Comprehensive Public High School & Academic System Tibbi Qaisrani

  • Home
  • Pakistan
  • Retra
  • Comprehensive Public High School & Academic System Tibbi Qaisrani

Comprehensive Public High School & Academic System Tibbi Qaisrani Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Comprehensive Public High School & Academic System Tibbi Qaisrani, Education, Retra, Retra.

12/04/2026

"وہ صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم جو چلیں تو ہواؤں
میں مشک گھل جائے"۔ 🌹🤍

03/04/2026

"اپنے نبی شفیعِ روزِ جزا ﷺ!کو مت بھولیں ، اُنﷺ پر
درود پڑھیں"۔ 🫀❤

*حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور ایک غلام کا عظیم کردار*حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ جنگ...
10/03/2026

*حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کی سخاوت اور ایک غلام کا عظیم کردار*

حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ جنگل کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ راستے میں ایک باغ کے پاس سے گزر ہوا۔ اس باغ میں ایک حبشی غلام کام کر رہا تھا۔ اسی دوران اس کے کھانے کے لیے روٹیاں آئیں۔

اتنے میں ایک کتا بھی باغ میں آ گیا اور اس غلام کے قریب آ کر کھڑا ہو گیا۔ غلام نے کام کرتے کرتے اپنی ایک روٹی اس کتے کے سامنے ڈال دی۔ کتے نے فوراً اسے کھا لیا، لیکن وہ پھر بھی وہیں کھڑا رہا۔

غلام نے دوسری روٹی بھی اس کے سامنے ڈال دی، کتے نے وہ بھی کھا لی۔ اس کے بعد غلام نے تیسری روٹی بھی اسی کتے کو دے دی۔ اس دن اس کے پاس کل تین ہی روٹیاں تھیں اور اس نے تینوں اس کتے کو کھلا دیں۔

حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ یہ سارا منظر خاموشی سے کھڑے دیکھتے رہے۔ جب روٹیاں ختم ہو گئیں تو آپ نے غلام سے پوچھا:

"تمہیں روزانہ کتنی روٹیاں ملا کرتی ہیں؟"

غلام نے عرض کیا:
"حضرت! آپ نے خود دیکھ لیا، مجھے روزانہ صرف تین روٹیاں ہی ملتی ہیں۔"

حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"پھر تم نے اپنی ساری روٹیاں اس کتے کو کیوں دے دیں؟"

غلام نے نہایت سادگی سے جواب دیا:
"حضرت! یہاں عام طور پر کتے نہیں ہوتے۔ یہ بےچارہ شاید دور سے بھوکا سفر کر کے آیا ہے، اس لیے مجھے مناسب نہ لگا کہ اسے بھوکا واپس کر دوں۔"

حضرت نے پوچھا:
"پھر تم آج کیا کھاؤ گے؟"

غلام نے مسکرا کر کہا:
"کوئی بات نہیں، آج ایک دن فاقہ کر لوں گا۔"

یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ انہوں نے دل میں سوچا کہ لوگ مجھے سخاوت کی وجہ سے ملامت کرتے ہیں، لیکن یہ غلام تو مجھ سے بھی زیادہ سخی ہے۔

چنانچہ آپ فوراً شہر واپس گئے اور اس باغ کو اس کے مالک سے خرید لیا۔ پھر اس غلام کو بھی خرید کر اللہ کی رضا کے لیے آزاد کر دیا اور وہ پورا باغ اسی غلام کو تحفے میں دے دیا۔

واللہ اعلم بالصواب۔

افسوس کہ آج کے دور میں ہم میں سے بہت سے لوگ یتیموں اور مسکینوں کا حق چھین کر کھانا سیکھ چکے ہیں، جبکہ ہمارے اسلاف نے جانوروں تک پر رحم اور ایثار کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ تاریخ آج بھی ان پر فخر کرتی ہے۔

❓ کیا آپ نے اپنی زندگی میں کسی ایسے سخی انسان کو دیکھا ہے؟
اگر ہاں تو کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

دوستو…!!!
آخر میں ایک چھوٹی سی گزارش ہے۔ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ، کہانی یا تحریر آپ کو اچھی لگے تو اسے پڑھنے کے بعد اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر بھی ضرور کیا کریں۔ یقین کریں اس میں آپ کا صرف ایک لمحہ لگے گا، لیکن ممکن ہے یہی ایک لمحہ کسی کے لیے ہدایت اور سبق کا سبب بن جائے۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں
۔

*خاموشی کی دانائی*یونان کے ایک قدیم شہر میں ایک فلسفی رہتا تھا۔وہ اتنا بڑا فلسفی سمجھا جاتا تھا کہ اگر کوئی اس سے “صبح ب...
09/03/2026

*خاموشی کی دانائی*

یونان کے ایک قدیم شہر میں ایک فلسفی رہتا تھا۔
وہ اتنا بڑا فلسفی سمجھا جاتا تھا کہ اگر کوئی اس سے “صبح بخیر” کہہ دیتا تو وہ جواب میں کہتا:

“صبح کا تصور دراصل وقت کی غلامی ہے۔”

لوگ بس سر ہلا دیتے، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ کسی کو بھی اس کی بات پوری طرح سمجھ نہیں آتی تھی۔

اسی شہر کے بازار میں ایک طوطا بھی تھا۔
سادہ سا سبز رنگ کا طوطا، مگر اس کی ایک عجیب عادت تھی کہ وہ صرف ایک ہی جملہ بولتا تھا:

“کم بولنے والا زیادہ سمجھدار ہوتا ہے۔”

فلسفی کو یہ بات سخت ناگوار گزری۔
وہ غصے سے بولا:

“ایک پرندہ مجھے دانائی سکھائے گا؟”

چنانچہ اس نے طوطے کو خرید لیا اور گھر لے آیا۔ ارادہ یہ تھا کہ اپنی فلسفیانہ گفتگو سے اسے لاجواب اور خاموش کر دے۔

اب روزانہ وہ طوطے کے سامنے لیکچر دیتا۔
روح، کائنات، وجود اور عدم پر لمبی لمبی بحثیں کرتا، گھنٹوں بولتا رہتا۔

اور طوطا… خاموش رہتا۔

ایک دن فلسفی تھک کر بولا:

“کیا تم اب مان گئے کہ اصل دانا میں ہوں؟”

طوطا پہلی بار مسکرایا — کم از کم فلسفی کو تو ایسا ہی محسوس ہوا — اور بولا:

“میں تو پہلے دن سے مان گیا تھا…
اسی لیے خاموش تھا۔”

فلسفی پہلی بار خاموش ہوا۔
اور شاید پہلی بار اسے کچھ سمجھ بھی آ گیا۔

اخلاقی سبق:
حقیقی دانائی شور نہیں مچاتی،
اور مزاح اکثر سچ کو آسان بنا دیتا ہے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں

09/03/2026

Aur Koi Shakhs Nhi Janta

*ایک وسیع اور پیاس سے تڑپتے گھاس کے میدان میں ایک ہی دریا بہتا تھا — وہی دریا جو ہر جاندار کی زندگی کا سہارا تھا۔ ننھے ہ...
07/03/2026

*ایک وسیع اور پیاس سے تڑپتے گھاس کے میدان میں ایک ہی دریا بہتا تھا — وہی دریا جو ہر جاندار کی زندگی کا سہارا تھا۔ ننھے ہرن سے لے کر بلند قامت زرافے تک، سب اپنی بقا کے لیے اسی کے شفاف اور ٹھنڈے پانی پر انحصار کرتے تھے۔ خشک سالی کے دنوں میں، جب تالاب سوکھ جاتے اور گھاس زرد ہو جاتی، یہی دریا امید کی آخری کرن بن جاتا۔*

ایک سال ایسا آیا کہ ایک طاقتور بھینسے نے دریا کے ایک تنگ موڑ پر قبضہ جما لیا۔ وہ جگہ ایسی تھی جہاں سے گزرے بغیر کوئی جانور پانی تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اس نے وہیں ڈیرہ ڈال لیا۔ اس کا بھاری جسم راستہ روکے کھڑا تھا اور اس کے نوکیلے سینگ ہر آنے والے کے لیے خوف کی علامت بن گئے۔

جو بھی پیاسا جانور قریب آتا، وہ زور سے پھنکارتا اور زمین پر کھر مارتا۔
وہ غرّاتا:
"یہ دریا میرا ہے! میری اجازت کے بغیر کوئی یہاں سے پانی نہیں پیے گا۔"

سب سے پہلے زیبرا آیا، مگر بھینسے نے اسے ڈرا کر بھگا دیا۔
پھر غزالوں نے کوشش کی، مگر وہ بھی خوفزدہ ہو کر واپس لوٹ گئیں۔
حتیٰ کہ ہاتھی نے بھی، اپنی بے پناہ طاقت کے باوجود، اس تنگ جگہ پر لڑائی کو خطرناک سمجھتے ہوئے پیچھے ہٹ جانا بہتر سمجھا۔

ادھر بھینسا جی بھر کر پانی پیتا اور کیچڑ میں مزے سے لیٹا رہتا، جبکہ باقی جانور چند قطروں کے لیے ترستے رہے۔ کچھ بیمار پڑ گئے، کچھ نے علاقہ چھوڑ دیا۔

اسی دوران ایک دانا کچھوا سب کے پاس آیا۔ اس نے آہستگی سے کہا:
"دریا کسی ایک کی ملکیت نہیں ہوتا۔ اگر ایک نے اسے روک لیا تو سب تباہ ہوں گے… اور وقت آنے پر وہ خود بھی نہیں بچے گا۔"

جانوروں نے مل کر منصوبہ بنایا۔

بندروں نے اوپر کی سمت درختوں کی شاخیں ہلا دیں تاکہ لکڑیاں اور پتے بہہ کر آئیں۔
ہاتھیوں نے مٹی اور پتھر ہٹا کر ساتھ میں ایک نئی نالی بنانا شروع کی۔
جنگلی سوروں نے کناروں پر کھدائی کی۔

آہستہ آہستہ پانی نے نیا راستہ اختیار کر لیا۔
اب دریا کی ایک شاخ اس موڑ سے ہٹ کر بہنے لگی۔

ایک صبح بھینسا جاگا تو اس نے دیکھا کہ اس کے اردگرد پانی کم ہو چکا ہے۔ کچھ ہی دیر میں وہ سکڑتے ہوئے کیچڑ کے گڑھے میں کھڑا تھا، جبکہ صاف پانی اس کی پہنچ سے دور بہہ رہا تھا۔

وہ غصے میں نئے راستے کی طرف بڑھا، مگر اب سب جانور متحد تھے۔
ہاتھی سامنے ڈٹے کھڑے تھے، ہرن کناروں پر موجود تھے، اور چھوٹے سے چھوٹا جاندار بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔

تب اسے سمجھ آیا کہ اتحاد کے سامنے انفرادی طاقت کچھ نہیں۔
شرمندہ ہو کر وہ ایک طرف ہٹ گیا۔

اس دن کے بعد دریا سب کے لیے آزاد ہو گیا۔
کسی کو اجازت نہ دی گئی کہ وہ اسے اپنی ذاتی جاگیر سمجھے۔

✨ اخلاقی سبق:
جب کوئی فرد یا گروہ ان وسائل پر قبضہ کر لیتا ہے جو سب کے لیے ہوتے ہیں، تو ناانصافی، تکلیف اور بگاڑ جنم لیتا ہے۔ پانی، زمین اور رزق جیسے بنیادی وسائل پر اجارہ داری وقتی طاقت تو دے سکتی ہے، مگر بالآخر پورے معاشرے کو کمزور کر دیتی ہے۔
اصل طاقت غلبے میں نہیں، بلکہ انصاف، اشتراک اور اتحاد میں ہے۔ جب کمزور اور طاقتور سب مل کر ناانصافی کے خلاف کھڑے ہو جائیں، تو سب سے بڑی رکاوٹ بھی ٹوٹ جاتی ہے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو شئیر کریں
۔

─────••●◎●••─────

10/01/2026

*تعزیت کا پروفیشنل انداز...! 😍*

مرحوم واقعی بہت اچھا انسان تھا۔ ہمیشہ آن لائن رہتا تھا، جیسے سوشل میڈیا ہی اس کی دوسری دنیا ہو۔ جو بھی دوستی کی درخواست آتی، بنا سوچے سمجھے قبول کر لیتا، نہ یہ دیکھتا کہ سامنے والا کون ہے اور نہ یہ پروا کرتا کہ نیت کیا ہے۔
وہ اپنے کمنٹس میں اتنا محتاط تھا کہ کبھی کسی کو تکلیف نہ دی۔ الفاظ چنتا تھا، لہجہ نرم رکھتا تھا، اور کوشش کرتا تھا کہ کسی کے دل پر بوجھ نہ بنے۔ اس کی پوسٹس بڑی جاندار ہوتیں، کبھی ہنسی بکھیرتیں تو کبھی سوچنے پر مجبور کر دیتیں، اور یہی وجہ تھی کہ لوگ اسے غور سے پڑھتے تھے۔
وہ بڑے دل کا مالک تھا۔ نہ کسی کو بلاک کیا، نہ کسی کو نظر انداز۔ امیر ہو یا غریب، پرانا دوست ہو یا نیا، سب کی پوسٹس دل کھول کر لائک کرتا۔ ہر گروپ میں موجود ہوتا، ہر بحث میں خاموشی سے شامل، اور ہر ٹرینڈ کا حصہ۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وہ زندگی کی آخری سانسوں میں بھی آن لائن تھا۔ جیسے دنیا سے رخصت بھی اسی اسکرین کے ذریعے ہونا اس کی قسمت میں لکھا تھا۔

*کیا ایسا نہیں ہے؟* 😂

*یہ حقیقت ہمیں ہنسا بھی دیتی ہے اور سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہے کہ ہم لوگ اس قدر دنیا سے بے خبر ہوچکے ہیں کہ ہم نے آپنی ساری دنیا ہی موبائل کو بنا لیا ہے یہ ایک تلخ حقیقت شائید کسی کو اچھی نہ لگی لیکن حقیقت ایسی ہی ہے اور دوسری بات یہ کہ سوشل میڈیا پر اچھا اخلاق، نرم لہجہ اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک یقیناً اچھی بات ہے، مگر اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کا توازن برقرار رکھیں۔ اسلام ہمیں اعتدال سکھاتا ہے، وقت کی قدر، رشتوں کی اہمیت اور حقیقی اعمال پر توجہ دینے کا درس دیتا ہے۔ آن لائن اچھا انسان بننے کے ساتھ ساتھ اگر ہم حقیقی زندگی میں بھی اخلاق، عبادت اور ذمہ داری کو اپنا لیں تو یہی سب سے بڑی کامیابی اور بہترین انجام ہے۔*

*کس صحابیؓ نے سب سے پہلے قرآن کو ایک جگہ جمع کیا؟* ❤️*❤️ :- حضرت ابو بکرؓ**😘 :- حضرت عثمانؓ**👍🏼 :- حضرت علیؓ**🥹 :- مجھے ...
08/01/2026

*کس صحابیؓ نے سب سے پہلے قرآن کو ایک جگہ جمع کیا؟* ❤️

*❤️ :- حضرت ابو بکرؓ*
*😘 :- حضرت عثمانؓ*
*👍🏼 :- حضرت علیؓ*
*🥹 :- مجھے نہیں معلوم*

*اگر آپ کو جواب معلوم ہے تو ضرور سلیکٹ کریں، ورنہ یہ 🥹 ری ایکٹ کر دیں*

*جلیبی، لسی اور بھینس کا فٹنس ٹیسٹ*چاچا سرمد کو زبردستی اپنے ڈیرے کی طرف لے آئے۔سرمد کی آنکھیں ابھی تک بھینس پر جمی تھیں...
19/12/2025

*جلیبی، لسی اور بھینس کا فٹنس ٹیسٹ*

چاچا سرمد کو زبردستی اپنے ڈیرے کی طرف لے آئے۔
سرمد کی آنکھیں ابھی تک بھینس پر جمی تھیں، جو ایسے گھور رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو:
“پہلے جلیبی، پھر تُو!”

چاچا نے آواز لگائی۔ او پُتّر بہو! ذرا مہمان واسطے جلیبیاں تے لسی لے آؤ!

سرمد نے کان کے قریب آ کر سرگوشی کی۔ چاچا… یہ بھینس بھی لسی پیتی ہے؟

چاچا نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا۔ پُتر! یہ بھینس لسی نہیں پیتی… یہ شہر والوں کو پیتی ہے!

سرمد نے فوراً جوتوں کی تسمے چیک کیں۔

جلیبی سامنے آئی تو سرمد نے کبھی اتنی بڑی جلیبی نہیں دیکھی تھی۔
ایک لقمہ لیا…
دوسرا لیا…
تیسرا لیا…

سرمد کی آنکھیں چمک گئیں۔ چاچا! یہ تو… یہ تو شہر میں پانچ سو کی ملتی ہے!

چاچا فخر سے بولا۔ “پُتر! گاؤں میں پانچ سو کی جلیبی نہیں، پانچ من کی محبت ملتی ہے!

اسی لمحے بھینس نے دُم گھمائی اور جلیبی سرمد کے ہاتھ سے زمین پر!

سرمد چیخا۔ “ارے میری جلیبی!

چاچا نے قہقہہ لگایا۔ اوہو! اس نے زکوٰۃ نکال لی!

لسی آئی تو گلاس بہت بڑا تھا۔ سرمد نے آہستہ سے پوچھا،
“چاچا، اسٹرا؟”

چاچا نے حیرت سے دیکھا۔ پتر! یہ لسی ہے، جوس نہیں

سرمد نے جیسے ہی لسی پی… “اوہو ہو ہو… یہ تو دل میں اتر گئی!”

چاچا نے مسکرا کر کہا۔ “اب دل میں گئی ہے تو گوڈوں میں بھی جائے گی!”

اچانک بھینس نے زور دار آواز نکالی اور سیدھی سرمد کی طرف بڑھنے لگی۔

سرمد چیخا چاچا! یہ اب واقعی ناراض لگ رہی ہے!

چاچا نے بالکل سکون سے کہا۔ “پُتر! یہ ناراض نہیں… یہ دیکھ رہی ہے کہ تُو فٹ ہے یا نہیں!”

اور اگلے ہی لمحے…
دوڑ شروع!

سرمد نے ایسا دوڑا جیسے اولمپکس کا فائنل ہو!
ایک طرف کھیت، دوسری طرف کنواں، پیچھے بھینس، آگے سرمد!

چاچا پیچھے کھڑے ہو کر تالیاں بجانے لگے۔ دوڑ پُتر دوڑ! شہر کی ٹرین چھوٹ جائے گی!

سرمد ہانپتا ہوا چیخا۔ چاچا! روک لو اسے!”

چاچا نے زور سے کہا۔ او کالو! بس بس! مہمان ہے!”

بھینس رک گئی… سرمد زمین پر بیٹھ گیا۔

چاچا سرمد کے پاس آئے۔ مبارک ہو پُتر! تُو پاس ہو گیا!

سرمد حیران۔ کس چیز میں؟

چاچا نے ہنستے ہوئے کہا۔ “
گاؤں کے پہلے دن کے امتحان میں! جلیبی کھائی، لسی پی، بھینس سے دوڑا… اب تُو آدھا گاؤں والا ہے!

سرمد نے پھولی سانسوں سے بھری آواز میں کہا۔ چاچا… آدھا ہی ٹھیک ہے!
چاچا نے قہقہہ لگایا۔ فکر نہ کر پُتر! کل مکمل کر دیں گے!

سرمد نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا۔ یا اللہ… کل نہ ہی ہو!۔

منقول

19/12/2025

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
*”کیا ہی اچھا ہو کہ تم لوگ اس دن (جمعہ) کے لیے صاف ستھرے ہو جایا کرو۔“*

(صحيح مسلم ۱۹۵۸)

19/12/2025

*ایک مزاحیہ مگر سبق آموز واقعہ...!* 😍

بے وقوفوں کی یہ بستی آج سے سیکڑوں برس پہلے کوہِ قاف کے پاس تھی۔ لیکن اب وہاں اس کا نام و نشان تک موجود نہیں ۔ بستی کے رہنے والے اپنی جہالت اور بے وقوفی کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور تھے ۔ اچنبھے کی بات یہ تھی کہ انھوں نے اپنی زندگی میں بلی کبھی نہیں دیکھی تھی اور وہ بلی کے نام ، اُس کی شکل سے بھی بالکل نا واقف تھے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بستی چوہوں سے کھچا کھچ بھر گئی۔ جدھر دیکھو چوہے ہی چوہے ۔ ادھر چو ہے، ادھر چو ہے۔ کوئی گھر ایسا نہ تھا جو ان سے آباد نہ ہو۔ لوگ اس قدر پریشان تھے کہ وہ ہر قیمت پر ان سے جان چھڑانا چاہتے تھے ۔ اُنھوں نے کئی مرتبہ اکٹھے ہو کر اس بارے میں مشورے بھی کئے، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ کوئی مناسب ترکیب سمجھ میں نہ آئی ۔

ایک دن شام کے وقت ایک مسافر بستی میں داخل ہوا سرائے میں رات گزارنے کے لیے چلا گیا۔ مسافرا کیلا نہ تھا۔ اس کے ساتھ ایک خوب موٹی پلی ہوئی بلی بھی تھی۔ یہ بلی چوہوں کا شکار کرنے میں بڑی ماہر تھی۔ چوہے سرائے میں ہر طرف چھلانگیں لگا رہے تھے۔ بلی پہلے تو ایک لمحے کے لیے ان موٹے تازے چوہوں کو ادھر ادھر گھومتے پھرتے دیکھتی رہی ۔ آخر اس سے رہا نہ گیا اور خوشی سے اس کی باچھیں کھل گئیں ۔ وہ شست باندھ کر فوراً کودی اور چو ہوں پر دھاوا بول دیا۔ کچھ مارے گئے کچھ زخمی ہوئے، کچھ بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ سرائے میں جتنے لوگ موجود تھے وہ یہ بھگدڑ دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور باہر سے لوگوں کو بلا بلا کر یہ بلی دکھانے لگے، جو چوہے کھانے میں مصروف تھی ۔ وہ سب اس عجیب و غریب جانور کو بڑے غور اور تعجب سے دیکھ رہے تھے ۔ ان میں سے ایک نے

کہا:

اگر یہ کارآمد جانور ہمیں مل جائے تو چند ہی دنوں میں چوہوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے ۔ "

انہوں نے آپس میں مشورہ کرنے کے بعد بلی کے مالک کو ایک ہزار روپے کی تھیلی پیش کی اور بلی خرید لی ۔ مالک کو اور کیا چاہیے تھا۔ ٹکے کی بلی ایک ہزار روپے میں بیچ کر وہ پھولا نہ سماتا تھا۔ لیکن ساتھ ہی اس کے دل میں یہ بات بھی بیٹھ گئی کہ بستی کے سارے لوگ بیوقوف ہیں ۔ لہٰذا یہاں سے فوراً بھاگ جانا چاہیے ۔ چنانچہ اگلے ہی روز وہ صبح سویرے وہاں سے چل پڑا۔ اُسے خوف تھا کہ کہیں اُنھیں بلی کی اصل حقیقت کا پتا نہ چل جائے اور وہ اس سے اپنا روپیہ واپس نہ لے لیں ۔

اس کے جانے کے بعد بستی والوں کو خیال آیا کہ ہم نے مسافر سے یہ تو پوچھا ہی نہیں کہ اس جانور کی خوراک کیا ہے ۔ اُنھوں نے ایک آدمی اُس کے پیچھے دوڑایا۔ جب مسافر نے دیکھا کہ کوئی شخص اس کا پیچھا کر رہا ہے تو اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے اپنی رفتار اور بھی تیز کر دی ۔ اُس آدمی نے چلا کر کیا۔

او میاں، او بھائی! ہمیں اس جانور کی خوراک تو بتاتے جاؤ۔ وہ کھاتا کیا ہے ؟ "

مسافر نے جب سنا کہ وہ خوراک کے بارے میں پوچھ رہا ہے تو اُس کی جان میں جان آئی۔ وہ مڑا اور وہیں سے گلا پھاڑ کر اُس نے کہا:

دودھ اور روٹی ۔ "

پیچھا کرنے والا چونکہ بستی کے مورکھوں میں سے تھا لہذا وہ دودھ اور روٹی کو بھینس موٹی سمجھا۔ اس نے " دل ہی دل میں کہا۔ " اُف! یہ جانور موٹی بھینس کھاتا ہے۔ اب کیا ہوگا۔ ہم گھی اور دودھ کہاں سے کھائیں گے ۔ ہمارے بچے دودھ کے بغیر کیسے جئیں گے ۔ “ اسی پریشانی میں وہ بستی میں پہنچ گیا۔ جب بستی والوں نے یہ ماجرا سنا تو وہ بھی بہت پریشان ہوئے۔ سارے مورکھ مشورہ کرنے لگے کہ موٹی بھینسیں تو چند ہی دنوں میں ختم ہو جائیں گی ۔ اور پھر وہ پتلی بھینسیں کھانا شروع کر دے گی ۔ اور جب وہ ختم ہو جائیں گی تو بکرے بکریوں کی باری آجائے گی ۔ جب یہ بھی ختم ہو جائیں گے تو کیا عجب یہ ہمیں ہی کھانا شروع کر دے۔ یہ سن کر عورتوں نے بے تحاشا رونا شروع کر دیا۔ ان کی دیکھا دیکھی بچے بھی رونے لگے ۔ بچوں کو روتا دیکھ کر مردوں نے بھی دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا۔ اس زور کا کہرام پڑا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی ۔ جب وہ رو رو کر تھک گئے تو ایک بڑے بوڑھے نے آنسو پونچھتے ۔ ہوئے کہا۔ " اب رونے دھونے سے کیا فائدہ ۔ ہم " سمجھ دار ہیں ۔ ہمیں چاہیے کہ کوئی حل تلاش کریں ۔ “

تمام مورکھ پھر سر جوڑ کر بیٹھے ۔ جتنے منہ اتنی باتیں ۔ کوئی کچھ کہتا، کوئی کچھ۔ آخر ایک بہت بڑے عقلمند نے کہا۔ " سنو!" چاروں طرف خاموشی چھا گئی ۔ سب اس کی بات سننے کے لیے بے چین نظر آنے لگے ۔

عقلمند نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا ۔ " اسے زہر دے دیا جائے ۔ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ چاروں طرف سے واہ وا کے نعرے بلند ہونے لگے۔ اتنے میں مجمع میں سے ایک آدمی اُٹھا۔ اس کے چہرے پر ابھی تک خوف اور پریشانی کے آثار نظر آرہے تھے ۔ اس نے ایک لمبی اور ٹھنڈی سانس لینے کے بعد کہا۔ ” تم سب لوگ واقعی بے وقوف ہو۔ شاید تم یہ بھول گئے ہو کہ یہ جانور موٹی بھینس کھاتا ہے ۔ زہر نہیں کھاتا۔ جس کے منہ کو خون لگا ہو وہ زہر کیسے کھا سکتا ہے ؟“ دوسرے ہی لمحے سارے مجمع پر موت کی سی خاموشی چھا گئی اور لوگوں کے چہروں پر ہوائیاں اُڑنے لگیں ۔ عورتوں نے رونا شروع کر دیا۔ پھر بچے رونے لگے ۔ غرض ساری کی ساری بستی پھر پہلے کی طرح رونے میں مصروف ہو گئی ۔ آخر ایک اور عقلمند اُٹھا اور اس نے کہا۔ عورتیں روتی ہیں تو بچے بھی رونا شروع کر دیتے ہیں، بچوں کا رونا ہم سے دیکھا نہیں جاتا اور ہمیں بھی مجبوراً رونا پڑتا ہے ۔ اس لیے عورتوں کو گھروں میں بھیج دیا جائے

تاکہ ہم لوگ خاموشی سے کوئی سکیم سوچ سکیں ۔“

لوگ بلی سے اس قدر خوف زدہ تھے کہ ان میں سے ایک نے کہا۔ ” یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم بچوں اور عورتوں کو اکیلے گھروں کو بھیج دیں ۔ اس خوفناک جانور نے موٹی بھینس کھانے کے بجائے اگر انھیں کھانا شروع کر دیا تو ہم اس کا کیا بگاڑ لیں گے ۔ ہائے کیسی منحوس تھی وہ گھڑی جب مسافر یہاں آیا اور ہم نے اس جانور کو خریدا ۔ اس کم بخت سے تو چوہے ہی ہزار درجے بہتر تھے ۔ "

آخر فیصلہ یہ ہوا کہ جب تک بلی کو مارنے کی کوئی معقول تجویز سمجھ میں نہ آجائے بچوں اور عورتوں کو کہیں نہ جانے دیا جائے ۔ سب نے اس بات کو پسند کیا اور سوچ بچار کرنے لگے ۔ آخر ایک ترکیب ان کی سمجھ میں آہی گئی جس پر سب نے اتفاق کیا اور خوشی سے ناچنے لگے ۔ ترکیب یہ تھی کہ بلی اس وقت جس گھر میں ہے اُسے فوراً آگ لگا دی جائے لہذا انھوں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس گھر کو آگ لگا دی ۔ جب شعلے پھیلنے لگے اور بلی نے خطرہ محسوس کیا تو اس نے اطمینان سے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی اور دوسرے مکان میں چلی گئی ۔ جب انھوں نے بلی کو شعلوں میں سے صحیح سلامت نکلتے ہوئے دیکھا، تو وہ مارے خوف کے تھر تھر کانپنے لگے ۔ اور انھوں نے فوراً ہی دوسرے گھر کو بھی آگ لگا دی۔ جب بلی وہاں سے تیسرے گھر میں کود گئی تو ان کی پریشانی اور غصے میں اور بھی اضافہ ہو گیا اور انھوں نے تیسرے گھر کو بھی جلا کر خاک کر دیا۔

غرض مکانوں کو آگ لگانے کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ ساری بستی جل کر راکھ کا ڈھیر نہ بن گئی ۔ آخر میں لوگوں نے دیکھا کہ بلی اس راستے پر بھاگی جا رہی ہے جس راستے سے صبح اس کا مالک گیا تھا۔ وہ لوگ یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔

اس خوشی میں اُنھوں نے ایک جشن منایا اور دیر تک ایک دوسرے پر جلے ہوئے مکانوں کی راکھ ڈالتے رہے ۔ ۔۔۔

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ جہالت، افواہ پر یقین اور بغیر سمجھے فیصلہ کرنا سب سے بڑا نقصان ہے۔ جب انسان خود سوچنا چھوڑ دے اور ہر بات سنی سنائی پر مان لے تو مسئلہ حل ہونے کے بجائے تباہی بن جاتا ہے۔
یہ لوگ اگر تھوڑی سی عقل سے کام لیتے، سوال پوچھتے اور حقیقت جان لیتے تو نہ بستی جلتی، نہ گھر برباد ہوتے۔ اکثر اوقات دشمن ہمیں نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ ہم خود اپنی بے عقلی سے اپنا نقصان کر لیتے ہیں۔ عقل، تحقیق اور صبر ہی ہر مسئلے کا اصل حل ہے۔

•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

👍🏼 *پوسٹ پڑھ کر رئیکٹ ضرور کیا کریں، کیونکہ ری ایکٹ صرف ایک نشان نہیں بلکہ احساس، شعور، جذبے، اخلاق اور حوصلہ افزائی کا خوبصورت اظہار ہے۔ اسے معمولی نہ سمجھیں، آپ کا ایک ری ایکٹ ہمارے لیے قدردانی اور باہمی تعلق کی علامت ہے۔* 🥰

*جزاک اللّٰہ خیرا* ❤️

Address

Retra
Retra

Telephone

+923317370940

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Comprehensive Public High School & Academic System Tibbi Qaisrani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Comprehensive Public High School & Academic System Tibbi Qaisrani:

Shortcuts

Share

Category