Allah hamm sabb koo Deen Islam kee smjh ataa frmaey aur uss pr Amal krny kee taufeeq Ataa frmaey. Ameen 🤲🏻
Islamic Posts by Doctor Ikram
Love Allah
Love Muhammad SAW
Love Islam
آفاق کا سفرنامہ: کیک کے بدلے جنت۔۔
ایک بار میں پاکستان سے برطانیہ کا سفر کر رہا تھا۔ ہمارا اسٹاپ اوور دبئی میں تھا۔ کچھ مسافروں کو تبدیل کیا گیا، اور پھر ہماری فلائٹ کو بھی ایک بڑے جہاز میں منتقل کر دیا گیا۔ عام طور پر میں ہمیشہ آگے کی سیٹ کی درخواست کرتا ہوں، لیکن اس بار میں نے کچھ نہیں کہا، یہ سوچ کر کہ آٹھ گھنٹے کی فلائٹ ہے، گزار ہی لوں گا۔
جب میں جہاز میں سوار ہوا تو میری سیٹ آئسَل (Aisle) پر تھی، بیچ کی سیٹ پر ایک سفید فام برطانوی لڑکی (عام زبان میں گوری) بیٹھی تھیں، اور کھڑکی کے ساتھ ایک انکل بیٹھے تھے۔ جیسے ہی میں اپنی سیٹ پر پہنچا، میں نے اس خاتون سے کہا کہ اگر آپ دو مردوں کے درمیان بیچ کی سیٹ پر غیر آرام دہ محسوس کر رہی ہیں تو آپ میری آئسَل سیٹ لے لیں، میں بیچ میں بیٹھ جاتا ہوں۔ تاکہ اگر آپ کو واش روم جانا ہو یا کچھ اور، تو آپ کو مجھ پر چڑھ کر نہیں جانا پڑے گا۔
انکل نے مجھے بہت گور کر دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں کہا مجھ سے گوری کو دور کیوں کردیا، میں نے احترام میں انکل کو کہا کہ آپ چاہیں تو میں کھڑکی کے پاس بیٹھ جاتا ہوں، انکل نے کہا نہیں میں سگریٹ اور سیٹ نہیں بدلتا، میں بھی خاموش ہوگیا۔۔
پھر سفر شروع ہوا۔ جب کھانا سرو ہوا تو مجھے ایئرلائن کا کھانا زیادہ پسند نہیں آیا، میں صرف تھوڑا سا کھایا اور سوچا کہ چلو چائے آئے گی تو کیک کے ساتھ پیوں گا۔ پھر اس خاتون نے میری طرف دیکھا اور بولی: "آپ مزید نہیں کھا رہے؟" میں نے کہا: "نہیں، میں کھانا کم کھاتا ہوں اگر آپ کو کیک کھانے کا دل ہے تو لے لیں، میں نے ابھی تک اسے چھوا بھی نہیں۔" میں نے ایک نظر اُس کی ٹرے پر ڈالی تو دیکھا کہ اُس نے تو سارا کھانا صاف کر دیا تھا۔
وہ فوراً بولی: "اوہ ہاں، شکریہ، اگر آپ دے رہے ہیں تو میں ضرور لوں گی۔" اور اُس نے کیک لے لیا۔ اس وقت دل میں ایک لمحے کو آیا کہ "میں نے کیک کیوں دے دیا!" خاموش ہوجاتا اچھا تتا لیکن میں نہیں جانتا تھا کہ اس ایک کیک کے بدلے میں مجھے جو ملنے والا ہے، وہ کسی تصور سے بھی باہر ہے۔
(یاد رہے برطانیہ میں خواتین بات کرتے ہوئے نہیں شرماتی لیکن اگر آپ سے بات کرے تو اس کا مطلب یہ نہیں وہ بد کردار ہے)
بس، اسی بات سے بات چیت کا آغاز ہو گیا۔ اُس نے بتایا کہ وہ دبئی اپنے بوائے فرینڈ سے ملنے گئی تھی، اور یہ اُس کا تیسرا بوائے فرینڈ تھا۔ میں حیران ہوا، تو کہنے لگی کہ کوئی بھی وفادار نہیں نکلا، سب کے اور تعلقات بھی ہوتے تھے۔ میں نے اُس سے کہا: "آپ شادی کیوں نہیں کر لیتیں؟ شادی میں ایک ذمہ داری، ایک وفاداری ہوتی ہے۔" وہ کہنے لگی: "ہمارے کلچر میں پہلے بوائے فرینڈ، پھر منگنی، پھر شادی ہوتی ہے۔"
میں نے کہا: "ہمارے دین اور کلچر میں بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہم سیدھا منگنی کرتے ہیں، پھر نکاح ہوتا ہے۔" وہ کہنے لگی: "اوہ، یہ تو دلچسپ ہے۔" پھر اُس نے مجھ سے مزید سوالات کیے کہ شادی کیسے ہوتی ہے، اسلام میں اس کے کیا اصول ہیں۔
میں نے اُسے بتایا کہ اسلام میں مرد پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی اور گھر والوں کا خرچ اٹھائے، ان کا کفیل بنے۔ پھر میں نے اُسے بتایا کہ اسلام دل کا سکون دیتا ہے۔ میں نے کہا: "برطانیہ میں بہت سی خواتین ہمارے پاس آتی ہیں، اسلام قبول کرتی ہیں، پھر شادی کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ان کی زندگی بدل گئی ہے۔"
وہ کہنے لگی: "مجھے مزید جاننا ہے۔" تو میں نے اُسے ایک ایپ کا نام دیا جس میں قرآن مجید کے ساتھ انگریزی ترجمہ بھی تھا۔ ساتھ ہی کچھ انگریزی زبان کے اسلامی اسکالرز کے نام بھی بتائے۔ وقت گزرتا گیا، جب ہم لینڈ کرنے والے تھے تو میں نے سوچا ایک چھکا مار لیتا ہوں اور مذاق میں کہا: "کیا تم نے کبھی اسلام قبول کرنے کے بارے میں سوچا؟ اسلام کے بارے میں پڑھو، اور اگر کوئی سوال ہو تو مجھے انسٹاگرام پر میسج کرنا۔" ہم دونوں نے ایک دوسرے کو انسٹاگرام پر ایڈ کر لیا، اس نے فالو کرلیا، لیکن میرے پاس نیٹ نہیں تھا تو کہا آپ کو گھر جاکر فالو بیک کرلونگا۔۔
میں نے اسے فالو کیا اور کچھ دن بعد ان فالو کردیا کیونکہ میرے فالوورز سب اس کو فالو کرنے لگ گئے تھے۔۔
پھر سالوں تک کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ میں نے نہ کبھی اُسے میسج کیا، نہ اُس نے مجھے۔ کچھ دن پہلے میں نے انسٹاگرام کے ڈی ایمز چیک کیے، جو میں عام طور پر نہیں کرتا، تو ایک وائس نوٹ آیا ہوا تھا۔ وہ ایک لمبا میسج تھا۔ اُس نے بتایا کہ اُس نے اسلام قبول کر لیا ہے، اور ایک ایسے شخص سے شادی کی ہے جو ماشاءاللّٰہ عالمِ دین ہے۔ اُس نے کہا کہ اُس کی زندگی بالکل بدل چکی ہے، اب کوئی ڈپریشن نہیں، سکون ہی سکون ہے۔
تب مجھے احساس ہوا کہ کس طرح سب کچھ اللہ کے منصوبے کے تحت تھا۔ میری سیٹ کا اُس جگہ ہونا، اُس سے ملاقات، ایک چھوٹے سے کیک کا دینا، بات چیت، دعوت دینا — سب کچھ طے شدہ تھا۔
اس سفر نے مجھے سکھایا کہ کبھی بھی شرم محسوس نہ کرو دین کی بات کرنے میں، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ تمہاری ایک چھوٹی سی بات، یا ایک معمولی سا عمل، کسی کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔ اور تمہیں بدلے میں وہ چیز مل سکتی ہے جو دنیا کی کسی چیز سے بڑھ کر ہو۔۔
از ڈیجیٹل قلم محمد آفاق خان
نماز مومن کی معراج ہے
ْ*"میں زینب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔۔۔۔"*
آنکھوں کو نم کر دینے والی اللہ کے نبی کے دور کی ، میاں بیوی کی محبت میں ایک لازوال داستان:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابو العاص بعثت سے پہلے ایک دن رسول اللہﷺ کےپاس آئے اور کہا: میں اپنے لیےآپ کی بڑی بیٹی زینب کا ہاتھ مانگنے آیا ہوں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ان کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کہہ سکتا، گھر جا کر رسول اللہ ﷺ نے زینب سے کہا: تیرے خالہ کے بیٹے نے تیرا نام لیا ہے کیا تم اس پر راضی ہو؟
زینب کا چہرہ سرخ ہوا اور مسکرائی، رسول اللہ ﷺ اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور ابو العاص بن الربیع کا رشتہ زینب کے لیے قبول کیا، یہاں سے محبت کی ایک داستان شروع ہوتی ہے، ابو العاص سے زینب کا بیٹا "علی" اور بیٹی"امامۃ" پیدا ہوئے۔
پھر اس محبت کی آزمائش شروع ہوجاتی ہے کیونکہ نبیﷺ پر وحی نازل ہوئی اور آپ اللہ کے رسول بن گئے، ابو العاص کہیں سفر میں تھے جب واپس آئے تو بیوی اسلام قبول کر چکی تھی، جب گھر میں داخل ہوئے بیوی نے کہا:
میرے پاس تمہارے لیے ایک عظیم خبر ہے، میرے ابو نبی بنائے گئے ہیں اور میں اسلام قبول کر چکی ہوں۔
زینب بنت رسول اللہ ﷺ کے اسلام کی خبر سن کر ابوالعاص اٹھ کر باہر نکل جاتے ہیں، زینب خوفزدہ ہو کر ان کے پیچھے پیچھے باہر نکلتی ہے۔۔۔۔ اور اپنے شوہر کو اسلام کی دعوت دیتی ہے۔۔۔۔ جس کو ابوالعاص ٹھکرا دیتے ہیں ۔۔۔
اب دونوں کے درمیان ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوا جوکہ عقیدے کا مسئلہ تھا۔
زینب رضی اللہ عنہا کہنے لگیں، میں اپنے ابو کو جھٹلا نہیں سکتی اور نہ ہی میرے ابو کبھی جھوٹے تھے وہ تو صادق اور امین ہیں، میں اکیلی نہیں ہوں میری ماں اور بہنیں بھی اسلام قبول کر چکی ہیں، میرے چاچا زاد بھائی (علی بن ابی طالب) بھی اسلام قبول کر چکے ہیں، تیرا چاچا زاد (عثمان بن عفان) بھی مسلمان ہو چکے ہیں، تیرے دوست ابو بکر بھی اسلام قبول کر چکے ہیں۔
ابو العاص کہنے لگے، مگر میں نہیں چاہتا کہ لوگ یہ کہیں کہ اپنی قوم کو چھوڑ دیا، اپنے آباء و اجداد کو جھٹلایا، تیرے ابو کو ملامت نہیں کرتا ہوں۔
بہرحال ابو العاص نے اسلام قبول نہیں کیا یہاں تک کہ ہجرت کا زمانہ آگیا اور زینب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول کیا آپ مجھے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنے کی اجازت دیں گے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اپنے شوہر اور بچوں کے پاس ہی رہو۔
وقت گزرتا گیا اور دونوں اپنے بچوں کے ساتھ مکہ میں ہی رہے یہاں تک کہ غزوہ بدر کا واقعہ پیش آیا اور ابو العاص قریش کی فوج کے ساتھ اپنے سسر کے خلاف لڑنے کے لیے روانہ ہوا۔
زینب خوفزدہ تھی کہ اس کا شوہر اس کے ابا کے خلاف جنگ لڑے گا اس لیے روتی ہوئی کہتی تھی: اے اللہ میں ایسے دن سے ڈرتی ہوں کہ میرے بچے یتیم ہوں یا اپنے ابو کو کھو دوں۔
ابو العاص بن الربیع رسول اللہ ﷺ کے خلاف بدر میں لڑے، جنگ ختم ہوئی تو داماد سسر کی قید میں تھا، خبر مکہ پہنچ گئی کہ ابو العاص جنگی قیدی بنائے گئے، زینب پوچھتی رہی کہ میرے والد کا کیا بنا؟ لوگوں نے بتایا کہ مسلمان تو جنگ جیت گئے اس پر زینب نے سجدہ شکر ادا کیا۔
پھر پوچھا: میرے شوہر کو کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا: اس کو اس کے سسر نے جنگی قیدی بنا لیا ہے۔
زینب نے کہا: میں اپنے شوہر کا فدیہ (دیت) بھیج دوں گی۔
شوہر کا فدیہ دینے کے لیے زینب کے پاس کوئی قیمتی چیز نہ تھی اس لیے اپنی والدہ ام المومنین خدیجہ رضي الله عنها کا ہار اپنے گلے سے اتار دیا اور ابوالعاص بن الربیع کے بھائی کو دے کر اپنے والد ﷺ کی خدمت میں روانہ کیا۔
رسول اللہ ﷺ ایک ایک قیدی کا فدیہ وصول کر کے ان کو آزاد کر رہے تھے اچانک اپنی زوجہ خدیجہ کے ہار پر نظر پڑی تو پوچھا: یہ کس کا فدیہ ہے؟
لوگوں نے کہا: یہ ابوالعاص بن الربیع کا فدیہ ہے، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ روپڑے اور فرمایا: یہ تو خدیجہ کا ہار ہے، پھر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: اے لوگو یہ شخص برا داماد نہیں کیا میں اس کو رہا کر دوں؟ اگر تم اجازت دیتے ہو تو میں اس کا ہار بھی اس کو واپس کردوں؟
لوگوں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول!
رسول اللہ ﷺ نے ہار ابو لعاص کو تمھا دیا اور فرمایا: زینب سے کہو کہ خدیجہ کے ہار کا خیال رکھے۔
پھر فرمایا: اے ابو العاص کیا میں تم سے تنہائی میں کوئی بات کر سکتا ہوں؟
ان کو ایک طرف لے جا کر فرمایا: اے ابوالعاص اللہ نے مجھے کافر شوہر اور مسلمان بیوی کے درمیان جدائی کرنے کا حکم دیا ہے اس لیے میری بیٹی کو میرے حوالے کرو گے؟
ابو العاص نے کہا: جی ہاں۔
دوسر طرف زینب شوہر کے استقبال کے لیے گھر سے نکل کر مکہ کے داخلی راستے پر ان کی راہ دیکھ رہی تھی، جب ابو العاص کی نظر اپنی بیوی پر پڑی فورا کہا: آپ جا رہی ہو۔
زینب نے کہا: کہاں ؟
ابو العاص: آپ اپنے باپ کے پاس جانے والی ہو ۔
زینب: کیوں؟
ابو العاص: میری اور تمہاری جدائی کے لیے، جاو اپنے باپ کے پاس چلی جاو۔
زینب: کیا تم میرے ساتھ جاو گے اور اسلام قبول کرو گے؟
ابو العاص: نہیں۔
زینب اپنے بیٹے اور بیٹی کو لے کر مدینہ منورہ چلی گئیں جہاں 6 سال کے دوران کئی رشتے آئے مگر زینب نے قبول نہیں کیے اور اسی امید سے انتظار کرنے لگی کہ شوہر شاید اسلام قبول کر کے آئے گا۔
6 سال کے بعد ابو العاص ایک قافلے کے ساتھ مکہ سے شام کے سفر پر روانہ ہوا، سفر کے دوران راستے میں صحابہ کی ایک جماعت نے ان کو گرفتار کر کے ساتھ مدینہ لے گئے، مدینہ جاتے ہوئے زینب اور ان کے گھر کے بارے میں پوچھا، فجر کی آذان کے وقت زینب کے دروازے پر پہنچا۔
زینب رضی اللہ عنہا نے ان پر نظر پڑتے ہی پوچھا کیا اسلام قبول کر چکے ہو؟
ابو العاص: نہیں۔
زینب: ڈرنے کی ضرورت نہیں خالہ زاد کو خوش آمدید، علی اور امامہ کے باپ کو خوش آمدید۔
رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی تو مسجد کے آخری حصے سے آواز آئی کہ: میں ابو العاص بن الربیع کو پناہ دیتی ہوں۔
نبی ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے سن لیا جو میں نے سنا ہے؟
سب نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسولﷺ۔
زینب نے کہا: اے اللہ کے رسول ابو العاص میرا خالہ زاد ہے اور میرے بچوں کا باپ ہے میں ان کو پناہ دیتی ہوں۔
نبی ﷺ نے قبول کر لی اور فرمایا: اے لوگو یہ برا داماد نہیں، اس شخص نے مجھ سے جو بھی بات کی سچ بولا اور جو وعدہ کیا وہ نبھایا۔ اگر تم چاہتے ہو کہ اس کو اس کا مال واپس کر کے اس کو چھوڑ دیا جائے یہ اپنے شہر چلا جائےیہ مجھے پسند ہے۔ اگر نہیں چاہتے ہو تو یہ تمہارا حق ہے اور تمہاری مرضی ہے میں تمہیں ملامت نہیں کروں گا۔
لوگوں نے کہا:ہم اس کا مال اس کو واپس کر کے اس کو جانے دینا چاہتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے زینب تم نے جس کو پناہ دی ہم بھی اس کو پناہ دیتے ہیں۔
اس پر ابو العاص زینب کے ساتھ ان کے گھر چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ نے زینب سے فرمایا: اے زینب ان کا اکرام کرو یہ تیر ا خالہ زاد ہے اور تمھارے بچوں کا باپ ہے مگر یہ تمہارے قریب نہ آئے کیونکہ یہ تمہارے لیے حلال نہیں۔
زینب نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول۔
گھر جا کر ابو العاص بن ربیع سے کہا: اے ابو العاص جدائی نے تجھے تھکا دیا ہے کیا اسلام قبول کر کے ہمارے ساتھ رہو گے۔
ابو العاص: نہیں۔
اپنا مال لے کر مکہ روانہ ہو گئے جبکہ مکہ پہنچے تو کہا: اے لوگو: یہ لو اپنے اپنے مال، کیا کسی کا کوئی مال میرے ذمے ہے؟
لوگوں نے کہا: اللہ تمہیں بدلہ دے تم نے بہتر وعدہ نبھایا۔
ابو العاص نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔اس کے بعد مدینہ روانہ ہوئے اور جب مدینہ پہنچے تو پھر فجر کا وقت تھا، سیدھا نبی ﷺ کے پاس گئے اور کہا: کل آپ نے مجھے پناہ دی تھی اور آج میں یہ کہنے آیا ہو کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔
ابو العاص رضي الله عنه نے کہا: اے اللہ کے رسول کیا مجھے اپنی بیوی زینب کے ساتھ رجوع کی اجازت دیتے ہیں؟
نبی ﷺ ابوالعاص کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : آو میرے ساتھ، زینب کے دروازے پر لے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا اور زینب سے فرمایا: یہ تمہارا خالہ زاد واپس آیا ہے تم سے رجوع کی اجازت مانگ رہا ہے کیا تمہیں قبول ہے؟
زینب کا چہرہ سرخ ہوا اور مسکرائی۔۔۔۔
رجوع کے ایک سال بعد سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئیں ۔۔۔۔
محترم قارئین!
اس واقعہ کا اہم اور درد ناک پہلو یہ رہا کہ حضرت أبوالعاص زینب رضي الله عنها کی وفات کے بعد کہنے لگے: يارسول الله "إني لا أطيق العيش بدون زينب."
اے اللہ کے رسول! میں زینب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا، رسول اللہﷺ آپ کے سر پر ہاتھ رکھ کر تسلی دیتے اور ڈھارس بندھاتے۔
ومات بعدها بسنة ... !
زینب رضی اللہ عنھا کی وفات کے ٹھیک ایک سال بعد سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ اسی غم میں اپنے رب کو جاملے۔۔۔۔🥹
ڈئیر والدین!
مذکورہ بالا واقعہ میں ہمارے لیے بھی کئی اسباق ہیں، پہلا یہ کہ بیٹی کے لیے رشتہ آنے پر بیٹی سے اس کی رضا مندی طلب کرنا نہایت ہی اہم ہے۔
دوسرا یہ کہ سسرال والوں پر داماد کی عزت و احترام از حد ضروری ہے بھلے ہی ہزاروں اختلافات کیوں نہ ہوں ۔۔۔
تیسرا یہ کہ بیوی ہر صورت میں اپنے خاوند کا دفاع اور اکرام کرے شاید کہ اللہ اس کے حسن سلوک کی وجہ سے شوہر کے دل میں اس کی محبت بھر دے۔۔۔ جیسے زینب رضی اللہ عنہا کے حسن سلوک نے ابوالعاص رضی اللہ عنہ کو کافر سے مسلمان بننے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔۔
ڈئیر برادرز!
اچھا داماد بنیے، اچھا شوہر بنیے، سسرال سے ہمیشہ سچی بات کیجیے، ان سے کیا گیا وعدہ پورا کیجیے ۔۔۔ تاکہ آپ کا سسر بھی لوگوں میں آپ کے اچھا داماد ہونے کی گواہی دے، جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہ کی لوگوں کے سامنے گواہی دی۔۔۔
اللہ آپ کے محبت کے سائے کو بیوی بچوں کے لیے لمبا اور سلامت رکھے، آمین یا رب العالمین.💞
15/07/2024
Beshak sakoon Islam ma hee ha❤❤❤
ائیر پورٹ پر میں نے اکثر مسافروں کو دیکھا ہے کہ وہ بار بار اپنا پاسپورٹ اور ٹکٹ یا تو ہاتھ میں ہی پکڑے رکھتے ہیں یا پھر کسی جیب یا بیگ میں رکھا ہو تو بار بار چیک کرتے رہتے ہیں کہ موجود ہے نہیں، کہیں گم تو نہیں ہو گیا کیونکہ سب کو پتہ ہوتا ہے کہ جہاز میں سوار ہونے تک کئی بار چیک ہوتا ہے اور پھر جہاز سے اترتے ہی پھر سے اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ سب کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر غلطی سے کہیں یہ گم ہو جائیں تو فلائٹ میں سوار نہیں ہو سکیں گے۔
ایسا ہی کچھ ہمارے ایمان اور عملِ صالحہ کا حال ہے۔ یہی ہمارے پاسپورٹ اور ٹکٹ ہیں جو جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہیں۔ ہونا تو یہی چاہیے کہ بار بار ہم چیک کرتے رہیں کہ ہمارے ایمان کی کیا صورت حال ہے اور ہمارے اعمال کیسے ہیں۔ خود سے سوال لازمی کیجیے کہ کیا جو فرائض اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذمہ لگائے ہیں وہ ہم پورے کر رہے ہیں؟ چاہے وہ حقوق اللہ میں سے ہوں یا حقوق العباد میں سے۔ شروعات نماز سے کیجیے کہ سب سے پہلے نماز ہی کے بارے میں سوال ہوگا۔
آخرت کے لیے اپنا پاسپورٹ اور اپنا ٹکٹ آج ہی چیک کیجیے۔
ہہ ایک یاد دہانی ہے جو سب سے پہلے میرے اپنے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا ایمان سلامت رکھے آمین
20/06/2024
25/05/2024
Poor Rohingyans are again facing persecutions at the end of Fascist Regime and forced to flee their homes for the reason they belong to Islam
* *حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک غیر مسلم نے اسلام قبول کیا تو اس سے پوچھا گیا کے اسلام کی کس بات نے تجھے متاثر کیا.*
*تو وہ بولا کہ صرف ایک واقعہ میری ہدایت کا سبب بن گیا.*
*کہا مجلس رسول صلہ اللہ علیہ وسلم لگی ہوئی تھی لوگوں کا ہجوم تھا.*
*ایک شخص نے عرض کی حضور میرے لیے دعا کر دیں میرا بچہ کئی دنوں سے مل نہیںرہا مل جائے.*
*قبل اس کے کہ حضور کے ہاتھ اٹھتے ۔۔۔۔*
*ایک شخص مجلس موجود تھا کھڑا ہو گیا حضور میں ابھی ابھی فلاں باغ سے گزر کر آیا ہوں۔*
*اس کا بچہ وہاں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا.باپ نے جب سنا کے میرا بچہ فلاں باغ میں ہے تو اس نے دوڑ لگا دی.*
*آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو روکو واپس بلاو۔۔*
*اس نے کہا حضور آپ جانتے ہیں کے ایک باپ کے جذبات کیا ہوتے ہیں.کہا اچھی طرح سے آگاہ ہوں.. لیکن تمہیں بلایا ہے بلانے کا بھی ایک مقصد ہے. اس نے کہا جی حضور ارشاد فرمائیں.*
*کہا جب باغ جاؤ بچوں کے ساتھ اپنے بچے کو کھیلتا ہوا دیکھ لو تو بیٹا بیٹا کہہ کر آوازیں نا دینے لگ جانا.*
*جو نام رکھا ہے اس نام سے پکارنا کہا حضور میرا بیٹا ہے اگر میں بیٹا کہ کر بلاؤں تو ہرج بھی کیا ہے.*
*فرمایا تم کئی دنوں کے بچھڑے ہو تمہارے لہجے میں بلا کا رس ہو گا*
*اور تم نہیں جانتے کے کھیلنے والوں میں کوئی یتیم بھی ہو.*
*اور جب تم اپنے بیٹے کو بیٹا کہہ کر پکارو گے اتنا میٹھا لہجہ ہو گا تو اس کے دل پر چوٹ لگے گی اور کہے گا کاش آج میرا بھی باپ ہوتا مجھے بیٹا کہ کر پکارتا.فرمایا یہ شوق گھر جا کر پورا کرنا.*
*آ پ نے فرمایا کسی بیوہ کے سامنے اپنی بیوی سے پیار نہ کرو،غریب کے سامنے اپنی دولت کی نمائش کرنے سے روکا گیا.*
*حضور صل اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کے اپنے گوشت کی خوشبو سے اپنے ہمسائے کو تنگ نا کرو.*
Click here to claim your Sponsored Listing.