Amir Raza

Amir Raza مفت میں نہیں سیکھا اداسی میں مسکرانے کا ہنر
بدلنے میں ز?

13/10/2025
27/09/2024

*خدارا غور کیجئے*
*کیا یہ عورت سے انصاف ہے؟*

👇👇👇👇👇👇

اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ، وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی سَیِّدِ الْاَنْبِیَآئِ وَالْمُرْسَلِیْنَ وَعَلٰی اٰلِہِ وَاَصْحٰبِہٖ اَجْمَعِیْن۔ اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلاَ تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ۔ صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْمُ۔
مشفق ومہربان معلمات عزیزہ طالبات!
تاریخ کے ہر دور میں صنف نازک کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا رہا ہے اس کے حقوق کا استحصال کرنے والوں کی تعداد روز افزوں بڑھتی جارہی ہے کہنے کو تو سبھی صنف نازک ہی سے تعبیر کرتے ہیں مگر ذمہ داری مردوں سے بھی زیادہ اس کے سر ڈالی چلی جاتی ہے۔

فطر ت انسانی کا ایک اہم خاصہ یہ بھی ہے کہ اسے جس چیز سے روکا جاتا ہے اس چیز کو کرڈالنے کا جذبہ دو چند ہوجاتا ہے اور اپنی پوری کوشش اس کے پیچھے صرف کردیتا ہے ۔ اب دیکھئے! کہ خالق ارض وسماء نے مردوں کو عورتوں پر ایک گنا فضیلت عطا کی ہے، لیکن یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ فطرت انسانی اس کے خلاف بغاوت پر آمادہ نہ ہو او راس کے خلاف نہ سوچے، سوچنا تھا، سوچا او رایسا سو چا کہ بس ہر جگہ اب وہی ہیں، ماچس کی ڈبیہ سے لے کر دیواروں پر چپکے ہوئے بڑے بڑے پوسٹروں تک ،ایک ہی جنس، مختلف روپ میں ،کبھی سایہ میں تو کبھی دھوپ میں ، مختلف رنگ میں ،کبھی تنہائی میں ،کبھی کسی کے سنگ ،مختلف کرداروں میں، کبھی ماں کے روپ میں گھر میں ،کبھی آوارہ فطرت کی طرح بازار میں ،مختلف رفتار میں ، کبھی بائیک پر، کبھی کار میں ،مختلف چال میں، کبھی وقار وتمکنت کے ساتھ ، کبھی شرابیوں جیسی چال میں، مختلف حال میں، کبھی پورے اور ساتر لباس میں، کبھی صرف رومال میں، مختلف ڈھنگ میں،مختلف رنگ میں، مختلف آہنگ میں، گویا جہاں بھی دیکھو وہ فوق وبرتری کے ’’اعلیٰ نمونہ ‘‘ پر ہیں۔
اب دیکھئے ! کہ ان کی برتری کو ثابت کرنے کے لئے کون کون سے حربے اپنائے گئے؟ کون کون سے طریقے اختیار کئے گئے ۔ برسو ں تک دنیا ’’حسینہ کائنات‘‘ (Miss Universe) اور حسینہ عالم (Miss World)جیسے خطابات سے ناآشنا تھی، لیکن ترقی کی راہ پر گامزن لوگوں کے عزم مبارک کی وجہ سے منصۂ شہود پر آیا، جہاں پر پنہا کا تو مشاہدہ کیا ہی جاتا ہے، پہنائی بھی باریک بینی سے دیکھی جاتی ہے ۔ (شاید دور بین کی بھی کبھی ضرورت پڑتی ہو) مردوں کے لئے آج تک ایسے خطابات وجو دمیں نہیں آئے۔ یہ برتری نہیں تو اور کیا ہے؟ برتری کو ثابت کرنے کے لئے دنیا والوں نے کیا کچھ نہیں کیا۔ ہوٹلوں میں ملازمتیں دلوائیں، جہاں گاہکوں سے مسکرا مسکرا کر باتیں کرنی ہوتی ہیں، جام وخمور نوش جان کرانے کے لئے لوگوں کے سامنے بہت ہی ادب کے ساتھ، سلیقہ سے بن سنور کر کہ دیکھنے والوں کی نگاہیں چشم آہو سے سیرابی حاصل کرے، انداز میں خرام پیدا کرکے ، گردن ذرا ساخم کرکے کہ سامنے والا سوو جان سے قربان ہوجائے آنا پڑتا ہے۔ مرد اپنی چال میں ایسی لچک پیدا کرہی نہیں سکتا کہ دیکھنے والوں کی نیند حرام ہوجائے تو ہوٹلوں کی ملازمت ان کے حصہ میں کیوں کر آسکتی ہے؟ ہاں ایسا اس وقت ہوسکتا ہے کہ جب کوئی نگانِ جوش سے کسی مرد کی چال کو دیکھے۔
مردوں کے شانہ بہ شانہ، دفاتر میں نوکریاں دلوائیں ، جہاں دن بھر تھکتی رہتی ہیں، شام آتے ہی اپنے گھروں کو لوٹ کرا پنے ’’بال وپر‘‘ سنبھالتی ہیں۔ پھر بچوں اور شوہر کے لئے ڈنر تیار کرتی ہیں۔ واقعی صاحب یہ برتری ہی ہے کہ بے چارے مرد کو تو ایک ہی ذمہ داری سنبھالنی مشکل ہے اور عورتیں دوہری ذمہ داری اپنے دامن نازک میں سمیٹ رہی ہیں۔
عورت گھر میں رہ کر خود کفیل بن سکتی ہے
شریعت یہ چاہتی ہے کہ عورت آفسوں دکانوں اور معاش کے لئے کہیں جانے کے بجائے گھروں کی زینت بنے شوہر کی خدمت اور بچوں کی دیکھ بھال کرے اگر عورت گھر سے باہر تلاش معاش کے لئے جارہی ہے تو سینکڑوں قسم کی برائیاں وجود میں آتی ہیں اس کی عزت وناموس محفوظ نہیں رہ سکتی شرم وحیا جو اس کا اصل زیور ہے تار تار ہوجائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں بیوی کے مل کر کمانے سے او رملازمت کرنے سے گھر میں چار پیسے آجائیں گے اور زندگی کی سہولیات یقینی طور پر میسر آجائیں گی مگر اصل سکون واطمینان جو حاصل ہونا چاہئے وہ کبھی نہیں ہوسکتا اس لئے کہ عورت کے ذمہ جو گھر یلو ذمہ داریاں ہے وہی اس کے جسم ناتواں کے لئے کافی ہیں اس سے زیادہ بوجھ برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتی اگر کرے گی تو گھر یلو ذمہ داریوں میں یقینا خلل پڑے گا اولاد کی صحیح تربیت نہیں ہوسکتی شوہر کی اطاعت وفرمانبرداری نہیں کرسکتی اس لئے مرد حضرات کو بھی چاہئے کہ عورتوں کو ملازمت وغیرہ پر بھیجنے کے بجائے تنہا یہ ذمہ داری خود سنبھالیں اور اگر عورت اصرار کرے تو منع کریں اور اگر پیسہ ہی کمانا مقصود ہے تو اس کے لئے بہتر صورت یہ ہے کہ سلائی کڑھائی وغیرہ کا ایسا کوئی کام سیکھ لیں جو گھر میں بیٹھ کر انجام دیتی رہیں اس طرح عزت وناموس بھی محفوظ رہے گی گھر کے کام کا ج بھی کرسکتی ہیں بچوں کی تربیت پر بھی اثر نہیں پڑے گا اور گھر کے بچوں خصوصاً لڑکیوں کو بھی اس کا م میں لگا کر تضیع اوقات سے ان کو بچا بھی سکتی ہیں اور خو دکفیل بھی رہیں گی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں : قُلْ لِّلْمُوْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَہُمْ اے نبی مسلمانوں سے فرمادیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی کرلیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔او راس کے بعد الگ سے عورتوں کو حکم دیا گیا وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّاور اے نبی مسلمان عورتوں سے فرمادیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی کرلیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ اس آیت کریمہ پر اسی وقت عمل ہوسکتا ہے جب کہ عورتیں گھر کے اندر ہی رہیں اوربلا ضرورت شدید گھر سے باہر نہ نکلیں۔
وَاٰخِرُدَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنََ

میرا شیر محمداللہ میرے بیٹے کو قارئ قرآن بنائے ۔آمین
08/12/2023

میرا شیر محمد
اللہ میرے بیٹے کو قارئ قرآن بنائے ۔آمین

25/02/2023

حافظ منیر

Address

Khateeb O Imam Jamia Masjid Khazra Shah Jamal
Shah Jamal

Telephone

+923157368735

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Amir Raza posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Amir Raza:

Shortcuts

Share

Category