Mufti Muhammad Naeem Shazli

Mufti Muhammad Naeem Shazli The Official Page Of Hazart Mulana M***i Muhammad Naeem Shazli bajauri Sb

11/07/2024

9اور 10 محرم کے روزہ کی شرعی حیثیت؟
سوال
9اور 10 محرم کے روزہ کی شرعی حیثیت؟

جواب
عاشورہ کا روزہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل سے ثابت ہے، اس کی فضیلت بھی احادیثِ مبارکہ میں وارد ہے، رمضان کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں کے روزوں میں محرم کی دسویں تاریخ کے روزے کا ثواب سب سے زیادہ ہے، اور اس ایک روزے کی وجہ سے گزرے ہوئے ایک سال کے گناہِ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں،البتہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا گیا کہ یہود بھی عاشورہ کے روزے کا اہتمام کرتے ہیں تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ سال عاشورہ کے روزہ کے ساتھ نو محرم کو بھی روزہ رکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا تھا جس کی بنا پر فقہاءِ کرام نے عاشورہ کے ساتھ نو محرم کے روزہ کو مستحب قرار دیا ہے اور مشابہتِ یہود کی بنا پر صرف عاشورہ کا روزہ رکھنے کو مکروہِ تنزیہی قرار دیا ہے، لہٰذا دس محرم کے روزے کے ساتھ نو یا گیارہ محرم کا روزہ بھی رکھنا چاہیے۔

محرم الحرام کا پورا مہینہ ہی قابلِ احترام اور عظمت والا مہینہ ہے، یومِ عاشورہ کے علاوہ اس پورے مہینے میں بھی روزے رکھنے کی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے، اور آپ ﷺ نے ماہِ محرم میں روزہ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :افضل ترین روزے رمضان کے بعد ماہ محرم کے ہیں، اور فرض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔

’’[عن أبي هريرة:] سُئلَ: أيُّ الصلاةِ أفضلُ بعد المكتوبةِ؟ وأيُّ الصيامِ أفضلُ بعد شهرِ رمضانَ؟ فقال " أفضلُ الصلاةِ، بعد الصلاةِ المكتوبةِ، الصلاةُ في جوفِ الليل ِ. وأفضلُ الصيامِ، بعد شهرِ رمضانَ، صيامُ شهرِ اللهِ المُحرَّمِ ". مسلم (٢٦١ هـ)، صحيح مسلم ١١٦٣ • صحيح •‘‘.

اسی طرح عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جو شخص یومِ عرفہ کا روزہ رکھے گا تو اس کے دو سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور جو شخص محرم کے مہینہ میں ایک روزہ رکھے گا، اس کو ہر روزہ کے بدلہ میں تیس روزوں کا ثواب ملے گا۔

’’[عن عبدالله بن عباس:] من صام يومَ عرفةَ كان له كفَّارةَ سَنتيْن، ومن صام يومًا من المُحرَّمِ فله بكلِّ يومٍثلاثون يومًا‘‘.

(المنذري (٦٥٦ هـ)، الترغيب والترهيب ٢/١٢٩ • إسناده لا بأس به • أخرجه الطبراني (١١/٧٢) (١١٠٨١)، وفي «المعجم الصغير» (٩٦٣) فقط واللہ اعلم

08/07/2024

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی تاریخ
سوال
ہمارے ایک دوست جو حضرت عمررضی اللہ عنہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ علماء کے پاس حضرت عمررضی اللہ عنہ کی شہادت کی کوئی دلیل نہیں ہےکہ وہ یکم محرّم کو شہید ہوئے ہیں، براہ کرم اس کی وضاحت فرمائیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کب ہوئی ہے۔

جواب
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت چھبیس (26) ذی الحجہ تئیس (23) ہجری بروز چہارشنبہ بمطابق 31/اکتوبر 644 عیسوی کو نمازِ فجر میں ابولوٴلوٴ مجوسی کے خنجر سے زخمی ہوئے، تین راتیں زخمی حالت پر زندہ رہے، 29/ذی الحجہ بمطابق تین نومبرکو وصال ہوا۔ یکم محرم سن چوبیس (24) ہجری کو روضہٴ اطہر میں آسودہٴ خاک ہوئے، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔

ملحوظ رہےاِس باب میں روایات اور تعبیرات کا اختلاف ہے،اور یہ مسئلہ چوں کہ از قبیل عقائد یا اعمال نہیں ہے، محض علمی وتاریخی ہے؛ اس لیے اس میں زیادہ الجھنے کی یا بحث ومباحثہ کی ضرورت نہیں ہے۔

البداية والنهاية للحافظ ابن کثیر الدمشقی میں ہے:

"فاتفق له ان ضربه ابو لؤلؤة فيروز المجوسي الاصل الرومي الدار وهو قائم يصلي في المحراب صلاة الصبح من يوم الاربعاء لاربع بقين من ذي الحجة من هذه السنة بخنجر ذات طرفين...

"ومات رضى الله عنه بعد ثلاث ودفن يوم الاحد مستهل المحرم من سنة اربع وعشرين بالحجرة النبوية الى جانب الصديق عن اذن ام المؤمنين عائشة رضى الله عنها في ذلك وفي ذلك اليوم حكم امير المؤمنين عثمان بن عفان رضى الله عنه

قال الواقدي رحمه الله حدثني ابو بكر بن اسماعيل بن محمد بن سعد عن ابيه قال طعن عمر يوم الاربعاء لاربع ليال بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين ودفن يوم الاحد صباح هلال المحرم سنة اربع وعشرين فكانت ولايته عشر سنين وخمسة اشهر واحدا وعشرين يوما وبويع لعثمان يوم الاثنين لثلاث مضين من المحرم قال فذكرت ذلك لعثمان الاخنس فقال ما اراك الا وهلت توفي عمر لاربع ليال بقين من ذي الحجة وبويع لعثمان لليلة بقيت من ذي الحجة فاستقبل بخلافته المحرم سنة اربع وعشرين وقال ابو معشر قتل عمر لاربع بقين من ذي الحجة تمام سنة ثلاث وعشرين وكانت خلافته عشر سنين وستة اشهر واربعة ايام وبويع عثمان ابن عفان

وقال ابن جرير حدثت عن هشام بن محمد قال قتل عمر لثلاث بقين من ذى الحجة سنة ثلاث وعشرين فكانت خلافته عشر سنين وستة اشهر واربعة ايام وقال سيف عن خليد بن وفرة ومجالد قالا استخلف عثمان لثلاث من المحرم فخرج فصلى بالناس صلاة العصر وقال علي بن محمد المدائني عن شريك عن الاعمش او جابر الجعفى عن عوف بن مالك الاشجعي وعامر بن ابي محمد عن اشياخ من قومه وعثمان بن عبدالرحمن عن الزهري قال طعن عمر يوم الاربعاء لسبع بقين من ذي الحجة والقول الاول هو الاشهر والله سبحانه وتعالى اعلم".

( خبر سلمة بن قيس الأشجعي والأكراد ، ج:7، ص:138، ط:مکتبۃ المعارف)

فقط واللہ اعلم

مسلمان اور غیروں کے درمیان تمیز اور جدائی عمل سے ہے اللہم وفقنا لماتحب وترضی
30/06/2024

مسلمان اور غیروں کے درمیان تمیز اور جدائی عمل سے ہے اللہم وفقنا لماتحب وترضی

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ علماء دیوبند کی ہر بات دلیل وثبوت کے بنیاد پر ہوتی ہے چاہے علوم القرآن یا علوم الحدیث یاعلم الف...
26/06/2024

اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ علماء دیوبند کی ہر بات دلیل وثبوت کے بنیاد پر ہوتی ہے چاہے علوم القرآن یا علوم الحدیث یاعلم الفقہ حتی کے علوم فنون تک بغیر سند کے بیان نہیں کر تے
یہ بندہ کا طریقت اور تصوف کا سند ہے
يقول عبد الله بن المبارك: إن الإسناد من الدين، ولولا الإسناد لقال من شاء ما شاء. فإذا قال أهل البدع إن أحاديثهم صحيحة أو مسندة إلى النبي صلى الله عليه وسلم! فلنقل لهم: أين أسانيدكم؟ ومن روى هذه الأحاديث

26/06/2024

محمد حسان بن مفتی محمد نعیم الفیضانی الشازلی صاحب

26/06/2024

مولانا مفتی محمد نعیم الفیضانی الشاذلی صاحبپشتو بیان #امنه #امن #حقیقی امن #اسلام #قرآن #مسجد ***i #

26/06/2024

ان شاءاللہ العزیز اس پیج سے صرف دینی مسائل بیان کئے جائےنگےدوست واحباب کمینٹ میں دینی مسائل پوچھ سکتے ہیں

26/06/2024

یو ضروری وضاحت

26/06/2024
25/06/2024

یو اھم او ضروری مسئلہ

Address

Bajaur Salarzai
Salarzai
18650

Telephone

+923052304453

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Muhammad Naeem Shazli posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Mufti Muhammad Naeem Shazli:

Shortcuts

Share