Qari Hafeezullah Rajper

Qari Hafeezullah Rajper

Share

زندگی اچھائی کی جیت اور برائی کی ہار کا نام ہے ✍️

16/10/2025

یا اللّٰہ ہمیں دنیا اور آخرت کے تمام شر سے بچا آمین 🤲

24/08/2025

إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ 😢😢😢😢

انتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ہمارے محترم دادا جان آج اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے ہیں۔ اَللّٰہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور و راحت سے بھر دے، ان کی لغزشوں کو معاف فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو صبرِ جمیل اور مرحوم کے نقشِ قدم پر دین داری کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲🤲🤲🤲

07/08/2025
25/01/2025

یا اللہ تو سب جانتا ہے🌹🌹🌹

تو ہی میرا اللّٰہ ہے 🌹🌹🌹

15/09/2024

بیٹوں کی اقسام۔
بیٹے پانچ قسموں کے ہوتے ہیں:
۱: پہلے وہ جنہیں والدین کسی کام کو کرنے کا حُکم دیں تو کہنا نہیں مانتے، یہ عاق ہیں۔

۲: دوسرے وہ ہیں جنہیں والدین کسی کام کو کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بے دلی اور کراہت کے ساتھ، یہ کسی قسم کے اجر سے محروم رہتے ہیں۔

۳: تیسری قسم کے بیٹے وہ ہیں جنہیں والدین کوئی کام کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بڑبڑاتے ہوئے، سُنا سُنا کر، احسان جتلا کر، بکواس بازی کر کر کے۔ یہ کام کر کے بھی گھاٹے میں ہیں اور گناہ کما رہے ہیں۔

۴: چوتھی قسم کے وہ بیٹے ہیں جنہیں والدین کوئی کام بتا دیں تو خوش دلی سے کرتے ہیں، یہ اجر کماتے ہیں اور ایسے بیٹے بہت کم ہوتے ہیں۔

۵: پانچویں قسم کے وہ بیٹے ہیں جو والدین کی ضرورتوں کے کام اُن کے کہنے سے پہلے کر دیتے ہیں، یہ خوش بخت بیٹوں کی نادر قسم ہیں۔

آخری دو قسم کے بیٹے؛ ان کی عمر میں برکت، رزق میں وسعت، ان کے معاملات کی آسانی اور ان کے سینوں میں پڑی راحت اور وسعت کے بارے میں کچھ نا پوچھیئے، یہ تو بس اللہ “اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کر لیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے”۔

ایک چھوٹا سا سوال ہے ہر اُس کرم فرما کیلئے جو اس وقت یہ پڑھ رہا ہے: آپ اوپر بیان کیئے گئے بیٹوں کی قسموں میں سے کون سی قسم کے بیٹے ہیں؟

(بھاگ کر اپنی ماں کے سر پر بوسہ دینے سے پہلے) اپنے آپ سے یہ پوچھ کر دیکھیئے کہ والدین کے ساتھ “بِر” یا حُسن سلوک یا راستبازی ہوتی کیا ہے؟

یہ حُسن سلوک؛ ماں یا باپ کے سر پر ایک بوسہ لے لینے کا نام نہیں ہے، ناں ہی ان کے ہاتھوں پر یا حتی کہ اُن کے پاؤں پر بوسہ لینے کا نام ہے۔ کہیں یہ کر کے تو اس گمان میں میں ناں پڑ جائے کہ تو نے ان کی رضا کو پا لیا ہے۔

حُسن سلوک یہ ہے کہ تو اُن کے دل میں آئی ہوئی خواہش کو محسوس کرے اور پھر اُن کے حُکم کا انتظار کیئے بغیر اس خواہش کو پورا کر دے۔

حُسن سلوک یہ ہے کہ تو یہ جاننے کی کوشش میں لگا رہے کہ انہیں کونسی بات خوشی دیتی ہے اور پھر اُس کام کو جلدی سے کر ڈالے۔ اور تو یہ جاننے کی کوشش کرے کہ انہیں کس بات سے دُکھ پہنچتا ہے اور پھر اس کوشش میں رہے کہ وہ تجھ سے ایسی کوئی چیز کبھی بھی نا دیکھ پائیں۔

اُن سے حسن سلوک یہ ہے کہ تجھے ان کا احساس ہو، تو ان کیلیئے بات چیت کا وقت نکالتا ہو، انہیں کسی چیز کے کھانے پینے کی طلب ہو تو حاضر کر دیتا ہو بھلے یہ ایک چائے کا کپ ہی کیوں ناں ہو۔

حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تو اُن کے آرام اور راحت کا خیال رکھے بھلے اس کیلیئے اپنی راحت کو ہی کیوں نا تیاگنا پڑے۔ اگر تیری دوستوں میں شب بیداری انہیں شاق گزرتی ہے تو تیرا جلدی سو جانا بھی ان کے ساتھ ایک حسن سلوک کی ہی ایک مثال ہے۔

حسن سلوک یہ بھی ہے کہ ان کی خاطر اپنی دعوتیں ضیافتیں چھوڑ دے اگر اس سے تیرا اُن کے ساتھ میل جول متاثر ہوتا ہے تو۔

ایک مناسب ریسٹورنٹ پر ان کے ساتھ کھانا، حج و عمرہ میں ان کی راحت کے پیش نظر اچھے ہوٹل میں ان کے قیام کا بندوبست، حتی کہ کہیں چھوٹی موٹی تفریح اور پکنک جو تیرے والدین کے دل کو سرور دے اور وہ اپنی اس عمر میں بھی خوشی کا احساس پائیں۔

حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تیرے والدین تیرے مال سے مستفیض ہو رہے ہوں بھلے وہ خود کیوں ناں مالدار ہوں۔ اور تیرا یہ جانے بغیر کہ ان کے پاس اب کتنے پیسے ہیں اور انہیں ضرورت ہے بھی یا کہ نہیں تو ان پر خرچ کرتا رہے۔

حس سلوک یہ بھی ہے کہ تو ان کی حتی المقدور راحت تلاش کرتا رہے اور انہوں نے تیری ولادت سے اب تک جو کچھ خدمت کر دی ہے کو کافی سمجھے اور اب ان کے احسانات کے بدلے میں کچھ نا کچھ کرتا رہے۔

حس سلوک یہ بھی ہے کہ تو ان کے لبوں پر کسی طرح ہنسی لاتا رہے بھلے تو اپنے نظروں میں کیوں ناں مسخرہ ہی لگ رہا ہو،

*آخری بات: والدین سے حسن سلوک تیرے اور تیرے بھائیوں بہنوں کے درمیان "باری بندی" کا نام نہیں۔ یہ تو ایک دوڑ کا نام ہے جو جنت کے دروازوں کی طرف جاری ہے اور پتہ نہیں کون پہلے پہنچ جائے۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ جنت کو بہت سے راستے جاتے ہیں اور ان میں سے کئی راستے تیرے والدین سے ہو کر جاتے ہیں۔

07/09/2024

یومِ تحفّظ ختم نبوت ﷺ 🌹🌹🌹🌹🌹🌹

سات ستمبر ہماری تاریخ کا وہ روشن اور تاریخ ساز دن ہے جب ہزاروں مسلمانوں نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے طویل جدوجہد کے بعد پارلیمینٹ سے قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں کام یابی حاصل کی۔

عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ ہر مسلمان کی ذمے داری، اس کے ایمان کا تقاضا اور آخرت میں شفاعتِ رسول ﷺ کا ذریعہ ہے۔ ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا وہ بنیادی اور اہم عقیدہ ہے جس پر پورے دین کا انحصار ہے، اگر یہ عقیدہ محفوظ ہے تو پورا دین محفوظ ہے، اگر یہ عقیدہ محفوظ نہیں تو دین محفوظ نہیں۔ قرآن کریم میں ایک سو سے زاید آیات اور ذخیرہ احادیث میں دو سو سے زاید احادیث نبویؐ اس عقیدے کا اثبات کر رہی ہیں۔

جن میں پوری تفصیل سے ختم نبوت کے ہر پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔ قرون اولیٰ سے لے کر آج تک پوری امت مسلمہ کا اجماع چلا آرہا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کفر ہے بل کہ امام اعظم امام ابوحنیفہؒ کا تو یہ فتویٰ ہے کہ حضور خاتم الانبیاء ﷺ کے بعد مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنا یا معجزہ مانگنا بھی کفر ہے۔ اس سے عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جو عظیم قربانی دی وہ تاریخ کے صفحات میں موجود ہے۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور جمیع صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی نظر میں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی جو اہمیت تھی اس کا اس بات سے بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مدعی نبوت مسیلمہ کذاب سے جو معرکہ ہُوا اس میں بائیس ہزار مرتدین قتل ہوئے اور 1200کے قریب صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے جام شہادت نوش فرمایا جس میں600 کے قریب تو حفاظ اور قراء تھے حتیٰ کہ اس معرکے میں بدری صحابہ کرامؓ کی قیمتی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کردیا مگر اس عقیدہ پر آنچ نہیں آنے دی۔

حضور ﷺ کی حیات طیبہ میں دین اسلام کے لیے شہید ہونے والے مردوں‘ عورتوں‘ بچوں و بوڑھوں اور نوجوانوں کی تعداد 259 ہے اور اس دوران قتل ہونے والے کفار کی کل تعداد 759 ہے جو کہ کل تعداد 1018 بنتی ہے۔ جب کہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے لڑی جانے والی صرف ایک جنگ میں شہداء و مقتولین کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔

انیسویں صدی کے آخر میں بے شمار فتنوں کے ساتھ ایک بہت بڑا فتنہ ایک خود ساختہ نبوت قادیانیت کی شکل میں ظاہر ہوا۔ جس کی تمام تر وفاداریاں انگریز طاغوت کے لیے وقف تھیں، انگریز کو بھی ایسے ہی خاردار خود کاشتہ پودے کی ضرورت تھی جس میں الجھ کر مسلمانوں کا دامن اتحاد تار تار ہوجائے اس لیے انگریزوں نے اس خود کاشتہ پودے کی خوب آب یاری کی۔

اس فرقے کے مفادات کی حفاظت بھی انگریزی حکومت سے وابستہ تھے۔ اس لیے اس نے تاج برطانیہ کی بھرپور انداز میں حمایت کی، ملکہ برطانیہ کو خوشامدی خطوط لکھے، حکومت برطانیہ کے عوام میں راہ ہم وار کرنے کے لیے حرمت جہاد کا فتویٰ دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریہ عقائد و نظریات اور ملحدانہ خیالات سامنے آئے تو علمائے کرام نے اس کا تعاقب کیا اور اس کے مقابلے میں میدان عمل میں نکلے۔ امام العصر حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ اپنے شاگردوں سے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور ردِ قادیانیت کے لیے کام کرنے کا عہد لیا کرتے تھے اور فرماتے تھے: ’’جو شخص قیامت کے دن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے دامن شفاعت سے وابستہ ہونا چاہتا ہے وہ قادیانیت سے ناموس رسالت کو بچائے۔‘‘

امیر شریعت سید عطاء اﷲ شاہ بخاری ؒنے تحریک آزادی کے بعد عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا اور قید و بند کی صعوبتوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور پورے ملک میں بڑھاپے اور بیماری کے باوجود جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے قادیانیت کے کفر کو بے نقاب کر کے نسل نو کے ایمان کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا۔

دنیا و آخرت میں سرخ رو ہونے کے لیے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ، نسل نو کے ایمان کی حفاظت کے لیے ہر ایک مسلمان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔🌹🌹🌹🌹

04/06/2024

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیسے ہیں تمام دوست اللّٰہ تعالیٰ تمام احباب کو خوش و سلامت رکھے آمین 🤲

10/04/2024

*اَلسَّــــــــــــــــلاَمْ عَلَيْـــــــــــــــكُم*

*میری طرف سے آپ کو اور آپکے اہل خانہ کو دل کی گہرائیوں سے "عید مبارک ھو*
🌙 .𝐄𝐈𝐃 𝐌𝐔𝐁𝐀𝐑𝐀𝐊.🌙
عید مبارک ❤️
𝐄𝐢𝐝 𝐌𝐮𝐛𝐚𝐫𝐚𝐤 𝐭𝐨 𝐚𝐥𝐥 𝐭𝐡𝐞 𝐌𝐮𝐬𝐥𝐢𝐦𝐬

🌹❤️💐
Hafeezullah Rajper

02/04/2024

یا ربّ ذوالجلال تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے تمام مشکلات دور فرماء اپنی رحمت سے آسانی پیدا فرما آمین 🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲

29/03/2024

رَحۡمَةً لِّلۡعَٰالَمِين محمد مصطفی﴿ ﷺ ﴾
پر لاکھوں کروڑوں درود و سلام ﷺ♥️

‏اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَماصَلَّيتَ عَلٰی اِبْراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبْراھِيمَ اِنَّكَ حَمِيدُ مَّجِيدُُ۞♥️

اَللَّھُمَّ بَارِك عَلٰی مُحَمَّدٍوَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارکتَ عَلٰی اِبراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبراھيمَ اِنَّك حَمِيدُ مَّجِيد۞*♥️

28/03/2024

تـو ہے خـاتـون ِجـنت کی ماں عـائشـہ 😘🥀
کوئی دنـیا میں تجھ سا کہاں عائشہ ❤️🥀

یوم وفات 17رمضان المبارک ام المؤمنین
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا

سلام حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا 🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

23/03/2024

آج بھی مہکتے ہیں راستے مدینے کے.❤
ایسی اعلی خوشبو تھی محمد ﷺ کے پسینے میں.💯❤

اَللّٰھُمَّ صَــّلِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ-اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ. 🌹🌹

Want your school to be the top-listed School/college in Shahdadpur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Shahdadpur
68030