* اگر آپ تجزیہ کریں تو کوئی انسان ایسا نہیں جس کی ”زندگی میں دِقت نہ ہو ۔ “
: جن کی زندگی میں دِقت نہیں ہے تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بتایا نہیں ہے ۔
: تو "جنہوں نے بیان نہیں کیا", ان کی " زندگی میں دِقت نہیں ہے ، "
:: وہ جانتے ہیں کہ یہ زندگی ہے اور اس میں دقت تو ضروری ہے ۔ "
: مثلاً کون ایسا آدمی ہے جس کا باپ نہ مرے گا، دادا نہ مرے گا، اور خود نہ مرے گا ۔
: اور اب اگر یہ غم نہیں ہے تو کیا ہے؟ جس نے گلہ نہیں کیا تو وہ خاموش ہو گیا ۔ باقی لوگ گلہ کرتے رہے.
اور
" بقا والے لوگ چلتے رہے ہیں "
اور سب چلتے وہیں جا رہے ہیں اور چلتے چلتے جانا وہیں آگے ہے ،
_____ تو کیوں نہ خاموشی سے چلا جائے ۔ ______
: تو جو لوگ گلہ کرتے ہوئے نہیں پائے گئے ان کی " زندگی میں آسانی آ گئ ۔ "
: اور جنہوں نے اپنی "تکلیفوں پر لوگوں کو گواہ بنایا ،"
" ان کی تکلیف کبھی ختم نہیں ہوئی "
یعنی کہ وہ " اللہ کی شکایت دنیا کے سامنے " کر رہا ہے ، کہتا ہے کہ پھر "ہمارے حالات خراب ہو گئے ۔ "
: : : تو آپ اپنے حالات پر راضی رہنے کی کوشش کرو ۔"
: اپنے " گھر کی تکلیف دوسرے کے کان میں بتانے والا اپنے گھر کو Expose کر رہا ہے ، افشا کر رہا ہے ۔ "
: اپنے اللہ کی بات آپ اپنے اللہ سے کر سکتے ہیں
: یا اس سے کوئی بڑا ہو تو اس سے بات کر سکتے ہیں
: یا اس کے علاوه کوئی ہو تو اس سے بات کر سکتے ہیں
_____ مگر وہ تو سب سے بڑا ہے ۔ _____
: اللہ کریم نے فرمایا کہ اگر آپ ہمارے " فیصلے پر راضی نہیں ہو،،،،، " تو ہماری کائنات سے نکل جاؤ "
اور پھر ہماری کائنات سے کہیں اور چلے جاؤ ،
: ہماری کائنات میں تو ہمارا ہی فیصلہ چلے گا ۔
اور
ہم کہتے ہیں کہ جی آپ کی " کائنات میں ہمیں آپ کا ہی فیصلہ چاہیے "
" یعنی جو تجھے منظور ہے وہ ہمیں بھی منظور ہے"
: ایک درویش تھا اس کے پاس لوگ گئے اور کہا کہ دیکھو بابا جی دریا نے کناروں کو ”ڈھا“ لگا دی ہے ،
کناروں کو گرانا شروع کر دیا ہے ، کاٹ شروع کر دی ہے ،
_________ آپ دعا کریں ۔ ________
تو بابا جی کہتے ہیں کہ دعا کیا کرنی ہے ، آپ لوگ کدال لاوء ، بیلچہ لاؤ۔ تو وہ لوگ کسؔی لے آئے
اور
____ بابا جی نے بھی کنارہ گرانا شروع کر دیا ____
: اور کہا کہ اگر " تیری یہی صلاح ہے تو میری بھی یہی صلاح ہے" ، "گرانا ہے تو گرا ، پھر دیکھا جائے گا ۔"
_______ تو دریا نے اپنا رخ موڑ لیا ۔ _______
______ یہ تو محبت کے انداز ہوتے ہیں! _______
______ تو اس طرح دریا نے اپنا رخ موڑ لیا ۔ _____
ایک اور واقعہ کتابوں میں لکھا ہے
کہ دلی میں ایک درویش تھے اور درویش بھی وہ جنہیں ”خواجہ سرا“ کہتے ہیں ،
بہت اچھے درویش تھے ۔
تو لوگ ان کے پاس گئے اور کہتے ہیں کہ بابا جی ”مدت ہو گئ ہے ”بارش نہیں ہو رہی ہے ، “
_____ آپ دعا کرو کہ بارش ہو جائے ۔ _____
انہوں نے کہا کہ ” دعا نہیں کر سکتا ۔ “
: لوگ کہتے ہیں کہ آپ ضرور دعا فرمائیں تو بابا جی نے کہا کہ دعا نہیں کر سکتا ۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ ضرور دعا فرمائیں
: تو بابا جی نے کہا کہ آج کل اللہ ہماری بات نہیں سنے گا ۔
لوگوں نے کہا کہ آپ کی تو ہر دعا پوری ہوتی ہے ۔
انہوں نے پھر کہا کہ آج کل ہماری بات وہ مانتا نہیں ہے کیونکہ وہ " ہمارے ساتھ کچھ ناراض ہے ، "
: ایسا کرو کہ آپ یہ دوپٹہ لے لو اور اسے دھو کر دھوپ میں بچھا دو انہوں نے دوپٹہ لیا ، دھویا اور دھوپ میں رکھ دیا،
_______ پھر بارش شروع ہو گئ ۔ ________
: تو انہوں نے کہا کہ میں نہیں کہتا تھا کہ اس نے ہماری بات سننی نہیں ہے اور اب دیکھ لو اس نے " ہمارا دوپٹہ سوکھنے نہیں دینا ۔ "
” اور اس طرح لوگوں کا کام ہو گیا “
: تو بات اتنی ساری ہے کہ یہ محبت کے انداز ہیں
: اور "محبت کا ایسا انداز تسلیم کے بعد ہوتا ہے "
: اور اگر " تسلیم نہ ہو اور صرف بحث ہو تو پھر کیا کر سکتے ہیں ۔ "
: تو اس لیے سب سے پہلے آپ اپنے آپ کو” بحث سے نکالو ۔ “
: اگر آپ نے یہ فیصلہ کر لیا
: کہ اپنے آپ کو بحث سے نکالنا ہے
: تو پھر انشاءاللہ آپ کا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منجانب: قاری محمد آصف رضا مہتمم جامعۃ الحبیب شوکت کالونی اختر اباد
Noor Ul Habib Online Quran Institute
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Noor Ul Habib Online Quran Institute, Education Website, Shoukat Colony Akhtar Abad Tahsil Renala Khurd District Okara, Renala Khurd.
وسیلہ حرام ہے اس لیے میں جہاز کے وسیلے کے بغیر پیدل پاکستان آؤں گا
ذاکر نالائق🤣🤣
25/09/2024
25/09/2024
* غریبی کے بارے میں فرمان ہے کہ
غریبی اللہ کے قریب کرتی ہے اور غریب ہم میں سے ہیں
اور ہمیں بہت عزیز ہیں ۔
تو غریب جو ہے یہ اللہ کے قریب ہوتا ہے ۔
اور پھر ایک مقام پر ایک حدیث شریف میں ہے کہ ممکن ہے غریبی تجھے کافر بنا دے ۔
اور جب غریبی کسی انسان پر آئی ہوئی ہے تو پھر یہ سوچنا چاہیے کہ یہ کافر بنانے والی ہے یا یہ اللہ کی مہربانی ہے ۔
اگر اس غریبی کے دوران ، اس تکلیف کے دوران اور اس ابتلاء کے زمانے کے دوران آپ دعا کے قریب ہو جائیں تو وہ تکلیف اور ابتلاء مہربانی ہے ۔
اگر ابتلاء کے زمانے آپ کو بغاوت پر مائل کر دیں تو پھر وہ تکلیف آپ کے لئے سزا ہے ۔
جب کوئی مشکل وقت آ جائے اور مشکل وقت میں آپ کو دعا یاد آ جائے تو پھر یہ سمجھیں کہ وہ مشکل آپ کے لئے بہتر ہے کیونکہ آپ کا دل موم ہو گیا اور اگر تکلیف آ پڑی اور دل پتھر ہو گیا تو سمجھو کہ یہ عذاب ہے
سب سے زیادہ بدقسمت وہ انسان ہے جو غریب بھی ہے اور سنگدل بھی ہے ۔
غریب کو نرم دل ہونا چاہیے اور وہ اگر غریب ہے تو اللہ کے قریب ہو گا اور اللہ کے حبیب پاک ﷺ کے قریب ہو گا ۔
جب یہ صورت ہو تو پھر انسان کہتا ہے کہ
ہر چہرے میں آتی ہے نظر یار کی صورت
احباب کی صورت ہو کہ اغیار کی صورت
جس آنکھ نے دیکھا تجھے اس آنکھ کو دیکھوں
ہے اس کے سوا کیا تیرے دیدار کی صورت
تو دیدار کی لازمی صورت ہے کہ دیکھنے والے کو دیکھو اور اس طرح دیکھتے جاوء ، مگر زبان بند رکھو ،
حضور پاک ﷺ کا فرمان ہے کہ "من رآنی فقدر اللہ ۔
یعنی "جس نے مجھے دیکھا اس نے اللہ کو دیکھا" ۔
تو جس نے ان کے دیکھنے والوں کو دیکھا ، اس نے ان کو دیکھا ۔
تو دیکھنے کا یہی ایک اصول ہے کہ
دیکھنے والے کے دیکھنے والے کو دیکھو ۔
اگر ایسا شخص کہیں مل گیا تو آپ اسے دیکھتے ہی چلے جاوء ۔
اس شخص کے لئے اب نہ کوئی سوال رہ گیا اور نہ کوئی جواب رہ گیا ۔ ایسے میں سوال جواب پیچھے رہ جاتے ہیں
ہم ان کے پاس گئے حرفِ آرزو بن کر
حریمِ ناز میں پہنچے تو بے نیاز ہوئے
تو جب کسی کو اس محفل میں داخلہ مل جائے تو سوال وہیں کا وہیں رہ جاتا ہے ۔
اگر اس سے کہیں کہ کیسے آئے ہو تو وہ کہتا ہے مجھے ہوش ہوتا تو پھر پتہ چلتا کہ کیسے آیا ہوں ۔
بس اتنی ساری بات ہے ۔
اگر ہوش قائم رہ جائیں تو پھر وہ "اور" ہے ، " غیر" ہے ۔
یہ سب صرف اچھے من کی بات ہے ورنہ تو کوئی منزل نہیں ہے ،
کوئی تلاش نہیں ہے ، کوئی سفر نہیں ہے اور کوئی شہر نہیں ہے ۔
اب میں آپ کو ایک کہانی سنا کر بات ختم کرتا ہوں ۔
ایک تھا ہندو برہمن ، وہ گنگا کے اشنان کو جا رہا تھا ۔ راستے سے گزرا تو وہاں ایک چمار بیٹھا تھا ۔
چمار نے پوچھا بابا کدھر جا رہے ہو ، برہمن نے کہا گنگا اشنان کو جا رہا ہوں ۔
اس چمار نے کہا کہ مائی گنگا کو میرا سلام کہنا اور میری طرف سے یہ ایک ٹکہ مائی گنگا کی خدمت میں پیش کر دینا ۔
برہمن نے کہا کہ میں نے تو تمہارے پیسے کو ہاتھ نہیں لگانا کیونکہ میرا دھرم بھرشٹ ہو جائے گا ،
لہٰذا تم اس کو گڈوی میں ڈال دو ۔ اس نے اپنے میلے کپڑوں سے اور گندے ہاتھوں سے وہ ٹکہ نکالا اور گڈوی میں ڈال دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برہمن وہاں گیا اور ٹکہ گنگا میں ڈال دیا اور کہا کہ ایک چمار ، مائی گنگا کو سلام کہتا ہے ۔
برہمن نے دیکھا کہ
گنگا کے اندر سے ایک ہاتھ نکلا اور اس ہاتھ میں ایک طلائی کنگن تھا ،
آواز آئی کہ اس آدمی کو کہو کہ تمہارا سلام منظور ہے
اور ہماری طرف سے یہ کنگن اس کو پیش کر دینا ۔
یہ حال دیکھ کر برہمن نہانا بھول گیا اور وہ بھاگا دوڑا چمار کے پاس آیا ۔
کہنے لگا کہ کیا حال ہے مہاراج! چمار نے کہا میں مہاراج کدھر ہوں ، میں تو چمار ہوں ۔
برہمن نے کہا کہ
آپ ہی مہاراج ہو کیونکہ میں نے مائی گنگا کو تمہارا سلام دیا تو مجھے یہ کنگن دیا اور کہا کہ اب میرا سلام بھی قبول فرماوء ۔
چمار نے کہا یہ کنگن تم ہی لے جاوء ، میں نے کیا کرنا ہے ، میں سونا تو رکھتا نہیں ہوں اور یہ میرے استعمال میں بھی نہیں ہے ، آپ اچھے آدمی ہو ، آپ اسے لے جاوء اور استعمال کرو ۔
برہمن بھاگا بھاگا گھر گیا اور بیوی کو کنگن دیا ۔ وہ بہت خوش ہوئی کہ یہ تو بہت قیمتی چیز ہے مگر ہمارے کام کی نہیں ہے ۔
ایسا کریں کہ
یہ آپ راجہ کو دو اور برہمن نے کنگن راجا کو دیا ۔
رانی بہت خوش ہوئی اور اس نے کہا کہ
دوسرا کنگن چاہیے ۔ راجے نے دوسرے دن برہمن کو بلا لیا اور کہا کہ اس کے ساتھ کا کنگن لا دو ورنہ گردن مار دی جائے گی ۔
اور وہ برہمن بڑا پریشان ہوا اور بھاگا دوڑا پھر اس چمار کے پاس گیا اور کہا کہ مہاراج ! وہ راجہ تو مجھے قتل کر دے گا ۔
راجہ نے کہا ہے کہ اس کے ساتھ کا کنگن لاؤ ۔
اس نے کہا یہ کیا مشکل ہے ۔ جس گدلے پانی کے برتن میں وہ چمڑا رنگتا تھا ،
چمار نے جیب سے ویسا میلا ٹکہ نکالا اور وہ اس میں ڈالا اور کہا "من چنگا تو گھر میں ہی گنگا"
وہیں سے وہ ہاتھ نکلا ، وہیں سے کنگن دیا اور پھر غائب ہو گیا ۔
تو مقصد یہ ہے کہ
"من چنگا" رکھو تو گھر میں ہی گنگا ہے ۔ "من چنگا" تو سب چنگا ہو جائے گا ، پھر قبولیت ہو جائے گی ۔
اب دعا کرو آپ سب دعا کرو کہ
اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے ۔
یااللہ ہمیں اپنے راستے پر گامزن رکھنا ۔
یااللہ اپنے حبیب پاکﷺ کی محبت عطا فرما اور ہم پر یہیں مہربانی فرما ۔
اللہ تعالیٰ آپ کے مسائل حل کرے ۔
یااللہ سب کی مشکلات دُور فرما
اور ہمارے اندیشوں کو دُور فرما ۔
یااللہ ہماری امیدیں پوری فرما ۔
ہمیں نیک مقصد کے لئے استعمال فرما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں خواتین کی الگ یونیورسٹیاں بنائی جائیں جس میں صرف خواتین ہوں اور ٹیچرز بھی خواتین ہی ہوں۔🙏🏻ہم اسلامی ملک ہے
ایک عرب بیوہ نے شادی کی عمر کو پہنچی ہوئی اپنی حسین و جمیل بیٹی کیلیئے حق مہر کا مطالبہ
مبلغ پانچ لاکھ ریال کر رکھا تھا۔
کئی خواہشمند اتنا حق مہر سن کر ویسے ہی
دستبردار ہو چکے تھے۔
اپنی ضد کا پکا ایک لڑکا بمشکل تین لاکھ ریال اکٹھے کر پایا۔
پیسے لیکر مزید کی مدد مانگنے کیلیئے سیدھا اپنے باپ کے پاس پہنچا اور کہا: ابا جی، میرا کچھ کر لو، میں اس لڑکی پہ فدا ہو گیا ہوں، مگر اس کی ماں ہے کہ پانچ لاکھ ریال حق مہر سے ایک فلس کم پر بھی بات کرنے کو تیار نہیں۔ اب آپ ہی کچھ کیجیئے۔
باپ نے بیٹے کی سنجیدگی کو دیکھا اور کہا: ٹھیک ہے پُتر، چل لا پیسے۔ کچھ کرتے ہیں تیرا بھی۔
دونوں باپ بیٹا پیسے لیکر بیوہ کے گھر پہنچے۔ سلام و دعا کے بعد باپ نے خاتون سے کہا: میں آپ سے بات کرنے کیلیئے حاضر ہوا ہوں۔ میری آپ سے ایک گزارش ہے کہ کہ جب تک میں اپنی بات مکمل نہ کر لوں آپ میری بات نہ کاٹیں۔
خاتون نے کہا: جی بسم اللہ ، کہیئے۔
لڑکے کے باپ نے کہا: میرا بیٹا آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے اور یہ ایک لاکھ ریال نقد حق مہر ساتھ لایا ہے۔
خاتون نے گڑبڑاتے ہوئے کہا؛ مگر مجھے اپنی بیٹی کے حق مہر میں پانچ لاکھ ریال سے ایک فلس کم بھی قبول نہیں ہے۔
لڑکے کے باپ نے کہا: محترمہ آپ سے گزارش کی تھی کہ آپ مجھے بات پوری کرنے دیجیئے گا۔
خاتون نے معذرت کرتے ہوئے کہا: جی پوری کیجیئے اپنی بات۔
لڑکے کے باپ نے کہا: آپ بذات خود ایک انتہائی خوبصورت اور جوان جہان عورت ہیں۔ میں آپ کو بھی ایک لاکھ ریال حق مہر ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ میرے حق شرعی میں آ جائیے۔
خاتون کی خوشی سے باچھیں کھل کر کانوں کو جا لگیں۔ بمشکل اپنے جذبات کو دباتے ہوئے کہا: اللہ آپ کا آنا قبول کرے۔ مجھے آپ کی دونوں شرطیں قبول ہیں۔
باپ بیٹا خوشی خوشی باہر نکلے تو ہمسائیوں نے پوچھا: ایسا کیسے ہوگیا؟ یہ تو ناممکن نظر آتا تھا۔
لڑکے کے باپ نے کہا: مال تھوک میں خریدتے ہوئے اور پرچون میں خریدتے ہوئے آخر ریٹ میں کچھ تو فرق پڑتا ہے ناں۔
لڑکے نے ہلکا سا گلا صاف کرتے ہوئے باپ سے کہا: ابا جی، وہ ایک لاکھ ریال جو بچ گئے ہیں، پھر وہ تو مجھے واپس دے دیجیئے۔
ض
باپ نے کہا:
ناں پُتر اوئے، ابھی ایک بڑا اور اہم مرحلہ تو باقی پڑا ہوا ہے۔ یہ ایک لاکھ ریال جا کر تیری ماں کو دینا پڑے گا تاکہ وہ بھی تو راضی ہو
خود سے محبت کرنا سیکھیں.. خود کو معاف کرنا سیکھیں.. لوگوں کے نظریے روز بدلتے ہیں.. اپنے لیے اچھا سوچیں.. کسی کی بھی رائے کو اپنے اُوپر سوار نا کریں. اپنے آپ کو ذہنی سکون دیں.. اپنے آپکا خیال رکھیں
ہم ایک ایسے رانگ نمبر کو ساری زندگی ڈائل کرنے میں لگے رہتے ہیں جسے کوئی اٹھاتا ہی نہیں
اگر آپ کا خطیب محرم میں بھی اہل بیت کا ذکر نہیں کر رہا اور یزید پہ خاموش ہے تو خطیب بدلو وگرنہ نسل کے یزیدی ہونے کا انتظار کرو
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Telephone
Website
Address
Renala Khurd
56100