13/06/2026
صرف + نحو
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from صرف + نحو, Tutor/Teacher, Sargodha.
13/06/2026
29/05/2026
قْوَّةٌ کا لفظ بھی اسی مادہ سے بنا ہوا ہے۔
قَوِیَ[قَ وِ یَ] اصل میں قَوِوَ { قَ وِ وَ} تھا۔
اس کے آخر میں دو واؤ جمع ہیں ادغام کا قاعدہ بھی جاری ہوسکتا ہے ۔۔اور
کلمہ کے آخر میں کسرہ کے بعد واؤ ہے تو اعلال کا قاعدہ بھی جاری ہوا چاہتا ہے ۔۔۔
لیکن جہاں ادغام اور اعلال کے قاعدے آپس میں ٹکرائیں تو ایسی صورت میں اعلال کے قاعدے فتح یاب ہوتے ہیں ۔۔اسی لیے آخر میں واقع ہونے والی واؤ کو یا سے تبدیل کر دیا تو مذکورہ بالا شکل وجود میں آئی۔۔۔
16/05/2026
اسم کے آخر میں علامت تانیث نہ بھی تو درج ذیل طریقوں سے اس کا مؤنث ہونا پہچانا جا سکتا ہے
لام جارہ کے معانی میں سے ایک مِلک ہے
یہ لام دو ذاتوں کے درمیان داخل ہوتا ہے اور جس پر داخل ہوتا ہے وہی مالک ہوتا ہے
جیسے
الدارُ لسعیدٍ
دار اور سعید دونوں ذات ہیں ان کے درمیان لام جارہ آ رہا ہے ۔۔سعید کے شروع میں ہے لہٰذا سعید مالک ہوگا اور دار اس کی ملکیت ہوگا۔۔۔
یونہی
باری تعالیٰ کے قول
{لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔}
مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ مبتدا مؤخر۔۔لِلّٰهِ اسم جلالت خبر مقدم ۔۔۔
ان دونوں کے درمیان لام جارہ داخل ہے
لہذا ذات باری تعالیٰ مالک اور زمین و آسمان کے مابین سب کچھ اس کی ملکیت ہوگا۔۔۔
لام جارہ کا ایک معنی شبہ ملک بھی ہے اس کا دوسرا نام لام نسبت بھی ہے
یہ بھی دو ذاتوں کے درمیان داخل ہوتا ہے
لیکن اس کا مدخول مالک نہیں ہوتا ہے
جیسے
اللجامُ للفرسِ
لام کا مدخول فرس ہے
لجام و فرس دونوں ذات ہیں۔۔۔لیکن فرس جو کہ
لام کا مدخول ہے وہ لجام کا مالک نہیں ہے ۔۔۔
جامع الدروس العربیة ص 504
لام جارہ کے معانی میں سے ایک اختصاص بھی ہے
اسے لامِ اختصاص اور لامِ استحقاق بھی کہا جاتا ہے
یہ دو چیزوں کے درمیان داخل ہوتا ہے ان میں سے ایک معنی ہوتی ہے اور دوسری ذات ہوتی ہے
جیسے
✍️اَلْحَمْدُ للہِ
حمد کا اختصاص ہے ذات باری تعالٰی کے ساتھ
لفظ حمد معنی پر ۔۔۔اور اسم جلالت ذات پر دلالت کر رہا ہے
یونہی
✍️النَجَاحُ للعامِلینَ
کامیابی کا اختصاص ہے عمل کرنے والوں کے لیے
نجاح معنی پر اور عاملین ذات پر دال ہے ۔
✍️الفصاحةُ لِقُرَيشٍ
فصاحت کا اختصاص ہے قریش کے ساتھ ۔
فصاحت معنی پر قریش ذات پر دلالت کر رہا ہے
✍️والصبّاحةُ لِبَني هاشمٍ"
صباحت معنی پر بنو ہاشم ذات پر دلالت کرتا ہے
خوبصورتی اور جاذبیت کا اختصاص ہے
بنو ہاشم کے ساتھ ۔۔۔
جامع الدروس العربیة ص 504
ان سب مثالوں میں غور کیا جائے تو معنی کا اختصاص ہو رہا ہے اس ذات کے ساتھ جس پر لام جارہ داخل ہے۔۔۔
12/05/2026
عمومی اغراضِ مفسر
أَيِسَ بروزن عَفِلَ میں یا متحرک ہے ماقبل مفتوح ہے پھر بھی یا کو الف سے نہیں بدلا گیا کیونکہ اس قاعدے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ کلمہ مقلوب نہ ہو۔۔۔
یہ اصل میں يَئِسَ تھا
24/04/2026
اہم رموز و اشارات
21/04/2026
ابوابِ صرفیہ کی ایک خاصیت: اتخاذ
تعریف
اتخاذ کے لغوی معنی ہیں: لینا، پکڑنا، اختیار کرنا، بنانا
یہ خاصیت صرف ایک باب میں محدود نہیں بلکہ کئی ثلاثی مجرد اور ثلاثی مزید فیہ کے ابواب میں پائی جاتی ہے
نصر، ضرب، سمع، فتح (ثلاثی مجرد)
افعال، تفعیل، تفعل، مفاعلہ، افتعال، استفعال (ثلاثی مزید فیہ)
---
اتخاذ کی چار صورتیں:
. مأخذ کو اختیار کرنا / لینا
یعنی فاعل کسی چیز کو اپناتا ہے،لیتا ہے ،اختیار کرتا ہے، جیسے:
- تَحَرَّزَ زیدٌ: زید نے پناہ لی
→ مأخذ: حِرزٌ (پناہ)
- اجتنب زیدٌ: زید نے کنارہ اختیار کیا
→ مأخذ: جنبٌ (کنارہ)
______________________
فاعل کا مأخذ میں کوئی چیز لینا
- تَأَبَّطَ الفلاحُ العصا: کسان نے لاٹھی بغل میں لی
→ مأخذ: اِبْطٌ (بغل)
- اعْتَضَدَ الأبُ طفله: باپ نے بچے کو بازو میں لیا
→ مأخذ: عَضُدٌ (بازو)
______________________
. فاعل کا مأخذ کو بنانا (فعل لازم)
یعنی فاعل کسی چیز کو تیار کرتا ہے, جیسے:
- احتجر الرجلُ: آدمی نے کمرہ بنایا
→ مأخذ: حُجْرَةٌ (کمرہ)
- اختبزتْ هندٌ: ہندہ نے روٹی بنائی
→ مأخذ: خُبْزٌ (روٹی)
_______________________
. فاعل کا کسی چیز کو مأخذ بنانا (فعل متعدی)
یعنی فاعل کسی دوسری چیز کو مأخذ بناتا ہے، جیسے:
- تَوَسَّدَ المسافرُ الحجر: مسافر نے پتھر کو تکیہ بنایا
→ مأخذ: وسادةٌ (تکیہ)
- حدیث شریف: لا تَوَسَّدُوا القرآن
(قرآن کو تکیہ نہ بناؤ)
_________________________
اہم نکتہ:
- تیسری صورت میں فعل لازم ہوتا ہے (صرف فاعل کی ضرورت ہوتی ہے)
- چوتھی صورت میں فعل متعدی ہوتا ہے (فاعل + مفعول بہ کی ضرورت ہوتی ہے)
Click here to claim your Sponsored Listing.