UpSkill Learning

UpSkill Learning

Share

Online Skill Learning Platform

I am a dedicated Computer Science Lecturer and skilled Web Developer with a strong background in both academia and practical application. I possess eight years of teaching experience in the field of computer science, delivering comprehensive instruction and fostering a deep understanding of the subject matter.

12/04/2025

رانی کی نیکی کی کہانی

لاہور کے ایک گلی کوچوں والے علاقے میں رانی نامی ایک خاتون رہتی تھی۔ محلے والے اسے طوائف کہتے تھے، اور اس کی زندگی کوئی آسان نہ تھی۔ لوگ اس سے بات کرنے سے کتراتے، لیکن رانی کے دل میں ایک چھپی ہوئی چنگاری تھی—ایک خواہش کہ وہ اپنی شناخت سے بڑھ کر کچھ کر دکھائے۔ وہ رات کو اپنی چھوٹی سی کھڑکی سے باہر جھانکتی اور سوچتی، "شاید میں بھی کسی کے لیے فرق لا سکتی ہوں۔"

ایک ٹھنڈی شام، رانی اپنے گھر کے باہر کھڑی تھی جب اس نے سڑک پر ایک بوڑھے آدمی کو دیکھا۔ وہ لنگڑاتا ہوا چل رہا تھا، ہاتھ میں ایک پھٹا ہوا تھیلا تھاما ہوا تھا۔ اچانک وہ ٹھوکر کھا کر گر پڑا، اور اس کے تھیلے سے چند سکے بکھر گئے۔ لوگ جلدی جلدی اس کے پاس سے گزرے، کوئی نہ رکا۔ رانی کا دل بھر آیا۔ وہ دوڑ کر اس کے پاس پہنچی، اسے سہارا دے کر اٹھایا، اور زمین سے اس کے سکوں کو چن کر واپس اس کے تھیلے میں ڈال دیا۔

"بابا، آپ ٹھیک ہیں؟" رانی نے نرمی سے پوچھا۔

بوڑھا ہانپتا ہوا بولا، "بیٹی، تم نے میری عزت بچا لی۔ اللہ تمہیں خوش رکھے۔"

رانی نے مسکرا کر اسے قریبی دکان پر لے جایا، جہاں اس نے اس کے لیے ایک گلاس پانی اور گرم سموسے منگوائے۔ بوڑھے نے اسے دعا دی اور چلا گیا۔ رانی کے دل میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ اسے لگا جیسے اس نے اپنی زندگی کا کوئی چھوٹا سا مقصد پا لیا ہو۔

کچھ دنوں بعد، رانی نے نوٹ کیا کہ اس کے محلے میں کئی بچے سڑکوں پر گھومتے تھے۔ کوئی بھیک مانگتا، کوئی دکانوں کے باہر جھاڑو لگاتا، لیکن ان کے چہروں پر ایک اداسی تھی۔ وہ سکول نہیں جاتے تھے، کیونکہ ان کے گھر والوں کے پاس پیسے نہ تھے۔ رانی نے سوچا کہ وہ ان بچوں کے لیے کچھ کر سکتی ہے۔ اس نے اپنی تھوڑی بہت بچت نکالی اور محلے کے ایک پرانے کمرے کو کرائے پر لیا۔ اس نے اسے صاف کیا، چند پرانی کتابیں اور سلیٹس اکٹھی کیں، اور ان بچوں کو شام کے وقت پڑھانا شروع کر دیا۔

پہلے تو بچے شرماتے تھے۔ لیکن رانی کی گرمجوشی اور اس کی کہانیاں سن کر وہ کھلنے لگے۔ وہ انہیں حروف تہجی سکھاتی، چھوٹی چھوٹی کہانیاں سناتی، اور کبھی کبھار ان کے لیے مٹھائی لاتی۔ ایک بچہ، جس کا نام عارف تھا، نے ایک دن رانی سے کہا، "آپا، آپ اتنی اچھی کیوں ہیں؟" رانی ہنس پڑی اور بولی، "عارف، دل اچھا ہو تو دنیا بدل سکتی ہے۔"

وقت گزرتا گیا، اور رانی کی چھوٹی سی کلاس مشہور ہو گئی۔ محلے کے چند لوگوں نے بھی اس کی مدد شروع کر دی۔ کوئی پرانی کتابیں لے آیا، کوئی بچوں کے لیے کپڑوں کا بندوبست کرتا۔ رانی کی وجہ سے کئی بچوں نے سکول جانا شروع کیا۔ وہ خود کبھی سکول نہ جا سکی تھی، لیکن اس نے ان بچوں کے خوابوں کو پر دیے۔

ایک دن، جب رانی اپنی کلاس ختم کر کے گھر جا رہی تھی، عارف اس کے پیچھے بھاگا۔ اس نے رانی کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھمایا۔ اس پر لکھا تھا: "آپا رانی، آپ ہماری ماں جیسی ہیں۔ ہم بڑے ہو کر آپ جیسے بنیں گے۔" رانی کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے عارف کو گلے لگایا اور سوچا کہ شاید یہی اس کی زندگی کا اصل مقصد تھا۔

12/04/2025

ہمارے آن لائن ٹیچنگ کورس کے ساتھ علم کا سفر شروع کریں، جہاں ہر کلک آپ کو کامیابی کی نئی منزل دکھائے گا!

12/04/2025

اپنے مستقبل کو روشن کریں، ہمارے آن لائن ٹیچنگ کورس کے ساتھ علم کی دنیا میں قدم رکھیں—جہاں ہر سبق آپ کو خوابوں کے قریب لے جائے گا

27/03/2025

**عنوان: چھوٹا پرندہ اور بڑا خواب**

ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک ننھا پرندہ رہتا تھا جس کا نام چھوٹی تھا۔ چھوٹی بہت چھوٹا تھا، لیکن اس کے دل میں بڑے بڑے خواب تھے۔ وہ ہر روز آسمان کی طرف دیکھتا اور سوچتا، "ایک دن میں ان بلند پہاڑوں کے پار اڑوں گا جو گاؤں کے آخر میں نظر آتے ہیں۔"

گاؤں کے دوسرے پرندوں نے اس کا مذاق اڑایا۔ "تو بہت چھوٹا ہے، چھوٹی! تیرے پروں میں اتنی طاقت نہیں کہ تو پہاڑ پار کر سکے،" وہ ہنستے ہوئے کہتے۔ لیکن چھوٹی نے ان کی باتوں کو دل سے نہ لگایا۔ وہ روزانہ صبح سویرے اٹھتا اور اپنے پروں کو مضبوط کرنے کے لیے مشق کرتا۔

ایک دن، جب آسمان صاف تھا اور ہوا موافق تھی، چھوٹی نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے۔ اس نے اپنے ننھے پروں کو پھیلایا اور اڑنا شروع کیا۔ گاؤں کے پرندے حیران ہو کر اسے دیکھتے رہے۔ چھوٹی بلند سے بلند تر ہوتا گیا۔ ہوا تیز تھی، اور کئی بار وہ گرتے گرتے بچا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔

آخر کار، کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد، چھوٹی پہاڑ کے دوسری طرف پہنچ گیا۔ وہاں اس نے ایک خوبصورت وادی دیکھی، جہاں رنگ برنگے پھول اور جھرنے تھے۔ چھوٹی نے سوچا، "میں نے کر دکھایا! میرا خواب سچ ہو گیا۔"

واپس گاؤں پہنچ کر اس نے سب کو اپنی کہانی سنائی۔ اب کوئی اس کا مذاق نہیں اڑاتا تھا۔ چھوٹی نے ثابت کر دیا کہ اگر دل میں لگن ہو اور محنت کی جائے، تو کوئی بھی خواب بڑا نہیں ہوتا ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Sahiwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Sahiwal
57000

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00