27/08/2024
Junaid Iqbal
Junaid Iqbal
27/08/2024
شکر کریں ۔۔۔
اگر اس وقت دہکتے ہوئے روڈ پر آپ روزی روٹی کے لیے نہیں جھلس رہے تو شکر کریں جس قدر ادا کر سکتے کہ یہ تباہ کن گرمی جس میں چہرے جھلس جھلس جاتے۔۔۔ اس میں بہت سارے لوگ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدوری کرنے نکلے ہوئے۔۔۔
اگر آپکو رب تعالیٰ نے اس جگہ رکھا کہ اس شدید موسم میں آپ گھر میں آرام کر سکتے۔۔۔ یا اے سی والے دفتر میں بیٹھے ۔۔۔ یہ اپنی دوکان پر ٹھنڈا ائیر کولر لگا کر براجمان۔۔ تو یہ نعمت خداوندی ہے۔۔۔۔
اور اس کا جتنا شکر آدا کیا جائے کم ہے۔۔ شکر کا ایک طریقہ تو زبانی ہے، ایک طریقہ دل میں احساس تشکر کا ہونا۔۔۔ ایک رب تعالیٰ کا ذکر کرنا۔۔۔ اور ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا خیال کرنا جن میں آپکو نہیں رکھا گیا۔۔۔۔
اس روڈ پر مزدوری کے لیے پھرتے مزدور کا۔۔۔
سامان لادے لیے جانے والے ریڑھی والے کا۔۔۔
بائیک یا سائیکل پر جھلسنے والے مجبور کا۔۔۔
کسی بینک کسی پلازے کے باہر لو میں کھڑے سکیورٹی گارڈ کا۔۔۔
گھاس کاٹتے مالی کا۔۔۔
کارٹ کو دھکا لگائے پھرنے والے محنت کش کا۔۔۔
ان سب کا احساس بہترین شکر ہے۔۔۔ گھر سے یا آفس سے نکلتے ہوئے ٹھنڈے پانی کی بوتلیں ساتھ لے لیں ان کے لیے۔۔۔
جہاں ممکن ہو اپکے اختیار میں ہو انہیں چھاوں پرووائیڈ کر دیں۔۔۔
روڈ پر آپ اپنی اے سی لگی گاڑی میں جا رہے ہیں تو باہر دھوپ میں جھلسنے والوں کو راستہ دے دیں۔۔۔ ان پر برہم نہ ہوں۔۔۔ کسی ریڑھی بان کو چھت یا چھتری لگوا دیں۔۔۔
سکیورٹی گارڈ کو دروازے کے باہر کی بجائے اندر والی سائیڈ پر بٹھا لیں۔۔۔ یہ احساس بہترین شکر گزاری ہے رب تعالیٰ کی۔۔ کہ اللہ پاک نے آپکو اس شدید جھلستی گرمی میں کیسی کیسی مشقت سے دور رکھا ہے۔۔۔
شکر کا یہ طریقہ لازمی اپنائیے گا۔۔۔ شکر بھی ہو گا اور سکون بھی ملے گا۔۔۔
جنید اقبال ساہی وال سرگودھا
20/05/2024
Shared from WhatsApp
https://whatsapp.com/dl/source=sfw
13/02/2024
Annual Exams in Dare e Arqam school sahiwal SGD
کیا استاد ایک مافوق الفطرت مخلوق ہے؟
یاسر فاروق
استاد کی عظمت کے ذکر سے کتابیں اس قدر بھری پڑی ہیں کہ طرح طرح کے عوامی خیالات و توقعات موجودہ حقائق سے آنکھیں چراتے نظر آتے ہیں۔ کوئ کہتا ہے کہ استاد ہر فن مولا ہوتا ہے۔ کسی کو اس میں سوشل ایکشنز اور ملنساری کی تلاش ہے تو کوئ اسے خوش لباس قرار دیتا ہے۔ بےشمار اذہان میں وہ محض ایثار و قربانی کا ایک نمونہ ہے۔ اب کس کس کو سمجھایا جائے کہ:
اتنی نہ بڑھا پاکئ داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند_قبا دیکھ
امر _واقعہ یہ ہے کہ استاد بہرحال انسان ہے اور اسی معاشرے کا ایک فرد ہے۔ اس کی بھی ضروریات و خواہشات ہیں۔ والدین ہیں ، اہل و عیال ہیں ، بھائ بہن اور احباب کا ساتھ ہے، خوشی و غمی ہے۔ ایسے میں اس کے لئے فرار ممکن نہیں۔ مادیت پرستی کا دھواں اس تک پہنچ کر رہے گا۔
تصوراتی نظریات کے زیر _اثر ہر خاص و عام استاد کو مقام_ولی پر فائز دیکھنا چاہتا ہے۔ لا شعور میں یہ بات بیٹھ گئ ہے کہ استاد قربانی کے لئے بنا ہے، ماں باپ کی دواؤں کی قربانی، بچوں کی اچھی تعلیم کی قربانی، وقت کی قربانی ، پیسوں کی قربانی وغیرہ وغیرہ_ انہی ماورائ تصورات نے استاد کی زندگی کو آزمائشوں کی چکی میں پیس کر رکھ دیا ہے۔ تعلیمی اداروں کی عظیم اکثریت بھی اسی عظمت کی قائل ہو کر اسے جان مروانے اور کم پر گزارا کروانے پر مائل ہے۔ اسے موٹیویشنل سپیکرز کی کلپس دکھائ جاتی ہیں کہ ایک استاد کو کس طرح سپر مین ہونا چاھئے۔
یہ غم کھاتا چلا جاتا ہے مجھ کو
مجھے اس خوف سے فرصت نہیں ہے
کہیں برکت نہ اُٹھ جائے وہاں سے
جہاں استاد کی عزت نہیں ہے
انور مسعود
چند ایثار پسند معلمین کو مشعل _راہ تو قرار دیا جا سکتا ہے مگر لاکھوں اوسط رویوں کے حامل اساتذہ سے انبیاء و اولیاء جیسی قربانیوں کی توقع رکھنا خود فریبی کے سوا کیا ہے۔ کیا مغرب نے استاد کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ کر کے ترقی کی ہے؟ نہیں، اس نے انسان کی نفسیات کو مدنظر رکھا ہے، معلم کی ضروریات _زندگی کا اعتراف کیا ہے اور اسے مناسب یا اچھے معاوضے سے نوازا ہے۔ لہذا یہ سازگار رویہ بالآخر معاشرے کی طرف مثبت انداز میں لوٹ آتا ہے۔ ذہنی سکون میسر ہو تو تعلیم دینے والا اپنے علم کو بڑھاتا ہے اور یکسو ہو کر طلبہ میں بانٹتا ہے۔ پھر خود بخود دئے جل اٹھتے ہیں۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ استاد کو بشر سمجھا جائے نہ کہ کوئ ما فوق الفطرت مخلوق۔ یہ بات بہرحال ذہن نشین رہے کہ صرف مخلص اور بے لوث اساتذہ ہی دلوں میں گھر کرتے ہیں۔ انہی سے طالبان_علم اندھیروں میں روشنی کا سراغ پاتے ہیں۔
تم نے سنوارا گل کو شگوفوں کو خار کو
تم نے حیات بخشی ہے فصلِ بہار کو
08/11/2023
کمپیرنگ بسلسلہ اقبال ڈے
Welcome
Click here to claim your Sponsored Listing.