06/06/2024
شکر کریں ۔۔۔
اگر اس وقت دہکتے ہوئے روڈ پر آپ روزی روٹی کے لیے نہیں جھلس رہے تو شکر کریں جس قدر ادا کر سکتے کہ یہ تباہ کن گرمی جس میں چہرے جھلس جھلس جاتے۔۔۔ اس میں بہت سارے لوگ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری کرنے نکلے ہوئے۔۔۔
اگر آپکو رب تعالیٰ نے اس جگہ رکھا کہ اس شدید موسم میں آپ گھر میں آرام کر سکتے۔۔۔ یا اے سی والے دفتر میں بیٹھے ۔۔۔ یہ اپنی دوکان پر ٹھنڈا ائیر کولر لگا کر براجمان۔۔ تو یہ نعمت خداوندی ہے۔۔۔۔
اور اس کا جتنا شکر آدا کیا جائے کم ہے۔۔ شکر کا ایک طریقہ تو زبانی ہے، ایک طریقہ دل میں احساس تشکر کا ہونا۔۔۔ ایک رب تعالیٰ کا ذکر کرنا۔۔۔ اور ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا خیال کرنا جن میں آپکو نہیں رکھا گیا۔۔۔۔
اس روڈ پر مزدوری کے لیے پھرتے مزدور کا۔۔۔
سامان لادے لیے جانے والے ریڑھی والے کا۔۔۔
بائیک یا سائیکل پر جھلسنے والے مجبور کا۔۔۔
کسی بینک کسی پلازے کے باہر لو میں کھڑے سکیورٹی گارڈ کا۔۔۔
گھاس کاٹتے مالی کا۔۔۔
کارٹ کو دھکا لگائے پھرنے والے محنت کش کا۔۔۔
ان سب کا احساس بہترین شکر ہے۔۔۔ گھر سے یا آفس سے نکلتے ہوئے ٹھنڈے پانی کی بوتلیں ساتھ لے لیں ان کے لیے۔۔۔
جہاں ممکن ہو اپکے اختیار میں ہو انہیں چھاوں پرووائیڈ کر دیں۔۔۔
روڈ پر آپ اپنی اے سی لگی گاڑی میں جا رہے ہیں تو باہر دھوپ میں جھلسنے والوں کو راستہ دے دیں۔۔۔ ان پر برہم نہ ہوں۔۔۔ کسی ریڑھی بان کو چھت یا چھتری لگوا دیں۔۔۔
سکیورٹی گارڈ کو دروازے کے باہر کی بجائے اندر والی سائیڈ پر بٹھا لیں۔۔۔ یہ احساس بہترین شکر گزاری ہے رب تعالیٰ کی۔۔ کہ اللہ پاک نے آپکو اس شدید جھلستی گرمی میں کیسی کیسی مشقت سے دور رکھا ہے۔۔۔
شکر کا یہ طریقہ لازمی اپنائیے گا۔۔۔ شکر بھی ہو گا اور سکون بھی ملے گا۔۔۔
جنید اقبال ساہی وال سرگودھا