12/04/2025
رانی کی نیکی کی کہانی
لاہور کے ایک گلی کوچوں والے علاقے میں رانی نامی ایک خاتون رہتی تھی۔ محلے والے اسے طوائف کہتے تھے، اور اس کی زندگی کوئی آسان نہ تھی۔ لوگ اس سے بات کرنے سے کتراتے، لیکن رانی کے دل میں ایک چھپی ہوئی چنگاری تھی—ایک خواہش کہ وہ اپنی شناخت سے بڑھ کر کچھ کر دکھائے۔ وہ رات کو اپنی چھوٹی سی کھڑکی سے باہر جھانکتی اور سوچتی، "شاید میں بھی کسی کے لیے فرق لا سکتی ہوں۔"
ایک ٹھنڈی شام، رانی اپنے گھر کے باہر کھڑی تھی جب اس نے سڑک پر ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا۔ وہ لنگڑاتا ہوا چل رہا تھا، ہاتھ میں ایک پھٹا ہوا تھیلا تھاما ہوا تھا۔ اچانک وہ ٹھوکر کھا کر گر پڑا، اور اس کے تھیلے سے چند سکے بکھر گئے۔ لوگ جلدی جلدی اس کے پاس سے گزرے، کوئی نہ رکا۔ رانی کا دل بھر آیا۔ وہ دوڑ کر اس کے پاس پہنچی، اسے سہارا دے کر اٹھایا، اور زمین سے اس کے سکوں کو چن کر واپس اس کے تھیلے میں ڈال دیا۔
"بابا، آپ ٹھیک ہیں؟" رانی نے نرمی سے پوچھا۔
بوڑھا ہانپتا ہوا بولا، "بیٹی، تم نے میری عزت بچا لی۔ اللہ تمہیں خوش رکھے۔"
رانی نے مسکرا کر اسے قریبی دکان پر لے جایا، جہاں اس نے اس کے لیے ایک گلاس پانی اور گرم سموسے منگوائے۔ بوڑھے نے اسے دعا دی اور چلا گیا۔ رانی کے دل میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ اسے لگا جیسے اس نے اپنی زندگی کا کوئی چھوٹا سا مقصد پا لیا ہو۔
کچھ دنوں بعد، رانی نے نوٹ کیا کہ اس کے محلے میں کئی بچے سڑکوں پر گھومتے تھے۔ کوئی بھیک مانگتا، کوئی دکانوں کے باہر جھاڑو لگاتا، لیکن ان کے چہروں پر ایک اداسی تھی۔ وہ سکول نہیں جاتے تھے، کیونکہ ان کے گھر والوں کے پاس پیسے نہ تھے۔ رانی نے سوچا کہ وہ ان بچوں کے لیے کچھ کر سکتی ہے۔ اس نے اپنی تھوڑی بہت بچت نکالی اور محلے کے ایک پرانے کمرے کو کرائے پر لیا۔ اس نے اسے صاف کیا، چند پرانی کتابیں اور سلیٹس اکٹھی کیں، اور ان بچوں کو شام کے وقت پڑھانا شروع کر دیا۔
پہلے تو بچے شرماتے تھے۔ لیکن رانی کی گرمجوشی اور اس کی کہانیاں سن کر وہ کھلنے لگے۔ وہ انہیں حروف تہجی سکھاتی، چھوٹی چھوٹی کہانیاں سناتی، اور کبھی کبھار ان کے لیے مٹھائی لاتی۔ ایک بچہ، جس کا نام عارف تھا، نے ایک دن رانی سے کہا، "آپا، آپ اتنی اچھی کیوں ہیں؟" رانی ہنس پڑی اور بولی، "عارف، دل اچھا ہو تو دنیا بدل سکتی ہے۔"
وقت گزرتا گیا، اور رانی کی چھوٹی سی کلاس مشہور ہو گئی۔ محلے کے چند لوگوں نے بھی اس کی مدد شروع کر دی۔ کوئی پرانی کتابیں لے آیا، کوئی بچوں کے لیے کپڑوں کا بندوبست کرتا۔ رانی کی وجہ سے کئی بچوں نے سکول جانا شروع کیا۔ وہ خود کبھی سکول نہ جا سکی تھی، لیکن اس نے ان بچوں کے خوابوں کو پر دیے۔
ایک دن، جب رانی اپنی کلاس ختم کر کے گھر جا رہی تھی، عارف اس کے پیچھے بھاگا۔ اس نے رانی کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھمایا۔ اس پر لکھا تھا: "آپا رانی، آپ ہماری ماں جیسی ہیں۔ ہم بڑے ہو کر آپ جیسے بنیں گے۔" رانی کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے عارف کو گلے لگایا اور سوچا کہ شاید یہی اس کی زندگی کا اصل مقصد تھا۔
12/04/2025
12/04/2025
27/03/2025