Dr.Hafiz Muhammad Waqas Ashraf Qadri

Dr.Hafiz Muhammad Waqas Ashraf  Qadri Preacher of Islam, Discussion about Health and Social Issues

18/08/2026

حبُّ الوطنی کیا ہے؟ 🇵🇰❤️
کیا وطن سے محبت اسلام کے خلاف ہے یا اسلام ہمیں وطن سے محبت کا درس دیتا ہے؟
اس ویڈیو میں حبِ وطن کے مفہوم، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب قول، اور مشہور جملہ "حب الوطن من الإيمان" کی حقیقت کے بارے میں تفصیل سے گفتگو کی گئی ہے۔
ویڈیو مکمل دیکھیں، شیئر کریں اور دوسروں تک بھی یہ اہم معلومات پہنچائیں۔ ❤️
پیشکش:
علامہ ڈاکٹر حافظ محمد وقاص اشرف قادری
📞 رابطہ نمبر: 03304355981
ؓ #اسلام #پاکستان

17/08/2026

📌 حبُّ الوطنی من الإیمان — کیا یہ حدیثِ مبارک ہے؟

«حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيمَانِ» یعنی ”وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے“ یہ جملہ عوام میں بہت مشہور ہے، لیکن اسے حدیثِ نبوی ﷺ کہنا درست نہیں۔ اس ویڈیو میں اس قول کی حقیقت، اس کی نسبت اور حبُّ الوطنی کے صحیح معنی تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔

📖 ویڈیو میں یہ بھی سمجھایا گیا ہے کہ وطن سے محبت کا مفہوم کیا ہے، اسلام میں وطن، معاشرے اور اپنے لوگوں کے ساتھ خیرخواہی کی کیا اہمیت ہے، اور کن باتوں کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنے میں احتیاط ضروری ہے۔

🎥 مکمل تفصیل ویڈیو میں ملاحظہ فرمائیں۔

👤 پیشکش: علامہ ڈاکٹر حافظ محمد وقاص اشرف قادری

03304355981]

#حدیث #علماء #پاکستان

17/08/2026

14 اگست — آزادی ایک عظیم نعمت

🇵🇰 14 اگست یومِ آزادی 🇵🇰

آزادی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور نعمت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا شکر ادا کرے۔

قرآنِ کریم ہمیں گزشتہ اقوام کے واقعات سے بھی یہ سبق دیتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات عطا فرمائی تو اس نعمت کو یاد کرنے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی تعلیم دی گئی۔

اسی طرح پاکستان کی آزادی بھی ہمارے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔ ہمیں اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا، ملک کی سلامتی کے لیے دعا کرنا، اور اپنے وطن کی ترقی و خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

🇵🇰 آزادی صرف جشن کا نام نہیں، بلکہ شکر، ذمہ داری اور وطن سے وفاداری کا نام بھی ہے۔

اس ویڈیو میں یومِ آزادی، آزادی کی نعمت، شکرِ الٰہی اور ہماری قومی ذمہ داریوں کے حوالے سے اہم اسلامی تعلیمات بیان کی گئی ہیں۔

🎥 مکمل ویڈیو ضرور دیکھیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

Dr. Hafiz Muhammad Waqas Ashraf Qadri
Physiotherapist | Islamic Scholar

📞 رابطہ نمبر: [03304355981]

#14اگست #پاکستان #آزادی

15/08/2026
14/08/2026

14 August 2026
Happy Independence Day

13/08/2026

ذوالنون مصری رحمہ اللہ کا واقعہ
ذوالنون مصری قدس سرہٗ فرماتے ہیں:

ایک مرتبہ سفر کے دوران میں ایک شہر پہنچا۔ میں نے ارادہ کیا کہ شہر کے اندر داخل ہوں۔ شہر کے دروازے پر ایک خوبصورت محل دیکھا اور اس کے قریب بہنے والی نہر کے پاس گیا اور وضو کیا۔

جب میں نے محل کی چھت کی طرف دیکھا تو ایک نہایت خوبصورت لونڈی کھڑی تھی۔ جب اس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس نے کہا:

’’اے ذوالنون! میں نے تمہیں دور سے دیکھا تو سمجھا کہ تم کوئی مجنون ہو۔ جب تم نے وضو کیا تو سمجھا کہ تم عالم ہو۔ لیکن جب تم وضو سے فارغ ہوکر آگے بڑھے تو مجھے لگا کہ تم عارف بھی نہیں۔‘‘

میں نے پوچھا: ’’کیوں؟‘‘

اس نے کہا:

’’اگر تم دیوانے ہوتے تو وضو نہ کرتے، اگر عالم ہوتے تو کسی اجنبی گھر اور نامحرم عورت کی طرف نظر نہ کرتے، اور اگر عارف ہوتے تو تمہارا دل اللہ کے سوا کسی اور کی طرف مائل نہ ہوتا۔‘‘

یہ واقعہ جلیس الخلوۃ وانیس الوحدۃ میں مذکور ہے۔

13/08/2026

14 آگست کے موقع پر قرآن مجید سے پیغام

وَاذْكُرُوا إِذْ أَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآواكُمْ وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّباتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ.
سورة الانفال (26)

اعْلَمْ أَنَّهُ تَعَالَى لَمَّا أَمَرَهُمْ بِطَاعَةِ اللَّه وَطَاعَةِ الرَّسُولِ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ بِاتِّقَاءِ الْمَعْصِيَةِ، أَكَّدَ ذَلِكَ التَّكْلِيفَ بِهَذِهِ الْآيَةِ، وَذَلِكَ لِأَنَّهُ تَعَالَى بَيَّنَ أَنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ظُهُورِ الرَّسُولِ صلى الله عليه وسلم فِي غَايَةِ الْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ، وَبَعْدَ ظُهُورِهِ صَارُوا فِي غَايَةِ الْعِزَّةِ وَالرِّفْعَةِ، وَذَلِكَ يُوجِبُ عَلَيْهِمُ الطَّاعَةَ وَتَرْكَ الْمُخَالَفَةِ. أَمَّا بَيَانُ الْأَحْوَالِ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قَبْلَ ظُهُورِ مُحَمَّدٍ فَمِنْ وُجُوهٍ: أَوَّلُهَا: أَنَّهُمْ كَانُوا قَلِيلِينَ فِي الْعَدَدِ. وَثَانِيهَا: أَنَّهُمْ كَانُوا مُسْتَضْعَفِينَ، وَالْمُرَادُ أَنَّ غَيْرَهُمْ يَسْتَضْعِفُهُمْ، وَالْمُرَادُ مِنْ هَذَا الِاسْتِضْعَافِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَخَافُونَ أَنْ يَتَخَطَّفَهُمُ النَّاسُ. وَالْمَعْنَى: أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا خَرَجُوا مِنْ بَلَدِهِمْ خَافُوا أَنْ يَتَخَطَّفَهُمُ الْعَرَبُ، لِأَنَّهُمْ كَانُوا يَخَافُونَ مِنْ مُشْرِكِي الْعَرَبِ لِقُرْبِهِمْ مِنْهُمْ وَشِدَّةِ عَدَاوَتِهِمْ لَهُمْ، ثُمَّ بَيَّنَ تَعَالَى أَنَّهُمْ بَعْدَ أَنْ كَانُوا كَذَلِكَ قُلِبَتْ تِلْكَ الْأَحْوَالُ بِالسَّعَادَاتِ وَالْخَيْرَاتِ، فَأَوَّلُهَا: أَنَّهُ آوَاهُمْ وَالْمُرَادُ مِنْهُ أَنَّهُ تَعَالَى نَقَلَهُمْ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَصَارُوا آمِنِينَ مِنْ شَرِّ الْكُفَّارِ، وَثَانِيهَا: قَوْلُهُ: وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ والمراد منه وجوه النَّصْرِ فِي يَوْمِ بَدْرٍ، وَثَالِثُهَا: قَوْلُهُ: وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّباتِ وَهُوَ أَنَّهُ تَعَالَى/ أَحَلَّ لَهُمُ الْغَنَائِمَ بَعْدَ أَنْ كَانَتْ مُحَرَّمَةً عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ.
ثُمَّ قَالَ: لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ أَيْ نَقَلْنَاكُمْ مِنَ الشِّدَّةِ إِلَى الرَّخَاءِ، وَمِنَ الْبَلَاءِ إِلَى النَّعْمَاءِ وَالْآلَاءِ، حَتَّى تَشْتَغِلُوا بِالشُّكْرِ وَالطَّاعَةِ، فَكَيْفَ يَلِيقُ بِكُمْ أَنْ تَشْتَغِلُوا بالمنازعة والمخاصمة بسبب الأنفال؟
ترجمه
ترجمہ:

اور یاد کرو جب تم زمین میں تھوڑے اور کمزور سمجھے جاتے تھے، تمہیں خوف رہتا تھا کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لے جائیں، پھر اللہ نے تمہیں پناہ دی، اپنی مدد کے ذریعے تمہیں قوت عطا فرمائی اور تمہیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق دیا، تاکہ تم شکر گزار بنو۔ (الأنفال: 26)

تفسیر کا ترجمہ:

جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے جب انہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا، پھر گناہوں سے بچنے کا حکم دیا، تو اس آیت کے ذریعے اس حکم کو مزید مؤکد فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے وہ انتہائی قلت اور ذلت کی حالت میں تھے، اور آپ ﷺ کی تشریف آوری کے بعد انتہائی عزت اور سربلندی حاصل کرلی۔ یہ صورتِ حال ان پر لازم کرتی ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کریں اور اس کی مخالفت سے باز رہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ان کے حالات کی چند صورتیں تھیں:

پہلی: وہ تعداد میں بہت کم تھے۔

دوسری: وہ کمزور اور دوسروں کے زیرِ تسلط تھے۔ ان کے کمزور ہونے کا مطلب یہ تھا کہ دوسرے لوگ انہیں کمزور سمجھتے تھے اور ان پر غلبہ رکھتے تھے۔ اس کمزوری سے مراد یہ تھی کہ انہیں خوف رہتا تھا کہ لوگ انہیں اچک کر لے جائیں گے۔

یعنی جب وہ اپنے شہر سے باہر نکلتے تو عرب کے مشرکین سے خوفزدہ رہتے تھے، کیونکہ وہ ان کے قریب تھے اور ان سے سخت دشمنی رکھتے تھے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس حالت کے بعد ان کے حالات کو سعادتوں اور بھلائیوں میں بدل دیا۔

پہلی نعمت: اللہ تعالیٰ نے انہیں پناہ دی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انہیں مدینہ منورہ منتقل ہونے کا موقع دیا، جہاں وہ کفار کے شر سے محفوظ ہوگئے۔

دوسری نعمت: فرمایا: وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ یعنی اللہ نے اپنی مدد سے تمہیں قوت عطا فرمائی۔ اس سے مراد خصوصاً غزوۂ بدر کے موقع پر حاصل ہونے والی مختلف صورتوں میں اللہ کی نصرت ہے۔

تیسری نعمت: فرمایا: وَرَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق عطا فرمایا۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لیے مالِ غنیمت کو حلال فرما دیا، جبکہ اس سے پہلے گزشتہ امتوں کے لیے غنائم حلال نہیں تھے۔

پھر فرمایا:

لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

یعنی ہم نے تمہیں سختی سے آسودگی کی طرف، مصیبت سے نعمت اور راحت کی طرف منتقل کیا، تاکہ تم اللہ کا شکر اور اس کی اطاعت میں مشغول ہوجاؤ۔

Address

Sambrial

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Hafiz Muhammad Waqas Ashraf Qadri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Dr.Hafiz Muhammad Waqas Ashraf Qadri:

Shortcuts

Share