19/07/2026
اپنے ارد گرد ان لوگوں کا خیال رکھیں جو دیہاڑی دار مزدور ہیں، گھر میں کھانے پینے کی اضافی چیزیں رکھیں۔ اگر آپ پیٹ بھر کر کھا رہے ہیں اور آپ کا پڑوسی بھوکا سو رہا ہے، قیامت کے روز آپ کا گریبان ہو گا اور اُس کا ہاتھ۔ صرف اللّٰہ کی رضا کے لئے لوگوں کی مدد کریں۔
14/07/2026
کِسی بھکاری کو پیسے دینے سے پہلے اپنے ارد گرد دیکھیں، کوئی سفید پوش بھُوکا تو نہیں؟
04/07/2026
With Malik Zeeshan – I just got recognised as one of their top fans! 🎉
04/07/2026
https://www.facebook.com/share/1JhiQmNuA3/?mibextid=wwXIfr
صاحب حیثیت لوگ غور فرمائیں
چند روز پہلے میں بہاولپور میں ایک ایسے بزرگ کے پاس پہنچا جن کی عمر 83 سال ہے۔ اس دن درجۂ حرارت تقریباً 45 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ گرمی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ مجھے خود چکر اور بے ہوشی جیسی کیفیت محسوس ہو رہی تھی، لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اس شدید گرمی میں یہ بزرگ ایک درخت کے نیچے کھڑے ہو کر اپنا رزق کما رہے تھے۔
بابا جی کی اپنی کوئی باقاعدہ دکان نہیں ہے۔ نہ کوئی کمرہ، نہ پنکھا، نہ ایئرکنڈیشنر اور نہ ہی دھوپ اور گرمی سے بچنے کا مناسب انتظام۔ وہ بہاولپور میں بیلا چوک سے اندر، میاں بلیغ الرحمٰن کی کوٹھی کے سامنے ایک درخت کے نیچے اپنا چھوٹا سا فوڈ پوائنٹ لگاتے ہیں، جہاں وہ بیف کباب، اسٹیم بریانی، اسٹیم بیف پلاؤ، بیف پلاؤ اور اسٹیم بیف فروخت کرتے ہیں۔
اس عمر میں انہیں کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ انہیں ریٹائر ہو کر گھر میں آرام کرنا چاہیے تھا، لیکن حالات نے انہیں آج بھی محنت کرنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود ان کے چہرے پر شکایت نہیں، زبان پر شکوہ نہیں اور دل میں اللہ کی محبت موجود ہے۔
بابا جی بہت زیادہ دین دار ہیں اور پانچوں وقت کی نماز کے پابند ہیں۔ نماز کا وقت ہوتے ہی وہ اپنا سامان، کھانا اور پورا پوائنٹ اللہ کے حوالے کرکے مسجد کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔ بڑھاپے اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے وہ بہت آہستہ آہستہ چلتے ہیں۔ مسجد جانے، نماز ادا کرنے اور واپس آنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے، جس دوران ان کا کاروبار بند رہتا ہے، لیکن ان کے لیے نماز اور اللہ کی عبادت دنیاوی کمائی سے زیادہ اہم ہے۔
بابا جی کی ایک خاص عادت یہ بھی ہے کہ جو شخص ان کے پاس کھانا کھانے آتا ہے، وہ اسے کھانا دینے کے ساتھ ساتھ دین کی بات بھی سمجھاتے ہیں۔ کبھی نماز کی تلقین کرتے ہیں، کبھی اللہ کو یاد کرنے کی نصیحت کرتے ہیں اور کبھی نیکی کی طرف بلاتے ہیں۔ اگر اسی دوران کوئی دوسرا گاہک آ جائے تو وہ اسے تھوڑی دیر رکنے کا کہتے ہیں، کیونکہ وہ پہلے جاری دینی بات کو مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کوئی دکھاوا نہیں، بلکہ ان کی فطرت اور زندگی کا حصہ ہے۔
بابا جی نہایت نرم دل انسان ہیں۔ انہوں نے اپنی چیزوں کے نرخ بھی بہت زیادہ نہیں رکھے، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی مخلوق پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔ اگر کبھی کوئی بھوکا شخص ان کے پاس آ جائے اور اس کے پاس پیسے نہ ہوں تو بابا جی اسے خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجتے، بلکہ مفت کھانا کھلا دیتے ہیں۔
ان کی محدود آمدنی کا بڑا حصہ ہمیشہ اپنے بچوں اور خاندان پر خرچ ہوا۔ اپنی زندگی میں انہوں نے جو کچھ بھی کمایا، پہلے اپنے بچوں کی شادیوں، ان کی ضروریات اور گھر کے اخراجات پر لگا دیا۔ حالانکہ ان کے دل میں کئی سالوں سے عمرہ کرنے کی شدید خواہش موجود تھی، لیکن انہوں نے اپنی خواہش سے پہلے اپنی اولاد کی ذمہ داریوں کو ترجیح دی۔
آج بھی جب وہ عمرے کے لیے کچھ رقم جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو خاندان میں کوئی نہ کوئی ضرورت سامنے آ جاتی ہے۔ کبھی بچوں کے بچے بیمار ہو جاتے ہیں، کبھی کسی کے علاج کی ضرورت پڑ جاتی ہے اور کبھی گھر میں کوئی دوسری مجبوری آ جاتی ہے۔ بابا جی اپنی عمرے کی جمع پونجی بھی اپنے خاندان کی ضرورت پر خرچ کر دیتے ہیں اور اپنی خواہش ایک مرتبہ پھر مؤخر کر دیتے ہیں۔
وہ اکثر ایک درد بھری بات کہتے ہیں:
“میری زندگی کا کوئی پتا نہیں۔ بس میری خواہش ہے کہ دنیا سے جانے سے پہلے ایک مرتبہ اللہ کا گھر اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں اور عمرہ کر لوں۔”
یہ الفاظ سن کر انسان کا دل بھر آتا ہے۔ ایک ایسا شخص جو پوری زندگی اپنے بچوں، خاندان، ضرورت مندوں اور بھوکے لوگوں کے لیے جیتا رہا، آج اس کی اپنی صرف ایک خواہش باقی ہے—اللہ کے گھر کی زیارت۔
ہم سب جانتے ہیں کہ آج کے دور میں عمرہ بہت مہنگا ہو چکا ہے۔ محدود تنخواہ یا معمولی روزانہ آمدنی رکھنے والے لوگوں کو عمرے کے اخراجات جمع کرنے میں کئی ماہ بلکہ بعض اوقات کئی سال لگ جاتے ہیں۔ بابا جی 83 سال کی عمر میں درخت کے نیچے کھڑے ہو کر معمولی آمدنی کماتے ہیں، اس لیے ان کے لیے تنہا عمرے کے تمام اخراجات جمع کرنا بہت مشکل ہے۔
دوسرے وی لاگرز کی طرح میرا بھی ان کے پاس اکثر آنا جانا رہتا ہے۔ جب بھی میں ان سے ملتا ہوں تو یہی پوچھتا ہوں:
“انکل! آپ کے عمرے کا کیا بنا؟ کیا کسی نے آپ کی مدد کی؟ کیا کہیں سے عمرے کی کوئی پیشکش آئی؟”
ان کا جواب آج بھی وہی ہوتا ہے کہ ابھی تک ان کی خواہش پوری نہیں ہوئی۔
میری اپنی بھی بہت دلی خواہش تھی کہ میں خود بابا جی کو اپنے خرچ پر عمرہ کرا دیتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میں اس وقت مالی طور پر اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ ان کے عمرے کے تمام اخراجات برداشت کر سکوں۔ اسی لیے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں وقتاً فوقتاً بابا جی کے بارے میں آپ سب کو آگاہ کرتا رہوں گا۔ میں بتاتا رہوں گا کہ انہیں عمرے کی کوئی پیشکش ہوئی یا نہیں، کتنی مدد جمع ہوئی اور ان کی خواہش پوری ہونے کے کتنے امکانات پیدا ہوئے۔
میری آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ بابا جی کے لیے کم از کم ایک منٹ نکال کر دعا ضرور کریں۔ کمنٹ میں آمین لکھ دیں اور اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ ہو سکتا ہے آپ کا ایک شیئر کسی ایسے نیک اور صاحبِ استطاعت انسان تک پہنچ جائے جو بابا جی کو عمرہ کرانے کی ذمہ داری قبول کر لے۔
آپ کے چند الفاظ، ایک دعا، ایک آمین یا ایک شیئر بابا جی کے رزق میں برکت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ممکن ہے ان کا کاروبار بہتر ہو جائے، ان کی مالی مدد ہو جائے یا کوئی نیک دل انسان انہیں اللہ کے گھر کی زیارت کرانے کا سبب بن جائے۔
یا اللہ! اپنے اس 83 سالہ نیک، محنتی اور نرم دل بندے کے رزق میں برکت عطا فرما، ان کی صحت اور زندگی میں آسانی پیدا فرما، ان کی تمام پریشانیاں دور فرما اور انہیں اپنی زندگی میں اپنے گھر کی زیارت اور عمرہ ادا کرنے کی سعادت نصیب فرما۔ آمین ثم آمین۔
30/06/2026
سرگودھا شہر میں اگر کوئی فوتگی ہو جاتی ہے اور کفن کی ضرورت ہے تو ہم سے رابطہ کریں۔ انشاءاللہ کفن ہم دے دیں گے۔
برائے رابطہ: ملک ذیشان آریان اسٹیٹ ڈیل 03066744872