا ہے۔ اگر میں تمہیں ہر سوال کا حتمی جواب دے دوں، تو تم میری بات کو آخری سچ سمجھ کر اپنی تلاش روک دو گے۔
میرے جواب تمہارے تجسس کا دروازہ کھولنے کے لیے ہیں، بند کرنے کے لیے نہیں۔"
یہ واقعہ آج کے اساتذہ اور والدین دونوں کے لیے ایک بڑا سبق ہے۔
جو استاد ہر بات کو صرف اپنی نظر سے دیکھنے پر مجبور کرے، وہ طالبعلم کی سوچ پر تالا لگا دیتا ہے۔
اصل معلم وہ ہوتا ہے جو شاگرد کے ذہن میں سوالات، امکانات اور جستجو کو زندہ رکھے

جن لوگوں نے یہ وردی پہنی یقیناً ان لوگوں کا بچپن اچھا گزرا ہوگااس دور میں استاتذہ کا رعب ہوتا تھاشاگرد استاتذہ کا احترام...
18/11/2025

جن لوگوں نے یہ وردی پہنی یقیناً ان لوگوں کا
بچپن اچھا گزرا ہوگا
اس دور میں استاتذہ کا رعب ہوتا تھا
شاگرد استاتذہ کا احترام کرتے اور ڈرتے تھے
دوستی میں وفا تھی تمام کلاس فیلوز
ایک دوسرے کا احترام اور خلوص بانٹتے تھے
یہ لوگ انٹرنیٹ جیسی آفت سے محفوظ تھے ایک دوسرے کا حال گھر گھر جا کر پوچھتے تھے
بڑا ہی عمدہ دور تھا
موجودہ دور کی نسبت سے پرامن دور تھا

Breaking News:آج وزیرِ تعلیم کے حکم پر صوبے بھر میں چھاپے، اسکول سیل۔ پولیس اور پیرا فورس الرٹ، تاکہ تعلیم دینے کی ہر کو...
12/08/2025

Breaking News:
آج وزیرِ تعلیم کے حکم پر صوبے بھر میں چھاپے، اسکول سیل۔ پولیس اور پیرا فورس الرٹ، تاکہ تعلیم دینے کی ہر کوشش کو بروقت روکا جا سکے۔ اڑھائی کروڑ آؤٹ آف اسکول بچوں کے ساتھ دنیا میں پہلے نمبر پر آنے والے ملک میں اب علم دینا بھی جرم قرار پائے گا، اور ہر کوشش کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔
حکومتی احکامات اپنی جگہ قابلِ احترام ہیں، ہم ریاست کے وفادار اور فرمانبردار ہیں، لیکن زمینی حقائق سے آنکھ بند کر لینا حقیقت سے فرار ہے۔
جون اور جولائی کی جھلسا دینے والی دوپہروں میں جب پنجاب بھر میں "سمر کیمپ" کے نام پر تین گھنٹے کی تدریس کی اجازت دی گئی، یہ کہا گیا کہ مختصر دورانیے کی تعلیم گرمی کی شدت کو مات دے سکتی ہے۔ مگر آج، جب بارشوں کا زور ٹوٹ چکا اور جنوبی پنجاب جیسے علاقوں میں درجہ حرارت 36 سے 40 ڈگری کے درمیان ہے، تو اداروں کو بند کر دینا کس منطق کے تحت ہے؟
کیا یہ دھوپ ان بچوں کے قدم روک سکتی ہے جو کھلے آسمان تلے کھیتوں میں ہل چلاتے اور کٹائی کرتے ہیں؟ اگر وہ زمین کی تپش سہہ سکتے ہیں، تو کیا اسکول کی چھت کے نیچے بیٹھ کر علم حاصل کرنا ان کے لیے ناممکن ہے؟
اداروں کی سیلنگ عزت و وقار کا قتل ہے۔
کسی اسکول کو سیل کرنا محض تالہ لگانا نہیں، بلکہ اس کی عزت، وقار اور عوامی اعتماد پر کاری ضرب ہے۔ یہ عمل بچوں کے ذہنوں میں یہ زہر گھولتا ہے کہ شاید تعلیم یا استاد کسی جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہی سوچ قوم کے تعلیمی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
ہمارے پاس وقت نہ ہونے کے برابر ہے۔ دسویں جماعت کے پاس صرف 87 دن، باقی جماعتوں کے پاس 122 دن۔ بار بار کی تعطیلات کے ساتھ 12 ماہ کا نصاب چند مہینوں میں مکمل ہونا کس طرح ممکن ہے؟
ہمارے آقا ﷺ نے غزوہ بدر کے قیدیوں کو محض اس لیے آزاد کیا کہ وہ مسلمانوں کے بچوں کو پڑھا سکتے تھے۔ مدینہ اس وقت خطرات میں گھرا تھا، مگر تعلیم کی شمع بجھنے نہ دی گئی۔ آج ہمیں بھی یہی روح اپنانی چاہیے ہر گلی، کوچہ، مسجد اور مدرسہ علم کا مرکز بنے، اسکولوں کو غیر ضروری تعطیلات اور ٹیکسوں سے استثنیٰ دیا جائے۔
بندش کے بجائے تدریسی دورانیہ کم کیا جائے۔
یا نصاب میں کمی بیشی کے واضح احکامات دیے جائیں۔
اسکول سیل کرنے کے بجائے متبادل تدابیر اپنائی جائیں تاکہ اداروں اور اساتذہ کی عزت محفوظ رہے۔
خدارا! تعلیم کے چراغ بجھانے کے بجائے انہیں مزید روشن کیجیے— کیونکہ اگر یہ چراغ بجھا تو نسلیں ہمیشہ کے لیے اندھیروں میں دفن ہو جائیں گی۔

09/08/2025

محترم وزیرِ تعلیم پنجاب،

ہم ایک تعلیم دوست قوم تھے، جنہوں نے نعرہ لگایا تھا:
“ہم نے دشمن کے بچوں کو بھی پڑھانا ہے!”
لیکن آج ایک اسکول اونر کی حیثیت سے میرا دل دکھ سے پکار رہا ہے کہ:

ہمارے اپنے بچے تعلیم سے دور ہوتے جا رہے ہیں — اور وجہ وہ پالیسیاں ہیں جن میں تعلیم کی ترجیح نظر نہیں آتی۔

نئی اطلاع کے مطابق اسکول اب 1 ستمبر سے کھلیں گے، حالانکہ پہلے اعلان 15 اگست کا تھا۔ اس کے بعد:

🔸 نومبر میں دو ہفتوں کی سموگ چھٹیاں
🔸 دسمبر کے آخر سے جنوری کے وسط تک سردیوں کی تعطیلات
🔸 سال بھر میں متعدد گزیٹڈ ہالیڈیز
🔸 ہر ہفتے ہفتہ اور اتوار کی چھٹیاں

ان تمام تعطیلات کو نکال دیا جائے تو 365 دنوں میں بمشکل 150 دن تعلیمی سرگرمیوں کے لیے بچتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے:

کیا 150 دنوں میں نویں اور دسویں جماعت کا بورڈ سلیبس مکمل کیا جا سکتا ہے؟

سمر کیمپ کی اجازت تو دی گئی، مگر ساتھ ہی سختی سے کہا گیا کہ بچوں پر دباؤ نہیں ڈالنا، “جو آنا چاہے آئے، جو نہ آنا چاہے نہ آئے۔” نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اسکول مالکان اور اساتذہ ترلے کرتے رہے، اور حاضری بمشکل 50 سے 60 فیصد رہی۔

کیا یہ پالیسی تعلیمی ترقی کی ضمانت دے سکتی ہے؟
کیا ہم اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے جا رہے ہیں یا اسے مزید غیر سنجیدہ بنا رہے ہیں؟

ہماری درخواست ہے:
📌 اسکولز کو اعتماد میں لیا جائے
📌 تعطیلات کی پالیسی کو تعلیمی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے
📌 بورڈ کلاسز کے کورسز کے لیے واضح، حقیقت پسندانہ حکمت عملی مرتب کی جائے

ہم حکومتی پالیسیوں کے مخالف نہیں، لیکن تعلیم کو ترجیح دی جائے، نہ کہ پسِ پشت ڈالا جائے۔

یہ وقت اصلاحات کا ہے، نظرثانی کا ہے، اور تعلیم کو واقعی “ترجیحِ اول” بنانے کا ہے۔

09/08/2025

*تعلیم* ایک خطرناک *وائرس* ہے جس سے آپ کے بچوں کو *شعور* جیسی لا علاج بیماری لاحق ہو سکتی ہے ۔
لہذا!
*گورنمنٹ آف پنجاب* کے سخت احکامات کے پیش نظر نقش لاثانی سکول میں غیر معائنہ مدت کیلئے چھٹیاں کر دی گئی ہیں۔
لہذا والدین سے گزارش ہے کہ بچوں کو گھر میں رکھیں تاکہ تعلیم جیسے خطرناک وائرس سے محفوظ رہیں ۔
بحکم ۔
*حکومت پنجاب پاکستان*

09/08/2025

📢 تعلیم پر تالے — مستقبل پر تالے 📚

"پنجاب کی موجودہ حکومت کی تعلیمی پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اسکول کھلنے چاہییں، کتابیں بچوں کے ہاتھ میں ہونی چاہییں، لیکن افسوس! پالیسی ایسی بنائی جا رہی ہے جس میں علم کم اور تالے زیادہ نظر آتے ہیں۔

ہم مانتے ہیں کہ تعلیم قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اگر اسکول بند ہوں گے تو کل کے انجینئر، ڈاکٹر اور سائنسدان کہاں سے آئیں گے؟

ہم حکومت کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ تعلیم دشمن اقدامات سے صرف ایک سیاسی جماعت نہیں، بلکہ پورا پاکستان نقصان اٹھاتا ہے۔ اسکول کھولو، تعلیم دو — یہی اصل ترقی ہے۔"

07/08/2025
21/04/2025

میٹرک تک سلیبس اس طرح ہونا چاہیے کہ بچے کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر آ جائے اور بچے کو پتہ چل جائے کہ اس نے میٹرک کے بعد کون سے فیلڈ اختیار کرنی ہے یعنی اس کی کس فیلڈ میں دلچسپی ہے ۔
میرا خیال ہے اب رٹا سسٹم ختم ہونا چاہیے بچوں کو دسویں تک زیادہ سے زیادہ ٹیکنیکل تعلیم دینی چاہیے ۔۔
جمعہ اور ہفتہ دو دن ایسے ہوں جس میں نصابی کتابیں بالکل بند کر دی جائیں اور بچوں کو ہنر سکھائے جائیں
ایسے کون سے ہنر ہیں جو بچے دسویں کلاس تک سیکھ سکتے ہیں ۔۔

1- آٹو مکینک
خصوصی طور پر موٹر سائیکل کے بارے میں بچوں کو تربیت دی جائے اس کے انجن کے بارے میں پرزے تبدیل کرنے کے بارے میں انہیں چھٹی کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک مرحلہ وائز موٹرسائیکل کا کام سکھایا جائے وہ اس قدر ماہر بن جائیں کہ دسویں کلاس کے بعد پرزے خرید کر پورا موٹر سائیکل اسمبل کر سکیں ۔۔

2- بجلی کا کام الیکٹریشن

بچوں کو عملی طور پر بجلی کا کام سکھایا جائے انڈر گراؤنڈ وائرنگ کیسے کی جاتی ہے اوپن گراؤنڈ وائرنگ کیسے کی جاتی ہے موٹر وائنڈ کیسے کی جاتی ہے مکمل طور پر بچوں کو کام سکھایا جائے اور یہ شعبہ اور یہ ہنر خود میں پوری ایک سائنس ہے فزکس میں اس کے چیپٹر تو ہیں تھیوری کے طور پر میں کہنے سے چاہتا ہوں کہ بچوں کو پریکٹیکلی کام سکھایا جائے صحیح معنوں میں

3- گھر کا ڈاکٹر

چھٹی کلاس سے لے کے دسویں کلاس تک کے تمام بچوں کو گھر ڈاکٹر بنا دیا جائے جو کہ وقت کی اشد ضرورت ہے
بچے کو بلڈ پریشر مانیٹر کرنا آنا چاہیے ۔۔
وین میں انجیکشن لگانا سکھائیں گوشت میں انجیکشن لگانا سکھائیں بوقت ضرورت ڈرپ کیسے لگائی جاتی ہے ۔
ایمرجنسی کی صورت میں بینڈج کرنا سکھائیں ۔۔
ضروری نہیں یہ کام اس نے لوگوں کے لیے کرنے ہیں یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو بچے کی ساری زندگی اس کے کام آنے والی ہیں۔۔۔

4- موبائل ریپیئرنگ اور سافٹ ویئر

بچوں کو موبائل ریپیئرنگ کے بارے میں تربیت دی جائے ان کو موبائل ریپیئر کرنا سکھایا جائے موبائل میں سوفٹ ویئر کیسے اپڈیٹ کیا جاتا ہے سافٹ ویئر انسٹال کیسے کیا جاتا ہے ۔۔

5- خود سے پیسے کمانا

گرمی کی چھٹیوں میں بچوں کو ٹاسک دیا جائے کہ پانچ پانچ بچے مل کر تھوڑے تھوڑے پیسے ڈال کر کوئی کاروبار کریں کوئی چیز لے کر فروخت کریں تاکہ وہ عملی زندگی میں اس طرح کی صورتحال میں پریشان نہ ہو مطلب ان کو کمانا سکھائیں ( ہمارے پڑوسی ملک انڈیا میں یہ پریکٹیکل کئی سالوں سے ہو رہا ہے )

6- فری لانسنگ

ویڈیو گیم کھیلنے کے علاوہ کمپیوٹر اور بھی بہت سے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے یہ بچوں کو عملی طور پر باور کروایا جا سکتا ہے انہیں بتائیں کہ انٹرنیٹ کا دور ہے اپ اپنی چیزیں انٹرنیٹ پر کس قدر اسانی کے ساتھ فروخت کر سکتے ہیں ۔۔
اپنی خدمات کو انٹرنیٹ پر فروخت کرنا سکھائیں ۔۔

مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ دیہاتی ہے اور اس کے گھر میں دیسی گھی ہے تو اس کا استاد بتائے کہ وہ دیسی گھی کا پیج بنا کر انٹرنیٹ پر ایمانداری کے ساتھ کس قدر کامیاب کاروبار کر سکتا ہے ایلسی کی پنیا فروخت کر سکتا ہے مکئی کا اٹا فروخت کر سکتا ہے سردیوں میں ساگ بنا کر فروخت کر سکتا ہے مکھن فروخت کر سکتا ہے اور بھی بہت کچھ یہ اسے سکھایا جائے ۔۔!!

7- نرسری اگانا

بچوں کو بیج لگانے کی تربیت دی جائے پھولوں کے بیج سبزیوں کے بیج درختوں کے بیج اور یہ کام سکول میں بہت اسانی کے ساتھ ہو سکتے ہیں کہ اگر مستقبل میں اس کا رجحان نیچر کی طرف بڑھ جائے تو وہ نرسری کا اپنا کاروبار کر سکتا ہے اسے یہ ہنر ضرور سکھانے چاہیے ۔۔

8- چھوٹے پیمانے پر صابن سازی

9- بیچنا آنا چاہیے بچوں کو مارکیٹنگ

بچوں کے اندر اس قدر اعتماد پیدا کیا جائے کہ وہ بہترین مارکیٹر بن سکے ان کو اپنی چیزیں بیچنا آنا چاہیے اور اساتذہ سے بڑھ کر کوئی ایسی ہستی نہیں جو بچوں میں اس قدر اعتماد پیدا کر سکے والدین سے بھی زیادہ اعتماد بچوں کو سکول میں ماحول سے ملتا ہے اساتذہ سے ملتا ہے

اب وقت ہے کہ سلیبس میں موجود فضول کہانیوں کو یکثر مسترد کر کے ہمارے انے والے بچوں کو دسویں تک مکمل پریکٹیکل تعلیم دی جائے تاکہ وہ اپنا باعزت روزگار کما سکے اور وطن عزیز کے باعزت شہری بن سکیں ۔۔


゚viralシfypシ゚viralシalシ


Address

Shakargarr

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naqsh-E-Lasani Public School Geochak posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Naqsh-E-Lasani Public School Geochak:

Shortcuts

Share

Category