**بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟
سائنس اور عقیدہ دونوں کی باہمی گواہی**
سائنس کی موجودہ تحقیق ایک حیران کن نتیجے پر متفق ہے کہ بگ بینگ سے پہلے نہ وقت موجود تھا اور نہ ہی جگہ۔ معیاری کونیاتی نظریہ (Standard Cosmology) کے مطابق ٹائم اور اسپیس دونوں کا آغاز بگ بینگ ہی کے ساتھ ہوا، اور اس سے پہلے کی کیفیت کو "پہلے" کہنا ہی غلط ہے کیونکہ "پہلے" کا لفظ خود وقت کے وجود کو فرض کرتا ہے۔ اس نقطے پر آج کے بڑے سائنس دان — Stephen Hawking، Carlo Rovelli اور دیگر فزسسٹ — واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ بگ بینگ سے پہلے کوئی classical زمان یا مکان موجود نہیں تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی تصور صدیوں پہلے مذہبی و روحانی روایات میں بیان ہو چکا تھا۔ اسلامی عقیدہ کہتا ہے کہ وقت اور جگہ دونوں مخلوق ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان سے ماوراء ہے۔ قرآنِ کریم میں دن اور رات کی تخلیق کا بار بار ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ "زمان" اللہ کے امر سے پیدا ہوتا ہے، اس کا کوئی خودمختار وجود نہیں۔ علمِ کلام اور تصوف اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدا کی ذات لامکانی اور لازمانی ہے — یعنی وہ مقام و زمان کی قید سے بالکل بلند ہے۔
یہاں پر سائنس اور عقیدہ حیرت انگیز طور پر ایک دوسرے کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔ سائنس کا کہنا ہے کہ ٹائم اور اسپیس کی ابتدا ہے، جبکہ مذہب کہتا ہے کہ ان دونوں کا خالق ہے۔ اگر وقت اور جگہ واقعی پیدا شدہ ہیں تو ان کا پیدا کرنے والا لازماً ان سے باہر ہوگا — یعنی لامکان اور لازمان۔ یہی وہ تصور ہے جو خدا کے بارے میں تمام انبیاء اور اولیاء بیان کرتے آئے ہیں۔
مزید یہ کہ جدید طبیعیات کے بعض نظریات، جیسے Loop Quantum Gravity اور Carlo Rovelli کا relational time model، اسی سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وقت ایک بنیادی حقیقت نہیں بلکہ ایک عارضی اور مشاہداتی تصور ہے۔ تصوف کا "مقامِ لامکان" اور "ھُو" کا تصور بھی یہی کہتا ہے کہ اصل حقیقت وقت اور جگہ سے بالاتر ہے، اور یہ کائنات صرف ایک ظہور (manifestation) ہے، حقیقتِ مطلق نہیں۔
اس لیے جب سائنس یہ کہتی ہے کہ بگ بینگ سے پہلے وقت اور جگہ کا کوئی وجود نہیں تھا، تو یہ عقیدۂ توحید کی ایک بنیادی بات کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے — کہ خدا ان تمام قوانین اور جہات سے ماوراء ہے جن کے اندر کائنات بندھی ہوئی ہے۔ یوں سائنسی تحقیق، چاہے وہ براہِ راست خدا کو ثابت نہ بھی کرے، مگر اس کے نتائج اُن مابعد الطبیعیاتی حقائق کے قریب جا پہنچتے ہیں جنہیں الوہی علم نے ہزاروں سال پہلے بیان کر دیا تھا۔
Ahle Sunnat Aqeeda اہلسنت عقیدہ
اس پیج میں عقائد اہل سنت کی تشریح ہے۔بات بتانا مقصد ہے منوانا مقصد نہیں کیونکہ ہدایت اللہ نے دینی ہے
بنیادی سوالات جو بگ بینگ کے نظریے کو چیلنج کرتے ہیں:
1. اگر سپیس () بگ بینگ کے بعد بنی، تو بگ بینگ کہاں ہوا؟
اگر کوئی دھماکہ ہوتا ہے، تو اسے ہونے کے لیے کسی جگہ () کی ضرورت ہوتی ہے۔
اگر بگ بینگ سے پہلے سپیس نہیں تھی، تو وہ کہاں وقوع پذیر ہوا؟
اگر سپیس پہلے سے تھی، تو پھر یہ کہنا کہ بگ بینگ نے سپیس پیدا کی، غلط ثابت ہوتا ہے۔
2. اگر وقت () بگ بینگ کے بعد شروع ہوا، تو بگ بینگ سے پہلے کا "پہلے" کیا تھا؟
وقت کو اگر ایک "نقطہ آغاز" سے جوڑا جائے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے پہلے کچھ نہیں تھا۔
جیسے اگر ہم گھڑی پر 1:00 کا وقت مقرر کریں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ 12:59 کبھی تھا ہی نہیں۔
اگر وقت کا آغاز بگ بینگ سے ہوا، تو "بگ بینگ سے پہلے" کا سوال ہی غلط سمجھا جاتا ہے، لیکن پھر بگ بینگ کا کوئی سبب بھی نہیں ہو سکتا۔
بغیر سبب کے کچھ نہیں ہوتا، تو پھر بگ بینگ کیسے ہوا؟
3. اگر بگ بینگ سے پہلے کچھ بھی نہیں تھا، تو بگ بینگ کی توانائی کہاں سے آئی؟
فزکس کا قانون کہتا ہے کہ توانائی از خود پیدا نہیں ہو سکتی، بلکہ یہ ایک سے دوسری شکل میں تبدیل ہوتی ہے۔
اگر بگ بینگ ایک انتہائی کثیف () اور گرم توانائی کے نقطے () سے شروع ہوا، تو سوال یہ ہے کہ یہ توانائی کہاں سے آئی؟
کیا یہ ہمیشہ سے موجود تھی؟ اگر ہاں، تو پھر کچھ نہ ہونے کا تصور غلط ہوا!
4. اگر بگ بینگ ایک فطری () عمل تھا، تو وہ فطرت کہاں تھی؟
اگر کوئی کہے کہ "بگ بینگ ایک قدرتی عمل تھا"، تو سوال یہ ہے کہ قدرتی قوانین پہلے سے کہاں موجود تھے؟
قوانینِ فزکس () اور کوانٹم فلیکچویشنز ( ) کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ کچھ نہ کچھ پہلے سے تھا۔
اگر قوانینِ فزکس پہلے سے تھے، تو ان قوانین کو بنانے والا کون تھا؟
5. اگر بگ بینگ کا ہونا اتنا مشکل تھا کہ کوئی خدا بھی نہیں کر سکتا تھا ، تو پھر بغیر کسی خالق کے بگ بینگ خود سے کیسے ہو گیا؟
اگر بگ بینگ ایک پیچیدہ اور حیرت انگیز عمل تھا، تو کیا یہ ممکن ہے کہ یہ کسی ذہانت، قوت، اور ارادے کے بغیر خود سے ہو گیا؟
اگر بگ بینگ کے لیے ایک انتہائی درست () توانائی، قوتیں، اور قوانین درکار تھے، تو کیا یہ سب کچھ خود بخود ایک بہترین توازن میں آ سکتا ہے؟
یہ ایسے ہی ہے جیسے ایک کمپیوٹر خود سے بن جائے، یا ایک کتاب خود بخود لکھی جائے۔
بگ بینگ کے نظریے میں بہت سے سائنسی تضادات موجود ہیں، جو خود سائنس کے قوانین کے خلاف جاتے ہیں۔
اگر کچھ بھی نہیں تھا، تو کچھ پیدا نہیں ہو سکتا۔
اگر کچھ تھا، تو وہ کیا تھا اور اسے کس نے پیدا کیا؟
ہر بڑی تخلیق کے پیچھے ایک عظیم خالق ہوتا ہے، تو کائنات جیسی عظیم چیز بغیر کسی خالق کے کیسے بن گئی؟
یہ سوالات بگ بینگ کے حامیوں کے لیے ایک فکری چیلنج ہیں، اور جو لوگ سچ کی تلاش میں ہیں، وہ ان پر ضرور غور کریں گے
💠 عنوان:
“سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حقیقت احادیث کی روشنی میں — ایک تحقیقی دفاع”
---
🔹 تمہید
اہلِ سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل، مؤمن، اور نبی ﷺ کے منتخب ساتھی ہیں۔
قرآن نے فرمایا:
> "وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ" (الحدید: 10)
"اور اللہ نے سب سے اچھے وعدے کیے ہیں۔"
لہٰذا کسی صحابی کی شان میں گستاخی، طعن یا تنقیص قرآنی اصول کے خلاف ہے۔
اب آئیے، ایک ایک روایت کو سند، سیاق، اور صحیح مفہوم کے ساتھ دیکھتے ہیں۔
---
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف پیش ہونے والے حوالہ جات اکثر شیعہ یا بعض غیر محتاط سنی حلقوں میں دلیل کے طور پر نقل کیے جاتے ہیں، مگر ان کا صحیح تاریخی و حدیثی مفہوم سیدنا امیر معاویہؓ کی تنقیص نہیں، بلکہ ان کے سیاسی و انسانی پہلوؤں کے سیاق میں ہے، جسے اہلِ سنت والجماعت کے محدثین و مفسرین نے وضاحت سے بیان کیا ہے۔
آئیے، ایک ایک نکتہ علمی اور محدثانہ انداز میں دیکھتے ہیں:
---
🔹 1. "بنو اُمیہ بدترین بادشاہ ہیں" (جامع ترمذی #2226)
📖 تبصرہ:
یہ روایت سیدنا سفینہؓ سے مروی ہے، مگر سند میں عیسیٰ بن یونس اور عبدالرحمٰن بن سابط کے اتصال میں انقطاع (قطع) ہے، جیسا کہ امام ابن حجر، امام ذہبی اور محدث البانی نے ذکر کیا۔
یعنی یہ روایت ضعیف ہے۔
مزید یہ کہ حدیث میں عمومِ بنی اُمیہ کا ذکر ہے، نہ کہ شخصِ سیدنا معاویہؓ کی خاص مذمت۔ جبکہ اموی خلفاء میں سیدنا عمر بن عبدالعزیزؓ جیسے جلیل القدر خلیفہ بھی تھے، جنہیں اہلِ سنت نے "خلیفہ راشد پنجم" کہا۔
لہٰذا یہ روایت ضعیف بھی ہے اور تعمیمی بھی، معاویہؓ پر خاص نہیں۔
---
🔹 2. "عبداللہ بن عمروؓ کا قول کہ معاویہ کی اطاعت اللہ کے حکم کے مطابق کرو" (مسلم #4776)
📖 تبصرہ:
یہ قول ہے، حدیثِ مرفوع نہیں۔
اس میں کوئی مذمت نہیں بلکہ یہ فقہی اصول بیان ہوا ہے کہ حاکم کی اطاعت اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ یہی بات قرآن میں بھی ہے:
> "أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ" (النساء: 59)
اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ہوتی ہے، گناہ میں نہیں۔
لہٰذا یہ کلام سیدنا عبداللہ بن عمروؓ کی احتیاط اور تقویٰ کو ظاہر کرتا ہے، معاویہؓ کی تنقیص نہیں۔
---
🔹 3–4. "عمارؓ کو باغی گروہ قتل کرے گا" (احمد #12350، بخاری #447)
📖 اہم نکتہ:
یہ وہی مشہور حدیث ہے جس کے بارے میں کافی علمی و تحقیقی بحث پہلے سے ہی موجود ہے۔
> جملہ "تقتلُه الفئةُ الباغية" حدیث میں مدرج (بعد میں شامل) ہوا ہے،
اور صحیح بخاری کے ابتدائی نسخوں (ابن سعدہ روایت) میں یہ الفاظ موجود نہیں۔
یہ بات محدثینِ شام، امام ابن تیمیہ، امام ابن حجر، حافظ ابن کثیر وغیرہ نے واضح کی ہے۔
🔸 مزید:
حتی اگر اسے مان بھی لیا جائے، تو "فئة باغیہ" کا مطلب فقہی طور پر نافرمان گروہ ہے، نہ کہ گناہگار یا منافق گروہ۔
سیدنا امیر معاویہؓ اور ان کا لشکر اجتہادی خطا پر تھے، کافر یا فاسق نہیں، جیسا کہ امام نووی، قاضی عیاض، ابن تیمیہ، ابن عبدالبر سب نے واضح کیا۔
لہٰذا ان پر "باغی" کہنا لغوی اور فقہی معنی میں ہے، نہ اخلاقی یا ایمانی لحاظ سے۔
---
🔹 5. "مقدامؓ نے کہا کہ میں معاویہ کے گھر میں ریشم، سونا اور کھال دیکھی" (ابوداؤد #4131)
📖 تبصرہ:
یہ ایک نصیحتی گفتگو تھی، جس میں سیدنا مقدامؓ نے سیدنا امیر معاویہؓ کو امر بالمعروف کے طور پر توجہ دلائی۔
نہ اس میں گستاخی ہے، نہ اس کا مطلب یہ کہ معاویہؓ عاصی یا فاسق تھے۔
اہلِ شام میں غلبۂ نعمت تھا، اور بعض اوقات تحفوں میں وہ چیزیں آجاتی تھیں جو عام لوگوں کے لیے مکروہ تھیں۔
اس پر صحابی نے نرمی سے توجہ دلائی — یہ صحابہ کے باہمی تقویٰ و خیر خواہی کی علامت ہے۔
---
🔹 6. "علی سے صرف مومن محبت کرتا ہے" (مسلم #240)
📖 تبصرہ:
یہ حدیث عموم کے طور پر بیان ہوئی ہے، کسی مخصوص شخص کے لیے نہیں۔
محبتِ سیدنا علیؓ ایمان کی علامت ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو علیؓ سے اختلاف کرے وہ منافق ہو۔
اہلِ سنت کے نزدیک سیدنا امیر معاویہؓ علیؓ سے بغض نہیں رکھتے تھے، بلکہ اجتہادی نزاع تھا۔
یہ بات امام ابن حجر، نووی، قاضی عیاض سب نے لکھی ہے۔
---
🔹 7. "ابن عباسؓ نے کہا لوگ لبیک نہیں کہہ رہے، معاویہ سے ڈرتے ہیں" (نسائی #3009)
📖 تبصرہ:
یہ سیاسی ماحول کا بیان ہے، عقیدتی نہیں۔
خلفائے وقت کی پالیسیوں سے بعض صحابہ کا اختلاف ہوا — مگر یہ اختلاف محبت و ایمان کے خلاف نہیں تھا۔
سیدنا ابن عباسؓ خود سیدنا امیر معاویہؓ کے دور میں قاضی و مشیر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
---
🔹 8–10. "علیؓ کو برا کہنے سے سعدؓ کا انکار" (مسلم #6220، #6229، ابن ماجہ #121)
📖 تبصرہ:
یہ روایات بنی اُمیہ کے دور کے بعض گورنروں (مثلاً مروان بن حکم یا زیاد بن ابیہ) کے بارے میں ہیں،
نہ کہ خود سیدنا امیر معاویہؓ نے یہ گالی دی۔
اگر بعض مواقع پر سیاسی تناؤ میں سخت جملے کہے گئے، تو وہ سیاسی فضا میں تھے، ایمان و عقیدہ سے متعلق نہیں۔
خود سیدنا امیر معاویہؓ نے وفات سے پہلے سیدنا علیؓ اور اہلِ بیتؓ کے لیے دعا کی، جیسا کہ امام ذہبی نے سیر أعلام النبلاء میں ذکر کیا۔
---
🔹 11. "اللہ معاویہ کا پیٹ نہ بھرے" (مسلم #6628)
📖 تبصرہ:
یہ دعائیہ اسلوب میں طنزاً فرمایا گیا، اور لعنت یا بددعا نہیں۔
امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں لکھا:
> "یہ دعا نہیں، بلکہ مزاح اور تنبیہ کے انداز میں کہا گیا۔"
(شرح نووی علی مسلم 16/156)
یعنی نبی ﷺ نے سیدنا معاویہؓ کو متنبہ کیا، بددعا نہیں دی۔
اسی معاویہؓ کو نبی ﷺ نے کاتبِ وحی بنایا، اپنے اعتماد کے ساتھ قریب رکھا۔
---
💠 اہلِ سنت کا مجموعی عقیدہ
1. سیدنا امیر معاویہؓ صحابی رسول ہیں، عادل و فاضل ہیں۔
> "لا تسبوا أصحابي" (بخاری #3673)
2. جنگِ صفین ایک اجتہادی اختلاف تھا،
سیدنا علیؓ مصیب، سیدنا معاویہؓ مجتہد مخطئ۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
> "جب حاکم اجتہاد کرے اور درست کہے تو دو اجر، اور خطا کرے تو ایک اجر۔" (بخاری #6919)
3. قرآن نے سب صحابہ کے لیے فرمایا:
> "رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ" (التوبہ:100)
4. نبی ﷺ نے فرمایا:
> "میری امت کا پہلا لشکر جو سمندر میں جہاد کرے گا، وہ مغفور ہے۔" (بخاری #2924)
اور وہ لشکر سیدنا امیر معاویہؓ کے زیرِ قیادت تھا۔
---
جو روایات بظاہر طعن لگتی ہیں:
یا تو ضعیف یا مدرج ہیں،
یا سیاسی و وقتی تناظر میں ہیں،
یا امر بالمعروف کے طور پر۔
ان سے شخصی یا ایمانی مذمت مراد لینا
قرآن و سنت کے صریح اصول کے خلاف ہے۔
---
📚 اہم مراجع برائے مزید تحقیق:
1. فتح الباری لابن حجر (13/210)
2. شرح صحیح مسلم للنووی (16/156، 18/11)
3. منهاج السنّة لابن تیمیہ (4/383)
4. سیر أعلام النبلاء (3/132)
5. الشفا لقاضی عیاض (2/53)
6. البداية والنهاية لابن كثير (8/129)
💠 Title:
The Reality of Sayyiduna Amir Mu‘awiyah (رضي الله عنه) in the Light of Hadith — A Scholarly Defense
---
🔹 Introduction
Ahl al-Sunnah wa’l-Jama‘ah hold the firm belief that all the Companions of the Prophet ﷺ are just (‘adil), faithful believers, and chosen associates of the Messenger of Allah ﷺ.
The Qur’an declares:
> "وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ"
“And Allah has promised the best reward to all of them.” (Al-Hadid: 10)
Therefore, any insult, slander, or disparagement against any Companion contradicts this clear Qur’anic principle.
Let us now examine the relevant narrations one by one — with their chains, contexts, and correct scholarly meanings.
---
Clarification
The reports often cited against Sayyiduna Amir Mu‘awiyah (رضي الله عنه) are mostly propagated by Shi‘a or by some non-critical Sunni circles.
However, a proper analysis of these narrations — through the lens of hadith authenticity, historical context, and scholarly commentary — shows that none of them imply any personal or moral fault of Sayyiduna Mu‘awiyah (رضي الله عنه).
They relate instead to contextual political or human circumstances, as clearly explained by the classical Sunni scholars and hadith authorities.
Let us examine each point scientifically and objectively:
---
🔹 1. “The Banu Umayyah are the worst rulers”
(Jami‘ al-Tirmidhi #2226)
📖 Commentary:
This narration is reported from Sayyiduna Safinah (رضي الله عنه), but there is a disconnection (inqita‘) between ‘Isa ibn Yunus and ‘Abd al-Rahman ibn Sabit, as noted by Ibn Hajar, al-Dhahabi, and al-Albani.
Thus, the hadith is weak (da‘if).
Moreover, the hadith speaks in general terms about Banu Umayyah as a group, not specifically about Mu‘awiyah (رضي الله عنه).
And within the Umayyad dynasty, we have great and pious rulers like ‘Umar ibn ‘Abd al-‘Aziz (رحمه الله) — known as the “Fifth Rightly-Guided Caliph.”
Hence, the narration is both weak and general, not a specific criticism of Mu‘awiyah (رضي الله عنه).
---
🔹 2. The statement of ‘Abdullah ibn ‘Amr (رضي الله عنه):
“Obey Mu‘awiyah according to Allah’s command.” (Sahih Muslim #4776)
📖 Commentary:
This is a Companion’s personal statement, not a prophetic hadith (marfu‘).
It simply expresses a juristic principle — that obedience to rulers is conditional upon obedience to Allah, as the Qur’an says:
> “Obey Allah, obey the Messenger, and those in authority among you.” (An-Nisa: 59)
Thus, the statement reflects ‘Abdullah ibn ‘Amr’s piety and caution, not any criticism of Mu‘awiyah (رضي الله عنه).
---
🔹 3–4. “A rebellious group will kill ‘Ammar (رضي الله عنه).”
(Musnad Ahmad #12350, Sahih al-Bukhari #447)
📖 Key Point:
This well-known narration has been subject to extensive scholarly debate.
> The phrase “تقتله الفئة الباغية” — “A rebellious group will kill him” — is a later interpolation (mudraj) and not present in the earliest manuscripts of Sahih al-Bukhari (such as the Ibn Sa‘adah version).
This was noted by classical authorities like Ibn Taymiyyah, Ibn Hajar, and Ibn Kathir.
🔸 Furthermore:
Even if we accept the wording as authentic, the term “baghiyah” here is juridical, not moral.
It means a group acting upon ijtihadi error, not a group of sinners or hypocrites.
Imam al-Nawawi, Qadi ‘Iyad, Ibn Taymiyyah, and Ibn ‘Abd al-Barr all affirm that Mu‘awiyah (رضي الله عنه) and his followers were mujtahidun who erred, not transgressors in faith or morality.
Thus, the word “baghiyah” is descriptive, not condemnatory.
---
🔹 5. “Al-Miqdam (رضي الله عنه) saw silk, gold, and animal skins in Mu‘awiyah’s house.”
(Sunan Abi Dawud #4131)
📖 Commentary:
This was a moral reminder, not a rebuke.
Sayyiduna Miqdam (رضي الله عنه)** advised Mu‘awiyah (رضي الله عنه)** out of sincerity — a beautiful example of amr bil-ma‘ruf (commanding good).
There was no insult or accusation of sin.
The Companions often reminded one another of piety — this is a sign of mutual respect and righteousness, not hostility.
---
🔹 6. “Only a believer loves ‘Ali (رضي الله عنه).”
(Sahih Muslim #240)
📖 Commentary:
This hadith is general in meaning, not directed toward any individual.
Love for ‘Ali (رضي الله عنه) is indeed a sign of faith — but disagreement in ijtihad does not imply enmity or hypocrisy.
The scholars of Ahl al-Sunnah — including Ibn Hajar, al-Nawawi, and Qadi ‘Iyad — all clarify that Mu‘awiyah (رضي الله عنه) did not harbor personal hatred for ‘Ali (رضي الله عنه).
Their differences were political and ijtihadi, not theological.
---
🔹 7. “People were afraid to say labbayk because of Mu‘awiyah.”
(Sunan al-Nasa’i #3009)
📖 Commentary:
This describes a political situation, not a religious one.
Differences between Companions regarding policy or governance never negated their faith or mutual respect.
Even Ibn ‘Abbas (رضي الله عنه) later served as a judge and advisor during Mu‘awiyah’s reign — evidence of continued mutual cooperation.
---
🔹 8–10. “Sa‘d ibn Abi Waqqas refused to curse ‘Ali (رضي الله عنه).”
(Sahih Muslim #6220, #6229; Ibn Majah #121)
📖 Commentary:
These reports concern certain Umayyad governors such as Marwan ibn al-Hakam or Ziyad ibn Abih, not Mu‘awiyah (رضي الله عنه) himself.
Even if harsh words were exchanged during moments of political tension, they were political, not faith-related.
Before his death, Mu‘awiyah (رضي الله عنه) himself prayed for ‘Ali (رضي الله عنه) and Ahl al-Bayt (رضي الله عنهم), as mentioned by al-Dhahabi in Siyar A‘lam al-Nubala’.
---
🔹 11. “May Allah not fill Mu‘awiyah’s stomach.”
(Sahih Muslim #6628)
📖 Commentary:
This was said in a rhetorical, humorous, or corrective tone, not as a curse.
Imam al-Nawawi writes in his Sharh Sahih Muslim (16/156):
> “This is not a supplication against him, but a form of light-hearted admonition.”
The Prophet ﷺ said it out of affectionate warning — not anger or condemnation.
Moreover, Mu‘awiyah (رضي الله عنه)** was among the scribes of revelation (katib al-wahy), trusted directly by the Prophet ﷺ.
---
💠 The Sunni Creed Regarding Mu‘awiyah (رضي الله عنه)
1. He is a noble Companion of the Prophet ﷺ, righteous and just.
> “Do not revile my Companions.”
(Sahih al-Bukhari #3673)
2. The Battle of Siffin was an ijtihadi dispute —
‘Ali (رضي الله عنه) was correct (musib), and Mu‘awiyah (رضي الله عنه) was a mujtahid who erred.
> The Prophet ﷺ said:
“When a judge makes ijtihad and is correct, he gets two rewards; if he errs, he gets one.”
(Sahih al-Bukhari #6919)
3. The Qur’an affirms:
> “Allah is pleased with them, and they are pleased with Him.”
(At-Tawbah: 100)
4. The Prophet ﷺ foretold:
> “The first army of my ummah to wage war by sea will be granted forgiveness.”
(Sahih al-Bukhari #2924)
That first naval expedition was led by Mu‘awiyah (رضي الله عنه).
---
Conclusion
The narrations that seem, at first glance, to criticize Sayyiduna Mu‘awiyah (رضي الله عنه) are either:
Weak or interpolated (mudraj),
Contextual and time-bound, or
Expressions of moral advice (amr bil-ma‘ruf).
To interpret them as personal or faith-based condemnation contradicts the Qur’an, Sunnah, and the methodology of Ahl al-Sunnah.
---
📚 Important References for Further Study
1. Fath al-Bari by Ibn Hajar (13/210)
2. Sharh Sahih Muslim by al-Nawawi (16/156, 18/11)
3. Minhaj al-Sunnah by Ibn Taymiyyah (4/383)
4. Siyar A‘lam al-Nubala’ by al-Dhahabi (3/132)
5. al-Shifa’ by Qadi ‘Iyad (2/53)
6. al-Bidayah wa’l-Nihayah by Ibn Kathir (8/129)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اول المخلوقات ہیں۔ ثبوت قرآن سے۔ از مناظر اسلام علامہ سعید احمد اسعد
12/04/2024
دعوت اسلامی فلسطینی امداد زکوٰۃ اکاؤنٹ
Askari Bank
Branch Code:0747
Branch address Shahrah-e-Faisal
A/C Title: DAWAT-E-ISLAMI TRUST
A/C Number: 07470200003921
PK60ASCM0007470200003921
Mind blowing prophecies of Prophet Muhammad peace be upon Him which came true.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Shah Faisalabad
38000