29/12/2021
صورت نپرستم من بتخانہ شکستم من
آن سیل سبک سیرم ہر بند گسستم من
میں صورت کی پرستش نہیں کرتا، میں نے یہ بتخانہ مسمار کر دیا ہے؛ میں تیز رو سیلاب ہوں جس نے سارے بند توڑ دیے ہیں۔
در بود و نبود من اندیشہ گمانہا داشت
از عشق ہویدا شد این نکتہ کہ ہستم من
سوچ اس گمان میں تھی کہ میں ہوں یا نہیں ہوں؛ عشق سے یہ نکتہ ظاہر ہوا کہ میں موجود ہوں۔
در دیر نیاز من در کعبہ نماز من
زنار بدوشم من تسبیح بدستم من
کبھی میں دیر میں عجز و نیاز اختیار کرتا ہوں اور کعبہ میں نماز پڑھتا ہوں؛ کبھی میرے کندھے پر زنّار ہوتا ہے اور کبھی میرے ہاتھ میں تسبیح۔
سرمایہ درد تو غارت نتوان کردن
اشکی کہ ز دل خیزد در دیدہ شکستم من
تیرے درد (محبت ) کے سرمائے کو ضائع نہیں کیا جا سکتا ؛ ول آنسو جو میرے دل سے اٹھا ہے اسے میں اپنی آنکھوں میں سمو لیتا ہوں۔
فرزانہ بہ گفتارم دیوانہ بہ کردارم
از بادہ شوق تو ہشیارم و مستم من
میں گفتگو میں فرزانہ ہوں اور کام کرتے وقت دیوانہ ہوں؛ آپ کے شوق (محبت) کی شراب نے مجھے بیک وقت ہوشیار اور مست بنا دیا ہے۔
علامہ اقبال قلندر لاہوری رح