01/05/2026
کیا یہ زمانہ جاہلیت کے بچے ہیں؟؟؟ نہیں جناب یہ دور جدید کے وہ پڑھے لکھے بچے ہیں جنہوں نے میٹرک کے امتحان کا آخری پیپر دیا یے اور اس خوشی میں ایک دوسرے کو کالک اور نیلک لگا ریے ہیں، ایک دوسرے پر سیاہی (اِنک) پھینک رہے ہیں۔۔۔۔ مطلب ماں نے جو اجلے اجلے کپڑے انہیں پہننے کو دیے تھے یہ ان کا بیڑا غرق کر رہے۔۔۔۔ اسلامی ملک کے اسکولوں میں یہ کیسی دنیاوی تعلیم ہے کہ دس بارہ سال میں بھی انہیں یہ شعور نہیں ملا کہ ایسا کرکے ہم اپنا اور اپنے والدین کا مال ضائع وبرباد کر رہے ہیں۔۔۔ ظاہر ہے کہ یہ اِنک بھی خون پسینے کی کمائی سے آئی ہے اور کپڑے بھی پیسوں سے خرید گئے ہیں اور اتنی سیاہی اوپر لگے گی تو اب یہ لباس پہننے کے لائق نہیں رہے گا اور یہ نادان بچے انہیں ضائع کر رہے ہیں۔۔۔۔ دنیاوی نقصان کے ساتھ ساتھ دینی نقصان بھی ہے کہ ایسا کرنا اسراف و حرام اور جہنم میں لےجانے والا کام ہے۔۔۔۔۔پھر یہ کہ اس طرح چہرے پر سیاہی پھینک پر چہرے کو بگاڑنے کی بھی اسلام میں ممانعت ہے۔۔۔۔۔ نہ اساتذہ کرام کی اس جانب توجہ ہے اور نہ والدین تنبیہ کرتے ہیں الا ماشاء اللہ ۔۔۔۔۔ اتنا کہہ دینا کہ "بچوں کی ایک دن کی خوشی ہے" عقل و شریعت کے ترازو میں کوئی وزن نہیں رکھتا۔۔۔۔۔ خدا کے لیے سرپرست و اساتذہ اس بیہودہ رسم کو روکیں اور خود یہ پڑھے لکھے سمجھ دار بچے بھی اس جاہلانہ حرکت سے باز آجائیں ورنہ دونوں جہان میں خسارہ ہی خسارہ ہے۔۔۔بخدا یہ گھاٹے کا سودا ہے۔ اپنے باشعور پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت دیں ورنہ پڑھے لکھے جاہلوں کی نہ کل کمی تھی نہ آج ہے۔
منقول از محمد آصف اقبال مدنی عطاری
30 اپریل2026