25/01/2026
ملک
Exploring the heritage, culture, and educational resources of Diyar Mahi Ahli Kamboh. Sharing knowled
25/01/2026
ملک
24/01/2026
24/01/2026
استاد غلام مرتضی
07/01/2026
ملک ظل کمبوہ — تعارف
ملک ظل کمبوہ اپنے دور کے نمایاں اور بےحد باصلاحیت کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مضبوط کھیل، نظم و ضبط اور مسلسل محنت نے انہیں نہ صرف اپنے گاؤں بلکہ پورے علاقے میں ایک معتبر شناخت دی۔ ان کی کارکردگی ہمیشہ ٹیم ورک، اخلاق اور عزم و ہمت کی بہترین مثال رہی ہے۔
اپنے کھیل کے سنہری دور میں ملک ظل کمبوہ نے بہت سے مقامی ٹورنامنٹس میں شاندار فتوحات حاصل کیں۔ خصوصاً ’بابا لال شاہ ٹورنامنٹ‘ — جو ہر سال آہلی میں منعقد ہوتا ہے — میں ان کی جیتیں ایک یادگار حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے شیخ جلیل نہنگ، جھانیاں شاہ، ساہیوال سمیت متعدد بڑے مقامی مقابلوں میں بھی اپنی ٹیم کو نمایاں کامیابیاں دلائیں۔ ان کا کھیل اتنا مضبوط اور قابلِ اعتماد تھا کہ وہ پاک آرمی کی طرف سے بھی مختلف میچوں میں شامل کیے گئے، جو ان کی صلاحیت اور مقام کا واضح ثبوت ہے۔
ملک ظل کمبوہ کا اندازِ کھیل پُرسکون، اعتماد بھرا اور تکنیکی مہارت سے بھرپور ہوتا ہے۔ مشکل حالات میں بھی میچ کو سنبھالنے اور اپنی ٹیم کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔
کھیل کے ساتھ ساتھ وہ نوجوانوں کی تربیت اور رہنمائی میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ آج کے نوجوانوں کے لیے ایک مثبت رول ماڈل اور تحریک کا ذریعہ ہیں۔
06/01/2026
ملک تصور کمبوہ: محنت، وژن اور خدمت کی روشن داستان
۱۔ تعارف اور ابتدائی زندگی
ملک تصور کمبوہ یکم اپریل 1994ء کو دیارِ ماہی، آہلی کمبوہ میں پیدا ہوئے۔ والد ملک ظل محمد پاک بحریہ میں ملازم تھے، مگر 1998ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔ والد کے انتقال کے بعد کم عمری میں ہی ذمہ داری، محنت اور عملی جدوجہد ملک تصور کی زندگی کا بنیادی حصہ بن گئی۔
۲۔ تعلیمی سفر
ابتدائی تعلیم: گورنمنٹ پرائمری اسکول، دیارِ ماہی آہلی کمبوہ
میٹرک اور ایف اے: نہنگ کالج
بی اے: پرائیویٹ
دورانِ تعلیم ہی ملک تصور کمبوہ میں کاروباری سوچ اور ٹیکنالوجی سے لگاؤ نمایاں ہو چکا تھا، جس نے بعد میں عملی شکل اختیار کی۔
۳۔ ابتدائی کاروباری جدوجہد اور ٹیکنالوجی کی خدمات
ملک تصور کمبوہ نے نہنگ کی محمدی مارکیٹ میں "مغل کمپیوٹر" کی دکان قائم کی، جب علاقے میں کمپیوٹر اور آئی ٹی تقریباً ناپید تھی۔
انہوں نے لوگوں کو کمپیوٹر کی اہمیت سے روشناس کروایا۔
متعدد شاگرد تیار کیے، جیسے شکیل شاہ اور خالد شاہ، جو آج نہنگ کے کمپیوٹر سیکٹر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
۴۔ تعلیمی قیادت اور ادارہ سازی
2016ء: لیڈرز ایجوکیشن سسٹم میں پارٹنر بنے، جہاں ان کی تنظیمی صلاحیت اور تعلیمی وژن واضح ہوا۔
2018ء: نہنگ میں نیو لیڈرز ایجوکیشن سسٹم کی بنیاد رکھی، جو جدید نصاب، نظم و ضبط، کردار سازی اور عملی تعلیم کا امتزاج فراہم کرتا ہے۔
بعدازاں اس کی شاخ دیارِ ماہی، آہلی کمبوہ میں بھی قائم کی گئی، جس نے مقامی بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے نئے دروازے کھول دیے۔
۵۔ TK زون کمپیوٹر: ٹیکنالوجی میں مہارت
2021ء: حادثے میں بائیک سے زخمی ہونے کے باوجود حوصلہ نہ چھوڑا۔
اسی سال TK زون کمپیوٹر کی بنیاد رکھی، جو نہنگ اور گردونواح میں کمپیوٹر تربیت، تکنیکی سروسز اور رہنمائی کا معتبر ادارہ بن گیا۔
افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی: لاہڑی صاحب، ملک احسان صاحب، اور حافظ جنید احمد ماہی صاحب۔
۶۔ T.K Huner Ghar: عملی تعلیم اور روزگار
ملک تصور کمبوہ نے T.K Huner Ghar کی بنیاد رکھی، ایک اکیڈمی جہاں نوجوانوں کو عملی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں تاکہ وہ صرف ایک ماہ کی تربیت کے بعد روزگار کے مواقع حاصل کر سکیں۔
یہ اقدام ملک تصور کمبوہ کے تعلیمی وژن اور سماجی شعور کا عملی مظہر ہے، جہاں تعلیم اور عملی ہنر کا امتزاج نوجوانوں کو خودمختار اور معاشرتی طور پر فعال بنانے کا ذریعہ بنتا ہے۔
۷۔ سماجی اور کمیونٹی خدمات
ملک تصور کمبوہ کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ محنت، خلوص، جہدِ مسلسل اور وژن کے ساتھ ایک فرد نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتا ہے بلکہ اپنے علاقے کی تعلیمی، معاشرتی اور ٹیکنیکل ترقی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
ان کے قائم کردہ ادارے
تیار کیے گئے شاگرد
شروع کیے گئے منصوبے
یہ سب نئی نسل کے لیے عملی رہنمائی اور روشن مستقبل کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
۸۔ نتیجہ
ملک تصور کمبوہ کا سفر ثابت کرتا ہے کہ محنت، وژن اور عملی جدوجہد کے ذریعے ایک فرد اپنی تقدیر اور اپنے علاقے کی ترقی دونوں کو بدل سکتا ہے۔ ان کی خدمات تعلیم، ٹیکنالوجی، ہنر اور سماجی ترقی کے امتزاج کی روشن مثال ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں۔
31/12/2025
استاد عنایت اللہ قاسم صاحب
دیارِ ماہی، آہلی کمبوہ میں تعلیمی قیادت اور سماجی خدمات
۱۔ تعارف
استاد عنایت اللہ قاسم صاحب دیارِ ماہی، آہلی کمبوہ کے قابلِ فخر اساتذہ میں شامل ہیں۔ انہوں نے تدریس کو محض پیشہ نہیں بلکہ طلبہ کی فکری و اخلاقی تربیت اور ادارے کی ترقی کا مشن سمجھا۔ ان کی شخصیت علمی سنجیدگی، نظم و ضبط، اور تدریسی بصیرت کی نمایاں مثال ہے، اور ان کی خدمات مقامی تعلیمی منظرنامے میں ایک مؤثر اثر رکھتی ہیں۔
۲۔ تعلیمی پس منظر
استاد عنایت اللہ قاسم صاحب نے ابتدائی تعلیم 1993–1994ء، گورنمنٹ پرائمری اسکول آہلی کمبوہ سے حاصل کی۔ بعد ازاں:
میٹرک (1998ء) — نہنگ کالج، فرسٹ ڈویژن
ICS (2001ء، سرگودھا)
B.A — یونیورسٹی آف سرگودھا
B.Ed (Regular, 2005ء) — یونیورسٹی آف لاہور
M.A (Political Science, 2007ء) — یونیورسٹی آف سرگودھا
M.Ed (Special Education, 2009ء)
یہ تعلیمی اسناد ان کی علمی وسعت، تدریسی مہارت اور خصوصی تعلیم میں قابلیت کا واضح ثبوت ہیں۔
۳۔ تدریسی کیریئر اور خدمات
استاد عنایت اللہ قاسم صاحب نے تدریس کو منظم اور نتیجہ خیز انداز میں اپنایا۔ ان کی حکمت عملی میں نصاب کی تکمیل، اخلاقی تربیت اور طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں پر توجہ شامل رہی۔ ان کی رہنمائی میں سکول میں تعلیمی معیار مستحکم ہوا اور ادارہ جاتی ترقی کے نمایاں اثرات مرتب ہوئے۔
۴۔ نمایاں تعلیمی کامیابیاں
2008، 2013، 2017ء: طلبہ کے لیے مختلف وظائف کا حصول
حساس نوعیت کے امتحانات میں اعلیٰ کارکردگی
مسلسل 100 فیصد امتحانی نتائج
سکول کو ضلع کے بہترین سکولوں میں شامل کروانا
۵۔ اعزازات اور تعریفی اسناد
2008ء: وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے خصوصی انعام
2008ء: ڈپٹی آفس کی جانب سے 10,000 روپے کا پریسیشن لیٹر
دورانِ سروس Best Teacher Award
سکول کو ضلع کے ٹاپ دو سکولوں میں شامل کروانے کا اعزاز
۶۔ اعزازِ ماہرِ جمالیات
فروری 2025ء میں استاد عنایت اللہ قاسم صاحب کو ماہی صاحب کی طرف سے "ماہر جمالیات" کا لقب عطا کیا گیا۔ یہ اعزاز ان کی سماجی خدمات، غریبوں کی مدد اور دیارِ ماہی میں ماحول کو خوبصورت بنانے کے عملی اقدامات کے اعتراف میں دیا گیا۔
آج زیادہ تر لوگ استاد عنایت اللہ قاسم صاحب کو ان کے علمی و تدریسی کردار کے ساتھ، ماہرِ جمالیات کے لقب سے پہچانتے ہیں۔ یہ لقب ان کی علمی بصیرت، سماجی شعور اور ماحولیات کے فروغ میں کردار کا اعتراف ہے۔
۷۔ ہم نصابی اور تخلیقی سرگرمیاں
ضلع کی سطح پر پینٹنگ مقابلوں میں نمایاں کامیابیاں
طلبہ میں تخلیقی اور سماجی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے اقدامات
۸۔ تجزیہ و بحث
تحقیقی تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ استاد عنایت اللہ قاسم صاحب کی کامیابی تین اہم عوامل پر مبنی ہے:
مضبوط تعلیمی اور فکری بنیاد
پیشہ ورانہ تدریسی تربیت، جس میں خصوصی تعلیم کی مہارت شامل ہے
عملی تدریسی حکمت عملی اور مسلسل نگرانی
یہ عوامل ایک ایسا تدریسی ماڈل تشکیل دیتے ہیں جو مقامی تعلیمی اداروں کے لیے قابل تقلید ہے۔
۹۔ نتیجہ
استاد عنایت اللہ قاسم صاحب کی تعلیمی خدمات دیارِ ماہی کے تعلیمی منظرنامے میں ایک مستقل، مثبت اور قابل تقلید اثر رکھتی ہیں۔ ان کی تدریسی بصیرت، علمی قابلیت، اخلاقی رہنمائی اور ماہر جمالیات کے طور پر پہچان نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشن اور قابل تقلید مثال ہے۔
30/12/2025
ملک عظمت اللہ کمبوہ
کھیل، فنی مہارت اور سماجی شعور کی نمائندہ شخصیت
تعارف
ملک عظمت اللہ کمبوہ دیارِ ماہی، آہلی کمبوہ کے ایک باصلاحیت، باوقار اور متحرک نوجوان ہیں۔ وہ کھیلوں، فنی تعلیم اور پیشہ ورانہ خدمات کے ذریعے نوجوان نسل کے لیے ایک مثبت مثال بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان کی شخصیت نظم و ضبط، محنت اور اجتماعی بھلائی کے شعور سے عبارت ہے۔
پیدائش
ملک عظمت اللہ کمبوہ یکم جنوری 1993ء کو دیارِ ماہی، آہلی کمبوہ میں پیدا ہوئے۔
تعلیمی پس منظر
انہوں نے میٹرک تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد تین سالہ ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ (سول ٹیکنالوجی) حاصل کیا۔ یہ فنی تعلیم ان کی عملی زندگی کی بنیاد بنی اور انہیں تکنیکی شعبے میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے قابل بنایا۔
پیشہ ورانہ خدمات
ملک عظمت اللہ کمبوہ اس وقت سب انجینئر، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA)، اسلام آباد کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ اپنے فرائض پیشہ ورانہ مہارت، دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کر رہے ہیں اور قومی سطح کے ترقیاتی منصوبوں سے وابستہ ہیں۔
کھیلوں سے وابستگی
ملک عظمت اللہ کمبوہ کو کھیلوں سے گہرا شغف ہے۔ انہوں نے درج ذیل کھیلوں میں عملی حصہ لیا:
کرکٹ
والی بال
کبڈی
وہ کھیل کو صرف تفریح نہیں بلکہ نوجوانوں کی جسمانی صحت، نظم و ضبط اور مثبت کردار سازی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
کھیلوں کے فروغ میں کردار
ملک عظمت اللہ کمبوہ نے اپنے گاؤں اور علاقے میں کھیلوں کے متعدد ٹورنامنٹس منعقد کروائے۔ ان میں فلڈ لائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ بھی شامل ہے، جو ہمارے علاقے میں پہلی بار منعقد کیا گیا۔
ان کے اقدامات سے نوجوانوں کو کھیلوں کے مواقع ملے، ٹیم ورک اور مقابلہ بازی کا جذبہ پیدا ہوا، اور کھیلوں کے فروغ کے لیے مستقل بنیادیں قائم ہوئیں۔
علاقے میں کھیلوں کے مقابلوں کی حوصلہ افزائی، نوجوانوں کو کھیل کی طرف راغب کرنا اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنا ان کی نمایاں خدمات میں شامل ہیں۔
فکری و سماجی پہلو
ملک عظمت اللہ کمبوہ ایک بااخلاق اور سماجی شعور رکھنے والی شخصیت ہیں۔ ان کا یہ پختہ یقین ہے کہ مضبوط معاشرہ صحت مند، باکردار اور متحرک نوجوانوں سے تشکیل پاتا ہے، اور کھیل اس مقصد کے حصول کا مؤثر ذریعہ ہیں۔
مجموعی جائزہ
ملک عظمت اللہ کمبوہ کی زندگی فنی تعلیم، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور کھیلوں کے فروغ کا متوازن نمونہ پیش کرتی ہے۔ ان کی خدمات دیارِ ماہی اور آہلی کمبوہ کے لیے باعثِ فخر ہیں اور نوجوان نسل کے لیے محنت، نظم و ضبط اور مثبت طرزِ زندگی کا واضح پیغام رکھتی ہیں۔
29/12/2025
ملک غلام عباس کمبوہ: روشن مثالِ قیادت
1. ابتدائی زندگی اور پیدائش
ملک غلام عباس کمبوہ، دیار ماہی آہلی کمبوہ کے ایک معزز، ایماندار اور باصلاحیت شخصیت ہیں۔ آپ 1976ء میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی دنوں سے ہی آپ نے علمی، اخلاقی اور جسمانی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور ہر شعبے میں نمایاں مقام حاصل کیا۔
2. لقب: "ترجمانِ حقیقت"
ماہی صاحب نے ملک غلام عباس کمبوہ کو "ترجمانِ حقیقت" کا لقب دیا۔
یہ لقب ان کی خدمات، دیانتداری، عوامی خدمت اور سچائی کے اصولوں پر مبنی کردار کے اعتراف میں دیا گیا۔
لقب ظاہر کرتا ہے کہ ملک غلام عباس کمبوہ نہ صرف اپنے گاؤں اور علاقے بلکہ وسیع پیمانے پر لوگوں کے لیے سچائی، انصاف اور خدمت کا نمائندہ ہیں۔
یہ اعزاز رسمی نہیں بلکہ اعترافِ خدمات اور احترام کے طور پر دیا گیا، جو ان کی زندگی اور کردار کو مثالی بناتا ہے۔
3. تعلیم اور علمی لگن
3.1 ابتدائی اور ثانوی تعلیم
ملک غلام عباس کمبوہ نے ابتدائی تعلیم میں فضل الہٰی صاحب جیسے قابل استاد سے رہنمائی حاصل کی۔
ابتدائی دنوں میں وہ سکول اور علاقے کے سب سے ہونہار طلبا میں شامل تھے۔
پانچویں جماعت میں اپنی ڈویژن میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جو گاوں اور سکول کے لیے فخر کا باعث بنی۔
ایچی سن کالج لاہور نے انہیں سکالرشپ کی دعوت دی۔
آٹھویں جماعت تک ہر سال پوری سکول میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا ان کی محنت اور ذہانت کی علامت ہے۔
3.2 ناظرہ قرآن اور کتب بینی
ملک غلام عباس کمبوہ ناظرہ قرآن میں مہارت رکھتے تھے۔
نہنگ میں بابا دوست محمد کی لائبریری میں انہوں نے 9ویں جماعت تک تمام کتابیں پڑھ کر لائبریری مکمل طور پر ختم کر دی۔
یہ علمی لگن اور کتب بینی کا شوق ان کی شخصیت کا نمایاں علمی پہلو ہے۔
4. والد کی وفات اور جوانی میں ذمہ داریاں
صرف اٹھارہ سال کی عمر میں والد ملک احمد حیات کے انتقال کے بعد، ملک غلام عباس کمبوہ نے اپنے خاندان کی کفالت سنبھالی۔
ابتدائی جوانی میں انہوں نے زندگی کے مشکل حالات کا بہادری سے مقابلہ کیا اور کنبے کی ذمہ داریوں کو مثالی انداز میں انجام دیا۔
5. کھیلوں میں مہارت
نوجوانی میں ملک غلام عباس کمبوہ اپنے گاؤں اور علاقے کے ایک مہور آل راؤنڈر کرکٹر اور کپتان تھے۔
فیلڈ میں مہارت اور بصیرت کے باعث آپ کو ویسٹ انڈیز کے بہترین فیلڈر گس لوگی کے نام سے جانا گیا۔
آپ کی فیلڈنگ، ٹیم ورک اور کھیل کا جذبہ آپ کو ہر دل عزیز بناتا تھا۔
6. پیشہ ورانہ زندگی
6.1 فوج میں بھرتی اور خدمات
1994ء میں پاک فوج میں سپاہی کے طور پر بھرتی ہونے کے بعد، ملک غلام عباس کمبوہ نے محنت، لگن اور عزم کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ زندگی گزاری۔
حساس اور اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔
6.2 کمیشن کے امتحان
ملک غلام عباس کمبوہ نے کمیشن کے امتحان میں حصہ لیا، لیکن کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
اس کے باوجود انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو مثالی انداز میں نبھایا اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
6.3 تعریفی کارڈز
ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں چیف آف آرمی سٹاف اور جائنٹ چیف آف آرمی سٹاف کے Commendation Cards (تعریفی کارڈز) سے نوازا گیا، جو فوج میں غیر معمولی کارکردگی اور بہترین خدمات کے اعزاز کے طور پر دیے جاتے ہیں۔
7. سماجی خدمات
7.1 بیت الخیر فاؤنڈیشن
ملک غلام عباس کمبوہ نے سماجی خدمات کی شروعات بیت الخیر فاؤنڈیشن کے تحت کیں۔
دسمبر 2024 میں اپنے گاؤں کے "My Sweet Village" واٹس ایپ گروپ میں گفتگو کے دوران آپ نے عملی خدمت کا آغاز کیا اور پہلی ڈونیشن دی۔
بیت الخیر فاؤنڈیشن کے تحت ملک غلام عباس کمبوہ نے چالیس (40) پروجیکٹس مکمل کیے، جو کمیونٹی کی تعلیم، صحت اور معاشرتی ترقی میں نمایاں کردار رکھتے ہیں۔
مناسب حالات اور مواقع کی بنیاد پر آپ نے اپنی فاؤنڈیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔
7.2 رضائے الٰہی فاؤنڈیشن
15 جون 2025ء کو ملک غلام عباس کمبوہ نے اپنی فاؤنڈیشن، رضائے الٰہی فاؤنڈیشن، کا قیام کیا۔
یہ فاؤنڈیشن ان کی قیادت میں قائم ہے اور مستحق افراد کے لیے تعلیم، صحت اور کمیونٹی کی ترقی کے نئے مواقع فراہم کرتی ہے۔
ملک غلام عباس کمبوہ کی قیادت اور عملی لگن کی بدولت یہ فاؤنڈیشن کمیونٹی میں ایک مثبت اور دیرپا اثر چھوڑ رہی ہے۔
8. قیادت اور اثر
ملک غلام عباس کمبوہ کی قیادت، لگن اور عوامی خدمت کا جذبہ انہیں نہ صرف ایک مثالی فوجی بلکہ سماجی شعبے میں بھی روشن رہنما اور مشعل راہ بناتا ہے۔
ان کی خدمات، قربانی اور کمیونٹی کے لیے عزم آنے والی نسلوں کے لیے خدمت، انسانیت اور معاشرتی بھلائی کا ایک زندہ، روشن اور متاثر کن نمونہ ہیں۔
29/12/2025
ملک نواب ممبر ولد قمر، 1930ء میں پیدا ہوئے۔ وہ دیارِ ماہی، آہلی کمبوہ کی ایک معزز، بااثر اور عوام دوست شخصیت تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی عوامی خدمت، سماجی ذمہ داری، سیاسی شعور اور دینی کاموں کے فروغ کے لیے وقف کیے رکھی۔
انہوں نے 1960ء سے عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور عوامی مسائل کے حل، علاقے کی ترقی اور لوگوں کی نمائندگی میں فعال کردار ادا کیا۔ وہ اصول پسندی، بردباری اور مشاورت پر یقین رکھتے تھے اور ہمیشہ اتحاد، امن اور بھائی چارے کو ترجیح دیتے تھے۔
ملک نواب ممبر دینی امور میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ بالخصوص جامع مسجد بہارِ مدینہ کی تعمیر میں انہوں نے نہایت اہم اور مؤثر کردار ادا کیا۔ مسجد کی تعمیر، انتظام اور دینی ماحول کے قیام کے لیے ان کی کوششیں علاقے کے لوگوں کے لیے ایک بڑی نعمت ثابت ہوئیں۔ وہ دین اور دنیا کے درمیان توازن کے قائل تھے اور عملی کردار کو اصل خدمت سمجھتے تھے۔
علاقے کے لوگ انہیں ایک سادہ مزاج، دیانت دار اور خدمت گزار رہنما کے طور پر یاد رکھتے ہیں۔ نوجوانوں کی رہنمائی، سماجی ہم آہنگی اور دینی شعور کے فروغ میں ان کی خدمات قابلِ قدر رہیں۔
ملک نواب ممبر کا انتقال 5 دسمبر 2020ء کو دیارِ ماہی، آہلی کمبوہ میں ہوا۔ ان کی وفات سے علاقہ ایک مخلص، تجربہ کار اور باوقار شخصیت سے محروم ہوا، تاہم ان کی دینی، سماجی اور سیاسی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
28/12/2025
ملک احسان اللہ کمبوہ، ولد ملک محمد امیر ولد دائم کمبوہ، ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جو کمبوہ قوم سے وابستہ ہے۔ ان کا تعلق دیار ماہی آہلی کمبوہ سے ہے، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کو سماجی، تعلیمی اور فلاحی خدمات کے لیے وقف کیا۔
ملک احسان اللہ کمبوہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ اور جھنگ میں NCHD (National Commission for Human Development) کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور ساتھ ہی بیت الخیر فاؤنڈیشن کے روح رواں بھی ہیں۔ انہوں نے تعلیم، صحت، انسانی حقوق اور کمیونٹی کی ترقی کے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جس کے اثرات آج بھی ہزاروں لوگوں کی زندگیوں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ان کی قیادت میں بیت الخیر فاؤنڈیشن نے متعدد سماجی، تعلیمی اور خیراتی منصوبے کامیابی سے چلائے ہیں، جن سے بچوں اور نوجوانوں کو تعلیمی مواقع، تربیتی پروگرامز اور سماجی ترقی کے بہترین مواقع فراہم ہوئے ہیں۔ ان کے اقدامات نے مقامی کمیونٹی میں شعور، فلاح اور خودانحصاری کے جذبے کو فروغ دیا ہے۔
ملک احسان اللہ کمبوہ کی شاندار خدمات اور محنت کے اعتراف میں انہیں چار بین الاقوامی (International) اور دو قومی (National) ایوارڈز مل چکے ہیں، جو نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی بلکہ پوری کمبوہ قوم اور علی کمبو برادری کے لیے فخر کا باعث ہیں۔
ان کے اہم ایوارڈز میں شامل ہیں:
دو بین الاقوامی ایوارڈز UNESCO کی طرف سے لٹریسی (Literacy) کے شعبے میں ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں۔
ایک ایوارڈ UNICEF کی طرف سے ان کے واش پروگرامز اور تعلیمی خدمات کے لیے۔
ایک ایوارڈ امریکن کونسل برانڈیہنٹ (American Consulate Brandehant) کی جانب سے 2006 میں حاصل کیا گیا۔
دو قومی ایوارڈز (National Awards) میں سے ایک 2009 میں وزیر اعظم پاکستان، جناب یوسف رضا گیلانی کی طرف سے ہیومن رائٹس کے شعبے میں دیا گیا۔
ان کی علمی فصاحت اور بہترین ترجمانی کی بدولت ماہی صاحب کی طرف سے انہیں "ترجمان سخن" کا لقب بھی دیا گیا، جو ان کی فصیح اور مؤثر گفتگو کا منصفانہ اعتراف ہے۔
ملک احسان اللہ کمبوہ نہ صرف سرکاری اداروں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ سماجی، مذہبی اور فلاحی شعبوں میں بھی ایک روشن مثال قائم کر رہے ہیں۔ ان کی خدمات، اعزازات اور کمیونٹی کے لیے لگن پوری برادری اور دیار ماہی آہلی کمبوہ کے لیے باعث فخر اور تحریک ہیں۔ ان کی زندگی اور کام ایک مشعل راہ ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے علم، خدمت اور انسانیت کا سبق پیش کرتے ہیں۔
27/12/2025
چوہدری افضل گوندل، دیار ماہی آہلی کمبوہ کے ایک محنتی اور قابل احترام زرعی قائد ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی زمینوں کی بہترین دیکھ بھال کرتے ہیں بلکہ علاقے کے دیگر کسانوں کو جدید زرعی طریقے، فصلوں کی پیداوار بڑھانے اور زمین کی بہتر دیکھ بھال کے عملی طریقے سکھانے میں بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
چوہدری افضل گوندل کی محنت، تجربہ اور علم کی بدولت نہ صرف ان کی اپنی پیداوار میں اضافہ ہوا بلکہ پورے علاقے کے کسان بھی ان کے تجربات اور رہنمائی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ ان کی قیادت اور لگن مقامی کمیونٹی میں انتہائی احترام اور اعتماد کا باعث ہیں، اور انہیں دیار ماہی آہلی کمبوہ کے ترقی پسند زرعی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
وہ مڈل پاس ہیں اور اپنی تعلیم کے باوجود عملی تجربے، محنت اور علم کی بدولت ایک ممتاز اور مؤثر کردار رکھتے ہیں۔ ہر شخص کے دکھ، سکھ، خوشی اور غمی میں شریک ہونا اور فلاحی کاموں میں سب سے آگے رہنا ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
چوہدری افضل گوندل کی زندگی اور کام کا مقصد نہ صرف اپنی زمین کی بہتر پیداوار ہے بلکہ پورے علاقے میں کسانوں کی ترقی، جدید زرعی علم اور معاشرتی فلاح و بہبود کو فروغ دینا بھی ہے۔ ان کی مثال مقامی کمیونٹی کے لیے رہنمائی، تحریک اور خدمت کا ایک روشن نمونہ ہے۔