صرف + نحو

صرف + نحو Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from صرف + نحو, Tutor/Teacher, Sargodha.

19/07/2026

فعل متعدی کی پہچان:

ایسا فعل جو ضمیر کی اس ہا کو قبول کرے جومفعول بہ کی طرف لوٹ رہی ہو ۔

جیسے

اِجْتَھَدَ الطَّالِبُ فَاَکْرَمَہُ الْاُسْتَاذُ

ترجمہ :

طالبعلم نے محنت کی، پس استاد نے اس کو عزت دی۔

اس مثال میں اَکْرَمَ فعل متعدی ہے کیونکہ اس کے ساتھ ہائے ضمیر متصل ہے جو مفعول بہ کی طرف لوٹ رہی ہے۔۔۔

✍🏻لیکن فعل کے ساتھ اگر ایسی ہائے ضمیر متصل ہو جو مصدر یا ظرف کی طرف لوٹ رہی ہو تو ایسی صورت میں ہائے ضمیر کا اتصال فعل کے متعدی ہونے پر دلالت نہیں کرے گا۔۔۔

جیسے

یَوْمَ الْجُمُعَۃ ِزُرْتُه

ترجمہ :

میں نے جمعہ کے دن ملاقات کی۔

تَجَمَّلْ بِالْفَضِیْلَة تَجَمُّلًا کَانَ یَتَجَمَّلُه سَلَفُکَ الصَالِحُ

ترجمہ :

آپ خوبی سے ایسے آراستہ ہوں جیسے آپ کے نیک بزرگ آراستہ ہوا کرتے تھے۔

💡 پہلی مثال میں زَارَ فعل کے ساتھ ایسی ہائے ضمیر متصل ہے جو ظرف کی طرف لوٹ رہی ہے۔۔۔

💡 دوسری مثال میں یَتَجَمَّلُ فعل کے ساتھ ایسی ہائے ضمیر متصل ہے جو مصدر تَجَمُّل کی طرف لوٹ رہی ہے۔۔۔

لہذا ان دونوں فعلوں کے ساتھ ہائے ضمیر کا اتصال ان کے متعدی ہونے پر دلالت نہیں کرے گا۔۔

* الصرف الکافی ص 81 *

18/07/2026

لَا تَنِيَا فِىْ ذِكْرِىْ...سورہ طہ پارہ 16

سوال: لَا تَنِيَا کون سا صیغہ ہے ؟

جواب: صیغہ تثنیہ مذکر حاضر ،فعل نہی معروف ،ثلاثی مجرد، لفیف مفروق از باب ضرب یضرب

اصل میں تَوْنِيَانِ تھا،نون اعرابی بوجہ لام نہی ساقط ہوا اور واؤ بوجہ مناسبت مضارع گر گئی تو تَنِيَا بچ گیا۔۔

مادہ: و ن ی

معنی: سست ہونا، تھک کر کمزور پڑنا،عاجز ہوجانا

27/06/2026

اِحْوَاوٰى
صیغہ واحد مذکر غائب، فعل ماضی مطلق مثبت معروف ثلاثی مزید فیہ مطلق مضاعف ثلاثی از باب اِفْعِيْلال

اصل میں اِحْوَاوََوَ تھا جیسے اِحْمَارَرَ
پھر چونکہ اِحْمَارَرَ میں ادغام سےکسی مانع کا وجود نہیں تھا تو اس میں ادغام کو عمل میں لایا گیا ۔۔۔
جبکہ اِحْوَاوََوَ میں مانع ادغام پایا جاتا ہے وہ ہے اعلال کا معارض آنا ۔۔کہ اعلال کا قاعدہ مقتضی ہے کہ دوسری واؤ کو یا سے بدلا جائے اور ادغام کا قاعدہ چاہتا ہے کہ دو ہم جنسوں کا ادغام کیا جائے ۔۔۔
تو چونکہ اعلال ادغام پر تقدم رکھتا ہے ۔۔لہذا دوسری واؤ کو یا سے تبدیل کیا گیا اور پھر یا متحرک ماقبل مفتوح کو الف سے بدل دیا گیا ۔۔۔

اِحْوَاوٰى یہ حُوَّةٌ سے بنا ہے۔۔اس کا معنی سبزی مائل یا سرخی مائل سیاہ ہونا۔۔۔کہا جاتا ہے
اِحْوَاوٰى الفرسُ...گھوڑا سبزی مائل یا سرخی مائل سیاہ ہوا۔۔۔

13/06/2026
قْوَّةٌ کا لفظ بھی اسی مادہ سے بنا ہوا ہے۔قَوِیَ[قَ وِ یَ] اصل میں قَوِوَ { قَ وِ وَ} تھا۔اس کے آخر میں دو واؤ جمع ہیں ا...
29/05/2026

قْوَّةٌ کا لفظ بھی اسی مادہ سے بنا ہوا ہے۔
قَوِیَ[قَ وِ یَ] اصل میں قَوِوَ { قَ وِ وَ} تھا۔
اس کے آخر میں دو واؤ جمع ہیں ادغام کا قاعدہ بھی جاری ہوسکتا ہے ۔۔اور
کلمہ کے آخر میں کسرہ کے بعد واؤ ہے تو اعلال کا قاعدہ بھی جاری ہوا چاہتا ہے ۔۔۔
لیکن جہاں ادغام اور اعلال کے قاعدے آپس میں ٹکرائیں تو ایسی صورت میں اعلال کے قاعدے فتح یاب ہوتے ہیں ۔۔اسی لیے آخر میں واقع ہونے والی واؤ کو یا سے تبدیل کر دیا تو مذکورہ بالا شکل وجود میں آئی۔۔۔

اسم کے آخر میں علامت تانیث نہ بھی تو درج ذیل طریقوں سے اس کا مؤنث ہونا پہچانا جا سکتا ہے
16/05/2026

اسم کے آخر میں علامت تانیث نہ بھی تو درج ذیل طریقوں سے اس کا مؤنث ہونا پہچانا جا سکتا ہے

15/05/2026

لام جارہ کے معانی میں سے ایک مِلک ہے



یہ لام دو ذاتوں کے درمیان داخل ہوتا ہے اور جس پر داخل ہوتا ہے وہی مالک ہوتا ہے

جیسے

الدارُ لسعیدٍ

دار اور سعید دونوں ذات ہیں ان کے درمیان لام جارہ آ رہا ہے ۔۔سعید کے شروع میں ہے لہٰذا سعید مالک ہوگا اور دار اس کی ملکیت ہوگا۔۔۔

یونہی

باری تعالیٰ کے قول

{لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔}

مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ مبتدا مؤخر۔۔لِلّٰهِ اسم جلالت خبر مقدم ۔۔۔

ان دونوں کے درمیان لام جارہ داخل ہے

لہذا ذات باری تعالیٰ مالک اور زمین و آسمان کے مابین سب کچھ اس کی ملکیت ہوگا۔۔۔

لام جارہ کا ایک معنی شبہ ملک بھی ہے اس کا دوسرا نام لام نسبت بھی ہے

یہ بھی دو ذاتوں کے درمیان داخل ہوتا ہے

لیکن اس کا مدخول مالک نہیں ہوتا ہے

جیسے

اللجامُ للفرسِ

لام کا مدخول فرس ہے

لجام و فرس دونوں ذات ہیں۔۔۔لیکن فرس جو کہ

لام کا مدخول ہے وہ لجام کا مالک نہیں ہے ۔۔۔

جامع الدروس العربیة ص 504

15/05/2026

لام جارہ کے معانی میں سے ایک اختصاص بھی ہے

اسے لامِ اختصاص اور لامِ استحقاق بھی کہا جاتا ہے

یہ دو چیزوں کے درمیان داخل ہوتا ہے ان میں سے ایک معنی ہوتی ہے اور دوسری ذات ہوتی ہے

جیسے

✍️اَلْحَمْدُ للہِ

حمد کا اختصاص ہے ذات باری تعالٰی کے ساتھ

لفظ حمد معنی پر ۔۔۔اور اسم جلالت ذات پر دلالت کر رہا ہے

یونہی

✍️النَجَاحُ للعامِلینَ

کامیابی کا اختصاص ہے عمل کرنے والوں کے لیے

نجاح معنی پر اور عاملین ذات پر دال ہے ۔

✍️الفصاحةُ لِقُرَيشٍ

فصاحت کا اختصاص ہے قریش کے ساتھ ۔

فصاحت معنی پر قریش ذات پر دلالت کر رہا ہے

✍️والصبّاحةُ لِبَني هاشمٍ"

صباحت معنی پر بنو ہاشم ذات پر دلالت کرتا ہے

خوبصورتی اور جاذبیت کا اختصاص ہے

بنو ہاشم کے ساتھ ۔۔۔

جامع الدروس العربیة ص 504

ان سب مثالوں میں غور کیا جائے تو معنی کا اختصاص ہو رہا ہے اس ذات کے ساتھ جس پر لام جارہ داخل ہے۔۔۔

عمومی اغراضِ مفسر
12/05/2026

عمومی اغراضِ مفسر

08/05/2026

أَيِسَ بروزن عَفِلَ میں یا متحرک ہے ماقبل مفتوح ہے پھر بھی یا کو الف سے نہیں بدلا گیا کیونکہ اس قاعدے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ کلمہ مقلوب نہ ہو۔۔۔
یہ اصل میں يَئِسَ تھا

Address

Sargodha

Telephone

+923126734192

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when صرف + نحو posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to صرف + نحو:

Shortcuts

Share

Category