28/09/2026
٭قابل فخر بمقابلہ قابل اعتراض٭
یہ معاشرہ عورت کی پرواز سے اتنا خوف زدہ کیوں ہے۔ ایک بچی پڑھتی ہے تو ہم اس سے امیدیں وابستہ کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر بنے، انجینئر بنے، پروفیسر بنے، افسر بنے، سی ایس ایس کرے اور اپنے خاندان کا نام روشن کرے۔ ہم اس کے مستقبل کے خواب اپنے سینے میں سجا کر پھرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایک دن لوگ ہماری بیٹی کی کامیابی کا ذکر کریں اور ہم فخر سے کہیں کہ یہ ہماری بیٹی ہے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جب وہی بیٹی منزل پر پہنچ جاتی ہے تو اس کی تصویر ہمیں قابلِ فخر لگتی ہے۔ جب وہ کسی بڑے عہدے پر بیٹھتی ہے تو کیمرے اس کے سامنے ہوں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ جب میڈیا اس کا انٹرویو کرتا ہے، اس کی کامیابی دنیا کے سامنے آتی ہے، اس کے والدین اس کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویر بنواتے ہیں تو معاشرے کی نگاہ کا خوف کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ تب وہی بیٹی ہمارے لیے عزت کا استعارہ بن جاتی ہے۔
لیکن آج، جب وہ اسی منزل کی طرف جانے والی پہلی سیڑھی پر کھڑی ہے، جب وہ کالج کے کسی پروگرام میں اپنے اندر ودیعت کیے گئے فن کا اظہار کرتی ہے، جب وہ اسٹیج پر اپنے خواب کی پہلی آواز رکھتی ہے، جب اس کے چہرے پر کامیابی سے پہلے کی معصوم خوشی جھلکتی ہے، تو اسی لمحے اس کے راستے میں دیواریں کیوں کھڑی کر دی جاتی ہیں۔ اپنی بیٹی کو آگے بڑھانا ہے تو اس کے سفر کو بھی قبول کرنا ہوگا۔ منزل کی تصویر خوب صورت لگتی ہے تو راستے کی گرد سے بھی نفرت نہیں کی جا سکتی۔ کامیابی کا تاج عزیز ہے تو اس تاج تک پہنچنے والی محنت کے پسینے کو بھی عزت دینا ہوگی۔
اور ان لوگوں کے لیے بھی ایک بات جو سرکاری تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں پر سب سے پہلے انگلی اٹھاتے ہیں۔ سرکاری اداروں کی طالبات بھی اسی معاشرے کی بیٹیاں ہیں، ان کے خواب بھی اتنے ہی روشن ہیں، ان کی صلاحیتیں بھی اتنی ہی قیمتی ہیں اور ان کی خوشیاں بھی اتنی ہی معتبر ہیں جتنی نجی اداروں میں پڑھنے والی بچیوں کی ۔ نجی تعلیمی اداروں کی تقریبات، ثقافتی پروگراموں، غیر نصابی سرگرمیوں اور طالبات کی پرفارمنس کو شخصیت سازی اور خود اعتمادی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے تو سرکاری کالج کی ایک بچی جب اپنی صلاحیت کا اظہار کرتی ہے، تو اس کے لیے بھی یہی احترام، یہی وسعتِ نظر اور یہی اعتماد ہونا چاہیے۔ تعلیم کا حق صرف کتاب تک محدود نہیں، تعلیم شخصیت کو اظہار، اعتماد، تخلیق اور آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی عطا کرتی ہے۔
میں تمام والدین سے گزارش کروں گی کہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ کھڑے ہوں۔ جب وہ پہلی مرتبہ اسٹیج پر جائے تو اس کے خوف کو اپنی دعا سے سہارا دیں۔ جب وہ کوئی ہنر دکھائے تو اس کے ہاتھ کو تھامیں۔ جب وہ کامیابی کی طرف ایک چھوٹا سا قدم اٹھائے تو اسے یہ احساس نہ ہونے دیں کہ دنیا اس کے ہر قدم پر اسے روکنے کے لیے کھڑی ہے۔ میں ماؤں سے گزارش کروں گی کہ اپنے بیٹوں کو بھی تربیت دیں۔ انہیں صرف یہ نہ سکھائیں کہ اپنی بہن کی حفاظت کیسے کرنی ہے، یہ بھی سکھائیں کہ ہر عورت کی عزت کیسے کرنی ہے۔ میں ہر باپ سے گزارش کروں گی کہ اپنی بیٹی کے لیے صرف منزل کا خواب نہ دیکھیں، اس راستے پر بھی اس کی انگلی پکڑ کر چلیں جس پر چل کر وہ منزل تک پہنچے گی۔ میں بھائیوں سے گزارش کروں گی کہ اپنی بہنوں کے گرد ایسی دیوار نہ بنیں جو ان کے لیے قید بن جائے، ان کے ساتھ سایہ بن کر چلیں۔
اور ہر اس شخص کے لیے جس کے گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے اور جس کے دل میں اسی لمحے یہ خواہش جنم لیتی ہے کہ میری بیٹی ایک دن بہت بڑا مقام حاصل کرے گی، اس خواب کے ساتھ ایک اور عہد بھی ضروری ہے۔ بیٹی کو صرف منزل پر دیکھنے کی خواہش کافی نہیں، اس کے سفر میں بھی اس کے ساتھ چلنا ہوگا۔ اس کی کامیابی کی تصویر پر فخر کرنا آپکی کامیابی ہے، مگر اس کامیابی تک پہنچنے والی چھوٹی چھوٹی تصویروں کو بھی عزت دینا ہوگی۔ اسے آسمان چھونے کا خواب دینا ہے تو جب وہ اپنے پر کھولے، تو ان پروں پر ہاتھ رکھنے والوں کے ہاتھ کاٹنے کا حوصلہ بھی پیدا کریں
یہ بچیاں ہماری ہیں۔ ان کے خواب ہمارے ہیں، ان کی صلاحیتیں قدرت کی عطا ہیں اور ان کی مسکراہٹیں زندگی کی وہ روشن ساعتیں ہیں جو دوبارہ لوٹ کر نہیں آتیں۔ انہیں قید مت کیجیے، انہیں خوف مت دیجیے، ان کے پروں کو مت نوچیے۔ بس انہیں اتنا یقین دے دیجیے کہ جب وہ آسمان کی طرف دیکھیں گی تو ان کے اپنے لوگ ان کے قدموں میں زنجیر نہیں ڈالیں گے۔
اور پھر شاید ایک دن ہماری قوم قابل اعتراض کی رٹ سے نکل کر ہنر، کردار، علم، خواب اور روشن مستقبل تلاش کرنا سیکھ جائے۔ کیونکہ ایک بیٹی کو اڑنے سے روک دینا آسان ہے، مگر ایک ایسی دنیا بنانا جہاں وہ بے خوف اڑ سکے، اصل تہذیب یہی ہے جس پر کوئی بات نہیں کرتا ۔۔۔۔۔
fans