09/09/2026
یونیورسٹی آف ساہیوال: فیسوں میں 100٪ اضافہ یا انتظامیہ کی عیاشیوں کا خرچہ؟
آج یونیورسٹی آف ساہیوال میں انتظامیہ کی بے حسی اور نااہلی کا ایک اور ثبوت سامنے آ گیا۔ ایک طرف طلباء سے بھاری بھرکم فیسیں وصول کی جا رہی ہیں، اور دوسری طرف انہیں پینے کا صاف اور ٹھنڈا پانی تک میسر نہیں۔ شدید گرمی میں کلاس رومز کے پنکھے اتنے سست ہیں کہ پڑھائی عذاب بن چکی ہے۔
حالیہ دنوں میں فیسوں میں 100 فیصد اضافہ کیا گیا، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ جا کہاں رہا ہے؟
آج کی کھلی حقیقت (اکیڈمک بلاک 1):
آج اکیڈمک بلاک 1 کی اوپری منزل پر ایک دفتر کا دروازہ باہر سے لاک تھا، جبکہ اندر AC مکمل 16°C پر چل رہا تھا! یعنی طلباء گرمی سے تڑپیں اور انتظامیہ کے خالی کمرے بھی 16 ڈگری پر ٹھنڈے ہوں۔
یہ ہے "مالِ مفت، دلِ بے رحم" کی جیتی جاگتی مثال۔ طلباء کی ہڈیاں نچوڑ کر جمع کی گئی فیسیں تعلیمی سہولیات پر خرچ ہونے کے بجائے صرف اور صرف انتظامیہ کی شاہی عیاشیوں کی نذر ہو رہی ہیں۔