Ahnaf Media Services احناف میڈیا سروسز

Ahnaf Media Services احناف میڈیا سروسز Ahnaf Media Services is an Islamic Media Organization, founded by Molana Muhammad Ilyas Ghuman. Development of Islamic culture in electronic and print media.
(815)

Our aims are: Use of scientific and modern methods in preaching islam. Join our hands.

درس قرآن:سورۃ الانعام: 100رب کی پیدا کی ہوئی مخلوق رب کی شریک کیسے؟   #سورۃالانعام  #دین
27/09/2026

درس قرآن:
سورۃ الانعام: 100
رب کی پیدا کی ہوئی مخلوق رب کی شریک کیسے؟
#سورۃالانعام #دین

سلسلہ آدابِ زندگیملاقات کے آداب:     #سلام  #ملاقات
26/09/2026

سلسلہ آدابِ زندگی
ملاقات کے آداب:
#سلام #ملاقات

26/09/2026

Silsila: Islami Aqaid (Short Clips no 24 )
سلسلہ اسلامی عقائد
شارٹ کلپس
نمبر 24
Mutakallim-e-Islam Maulana Muhammad Ilyas Ghuman Hafizahullah
Alhamdulillah! Ahnaf Media Services presents another inspiring Bayan by Mutakallim e Islam Molana Muhammad Ilyas Ghumman Sahib.
This Bayan will strengthen your Imaan, guide you towards the right path, and help you live a life according to Islam.
Watch till the end and share with your family & friends so everyone can benefit from this beautiful reminder.
Don’t forget to Subscribe Ahnaf Media Services Official YouTube Channel and join us in spreading the message of Islam worldwide. 🌍
Follow Molana Muhammad Ilyas Ghumman on Social Media:
Whatsapp ► https://whatsapp.com/channel/0029Va8NTmy6buMJpvUPIA10
Facebook ► https://www.facebook.com/AhnafMediaServices/
YouTube ► https://www.youtube.com/
Instagram ► https://www.instagram.com/ahnafmedia
TikTok ► https://www.tiktok.com/
Twitter (X) ► https://x.com/AhnafMedia
Pinterest ► https://pin.it/3Zn24scgF
Molana Muhammad Ilyas Ghumman
Ahnaf Media Services
Islamic Bayan 2026
Maulana Ilyas Ghumman Sahab
Islamic Knowledge
Islamic Reminder
See less

LIKE | SHARE | COMMENT | SUBSCRIBE

26/09/2026

Silsila Al-Aqeedat-ut-Tahawiyyah
سلسلہ العقیدۃ الطحاویہ
سبق نمبر 4
Mutakallim-e-Islam Maulana Muhammad Ilyas Ghuman Hafizahullah
Alhamdulillah! Ahnaf Media Services presents another inspiring Bayan by Mutakallim e Islam Molana Muhammad Ilyas Ghumman Sahib.
This Bayan will strengthen your Imaan, guide you towards the right path, and help you live a life according to Islam.
Watch till the end and share with your family & friends so everyone can benefit from this beautiful reminder.
Don’t forget to Subscribe Ahnaf Media Services Official YouTube Channel and join us in spreading the message of Islam worldwide. 🌍
Follow Molana Muhammad Ilyas Ghumman on Social Media:
Whatsapp ► https://whatsapp.com/channel/0029Va8NTmy6buMJpvUPIA10
Facebook ► https://www.facebook.com/AhnafMediaServices/
YouTube ► https://www.youtube.com/
Instagram ► https://www.instagram.com/ahnafmedia
TikTok ► https://www.tiktok.com/
Twitter (X) ► https://x.com/AhnafMedia
Pinterest ► https://pin.it/3Zn24scgF
Molana Muhammad Ilyas Ghumman
Ahnaf Media Services
Islamic Bayan 2026
Maulana Ilyas Ghumman Sahab
Islamic Knowledge
Islamic Reminder
See less
LIKE | SHARE | COMMENT | SUBSCRIBE
See less See less

درس عقیدہ:سلسلہ عقائد اسلامیہ:148سماعِ موتیٰ:
26/09/2026

درس عقیدہ:
سلسلہ عقائد اسلامیہ:148
سماعِ موتیٰ:

درس حدیث:اپنی دیوار پہ پڑوسی کو چھت ڈالنے دیں   #ایمان    #پڑوسی
26/09/2026

درس حدیث:
اپنی دیوار پہ پڑوسی کو چھت ڈالنے دیں
#ایمان #پڑوسی

25 ستمبر 2026ء بروز جمعۃ المبارک متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ کے مضامین "تعلیمات پیغمبر معاشرے کی ضرورت ...
26/09/2026

25 ستمبر 2026ء بروز جمعۃ المبارک متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ کے مضامین "تعلیمات پیغمبر معاشرے کی ضرورت اور تحفظ حرمین شریفین ایک مقدس امانت اور ہماری اجتماعی ذمہ داری " قومی اخبار "روزنامہ دنیا ، روزنامہ نئی بات اور روزنامہ اسلام " میں

🇸🇦 *تحفظ حرمین شریفین: ایک مقدس امانت، ایک اجتماعی ذمہ داری* 🇵🇰

✍️....*متکلم اسلام مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ*

🌎 *دنیا کے نقشے پر بہت سے شہر اپنی جغرافیائی، سیاسی، معاشی یا تاریخی اہمیت کے باعث نمایاں ہیں، مگر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حیثیت ان سب سے منفرد ہے۔ یہ دو شہر محض کسی ریاست کے دو اہم مراکز نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کے ایمان، عبادت، عقیدت اور روحانی وابستگی کا محور ہیں۔ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ شریف ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے "لِلنَّاسِ" اور "لِلْعَالَمِينَ" کے الفاظ کے ساتھ انسانیت کے لیے برکت اور ہدایت کا مرکز قرار دیا، جبکہ مدینہ منورہ وہ شہر ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی، اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم قائم ہوئی اور جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرما ہیں۔*

*یہی وجہ ہے کہ حرمین شریفین کا تحفظ ایک ایسا موضوع ہے جسے محض سعودی عرب کے داخلی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھنا اس کی حقیقی وسعت کو محدود کردینا ہے۔ انتظامی اور قانونی اعتبار سے حرمین شریفین مملکت سعودی عرب کی حدود میں واقع ہیں اور ان کی حفاظت کی براہ راست ذمہ داری سعودی ریاست پر ہے، لیکن مذہبی اور روحانی اعتبار سے ان کا تعلق پوری امت مسلمہ سے ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں بیٹھا ہوا مسلمان جب نماز کے لیے قبلہ رخ ہوتا ہے تو اس کا تعلق مکہ مکرمہ سے قائم ہوجاتا ہے اور جب درود و سلام کے ساتھ مدینہ منورہ کا تصور کرتا ہے تو اس کے دل کا رشتہ اس مقدس شہر سے جڑ جاتا ہے۔*

*اس لیے حرمین کی سلامتی کا سوال صرف سرحدوں، فوجی تنصیبات اور ریاستی خودمختاری کا سوال نہیں؛ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں مذہب، انسانیت، عالمی مسلم اجتماعیت، علاقائی امن اور بین الاقوامی سلامتی کے کئی پہلو باہم مربوط ہوجاتے ہیں۔*

*حرمین شریفین: امت کا روحانی مرکز* 👇

*قرآن کریم نے بیت اللہ کی عظمت کو غیر معمولی انداز میں بیان کیا ہے:*

*ترجمہ آیت: "بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا ہے اور تمام جہانوں کے لیے ہدایت کا مرکز ہے۔"*

*یہاں "لِلنَّاسِ" اور "لِلْعَالَمِينَ" کے الفاظ اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ بیت اللہ کی نسبت کسی ایک قوم، نسل یا علاقے تک محدود نہیں۔ یہی وہ مرکز ہے جہاں دنیا کے مختلف براعظموں سے آنے والے مسلمان ایک لباس، ایک قبلہ اور ایک مقصد کے ساتھ جمع ہوتے ہیں۔*

*قرآن کریم نے مکہ مکرمہ کے امن کو بھی خصوصی اہمیت دی:وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا"اور جو اس میں داخل ہوا وہ امن والا ہوگیا۔"*

*حرم کا تصور ہی امن، حرمت اور اطمینان سے وابستہ ہے۔ اس لیے حرمین شریفین کو جنگ، دہشت گردی، تخریب کاری یا کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی کا میدان بننے سے بچانا محض انتظامی ترجیح نہیں بلکہ اس مقدس تصورِ امن کا تقاضا بھی ہے جو اسلام نے حرم کے ساتھ وابستہ کیا ہے۔*

*حرمین کا تحفظ: صرف دفاعی مسئلہ نہیں* 👇

*یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حرمین شریفین کا تحفظ صرف یہ نہیں کہ کسی ممکنہ میزائل یا ڈرون کو فضا میں روک لیا جائے۔ یہ یقیناً سکیورٹی کا اہم حصہ ہے، لیکن مکمل تحفظ اس سے کہیں وسیع تصور ہے۔*

*حرمین کا تحفظ زائرین کی جان و مال کی حفاظت، حج اور عمرہ کے پرامن انعقاد، مقدس مقامات کی حرمت، دہشت گردی اور تخریب کاری کے سدباب، ہجوم کے منظم انتظام، طبی اور ہنگامی سہولتوں، محفوظ آمد و رفت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خطرات کی بروقت نشاندہی، غرض ہر اس انتظام کا نام ہے جو حجاج اور معتمرین کو اطمینان کے ساتھ عبادت کا موقع فراہم کرے۔*

*آج کے دور میں اس ذمہ داری کی نوعیت مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ ماضی کے روایتی خطرات کے ساتھ میزائل، ڈرون، سائبر حملے، غیر ریاستی مسلح گروہ اور دور مار ہتھیار سکیورٹی کے منظرنامے کو تبدیل کرچکے ہیں۔*

*اس لیے تحفظ حرمین کے لیے صرف عسکری قوت کافی نہیں؛ مضبوط ریاستی ادارے، جدید ٹیکنالوجی، مؤثر شہری انتظام، ہنگامی منصوبہ بندی، سفارت کاری اور علاقائی تعاون بھی ناگزیر ہیں۔*

*تاریخ گواہ ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ نے مختلف ادوار میں سیاسی کشمکش، داخلی اختلافات اور بیرونی خطرات کے اثرات دیکھے ہیں۔ اس تاریخ کا بنیادی سبق یہی ہے کہ مقدس مقامات کی حرمت صرف جذباتی وابستگی سے محفوظ نہیں رہتی۔ اس کے لیے امن و امان، مضبوط انتظام، مؤثر ریاستی ادارے، دفاعی صلاحیت اور دور اندیش سیاسی و سفارتی حکمت عملی ضروری ہوتی ہے۔*

*آج حالات بدل گئے ہیں، خطرات کی نوعیت بدل گئی ہے، لیکن بنیادی اصول وہی ہے: مقدس مقامات کو کسی بھی قسم کے جنگی تصادم اور سیاسی کشمکش کا میدان نہیں بننا چاہیے۔*

*بدلتی ہوئی جنگ اور نئے خطرات* 👇

*آج جنگ صرف سرحدوں پر فوجوں کے ٹکرانے کا نام نہیں۔ ایک چھوٹا سا ڈرون سیکڑوں کلومیٹر دور سے پرواز کرکے حساس تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ میزائل چند منٹ میں سرحدیں عبور کرسکتا ہے۔ سائبر حملہ کسی ایسے نظام کو متاثر کرسکتا ہے جس پر لاکھوں انسانوں کی روزمرہ زندگی منحصر ہو۔*

*ایسے ماحول میں حرمین شریفین کی حفاظت کا سوال بھی جدید سکیورٹی تقاضوں کے ساتھ جڑ گیا ہے۔*

*ستمبر 2026 میں مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون کے واقعے نے اس حساسیت کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کیا۔ سعودی حکام نے ڈرون کو روکنے کی اطلاع دی، جبکہ مختلف مسلم ممالک اور تنظیموں نے حرمین شریفین کے قریب کسی بھی عسکری خطرے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حرمین شریفین کی حرمت و سلامتی اور زائرین، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔*

*یہ واقعہ خواہ کسی بھی علاقائی تنازع کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے، ایک اصولی بات بہرحال واضح کرتا ہے: حرمین شریفین کو کسی بھی عسکری کشمکش سے محفوظ رکھنا پوری مسلم دنیا کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔*

*حرمین کو جنگ کے دائرے سے باہر رکھنا ہوگا* 👇

*دنیا کے ہر ذمہ دار نظام کے سامنے یہ اصول ہونا چاہیے کہ مذہبی مقدسات اور شہری آبادیوں کو مسلح تنازعات کی زد سے محفوظ رکھا جائے۔*

*حرمین شریفین کے معاملے میں یہ ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہاں ہر سال دنیا کے مختلف حصوں سے لاکھوں مسلمان جمع ہوتے ہیں۔ کسی بھی بڑے سکیورٹی بحران کے اثرات صرف مقامی آبادی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مختلف ممالک سے آنے والے زائرین کی زندگیوں کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔*

*اس لیے حرمین کو کسی علاقائی جنگ کی توسیع بننے سے روکنا صرف سعودی عرب کا نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے مفاد کا تقاضا ہے۔*

*یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ حرمین کے تحفظ کا مطلب کسی ملک یا قوم کے خلاف جنگ کی حمایت نہیں۔ اس کا بنیادی مفہوم مقدس مقامات، شہریوں اور زائرین کی حفاظت ہے۔ جہاں دفاع ناگزیر ہو وہاں دفاع، اور جہاں سفارت کاری مؤثر ہوسکتی ہو وہاں مذاکرات اور کشیدگی میں کمی، دونوں ایک ذمہ دارانہ پالیسی کا حصہ ہیں۔*

*مسلم دنیا کا تعلق: جذبات سے ذمہ داری تک* 👇

*حرمین شریفین سے مسلمانوں کا تعلق کسی سیاسی اتحاد یا حکومتی معاہدے کا پیدا کردہ نہیں۔ یہ تعلق ایمان، عبادت اور اسلامی تاریخ سے پیدا ہوا ہے۔*

*پاکستان، بنگلہ دیش، ہندوستان، افغانستان، وسطی ایشیا، ترکی، افریقہ، عرب دنیا، یورپ اور امریکہ، دنیا کے تقریباً ہر خطے کے مسلمان حج اور عمرہ کے ذریعے حرمین سے جڑے ہوئے ہیں۔*

*یہی وجہ ہے کہ حرمین کی سلامتی کے معاملے میں مسلم دنیا کا کردار صرف جذباتی اظہار تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں سفارتی تعاون، معلومات کا تبادلہ، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات، شہری تحفظ کے تجربات کا تبادلہ، جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں تعاون اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں شامل ہوسکتی ہیں۔*

*سعودی عرب کی براہ راست ذمہ داری* 👇

*حرمین شریفین سعودی عرب کی سرزمین پر واقع ہیں، اس لیے ان کی براہ راست انتظامی، سکیورٹی اور شہری ذمہ داری سعودی ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ذمہ داری غیر معمولی ہے۔*

*دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں افراد کی میزبانی، ان کے سفر، رہائش، صحت، عبادات، آمد و رفت اور واپسی کے انتظامات ایک وسیع انتظامی نظام کا تقاضا کرتے ہیں۔*

*سعودی ریاست نے گزشتہ برسوں میں حرمین اور مشاعر مقدسہ میں سکیورٹی، ٹرانسپورٹ، طبی خدمات، ہجوم کے نظم اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے اس نظام کو وسعت دی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ عبادت کے لیے آنے والے افراد کو امن اور سہولت میسر رہے۔*

*یہ ذمہ داری سعودی حکومت کے لیے انتظامی فرائض سے بڑھ کر ایک تاریخی امانت کی حیثیت رکھتی ہے۔*

*سعودی قیادت اور حرمین کی ذمہ داری* 👇

*حرمین شریفین کے تحفظ کی بحث میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی قیادت کا ذکر بھی ناگزیر ہے۔*

*پاکستانی قیادت نے حالیہ مواقع پر سعودی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف حملوں کی مذمت، سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی اور خطے میں امن کے لیے کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اسی گفتگو میں وزیراعظم نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی اپنے احترام اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ محمد بن سلمان نے پاکستان کی مسلسل حمایت کو سراہا۔*

*یہ رابطہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات محض معمول کے سفارتی روابط نہیں بلکہ مذہبی، تاریخی، عوامی اور تزویراتی تعلقات کا وسیع مجموعہ ہیں۔*

*وزرائے خارجہ کی سطح پر تعاون* 👇

*دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ بھی اسی وسیع تعلق کا اہم حصہ ہے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان حرمین شریفین کی حرمت و سلامتی اور زائرین کے تحفظ کے معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔*

*پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان اگست 2026 میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے بھی باہمی تعاون کو ایک نئے ادارہ جاتی دائرے میں داخل کیا۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، کسی ملک کے خلاف نہیں، اور اس کا مقصد بیرونی جارحیت کے خلاف اجتماعی دفاعی صلاحیت اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔*

*بعد ازاں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور دفاعی افواج کے سربراہان نے مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید ادارہ جاتی بنانے، اجتماعی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔*

*سعودی وزیر داخلہ اور سکیورٹی کا پہلو*👇

*حرمین شریفین کی حفاظت کا ایک بڑا میدان داخلی سلامتی بھی ہے۔ یہاں سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری انتہائی اہم ہے۔*

*حرمین شریفین میں ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں افراد جمع ہوتے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے سدباب، ہجوم کے نظم، شہری دفاع، ہنگامی صورت حال، داخلی سلامتی اور زائرین کے تحفظ کے لیے سعودی وزارت داخلہ کا کردار بنیادی نوعیت رکھتا ہے۔*

*پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان داخلی سلامتی اور سکیورٹی کے شعبے میں تعاون اسی وسیع ذمہ داری کا ایک حصہ ہے۔ دونوں ملکوں کے اداروں کے درمیان تجربات، تربیت اور سکیورٹی تعاون کا تبادلہ اس بات کی علامت ہے کہ حرمین کی حفاظت کو جدید تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو دونوں جانب محسوس کیا جاتا ہے۔*

*افواج پاکستان اور سعودی عرب* 👇

*پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کا دفاعی پہلو بھی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، تربیت اور عسکری روابط کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔*

*حالیہ صورت حال میں پاکستان کی عسکری قیادت کی جانب سے سعودی عرب کی خودمختاری اور حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے واضح مؤقف سامنے آیا ہے۔*

*ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل نے 18 ستمبر 2026 کو کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ سفارتی اور عملی طور پر کھڑا ہے اور اس عزم میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کا تحفظ بھی شامل ہے۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے عوام، افواج اور سیاسی قیادت کے درمیان تاریخی اور گہرے تعلق کو بھی اس عزم کی بنیاد قرار دیا۔*

*یہ بیان محض ایک وقتی ردعمل نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود دفاعی تعلق کی موجودہ صورت کی عکاسی کرتا ہے۔*

*پاکستان کی طرف سے واضح حمایت* 👇

*یہی وہ مقام ہے جہاں حرمین شریفین کے تحفظ کا معاملہ پاکستان کے لیے ایک واضح قومی اور ریاستی احساس میں تبدیل ہوجاتا ہے۔*

*پاکستانی عوام کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ محض بیرون ملک واقع دو مقدس شہر نہیں؛ یہ ایمان، عبادت، محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور امت مسلمہ کے اجتماعی شعور کے مراکز ہیں۔*

*چنانچہ جب ان مقدس مقامات کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو پاکستان کی طرف سے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ایک فطری اور واضح مؤقف کے طور پر سامنے آتا ہے۔*

*پاکستان کی موجودہ قیادت نے اس مؤقف کو مختلف سطحوں پر بیان کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے شاہ سلمان اور محمد بن سلمان کے نام پیغامات میں پاکستان سعودی تعلقات کی گہرائی، باہمی اعتماد اور تعاون کو اجاگر کیا اور اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو دونوں ممالک کے تعلقات کے دفاعی و تزویراتی پہلو کو مضبوط کرنے والا قرار دیا۔*

*وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی قیادت کے ساتھ براہ راست رابطے میں پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے حرمین شریفین کی حرمت و سلامتی کے خلاف کسی بھی خطرے کو مسلم دنیا کے مذہبی جذبات اور علاقائی امن کے لیے سنگین معاملہ قرار دیا۔*

*افواج پاکستان کی قیادت کی جانب سے بھی یہ واضح کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے معاملے میں پاکستان کے عزم میں کوئی ابہام نہیں۔*

*یہ تمام بیانات مل کر ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: پاکستان حرمین شریفین کی حرمت، سلامتی اور زائرین کے تحفظ کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری و سلامتی کے ساتھ یکجہتی کو اپنے دیرینہ برادرانہ تعلق کا حصہ سمجھتا ہے۔*

*حمایت کا مطلب ذمہ داری ہے* 👇

*اس حمایت کی تعبیر بھی درست تناظر میں ہونی چاہیے۔ سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر علاقائی تنازع کا حل صرف عسکری قوت میں تلاش کیا جائے۔ پاکستان کے سرکاری مؤقف میں جہاں سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے واضح حمایت موجود ہے، وہیں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات، سفارت کاری اور علاقائی امن کے لیے کوششوں پر بھی زور دیا گیا ہے۔*

*یہی ایک ذمہ دارانہ ریاستی طرزِ عمل ہے: دفاع کے حق کو تسلیم کرنا، مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانا، زائرین کی جانوں کی حفاظت کرنا اور ساتھ ہی جنگ کے دائرے کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی راستے تلاش کرنا۔*

*حرمین کی سلامتی اور پورے خطے کا تحفظ* 👇

*یہ سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ حرمین کی سلامتی کو پورے خطے کی سلامتی سے کیوں جوڑا جائے؟*

*اس کا جواب جغرافیہ، معیشت اور موجودہ سکیورٹی صورت حال میں موجود ہے*۔

*سعودی عرب خلیج، بحیرہ احمر اور ایشیا، افریقہ اور یورپ کے درمیان ایک اہم جغرافیائی مقام رکھتا ہے۔ خطے میں جنگ پھیلنے کی صورت میں توانائی، تجارت، سمندری راستوں، فضائی سفر اور عالمی معیشت پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔*

*اس لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو کسی بھی علاقائی جنگ کے اثرات سے محفوظ رکھنا صرف مذہبی ضرورت نہیں بلکہ علاقائی استحکام کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔*

*اگر حرمین کے گرد سکیورٹی کا ماحول خراب ہوتا ہے تو اس کے اثرات حج و عمرہ کے نظام، بین الاقوامی سفر، مسلم دنیا کے عوامی جذبات اور پورے خطے کی سیاسی فضا تک پہنچ سکتے ہیں۔*

*اسی لیے تحفظ حرمین شریفین کو وسیع تر علاقائی امن کے ایک اہم ستون کے طور پر دیکھنا ہوگا۔*

*حرمین کا امن، امت کا اطمینان* 👇

*حرمین شریفین کا تحفظ ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ یہ سعودی عرب کی براہ راست ذمہ داری بھی ہے اور پوری مسلم دنیا کے لیے ایک اہم اجتماعی مسئلہ بھی۔*

*مکہ مکرمہ محفوظ ہوگا تو حج محفوظ ہوگا۔حج محفوظ ہوگا تو دنیا بھر کے مسلمانوں کی ایک عظیم عبادت محفوظ رہے گی۔*

*مدینہ منورہ محفوظ ہوگا تو کروڑوں مسلمانوں کے روحانی اطمینان کا مرکز محفوظ رہے گا۔*

*اور اگر جزیرہ عرب میں امن اور استحکام برقرار رہتا ہے تو خلیج، بحیرہ احمر اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات بھی مضبوط ہوں گے۔*

*اس لیے تحفظ حرمین شریفین کو کسی ایک ریاست کے دفاع تک محدود کرنا اس مسئلے کی وسعت کو کم کرنا ہے۔ یہ مذہبی حرمت، انسانی جان، مسلم دنیا کے اجتماعی احساس، علاقائی استحکام اور عالمی امن کے باہم مربوط سوالات کا مجموعہ ہے۔*

*حرمین شریفین کا تحفظ کسی کے خلاف جنگ کی دعوت نہیں؛ یہ مقدسات کی حرمت، زائرین کی حفاظت، ریاستی خودمختاری کے احترام اور خطے میں امن کے قیام کا مطالبہ ہے۔*

*اور اسی اصول کی بنیاد پر پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ واضح اور دوٹوک یکجہتی کا اظہار اپنی جگہ پوری اہمیت رکھتا ہے۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ، سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف بن عبدالعزیز آل سعود اور سعودی عرب کے تمام متعلقہ سکیورٹی و دفاعی اداروں کے ساتھ پاکستان کی ریاستی سطح پر تعاون اور یکجہتی کا پیغام یہی ہے کہ حرمین شریفین کی سلامتی ایک غیر معمولی ذمہ داری ہے۔*

*پاکستانی قیادت کے حالیہ سرکاری بیانات، سفارتی رابطوں اور دفاعی سطح کے مؤقف سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، حرمین شریفین کی حرمت و سلامتی اور زائرین کے تحفظ کے معاملے میں اپنی حمایت اور تعاون کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔*

*یہ حمایت کسی فرد یا حکومت کے لیے محض سیاسی تائید نہیں، بلکہ حرمین شریفین کی حرمت، سلامتی اور دنیا بھر سے آنے والے مسلمانوں کے تحفظ کے ایک اصول کی حمایت کے طور پر سمجھی جانی چاہیے۔*

*حرمین شریفین محفوظ رہیں، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ امن کے مراکز رہیں، زائرین بلاخوف عبادت کرتے رہیں، سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی برقرار رہے اور پورا خطہ جنگ و کشیدگی کے بجائے امن، استحکام اور باہمی احترام کی طرف بڑھے۔*

*یہی حرمین کے تحفظ کا تقاضا ہے، یہی امت مسلمہ کے اجتماعی مفاد کا تقاضا ہے اور یہی پورے خطے کے پائیدار امن کی بنیادی ضرورت ہے۔*

درس قرآن:سورۃ الانعام: 99ایمان والوں کے لیے بڑی نشانیاں   #سورۃالانعام  #دین
26/09/2026

درس قرآن:
سورۃ الانعام: 99
ایمان والوں کے لیے بڑی نشانیاں
#سورۃالانعام #دین

25/09/2026

آج زمین پر عمل کل زمین کی گواہی
قیامت والے دن زمین گواہی دے گی کہ فلاں بندے نے مجھ پر کون کونسے گناہ کیے ہیں ۔
مفتی پیرزادہ اخوند
خلیفہ مجاز متکلم اسلام مولانا الیاس گھمن دامت برکاتہم العالیہ
مدرس مرکز اہلسنت والجماعت سرگودھا












https://youtu.be/CS9ZYbg2H28

*مجلس علمی*  ( مجلس نمبر 40 )  *عنوان:* *عقیدہ آخرت - حصہ چہارم**گفتگو:* *متکلم اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ ا...
25/09/2026

*مجلس علمی*
( مجلس نمبر 40 )

*عنوان:* *عقیدہ آخرت - حصہ چہارم*

*گفتگو:* *متکلم اسلام حضرت مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ*

*تاریخ:*
26 ستمبر 2026 بروز ہفتہ

*وقت:*
پاکستان دوپہر 3:00 بجے

دیگر احباب اپنے مقامی وقت کا تعین اس کے اعتبار سے فرمائیں

*نوٹ: یہ مجلس عالم، طالب، انجینیر، پروفیسر، تاجر، مزدور، ملازم، مرد اور عورت ھر کسی کیلیے ھے۔ اس کو عام کر سکتے ھیں*

*مجلس کا لنک:*

https://us06web.zoom.us/j/86196210138?pwd=0zSw6pQmIZGbKqE2kX2O68a3zAWZZi.1

Meeting ID: 861 9621 0138
Passcode: 258830

Zoom is the leader in modern enterprise cloud communications.

Address

Markaz Ahlus Sunnah Wal Jama'h
Sargodha

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahnaf Media Services احناف میڈیا سروسز posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category