Reply to a Sister for her Question: M***i Maulana Ishaq was a prominent Islamic scholar known for his extensive knowledge and efforts to promote unity among Muslims. Born in 1935 in the village of Rara Tali, Chak Jhumra, District Faisalabad, he dedicated his life to teaching and spreading the message of Wahdat al-Ummah (Unity of the Muslim Ummah).
Maulana Ishaq was known for his non-sectarian approach, emphasizing the core teachings of Islam based on the Quran and Sunnah. He sought to bridge divides among different Muslim sects, fostering an atmosphere of mutual respect and brotherhood. Despite acknowledging theological differences, he firmly believed in bringing Muslims together as one community, while maintaining a clear stance that Ahmadis were outside the fold of Islam.
His legacy continues to inspire many for his contributions to Islamic scholarship, his efforts for unity, and his dedication to the principles of Islam.
Molana Ishaq
It is Official Page of Molana Ishaq RIP
بیشک، آپ کی درخواست پر یہاں آیا ہے۔ سورہ البقرہ (سورہ نمبر ۲)، آیت نمبر ۲۸۵ کا متن درج ذیل ہے:
"رسول نے اپنے رب کی طرف سے جو کچھ اُس پر نازل ہوا اس پر ایمان لے لیا اور مومنوں نے بھی اس پر ایمان لے لیا ہر ایک نے اللہ کی، ان کے فرشتوں کی، ان کی کتابوں کی اور ان کے پیغمبروں کی طرف ایمان لیا، کسی ایک کے بیچ کوئی فرق نہیں کرتے۔ اور انہوں نے کہا: ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ ہمارے رب، تیرا مغفرت کر۔ اور ہمیشہ تو ہی ہی جانب آنے والے ہیں۔"
نسیبہ کی شجاعت کا ایک مشہور واقعہ بدر کی جنگ میں ہوا۔ اس جنگ میں جب مسلمان فوج کو ہار کا سامنا ہوا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خود کو خطرے میں پایا، تو نسیبہ بے خوفی سے آگے آئیں اور ان کی حفاظت کرنے کے لئے قربانی دینے کے لئے جانبازی سے جدوجہد کی۔ ان کو متعدد مرتبہ زخمی ہونے کے باوجود، انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جسم سے حفاظت دی اور اپنے رفیق صحابہ کے ساتھ جان جوشی سے لڑتے رہے۔ ان کی کاروائی نے صرف ان کی اسلام پر مستقل عزم کو دکھایا بلکہ دوسروں کو بھی بے باکی اور عزم کے ساتھ اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کی ترغیب دی۔
نسیبہ بنت کعب اسلامی تاریخ کے ابتدائی دور میں خواتین کا اہم کردار ادا کرنے والی قومی شخصیت ہیں، جو عورتوں کے بارے میں موجودہ تصورات کو دھونڈ کرکے اسلام کی حفاظت اور تشہیر میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان کی بہادری اور فراست کو دنیا بھر کے مسلمانوں نے نیک نیتی اور انصاف کی تلاش میں عورتوں اور مردوں دونوں کے لئے ایک مثال کے طور پر قدر کیا ہے۔
نسیبہ بنت کعب (عمرانی عہد میں زندہ عورت جو اسلام قبول کرنے والی مسلمہ تھیں۔ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابیوں میں سے ایک تھیں۔)
حیات:
مدینہ میں رہنے والی بنو نجار قبیلے کی رکن، نسیبہ کعب عبداللہ بن کعب کی بہن اور عبداللہ اور حبیب بن زید الانصاری کی والدہ تھیں۔
جب 74 رہنما، جنگجو، اور امراء مدینہ العقبہ پر اسلام کی بیعت دینے آئے تو جدید مذہب کی تعلیم کو مصعب بن عمیر نے دی، تو نسیبہ اور ام منی عاصمہ بنت عمرو بن عدی صرف دو عورتیں تھیں جو اپنی بیعت محمد پر کرنے کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں۔ ام منی کے شوہر، غزیہ بن عمر، نسیبہ کے شوہر کو محمد کو بتائے کہ عورتیں بھی ان کو بیعت دینا چاہتی ہیں، اور ان کا رضا کر دیا۔ انہوں نے مدینہ واپس آکر شہر کی عورتوں کو اسلام کی تعلیم دینا شروع کر دی۔ یہ بیعت یا قول ہاں، شہر کی قیادت کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دینے کی حقیقتی دستاویز تھی۔ ان کی سب سے نمایاں کردار بعد ازاں بدر کی جنگ میں آیا، جہاں انہوں نے دفاع کیا۔ انہوں نے ہنین، یمامہ اور ہدیبیہ کی معاہدہ کی جنگ میں بھی شرکت کی۔
ان کے دو بیٹے، دونوں بعد میں جنگ میں شہید ہوئے، ان کی پہلی شادی زید بن عاصم مزنی سے ہوئی۔ بعد میں انہوں نے بن عمر سے شادی کی، اور ان کا ایک اور بیٹا تمیم اور ایک بیٹی خولہ تھی۔
نسیبہ بنت کعب واقعی اسلامی تاریخ میں اہم شخصیت تھیں، جن کی بہادری اور خواتین کے طور پر اپنی محنت اور جدوجہد کا تعریف کیا جاتا ہے۔ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں زندہ تھیں اور ان کی بہادری اور اسلام اور اس کے پیروکاروں کی حفاظت کے لئے اپنی پرانی ذمہ داریوں اور ان کی خدمت میں اپنی حیات گزارتی تھیں۔
نسیبہ کی شجاعت کا ایک مشہور واقعہ بدر کی جنگ میں ہوا۔ اس جنگ میں جب مسلمان فوج کو ہار کا سامنا ہوا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خود کو خطرے میں پایا، تو نسیبہ بے خوفی سے آگے آئیں اور ان کی حفاظت کرنے کے لئے قربانی دینے کے لئے جانبازی سے جدوجہد کی۔ ان کو متعدد مرتبہ زخمی ہونے کے باوجود، انہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے جسم سے حفاظت دی اور اپن
قرآنی آیات ہیں جو فکر و تدبر اور مشاہدہ کی ترغیب دیتی ہیں:
5. سورة البقرة (2:164):
"بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، رات اور دن کے بدلنے میں، بڑے جہازوں کے جو سمندر میں چلتے ہیں جو لوگوں کی بہتری کے کام آتے ہیں، اور جو کچھ الله نے آسمان سے پانی کی صورت میں بھیجا ہے تاکہ زمین کو اس کے بعد کے مرنے کے بعد زندہ کرے اور اس میں ہر قسم کی حرکت کو پھیلائے، اور ہواوں اور بادلوں کو آپس میں منظم کرنا، بیشک یہ سب لوگوں کے لئے غور کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔"
6. سورة يونس (10:5):
"وہی ہے جس نے سورج کو روشنی بنایا اور چاند کو نور بخشا، اور اس کے لئے منازل مخصوص کی۔ تاکہ آپ سالوں کی تعداد اور حساب جانیں۔ الله نے یہ سب صرف حقیقت میں پیدا کیا ہے۔ وہ لوگوں کے لئے علائم کو وضاحت فرماتا ہے جو علم رکھتے ہیں۔"
7. سورة السجدة (32:7-9):
"وہی جس نے ہر چیز کو مکمل بنایا جو اس نے پیدا کیا، اور انسان کی پیدائش کا آغاز مٹی سے کیا۔ پھر اس نے اس کی نسل کو پانی کی قطرات سے بنایا جو قبول نہ تھیں۔ پھر اس کو بنایا اور اپنی روح سے اس میں دم کیا، اور آپ کو کان، آنکھیں اور دل دیا۔ تم بہت کم شکر کرتے ہو۔"
ان آیات میں قرآن کی تعلیمات میں مخلوقات کی نشانیوں پر غور کرنے اور علم کی تلاش کرنے کی اہمیت کو سراہا گیا ہے۔
10/12/2023
06/05/2023
28/03/2023
https://chat.whatsapp.com/IdjvOLM5b5eDDYry9JYhau
Hazrat ishaq Madni Followers official group WhatsApp Group Invite
Dear All, Please join Mulana Ishaq RIP Official Group .
https://www.facebook.com/groups/115478195129494
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
38000