وہ جو گیت تم نے سنا ہی میری عمر بھر کا ریاض تھا۔ میرے درد کی تھی وہ داستان جسے تم ہسی میں اڑا گئے
M.U Zahid
اس پیچ پر تمام اسلامی معلومات فراہم کی جائے گی
تبلیغی جماعت اور مولانا طارق جمیل صاحب کے حوالے سے جو حالیہ صورتحال سامنے آئی ہے، وہ جماعت کا اندرونی معاملہ ہے۔ اس پر رائے زنی یا بحث سے گریز کرنا ہی بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس معاملے کو خیر و عافیت کے ساتھ سلجھا دے اور دلوں میں محبت اور یکجہتی پیدا فرمائے۔
➪ *Qᴜʀᴀɴ [ 6 : 11 ]* ✨
`قُلۡ سِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ ثُمَّ انْظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الۡمُكَذِّبِيۡنَ ۞`
ترجمہ:
`کہہ دی جیےکہ زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا`
~ ✨🤎
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ،
’’جس شخص کا مقصود حصولِ دنیا ہو، الله تعالیٰ اس کے کام بکھیر دیتا ہے۔ اور اس کا فقر اس کی آنکھوں کے سامنے عیاں کر دیتا ہے جبکہ اسے اتنا کچھ ہی ملتا ہے جتنا اس کے مقدر میں ہوتا ہے اور جس کی نیت آخرت کاحصول ہو، الله تعالی اس کے کام سنوار دیتا ہے اور اس کے دل میں استغناء پیدا فرما دیتا ہے اور دنیا ذلیل ہوکر اس کے پاس آتی ہے۔‘‘ ابن ماجہ : 4105
*67 ہزار عازمین حج کا معاملہ حل کرنے کیلئے جو کچھ ممکن ہوا کریں گے، وزیر اعظم*
*پرائیویٹ اسکیم کے عازمین کا معاملہ ہمارے لیے باعث شرمندگی ہے، شہباز شریف کا اظہار برہمی*
67 ہزار پاکستانی عازمینِ حج کی ممکنہ محرومی کے معاملے پر وفاقی وزیر مذہبی امور، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی مذہبی امور اور نجی حج آپریٹرز کے نمائندوں نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔
وزیراعظم شہباز شریف سے عازمین کو حج پر بھجوانے کے لیے وفد نے مدد مانگ لی، وفاقی وزیر سردار یوسف، چیئرمین مولانا عطاء الرحمان رکن کمیٹی بشریٰ بٹ اور ہوپ کے نمائندوں نے وزیراعظم کو مؤقف سے آگاہ کیا۔
وفد کا درخواست میں کہنا تھا کہ وزیراعظم عازمین حج کے معاملے پر کردار ادا کریں، مزید استدعا کی کہ شہباز شریف نجی کوٹے کے عازمین کے لیے سعودی حکام سے اجازت لیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے نجی اسکیم کے عازمین کے معاملے پر ہر ممکن تعاون اور کوششوں کی یقین دہانی کرادی۔
اس موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے حج بحران پر نجی آپریٹرز اور وزارت مذہبی امور حکام پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ اسکیم کے عازمین کا معاملہ ہمارے لیے باعث شرمندگی ہے۔
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ نجی اسکیم کے عازمین حج کے لیے سعودی حکام سے رابطہ کیا جائے گا، معاملے کے حل کے لیے جو کچھ ممکن ہوا کریں گے۔
*لیاقت بلوچ اور پاک آرمی جنرل کا دلچسپ مکالمہ*
25 اپریل 2025ء کو بلوچستان کے دو روزہ دورے سے واپسی پر کوئٹہ سے اسلام آباد فلائیٹ، پی آئی اے کاؤنٹر پر سٹاف نے محبت و احترام سے جہاز کی سِیٹ 1A الاٹ کی لیاقت بلوچ کو جہاز کے عملہ نے 1A کی بجائے 1D پر بٹھا دیا۔ یہ سیٹ آرمی جنرل صاحب کی تھی عملہ نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی سیٹ دوسری طرف ہے لیاقت بلوچ نے فوری اپنی سیٹ جانا چاہا آرمی جنرل صاحب نے بہت اصرار کیا اور محبت و احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ بہت محترم ہیں اسی سیٹ پر تشریف رکھیں، میں آپ کی سیٹ پر بیٹھ جاتا ہوں لیکن لیاقت بلوچ صاحب نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میری سیٹ یہی ہے فوج تو سیٹ کیا گھر، بازار اور دفتر سے بھی اُٹھا لیتی ہے۔😊
آپ کا بہت شکریہ!!!
جہاز میں قہقہے بلند ہوئے اور مسافر بہت محظوظ ہوئے بلوچستان کے تناظر میں یہ خوب برجستہ مکالمہ ہوگیا!
بارودی سرنگ کے دھماکے سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔
پولیس کے مطابق کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ میں بارودی سرنگ کادھماکا ہوا جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 4 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس
لاہور: دریائے روای میں ڈوب کر 3 بچے جاں بحق ہوگئے۔
پولیس کے مطابق بچے کے ڈوبنے کا واقعہ لاہور کے کے علاقے بند روڈ ٹی نمبر 5 کے قریب پیش آیا، تینوں بچوں کی لاشوں کو دریا سے نکال لیا گیا ہے، ڈاکٹر نے بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی۔
پولیس کے مطابق جاں بحق بچوں میں 6 سال کا نصیب اللّٰہ، 7 سال کا امیر حمزہ اور 9 سال کا قدرت اللّٰہ شامل ہیں۔
وزور اعلی پنجاب نے رپورٹ طلب کر لی ۔
25/04/2025
قرارداد مزمت
#مزمت
*لبیک یا اقصیٰ*
اے اہلِ مردان :
کیا تمہیں قبلہ اول کی صدا سنائی نہیں دیتی؟
کیا تم اپنی غیرتِ ایمانی کو جگانے کے لیے تیار ہو؟
آج بروز جمعہ، نمازِ جمعہ کے فوراً بعد
بمقام: نہر چوک، پارہوتی مردان
ریلی برائے تحفظِ اقصیٰ منعقد کی جا رہی ہے۔
قبلہ اول کے حق میں آواز بلند کریں
اور دنیا کو بتا دیں کہ
"مسلمان زندہ ہیں"
تمام اہلِ ایمان سے پرزور اپیل ہے کہ
ریلی میں بھرپور شرکت فرما کر
مظلوم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔
دوست و احباب کو بھی اس کارِ خیر میں ضرور شامل کریں۔
از طرف:
*احبابِ دارالتقوی و آگاہی امتِ مسلمہ، مردان*
خوشخبری ایسی کہ خوشی سے آپ مر ہی نا جائیں 😀
1۔۔۔ پنجاب حکومت نے موٹر سائیکل رجسٹریشن فیس 1500 روپے سے کم کر کے صرف 7400 روپے کر دی
2۔۔ پنجاب حکومت نے الیکٹرک بائیک کی رجسٹریشن فیس 50 روپے سے کم کر کے صرف 2865 روپے کر دی
3۔۔۔ پنجاب حکومت نے اسلحہ لائسنس کی فیس 4000 روپے سے کم کر کے صرف 48000 روپے کر دی
4۔۔۔۔پنجاب حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے نئے کنکشن کے لیے فیس 7600 روپے سے کم کر کے صرف 24000 روپے کر دی
5۔۔۔پنجاب حکومت نے کاشت کاروں کے لیے نہری پانی کا سالانہ آبیانہ 600 روپے فی ایکڑ سالانہ سے کم کر کے 2200 روپے سالانہ فی ایکڑ کردی
جولائی میں زرعی ٹیکس آنے والا ہے۔۔۔
امید ہے کہ یہ خوشخبری آپ کو کوئی چینل نہی سنائے گا
*جو دیکھا وہ لکھا* 😭😭😭
*
**طالب علم کی پہلی رات اور بہتے ہوئے آنسو***
(قربانی، جذبات اور امت کے لیے ایک خاموش پیغام)
رات کی خاموشی اپنے جوبن پر تھی۔ مدرسے کے کمروں میں معمول کے مطابق سونے کی ترتیب بنائی جا چکی تھی۔ طلباء بستر پر جا چکے تھے۔ ساڑھے گیارہ بجے کے قریب جب میں بھی تھکن سے چُور اپنے بستر کی طرف بڑھا، تو کچھ عجیب سی بےچینی دل میں جاگنے لگی۔ کمرے میں موجود ننھے چہرے، کچھ چپ، کچھ آنکھیں موندے، کچھ پہلو بدلتے ہوئے۔ مگر ان کے سکوت میں ایک آواز چھپی تھی—ماں کی یاد، گھر کی کمی، اور نئے ماحول کا اجنبیت بھرا بوجھ۔
ابھی انہی خیالات میں گم تھا کہ کمرے کا دروازہ آہستہ سے کھلا۔ پونے بارہ بجے کا وقت تھا، اور ایک چھوٹا سا طالب علم آنکھوں میں آنسو لیے اندر آیا۔ اس کے ہونٹوں سے جو جملہ نکلا، وہ دل میں پیوست ہو گیا:
*"استاد جی... امی سے بات کروائیں نا... مجھے اُن کے پاس سونے کی عادت* ہے۔"
میرے لیے یہ فقط ایک فقرہ نہیں تھا، یہ ایک چھوٹے دل کی چیخ تھی، جو ماں کی آغوش سے جدا ہو کر اب تنہائی کی سردی میں لرز رہا تھا۔
میں نے اسے گلے سے لگایا، تسلی دی، اور پیار سے بستر پر لٹا دیا۔
مگر دل گوارا نہ کر سکا کہ پرسکون نیند سولی جائے، جب میرے ارد گرد ایسے معصوم بچے اپنے جذبات سے لڑ رہے ہوں۔
کمرے سے نکلا، باقی طلباء کا جائزہ لیا۔ کہیں مدھم سسکیاں، کہیں چپ چاپ آنکھیں، اور کہیں تکلیف کو ضبط کرتی خاموشی۔
میں نے ان کے سروں پر ہاتھ رکھا، دعائیں کیں، تسلی دی، مگر خود اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔
جب بستر پر لوٹا تو نیند کوسوں دور تھی۔ ذہن میں بچپن کی وہ راتیں گھومنے لگیں، جب میں نے بھی ماں کی گود چھوڑی تھی، جب میں نے بھی انہی بستروں پر آنکھوں کے ساتھ دل کو سلایا تھا۔
آج اُنھی راہوں پر چلنے والے ننھے چراغوں کو دیکھ کر دل بھر آیا۔
یہ معصوم بچے، جنہیں دنیا "مدرسے کا طالب علم" کہہ کر عام سمجھتی ہے، درحقیقت وہ خاموش مجاہد ہیں، جو اپنے بچپن، اپنے آرام، اپنے جذبات کو قربان کر کے دین کے لیے جُت جاتے ہیں۔ نہ ان کے بستر پر ماں کی لوری ہے، نہ کھانے میں ناز نخرے، نہ رات کو گود، نہ صبح کو پیار۔
اک بوسیدہ بستر، اک روشن چہرہ،
اک سادہ سا طالب، اک مردِ صفا۔
یہ وہ چراغ ہیں جو اپنے حصے کی روشنی دے کر امت کے اندھیروں کو روشن کرنے والے ہیں۔
جن کی راتیں آنسوؤں میں گزرتی ہیں، اور دن تلاوت، سبق، حفظ، اور محنت میں۔
ان کے آنسو صرف یاد کا اظہار نہیں، یہ اُس سچے جذبے کی علامت ہیں جو دین سے عشق رکھنے والے دلوں میں ہوتا ہے۔
یہی آنسو دعاؤں کا رنگ بن کر آسمان پر بلند ہوتے ہیں۔ یہی بچے کل کے امام، مفتی، خطیب، اور راہبر ہیں۔
دنیا چاہے انہیں نہ جانے، مگر خدا جانتا ہے کہ یہ کن ویران راستوں سے گزر کر قوم کے لیے روشنی لاتے ہیں۔
یہ جو راتوں کو چپکے روتے ہیں،
کل یہی قرآن سناتے ہیں۔
تو اے امتِ مسلمہ!
اگر کبھی تیری راہوں میں روشنی نظر آئے،
تو جان لینا کہ وہ کسی ماں کی آنکھوں سے دور، کسی طالب علم کے آنسوؤں کی برکت تھی۔
تو ان کے لیے کم از کم دعا تو کر۔
تاکہ یہ ننھے مجاہد اپنے سفر میں تنہا نہ ہوں۔
تاکہ تیرے کل کے منبر محفوظ رہیں۔
تاکہ تیری نسلیں علم و دین کی روشنی سے آشنا رہیں۔منقول