04/08/2026
نتائج کے اعلان سے قبل والدین کے لیے ایک اہم پیغام:
6 اگست کو میٹرک کے نتائج کا اعلان متوقع ہے۔ یہ دن کچھ گھروں میں خوشی کا پیغام لے کر آئے گا جبکہ کچھ میں مایوسی کا لمحہ۔ اس وقت میں والدین کا کردار پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
اگر خدانخواستہ آپ کے بچے کے نمبر کم آئیں یا وہ کسی مضمون میں کامیاب نہ ہو سکے، تو براہِ کرم اسے ڈانٹنے، ذلیل کرنے، دوسروں سے موازنہ کرنے یا طعنے دینے کے بجائے اس کا حوصلہ بڑھائیں۔ یاد رکھیں، ہزاروں طلبہ امتحان دیتے ہیں؛ کچھ نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہیں، کچھ اوسط کارکردگی دکھاتے ہیں اور کچھ ناکام بھی ہو جاتے ہیں۔ یہ زندگی کا ایک امتحان ہے، زندگی کا اختتام نہیں۔
ایک بچہ پہلے ہی اپنے نتیجے کی وجہ سے اندر سے ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ اگر ایسے وقت میں اسے اپنے ہی گھر سے تنقید، بے عزتی اور مایوسی ملے تو اس کا اعتماد مزید مجروح ہو جاتا ہے۔ افسوس کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں لوگ دوسروں کی غلطیوں پر فوراً تنقید کرتے ہیں۔ اگر گھر بھی بچے کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ رہے، تو وہ اپنی بات کس سے کرے گا؟ بعض بچے اسی ذہنی دباؤ کی وجہ سے انتہائی غلط فیصلے بھی کر لیتے ہیں، جن پر بعد میں پوری زندگی افسوس رہ جاتا ہے۔
تعلیم صرف اچھے نمبر لینے کا نام نہیں، بلکہ اچھا انسان بننے کا نام بھی ہے۔ امتحان کے نمبر انسان کی پوری صلاحیت، کردار، ہمت اور مستقبل کا فیصلہ نہیں کرتے۔ دنیا میں بے شمار کامیاب لوگ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے روایتی تعلیمی میدان میں غیر معمولی نمبر حاصل نہیں کیے، لیکن اپنی محنت، دیانت اور مستقل مزاجی سے کامیابی کی نئی مثالیں قائم کیں۔
ضروری نہیں کہ ہر بچہ ڈاکٹر یا انجینئر ہی بنے۔ ہر بچے کی صلاحیت، دلچسپی اور راستہ مختلف ہوتا ہے۔ والدین کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ ان کا بچہ صرف زیادہ نمبر لے آئے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ایک بااخلاق، بااعتماد، ذمہ دار اور محنتی انسان بنے۔
اگر نتائج توقع کے مطابق نہ آئیں تو اپنے بچے سے محبت سے بات کریں۔ اسے سمجھائیں کہ "اس بار کمی رہ گئی، ان شاء اللہ اگلی بار مزید محنت کریں گے، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔" یقین کریں، یہ ایک جملہ اس کے اندر نئی امید اور نیا حوصلہ پیدا کر سکتا ہے۔
آج کے دور میں ہمارے بچوں کو صرف کتابوں کا نہیں بلکہ سوشل میڈیا، معاشرتی دباؤ اور مختلف ذہنی چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ایسے میں انہیں ڈانٹ کی نہیں، بلکہ اعتماد، رہنمائی اور محبت کی ضرورت ہے۔
آئیے، اس نتیجے کے دن اپنے بچوں کے لیے جج نہیں، بلکہ ان کے سب سے مضبوط سہارا بنیں۔
یاد رکھیں، مارکس زندگی کا ایک باب ہیں، پوری کہانی نہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام طلبہ کو کامیابی عطا فرمائے، اور ہر والدین کو اپنے بچوں کی بہترین رہنمائی اور تربیت کی توفیق دے۔ آمین۔
منجانب:
محمد آدم خان
S.S.E.(MATH)
گورنمنٹ .H.S.S جسو کانویں